منتخب نظمیں

اے خدا . اے خُدا! سینۂ مسلم کو عطا ہو وہ گ…

اے خدا
.
اے خُدا! سینۂ مسلم کو عطا ہو وہ گُداز
تھا کبھی حمزہ و حیدر کا جو سرمایۂ ناز

پھر فضا میں تری تکبیر کی گونجے آواز
پھر اس انجام کو دے گرمی رُوحِ آغاز

نقشِ اسلام اُبھر جائے، جلی ہو جائے
ہر مسلمان حسین ابنِ علی ہو جائے

دشتِ اسلام کے کانٹوں کو گلستاں کر دے
پھر ہمیں شیفتۂ جلوۂ ایماں کر دے

دل میں پیدا تپشِ بو ذر و سلماں کر دے
اپنے محبوب کی سوگند ’’مسلماں‘‘ کر دے

رُو کشِ صبح، شبِ تار کا سینہ ہو جائے
آبگینے کو وہ چمکا کہ نگینہ ہو جائے

دے ہمیں بارِ خدا! جرأت و ہمت کے صفات
دل کو یوں چھیڑ کہ پھر جاگ اُٹھیں احساسات

پھر سے ہوں تازہ رسول عربی کے غزوات
درس مومن کو یہ دے موت ہے تکمیلِ حیات

جادہ پیماؤں کو چھوٹا ہوا صحرا دے دے
قیس کو پھر خلشِ ناقۂ لیلیٰ دے دے

پھر بہار آئے، مئے ناب پری ہو جائے
پھر جہاں محشرِ صد جلوہ گری ہو جائے

دے وہ چھینٹے کہ ہر اک شاخ ہری ہو جائے
زرد آندھی کا نسیمِ سحری ہو جائے

طبع افسردہ کو پھر ذوقِ روانی دے دے
اِس زلیخا کو بھی معبود جوانی دے دے

ہم کو سمجھا کہ تلاطم میں ٹھہرنا کیسا؟
نشۂ بادۂ جرأت کا اُترنا کیسا؟

موت کیا شے ہے، بھلا موت سے ڈرنا کیسا؟
کوئی اس راہ میں مرتا بھی ہے، مرنا کیسا؟

مَر کے بھی خون میں یوں موجِ بقا آتی ہے
کہ اجل سامنے آتے ہوئے شرماتی ہے

صبحِ اسلام پہ ہے تیِرہ شبی کا پَر تَو
لبِ مسلم سے ہٹا تشنہ لبی کا پَرتَو

کانپ کر ماند ہو راحت طلبی کا پَر تَو
ڈال سینوں پہ رسول عربی کا پَر تَو

غُل ہو وہ حوصلۂ شوق دو بارا نکلا
وہ چمکتا ہوا اسلام کا تارا نکلا

زندہ کس طور سے رہتے ہیں بتا دے ہم کو
عقل حیراں ہو وہ دیوانہ بنا دے ہم کو

سُوئے میخانۂ توحید صدا دے ہم کو
عشق کا ساغر لب ریز پلا دے ہم کو

کج ہوں اُس وقت سرِ حشر کُلاہیں اپنی
جب ملیں ساقیِ کوثر سے نگاہیں اپنی
.
جوش ملیح آبادی

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/