مختصر کہانیاں

Epi 29 part 2 Samreen Shah Man Dar Ishq "تمھاری…

Epi 29 part 2
Samreen Shah
Man Dar Ishq

"تمھاری شکایت پھر سے آئی ہے کیوں ایسا کام کرتے ہو کہ بار بار لوگ میرے پاس آتے ہیں اور وہ بھی ان دنوں جب میری خور آئی ہیں اگر اسے پتا چلا کہ ابھی تک یہ رسم رواج اس علاقے میں قائم ہیں تو تمھارا سر کٹوا دیں گی ۔”
سلیم ان کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا اور آغا جان مردان کے بجائے اسے میدان میں بلوایا تھا کہ وہاں اس کا معاملہ حل کیا جائے
"معاف کردیجیے مجھے آغا جان پر وہ لڑکی ہے ہی بدتمیز اور بدزبان کہ میں خود پر اختیار نہیں رکھتا میں نے کہا تھا ماں سے کہ میری دوسری شادی کروادیں پھر یہ نوبت نہیں آئی گی مگر وہ مانتی ہی نہیں ہے ۔”
وہ دھیمے لہجے میں اپنی شرافت ثابت کرنے میں جتنا معصوم بن سکتا تھا وہ بنا تھا
"تو شادی کے لیے ماں سے کیوں اجازت مانگتا ہے تیرا حق ہے تو کر لے بیکار میں خود کو ہلکان کیا ہوا ہے ۔”
وہ سگار کے گہرے کش لیتے ٹانگ پہ ٹانگ جماے
"پھر وہ ہنگامہ کریں گی اور خانم جی کے پاس چلی جائے گی اور آپ کو تو پتا ہے نا ۔۔”
"ہممم ایک کام کروں اپنی بیوی کو میرے مظفرآباد والے فارم ہاوس لے جاو وہاں اسامہ رہتا ہے اس کا بھی زرا خیال رکھنا مجھے اس کی فکر رہتی ہے اور اپنی اس بیوی پہ کو دل میں آئے کر لینا کیونکہ وہ اب گاوں کے لوگوں کے مسائل کل سے سُنے گئیں اگر تمھاری خبر ہوگی تو خیر نہیں اس لیے اُدھر جو جی میں آئے کرنا میری طرف سے اجازت ہے تم نے ہمارے بہت سے کام کیے ہیں ۔”
وہ مسکرا کر سگار کو ٹرے میں رکھتے ہوے بولی سلیم بے یقینی سے دیکھتا رہا پھر بلاآخر مسکرا پڑا وہ اس کے خلاف کیوں ہوتے بھلا اس نے ان کے اتنے کام جو کیے تھے
"آپ کا بہت مشکور ہوں میں ابھی ہی نکلنے کی تیاری کرتا ہوں ۔”
"جاو !!مگر رُکو ایک سکینڈ !۔”وہ اسے جانے کا کہنے لگے جب ایک سکینڈ ان کے دماغ میں کچھ آیا تو اسے روکنا پڑا
"جی !۔”
"زرا اسامہ پر نظر رکھنا اور مجھ اس کی ایک ایک خبر دینا ! سمجھ گئے ۔”
اب ان کی نگاہیں سخت ہوگئی کہ اس معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں برتنی
"آپ کا حُکم سر آنکھوں پر ۔”
وہ سر کو خم دیتا ہوا مڑ گیا اور ان کی پُرسوچ نظریں اب صلاح الدین کے گھوڑے کی طرف تھی
•••••••••••••••••
وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا تھا
"صبح صبح آنکھیں کھولو صبح تمھیں ہوا کیا ہے ۔”
وہ اس کے یک دم ہوتے پیلے چہرے پہ وحشت زدہ ہوگیا اچھی خاصی خوش باش تھی اس نے جلدی سے صبح کو اُٹھایا اور صوفے کی طرف لے کر گیا اور اس کے پڑتے ٹھنڈے ہاتھ کو جلدی سے رگڑنے لگا
"صبح ! گل شیر گل شیر ۔”
وہ پاگلوں کی طرح آوازیں دینے لگا اس کے سامنے وہ منظر گھوم گیا تھا جہاں اس کی امی بھی ایسی حالت میں تھی اور وہ پاگلوں کی طرح ان کے بے جان ہوتے وجود کے ساتھ لپٹا پاگلوں کی طرح رورہا تھا
"امی مجھے چھوڑ کر نہ جائے امی میں اکیلا ہوجاو گا میرا تو کوئی دوست نہیں کوئی میرا اپنا نہیں امی پلیز ۔”
ابھی بھی اچانک اس کی آنکھوں میں نمی آگئی
"صبح آئیم سوری صبح پلیز !۔”
وہ جیسے اس کی خوبصورت معصومیت سے مٹکانے والی آنکھیں دیکھنا چاہتا تھا
"دیکھو بہت گندا مزاق ہے ۔”
"لالہ !!! بی بی کو کیا ہوا ؟۔”
وہ بھی پریشانی سے پانی کا گلاس اُٹھا کر لایا اور وہ پانی کے چھینٹے مار کر اسے ہوش میں لانے لگا مگر وہ ہوش میں آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اس نے تو جیسے ٹھان لی تھی کہ وہ اسامہ کی خواہش پورے کریں اور اسامہ کو خود سے اس وقت نفرت محسوس ہورہی تھی دل کررہا تھا خود کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں
پھر اسے راہ نہ گیا تو تیزی سے اُٹھا کر گاڑی نکلوانے کو کہا اور پھر پورے دس منٹ کی ریش ڈرائیونگ کرتا
وہ پرائیوٹ کلنک لے کر گیا
"آپ ان کے کیا لگتے ہیں ؟۔”
ڈاکڑ نور صبح کا چیک آپ کرنے کے بعد اسے ڈرپ لگوانے کا کہہ کر اب اسامہ کی طرف مڑی اور انھیں اپنے آفس میں ساتھ لے گئی اور جب انھوں نے اس سے یہ سوال پوچھا تو اسامہ کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا جواب آخر کیا دیں بہن تو وہ کہہ نہیں سکتا تھا اور بیوی وہ بھی بے حد مشکل تھا
"میری کزن ہے ۔”
یہی ایک مناسب رشتہ تھا جسے وہ بنا سکتا تھا
"اس بچی کی پیرنٹس !۔”وہ اب ابرو اچکاتے ہوے بولی ڈاکڑ کو یہ رشتہ مناسب نہیں لگا تھا
"حیات نہیں ہیں میرے پاس رہتی ہے ۔”
"اور کون کون ہے گھر میں ۔” ڈاکڑ کے مزید تفصیل سے پوچھنے پر اسامہ کی بے چینی چڑ میں بدلی دی
"ڈاکڑ کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ نور صبح کو کیا ہوا تھا اب کیسی ہے ؟۔”
وہ اپنے لہجے میں ناگواری کو چھپا نہیں سکا تھا
” پہلے تو میں نے سوچا اتنی چھوٹی سی بچی کو کیسے سٹریس ہوسکتا ہے مگر جب آپ نے بتایا کہ ان کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوچکی ہے تو مجھے سمجھ آگئی دوسرا آپ نے انھیں ناشتہ نہیں کروایا اگر آپ اس کے گارڈین ہیں تو آپ کو ان کی زمہ داری تو بھرپور اُٹھانے چاہئے اتنی سی بچی کے لیے ٹینشن کو اچھی بات نہیں ہے مسڑ خان نور صبح ہیڈ آ Vasovagal attack ۔”
اور اسامہ کو منہ کھل گیا اس کے بےرحم جملوں نے اس کے نھنھے سے دل کا کیا حال کردیا تھا اس کا شرمندگی سے سر جھک گیا اس کے اور اس کے باپ میں پھر کیا فرق رہ گیا
"ابھی تو میں نے ڈرپ لگا دی ہے اس کا بی پی اور بلڈ شگر لیول کو کنڑول میں لانا تھا، آپ کو اس کے کھانے پر بھرپور توجہ دینی ہوگی اور کوشش کیجیے اسے کسی قسم کا سٹریس نہ ہو اگر آپ زمہ داری اس کی نبھا سکتے تو اس کسی قابل بھروسہ اس کو کسی رشتے دار کے حوالے کردیں ایسے پھر بچی کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے ۔”
وہ اس ہدایت دینے لگی اور اسامہ فل حال صبح کے پاس جانا چاہتا تھا
"میں کیا اس سے مل سکتا ہوں ۔”
"مل کیا سکتے ہیں آپ انھیں تھوڑی دیر میں لے کر جاسکتے ہیں میں بھی دیکھ آو اب وہ کیسی ہے ۔” وہ اُٹھ کر اب اس کے پاس آئے تھے اسامہ کو صبح کو ہوش میم دیکھ کر ایک دم جیسے جی اُٹھا تھا وہ اب نرس سے کچھ بات کررہی تھی
"یہ سوئی میرے اندر کیسے گئی اسے نکلاتے وقت درد تو نہیں ہوگا ۔”
نور صبح کے سوال پر اسامہ اور ڈاکڑ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ابھی ابھی اس کنڈیشن خراب تھی اور اب کیسے مزے مزے کے سوال پوچھ رہی تھئ لیٹے لیٹے
"نور صبح کیسی فیل کررہی ویسے جیسے نام ہے ویسی ہی پیاری سی ہو ۔”
ڈاکڑ اس کے پاس آئی نور مڑ کر انھیں دیکھنے لگی تو ڈاکڑ کو دیکھنے لگی پھر اچانک اس کے ساتھ چکی کو دیکھنے لگئ جو اس کو دیکھ کر مسکرایا تھا صبح نے گھورا
"یہ چکی یہاں کیا کررہا ہے خوش ہوجاو نہیں مری میں ۔”
وہ سمجھی جیسے چکی اس کے مرنے کا منتظر تھا اور اب اس کی بچنے پر ناکام ہوگیا ہے مگر اگر نور کو اسامہ کے دل کا حال جانتی تو وہ حیرت سے غوطہ زن ہوتی ٹام اور جیری بیشک ایک دوسرے سے بھرپور لڑتے مگر جب کسی ایک میں سے کسی کو کچھ ہوتا تھا تو وہ درد سے ٹرپ جاتے تھے یہی حال ان دونوں کا تھا
"ارے تم اپنے کزن کو چکی کہتی ہو کیوں تمھارا کزن تمھیں تنگ کرتا ہے ۔”
ڈاکڑ حیرت سے صبح کو اور پھر اسامہ کو دیکھتے ہوے بولی
"کزن یہ میرا کزن تو نہیں ہے ۔”
صبح کی فراٹے بھری زبان پر پھر اسامہ اپنی گھوری کو روک نہیں پایا یہ لڑکی بیماری میں بھی باز نہیں آئے گی اس لیے وہ اسے چُپ کرنے کا اشارہ کرنے لگا
"کیا مطلب انھوں نے خود بتایا ڈاکڑ پہلے حیرت سے پھر عجیب نظروں سے اسامہ کو دیکھنے لگی اسامہ گڑبڑ گیا اب تو وہ پولیس کے حوالے
"یہ تو بس چکی ہے جو مجھے تنگ کرتا ہے ۔”
بلاآخر نور کے جواب پہ اسامہ پُرسکون ہوگیا وہ واقعی بہت بڑے دل والی اور بہادر لڑکی تھی وہ اس کی دل میں پہلی بار کسی کی بھرپور سچائی سے تعریف کررہا تھا ڈاکڑ نے ہنس کر اسے اپنا خیال رکھنے کو کہا اور پھر نرس سے نیڈل نکلوانے کو کہا
"درد نہیں ہوگا گھبڑاو نہیں ۔”
وہ جب اس کے ہاتھ کی طرف بڑھی تھی کہ صبح نے تیزی سے ہاتھ پیچھے کیا مگر سوئی کی چُبن سے اس کے لبوں سے سسکی نکلی
"آرام سے !۔”
وہ تیزی سے کہنے لگا صبح نے اسے دیکھا وہ بہت مختلف لگ رہا تھا کہاں وہ اس کے بے ہوش ہونے سے پہلے اتنا غصے سے پاگل ہورہا تھا اور اب ہنو ارشد بھائی کا ڈر ! ورنہ یہ تو چاہتا تھا میں مر جاو
دل ہی دل میں وہ کہتی وہ اب نرس کی طرف مڑی جو اب بڑی احتیاط سے ٹیپ نکال کر اب اس کو دیکھنے لگی
"آپ ان سے باتیں کرے بالکل نہیں پتا چلے گا ۔”
وہ ہمت کر کے سر ہلانے لگی وہ اسامہ کے سامنے کوئی کمزور بچی نہیں ثابت ہونا چاہتی تھی اس لیے لب سختی سے دبائے سوئی نکلانے کے لیے تیار تھئ اس نے دوسرے ہاتھ سے سختی سے شیٹ کو تھاما ہوا تھا اسامہ اس کی کفیفیت سمجھ رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا وہ مڑی پتا نہیں کیا تھا اس کی نظروں جس کی اسامہ تاب نہیں لاسکا تھا اور اس کا ہاتھ چھوڑ کر مڑ کر باہر چلا گیا اور وہ حیرت سے اسے جاتا ہوا دیکھنے لگی اس کیا ہوا ؟
••••••••••••••••
"وہاں کیوں بھیج رہے ہیں وہ تجھے اور میں اکیلی جان کیا کروں گی مجھے بھی ساتھ لے کر چل ۔”
جب وہ اماں کا مظفر آباد جانے کی خبر دیں کر غزل کو
چاے کا حُکم دیتا اپنی جوتے اُتارنے لگا تب اماں حیرت سے بولی
"تجھے میں کیسے لے کر جاسکتا ہوں آغا جی نے بس دو بندے کو جانے کو کہا اب میرا کام وہاں پر ہوگیا ہے ان کے اس گھر کی دیکھ بھال کروں گا ۔”
"مگر وہ تو ثمینہ کا لڑکا نہیں سنبھال رہا گل شیر ۔”
"تو کیا ایک بندے پر چھوڑ دیں وہ محل جیسا گھر اس پر بھی نظر نہیں رکھنے آج کل لوگ کرایہ پہ رکھ دیتے ہیں اس لیے بھیج رہے مجھے اور تو سوال بہت کرتی ہے آرام سے رہے اِدھر اور تو بھی تو کام کرتی ایسے کیسے لے جاو ۔”وہ اب پلنگ پر لیٹ گیا تھا
"تو غزل کو میرے پاس چھوڑ دیں ۔”سلیم کے چہرے پہ شکن آگئی
"کیوں چھوڑ دوں اسے میرے پاس کیا پانچ چھ بیویاں ہیں جو اسے تیرے پاس چھوڑ دوں دوسری کرنے نہیں دیتی اور ایک جو ہے اسے بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے ۔”
وہ بگڑ گیا تھا غزل جلدی سے چاے بنا کر لائی تھی جلدی اور ڈر کے بنانے کے باعث اس کا ہاتھ جل گیا تھا سلیم نے ایک نظر دیکھا پھر نظریں ہٹا کر چاے اُٹھانے لگا
"تیاری پکڑ تجھے ساتھ لے کر جارہا ہوں ۔”
وہ چاے کے گھونٹ پیتے ہوے بولا غزل بولی نہیں مگر سوالیہ نظروں سے اماں کی طرف دیکھا سلیم نے سر اُٹھایا
"اُدھر کیا دیکھ رہی مظفر آباد جارہے ہیں مگر اماں اِدھر ہی رہے گی ۔”
اور یہ بات غزل کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی ایک ہی تو سہارہ تھی اس کی ساس جو اس کے ساتھ سگی ماں جیسا برتاؤ کرتی تھی اب ان سے بھی دور ہوجاے گی تو وہ کیسے سہہ پائی گی اس نے نمکین پانیوں سے بھری آنکھوں کو اماں کی طرف دیکھا
"چل پیر دبا میرے صبح سے کام کر آیا ہوں اور کپڑے تیار ہے میرے ۔”
وہ گھونٹ پیتے ہوے تیزی سے کہنے لگا
اماں نے اسے اشارہ کیا کے کہی ابھی پیٹنے نہ لگ جائے وہ کانپتے ہوے ہاتھوں سے کھڑے ہوکر اس کے پیر دبانے لگی
"ہاتھوں میں کیا جان نہیں ہے اور کچھ پوچھا ہے تجھ سے کپڑے تیار ہے ؟ جواب دیا کر میری بات کا !۔”
وہ سختی سے بولا تھا
"جج جی !۔”
"جی کی بچی چل جا کپڑے واش روم میں لٹا کر آ میں آرہا ہوں ۔”
وہ نفرت سے کہتا کپ پٹھک کر رکھ چکا تھا اور اماں اسے دیکھنے لگی
"تو مت لے کر جا سلیم اسے !۔”
"فکر نہ کر تو اماں قتل نہیں کروں گا اس کا تو بس اپنے کام سے کام رکھ ۔”
وہ اماں کی بات کاٹتے ہوے اُٹھ گیا کہ آج اس کا موڈ ٹھیک تھا اور وہ اماں سے بعث لگا کر اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا
•••••••••••••••
وہ ایک گھنٹے بعد ڈیسچارج ہوکر اب گاڑی میں بیٹھنے لگی اور جب دروازہ بند کیا تو اسامہ کار سٹارٹ کر چکا تھا کچھ دیر تو خاموشی چاہی رہی اسامہ کو سمجھ نہیں آئی بات کا آغاز کہاں سے کریں وہ اسے اپنے کیے کی معافی مانگنا چاہتا تھا جو ہوا تھا بے حد غلط ہوا تھا
"اسامہ !۔”
وہ سوچ میں ڈوبا ہوا تھا جب اس کی آواز پر چونکہ
"میرے کپڑوں میں عجیب سی سمیل آرہی ہے کیا مجھے نئے کپڑے مل سکتے ہیں میرا بیشک اس کی جگہ فون لے لو اب کس نے کال کرنی ہے مجھے ، میرے پاس تو پیسے ہی نہیں تو تم اس کی جگہ لے لو ۔”
اور اسامہ اس کے معصومیت سے کہنے پر پگھل گیا یہ لڑکی واقعی جاوگرنی تھی جو اس کی زندگی میں ایک عجیب سی روشنی بکھیر رہی تھی وہ اسے کچھ کہنے لگا تھا پر منہ سے کچھ کہہ نہ پایا تھا شاہد اپنی زبان سے ڈرتا تھا کہ اس سے کچھ غلط نہ نکل آئے اس کی کوئی بھی بات صبح کو تکلیف نہ پہنچائے وہ اب خاموشی سے منہ موڑکر زہن میں کوئی دُکان سوچنے لگا جہاں سے صبح کے کپڑے مل سکے پھر ایک جگہ یاد پڑتے ہی وہ اس طرف کار کی راہ اس طرف لےگیا مگر صبح کی طبیعت کو سوچ کر اس نے اچانک گھر کی راہ لے لی وہ گل شیر سے کپڑے منگوا لے گا صبح کے ایک تو اس کے جواب نہ دینے پر انکار ہی سمجھ لیا اس لیے مزید ضد نہیں کی اگر نہیں لے کر دیتا تو ٹھیک ہے وہ کچھ نا کچھ بندوبست کر لی گی ویسے بھی یوٹیوب زندہ باد !وہ خود کو مطمن کرتی اب شیشے کی طرف دیکھنے لگی
جبکہ اسامہ اب اس کے اُداس رنگ اس کے چہرے پر دیکھ رہا تھا جو کم سے کم صبح کی شخصیت کا خاصا نہیں تھی ۔
••••••••••
"واقعی میں دین ، آپ مجھے صبح صبح ایرپورٹ لے آئے اس کی کوئی خاص وجہ ۔”
وہ اب ایرپورٹ کی اندر انٹر ہورہے تھے جب ثمرن اسے تنگ ہوکر دیکھنے لگی اسے تو کوئی اس کی بہن کی پروا نہیں تھی بس اپنی انجوائمنٹ کی پری ہوئی تھی جبکہ اگلے کے اندر اس قدر تناو بڑھا ہوا تھا کہ اگر ثمرن کو پتا چلتا تو وہ دنگ رہ جاتی کہ دین اتنا پریشان وہ خود کو بھی ریلکس کرنا چارہا تھا اور ثمرن کو بھی تب ہی وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھ سکے گا
"ایرپورٹ کتنی یادیں جُڑی ہیں ہماری وہاں سے ہماری پہلی ملاقات ہی ایرپورٹ پہ ہوئی اور ہماری آخری ملاپ بھی ایرپورٹ میں ہوا تھا مجھے تو محبت ہوگئی ہے ایرپورٹ سے جب سے مجھے موشم ملی ۔”
وہ اس کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوے بولا اور ثمرن پریشانی کی باوجود بھی ہولے سے مسکرا پڑی شرمندگی سے سر جھک گیا کتنی بدتمیزی کی تھی اس شخص سے جبکہ اس کا کیا قصور تھا وہ اپنی بہن کی محبت میں اتنی پاگل ہوگئ تھی کہ اپنے مجازی خدا کا احترام نہ کر سکی بلکہ اس سے بدتمیزی سے پیش آئی تھی اور دین نے سوائے اپنی ماں کے الفاظ کے علاوہ اسے کچھ نہیں کہا تھا آخر اتنا کوئی اچھا کیسے ہوسکتا ہے ۔
وہ کار پارک کر کے اب اسے اُترنے کا بولا اور جب اُترا تو اس کے ساتھ چلنے لگا کہ
اچانک پلین ان کے اوپر سے گزرا تھا دین نے اوپر دیکھا جبکہ ثمرن کے اندر بیزاری پھیلی ہوئی تھی
"اوپر دیکھو موشم !۔”
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر سوچ سے نکال نہ چاہتا تھا
"اس کو دیکھ کر کیا کرنا ہے ۔”
ثمرن بے دلی سے بولی
"او کم آن خود ہی بتایا تھا تم نے تمھارا گھر ایرپورٹ کے پاس ہے اور جب تمھیں پلین کی آواز آتی تو بس میڈم چھت پہ بھاگتی تھی بڑے سے پلین کو اپنے اوپر گزرتے ہوے دیکھے اور اب کیوں ٹینشن لیتی ہو بار بار نوری کو سوچنا بند کرو اس کو اللہ کے حوالے کیا ہوا ہے نا انشااللہ کچھ نہیں ہوگا اسے ۔”
"چلو آو !۔”
وہ خاموش تھی تو صلاح الدین بلا آخر گہرا سانس لیتا ہوا اس کو ایرپورٹ کے اندر لے کر جانے لگا تو ساتھ میں اپنے دوست کو کال کرنے لگا جو ایرلائن کمپنی کا مالک ہے
•••••••••••••••
"بی بی یہ آپ کا کپڑے آگیا ہے ۔”
وہ بالکنی کے تھوڑے سے فاصلے پہ بیٹھی بارش کے گرتے ہوے بوندوں کو زمین میں جذب ہوتا ہوا دیکھ رہی تھی وہ آج پورا دن بالکل ایک بے جان گڑیا کی طرح ایک ہی زاویے میں خاموش بیٹھی ہوئی تھی نا گھر آکر اس نے کسی سے بات کی نہ ہی اپنا آئی پوڈ استعمال کیا ، نہ ٹی وی دیکھنے کا دل کیا دل میں اک عجیب سی بیزاری آگئی تھی اور جیسے ہی بادل گرجے تھے وہ اُٹھ کر سیدھا بالکنی میں موجود سیکٹر پہ آبیٹھی پھر تھوڑی ہی دیر بعد گل شیر کی آواز پر وہ مڑی
"یہ کون لایا ہے ؟۔”
وہ اب حیرت سے بڑے بڑے شاپنگ بیگ اس کے ہاتھوں میں دیکھ کر تیزی سے اُٹھی
"یہ اسامہ لالہ لایا ہے آپ کے پاس کپڑے نہیں تھا تو ان کو خیال آیا ویسے بی بی آپ کا طبیعت تو ٹھیک ہے ہم سوپ لائے ۔”
"نہیں اِدھر دکھاو ویسے گل شیر کہی کوئی پولیس تو نہیں آئی تھی گھر میں ۔”
اس چکی کی اتنی مہربانی پر وہ حیران کیوں نہ ہوتی کہاں وہ اس خار کھاتا تھا اور اب !
"بی بی کیسا بات کرتا ہے پولیس کیوں آئے گا ۔”
"تو یہ تمھارے اسامہ لالہ کیوں اتنے اچھے بن رہے کہی ارشد بھائی والی دھمکی کام تو نہیں کر گئی ۔”
وہ شرارت سے مسکرائی تھی چلو صبح صاحبہ اس چیز کا کیوں نہیں فائدہ اُٹھایا جائے ایک تو بیماری دوسرا پولیس کا ڈر دونوں اسامہ کو کنڑول میں لایا جاسکتا ہے ، صبح بس تھوڑی دیر کے لیے بیزاری کی موڈ ہوتا تھا پھر اس کوئی نہ کوئی شرارت ہی سوجتی تھی ایک شریر سی مسکان سے وہ بیگ سے اپنے کپڑے نکلانے لگی مگر پینٹ شرٹ کے بجائے شلوار قمیضوں کے ڈھیر دیکھ کر اس کا منہ کھل گیا یہ کیا ؟؟
"یہ کیا لائے ہیں تمھارے لالہ جی میں یہ پہنوں گی ۔”
"بی بی کلر بھی تو اتنا اچھا اور کتنے خوبصورت ہیں ہم بھی جب شادی کریں گا تو اپنی بیوی کے لیے بھی ایسا سوٹ لائے گا ۔”وہ ستائیسی نظروں سے رنگ برنگے خوبصورت قمیتی جوڑے دیکھنے لگا
"تو تم بھی بچی سے شادی کریں گا ۔”
نور بھی اس کے انداز میں بولی وہ بھونچکا گیا
"توبہ کریں بے بی خانم جی کو اگر پتا چلا تو وہ میری گردن اُڑا دیں میں تو خود حیران ہوں جب مجھے پتا چلا کہ آپ اسامہ لالہ کا بیوی ہے اور وہ بھی آغا جی کے حُکم سے ہوا ہے یہ شادی ویسے کیا یہ بات خانم کو پتا ہے ۔”
وہ اپنے سوال کا جواب نور سے پوچھ رہا تھا
"یہ خانم کون ہے ؟۔”
وہ شلوار قمیض کو دیکھ کر منہ بن گیا ایک بھی جینز شرٹ نہیں تھی اور اب وہ گل شیر سے خانم کا پوچھ رہی تھی
"آپ کو خانم کا نہیں پتا ؟۔”
"نہیں کون ہے ؟۔”
وہ اب بستر پر بیٹھ چکی تھی
"وہ آغا جی کا بہن اور آپ کہہ سکتے ہیں دوسرا اسما جہانگیر ہے بہت سٹرانگ لیڈی ہے ۔”
"اب وہ کون ہیں کیا وہ لوگوں کو مارتی ہیں جو سٹرانگ ہیں ۔”
"ارے نہیں نہیں حق کے لیے آواز اُٹھاتی ہیں صحیح غلط میں فرق جانتی ہیں اور ناانصافی ان کی وہ کیا کہتے ہیں ڈکشانارئ میں نہیں ہے ۔”
"اٹس ڈکشنری !۔”
وہ مسکرائی
"ہاں وہی ۔”
"اچھا پر وہ ہے کون ؟۔”
"اسامہ لالہ کا بڑی جان ، دین لالہ اور ارباز کا مادر بزرگ سب کا خانم آغا جان کا خور ردا خانم !۔”
"واو نائیس اچھا تم جاو ویسے ایک بات بتاو میری آپی کی شادی صلاح الدین سے ہوئی تھی وہ ہے کون ؟۔”
ایک دم جیسے اسے خیال آیا تھا
"آپ دین لالہ کو پوچھ رہا ہے پر آپ کا آپی کا شادی دین لالہ سے کب ہوا ہیں دین لالہ کا شادی بھی ہوگیا مجھے اب تک کسی نے کیوں نہیں بتایا میں ابھی اسامہ لالہ سے پوچھ کر آتا ہے ۔”
"ارے مجھے ان کی تصویر تو دکھا دوں ۔”
"ہاں ہاں آپ رُکو !۔”
وہ گیا اور پھر دو منٹ بعد واپس آیا اور اسے پکڑا کر پھر یہ جا وہ جا نور نے تصویر میں موجود شخص کو سفید گھوڑے پہ بیٹھے دیکھا جو کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا وہ اس وقت سفید پولو شرٹ اور ڈارک بلیو جینز سمیت اپنی تمام تر دلکش سمیت پوری تصویر میں چھایا ہوا تھا بالکل اس کے آپی کا آڈیل
"ٹال ، ہینڈسم ، اینڈ مین آف مینی ٹیلنٹس ۔”
نور نے غور کرنے پہ دیکھا اس کی آنکھیں ہری تھی بالکل امیرالڈ سٹون کی مانند جو مقابل کو اپنی آنکھوں سے چت کردینے کی صلاحیت رکھتا تھا
"اسامہ کا بھائی تو اسامہ اسامہ سے زیادہ ہینڈسم نہیں بلکہ چکی اور ان کا کیا مقابلہ واقعی ہائی سویٹ بس آپی کو ڈانتے نہ ہو اور مارے بھی نا ہی ہی آپی کو ہاتھ بھی کون لگا سکتا ہے آپی اسی کے ہاتھ توڑ دیں یار یہ تو ہورس رایڈر بھی ہیں واو میں اپنی دوستوں کو ۔۔۔۔۔
وہ جیسے کہتے کہتے چُپ ہوگئی تھی اچانک سے جیسی اپنی جگہ اور اپنے گھر والوں کی زیادتی یاد آگئی تھی وہ اُداسی سے ان کی تصویر دیکھنے لگی
پھر سائڈ پہ رکھ کر کپڑوں کو دیکھنے لگی اب تو کوئی چارا نہیں تھا اس لیے پنگ لمبی سی شیفون کی گھیردار والی فراک اُٹھائی اور واش روم کی طرف بڑھی
••••••••••••••••
وہ بس سے اُتر کر اب ہاتھ آگئے بڑھا رہا تھا ثمرن نے پکڑ لیا اور نیچے اُتری اور اسے چھوٹے سے پرائیوٹ پلین کی طرف لے گیا جو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی چھوٹا تھا
"دین !۔”
سامنے ایئرہوسٹس ان کے استقبال کے لیے کھڑی تھی
"گڈ مارنگ کیپٹن صلاح الدین !۔”
وہ ایک پیشہ ور مسکراہٹ سجاتے ہوے بولی
"گڈ مارنگ فاطمہ سب کچھ تیار ہے ۔”
"یس سر !۔”وہ اب سڑھیوں میں چلنے لگا صلاح الدین نے ثمرن کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا
"ہم کہاں جارہے ہیں آپ تو کہہ رہے تھے ہم واک کے لیے جائے گے اب ۔”وہ مڑ کر مسکرایا پھر بولا
‏You can call it air walking but I’ll prefer flying
( تم اسے ہوا میں چلنا کہہ سکتی ہوں پر میں اُڑنا چنو گا )
وہ اب اندر آگئے مزید دو ایئرہوسٹس آگئی اور ان کا استقبال کرنے لگی
"یہ آج ہو کیا رہا ہے ۔”وہ بڑبڑائی تھی
"دس وے سر ۔”
ایئرہوسٹس کے پیچھے وہ دونوں چلنے لگے اور وہ اس یونیق پلین کو دیکھنے لگی وہ چلتے ہوے سیدھا کوک پٹ کے دروازے کی طرف لے آئی جس کا وہ کوڈ دبا رہی تھی اور وہ اب کھل چکا تھا
"ہیر یو گو !۔”
"تھینک یو !آو موشم !۔”
وہ اسے ساتھ لے کر چلتا کو پائلیٹ کی سیٹ کی طرف لے آیا اور اسے بیٹھنے کو کہا
"ہم کہاں جارہے ہیں دین !۔”
"او ہو ٹینشن کس بات کی ہے لڑکی آجائے گے واپس تم اس مومنٹ کو انجوائی کیوں نہیں کرتی ۔”
وہ اب جھلا گیا تھا
وہ اب بیٹھ گئی تھی تو وہ اس کی سیٹ بیلٹ باندھنے لگا اور پھر اس کے ماتھے پہ لب رکھتا ہوا وہ اب اپنی سیٹ کی طرف آگیا

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/