تھک گئے ہو؟ تَو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعۃً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تم پرندے ہو ‘ وطن چھوڑ کے جاسکتے ہو
جانے والے سے سوالات نہیں ہوتے ‘ مِیاں !
تم یہاں اپنا بدن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم سے باتوں میں کچھ اِس درجہ مگن ہوتا ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو
