شبِ وصل ہر بات پر وہ جِھجھکنا
وہ بیٹھا ہُوا دِل میں ڈر تھوڑا تھوڑا
نظامؔ آگے آگے خُدا جانے کیا ہو
ابھی تو ہے دردِ جِگر تھوڑا تھوڑا۔۔۔!
وہ بیٹھا ہُوا دِل میں ڈر تھوڑا تھوڑا
نظامؔ آگے آگے خُدا جانے کیا ہو
ابھی تو ہے دردِ جِگر تھوڑا تھوڑا۔۔۔!
سیّد نظامؔ رامپوری
