مختصر کہانیاں

بھگوڑا قسط نمبر 10 ریاض عاقب کوہلر ”بالک تم نے اپ…

بھگوڑا قسط نمبر 10
ریاض عاقب کوہلر

”بالک تم نے اپنے لیے بہت بری موت کا چناﺅ کیا ہے۔“ رگھو دادا بھیانک آواز میں گرجا۔
”رگھو دادا!…. کمزور نہتی عورتوں کو اپنی مردانگی کے جوہر دکھانا بہت آسان ہوتا ہے،لیکن جس وقت سامنے مرد آئیں تب تمھارے جیسے ہجڑوں کو پتا چلتا ہے کہ اصل مردانگی کیا ہوتی ہے؟“
اس وقت دروازے پر دستک سنائی دی اور ساتھ ہی کسی نے زور زور سے پکارا ”رگھو دادا …. رگھو دادا!…. قیدی بھاگ گیا ہے۔“
”دفع ہو جاﺅ…. کتو!….تمھارا باپ بھاگا نہیں ادھر ہی ہے۔“میری باتیں سن کررگھو کا پارہ یوں بھی آسمان کو چھو رہا تھا اور وہ غصہ اس نے انھی پر نکال دیا۔
رگھوکو اپنے گرگوں کے ساتھ مصروفِ گفتگو دیکھ کر میںنے اپنی جیکٹ اور قمیض اتار کر چارپائی پر ڈال دیں تھیںکیونکہ اس دیو کے ساتھ لڑائی کے دوران مجھے بہت زیادہ تیزی کی ضرور پڑتی جس میں جیکٹ اور قمیض لازماً رکاوٹ بنتی۔
”دادا پھر ہم کیا کریں….؟“ باہر سے سہمی ہوئی آواز آئی۔
”بتایا تو ہے دفع ہو جاﺅ، اس کی ہڈیاں توڑنے کے لیے رگھو دادا کو کسی کتے کی مدد نہیں چاہئے۔“
”جی دادا۔“ کہہ کر وہ دروازے سے ہٹتے چلے گئے اس بات کا اندازہ مجھے ان کے دور جاتے قدموں کی چاپ سے ہوا۔
میں نے نظریں ترچھی کرکے شیتل کی طرف دیکھا وہ ابھی تک اسی حالت میں کھڑی تھی۔ کپڑے کا تار تک اس کے بدن پر موجود نہیں تھا رگھو نے اس کے لباس کو چیر پھاڑ کے اس کے جسم سے علاحدہ کیا تھا۔ کندن بدن روشندان سے آنے والی روشنی میں دمک رہا تھا ۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر چارپائی پرپڑی اپنی جیکٹ اٹھائی اور اس کی طرف اچھال کر بولا۔
”یہ پہن لو۔“ گو وہ جیکٹ اس کے جسم پر بہت کھلی تھی لیکن برہنگی چھپانے کے لیے غنیمت تھی۔
شیتل نے جھپٹ کر جیکٹ کو پکڑا اور پہن لی۔ جیکٹ نے رانوں تک اس کے بدن کو چھپا لیا تھا۔ گو اس کی رانیں بھی اس قابل تھیں کہ دیکھنے والے کو کسی کام کے قابل نہ چھوڑتیں ۔مگر میں فی الحال اس نظارے کی دید کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ۔
”واہ بھئی واہ!“ رگھو اپنی منحوس آواز میں گرجا۔ ”بڑی تکلیف ہو رہی تھی تمھیں، لیکن کب تک چھپاﺅ گے اسےَ جس پر رگھو کا دل آجائے اسے رگھو ضرور حاصل کرتا ہے۔“
”ویسے بھونک اچھا لیتے ہو۔“ شیتل کی طرف سے بے فکر ہو کر میں نے اسے چھیڑا۔ میں اسے غصہ دلا کر اس کے دفاع سے غافل کرنا چاہتا تھا ۔اور میں اپنے مقصد میں کامیاب رہا۔ رگھو غصے میں دھاڑتا ہوا میری طرف بڑھا میں اپنی جگہ پر تیار کھڑا تھا، میرے قریب پہنچ کر اس نے پوری قوت سے اپنا دایاں بازو گھمایا۔ میں نے جھکا ئی دے کر اس کا وار خطا کیا وہ اپنی جھونک میں گھوم گیا تھا۔ پشت پرلگنے والی میرے پاﺅں کی ٹھوکر سے وہ بے ساختہ چند قدم دوڑتا چلا گیا۔ اس کے مڑنے سے پہلے میں اپنے دائیں پاﺅں پر گھوم چکا تھا۔ میرے بائیں پاﺅں کی ایڑی اس کی چھاتی سے ٹکرائی اور وہ کولہوں کے بل زمین پر گر پڑا لیکن اس نے اٹھنے میں دیر نہ لگائی اور اٹھ کر اپنے دائیں پاﺅں کی ٹھوکر پوری قوت سے میری چھاتی پر دے ماری میں نے دونوں ہاتھوں کا کراس بنا کر اس کی ضرب سے بچنے کی کوشش کی لیکن اس کوشش میں میرے پاﺅں ان بیلنس ہو گئے اور میں نیچے گرا پڑا۔ رگھو نے مجھے ٹھوکروں پررکھ لیا اس کے پاﺅں میں جوتے نہیں تھے لیکن اس کی ہر ٹھوکر مجھے ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھی۔ وہ غصے کی شدت میں پھنکار رہا تھا اور اس کے منہ سے کسی گندے گٹر کی گندگی کی طرح واہیات گالیاں نکل رہی تھیں تیسری چوتھی ٹھوکر پر اس کا پاﺅں میرے ہاتھ میں آگیا جسے کھینچ کر میں نے اسے زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی میں اچھل کر کھڑا ہوا اور اپنے پاﺅں کی ایڑی پوری قوت سے زمین سے اٹھتے رگھو کے ماتھے پر دے مار ی اس کا سر ایک دھماکے کے ساتھ زمین سے ٹکرایا۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ فرش پختہ نہیں تھا ورنہ اس کا کام ہو گیا ہو تا۔ زمین کچی ہونے کے باوجود اس کے منہ سے کراہ خارج ہوئی اور اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے گندی گالیوں کی بوجھاڑ نکلی۔
”کھڑے ہو جاﺅ زنخے۔“ میں اسے مزید غصہ دلایا ۔ ”عورتوں کی طرح کو سنے دینے سے بات نہیں بنے گی۔“
وہ ایک مرتبہ پھر بکتا جھکتا کھڑا ہوا۔ میں نے اپنی ٹانگ لہرا کر اس کی چھاتی میں مارنے کی کوشش کی لیکن میری ٹانگ اس کے ہاتھوں میں آگئی۔ اس نے میرے پاﺅں کواپنے ہاتھوں میں دبوچ کر مجھے ہوا میں گھمانا چاہا اگر وہ اس میں کامیاب ہو گیا ہوتا تو آسانی سے گھما کر مجھے کسی دیوارپر مار دیتا، لیکن میں نے وہ پاﺅں اس کے ہاتھ میں رہنے دیتے ہوئے اچھل کر اپنے دوسرے پاﺅں کی ٹھوکر اس کے کریہہ چہرے پر دے ماری۔ میرا پاﺅں اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور میں منہ کے بل زمین پر گرنے لگا۔چونکہ میں اس بات کے لیے تیار تھا اس لیے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک کر میں اپنے چہرے کو زمین پر رگڑنے سے بچا گیا۔ رگھو دادا میری طرف بڑھنے کی بجائے اپنے کپڑوں کی طرف دوڑامجھے پتا چل گیا کہ وہ کوئی ہتھیار لینے کے چکر میں ہے۔ میں بھی اٹھ کر اس کے پیچھے دوڑا وہ اس وقت جھک کر اپنے کپڑوں سے کچھ نکالنے کی کوشش میں مصروف تھا اگر میں اسی طرح دوڑ کر اس کی طرف بڑھتا تو وہ لازماً ہتھیار نکالنے میں کامیاب ہو جاتا میں اپنی جگہ پراچھلا اور ہوا میں تیرتا ہوا اس پر جا پڑا۔ اپنی کمر پرلگنے والی میرے سر کی چوٹ سے وہ منہ کے بل گر پڑا اور اس کے ساتھ ہی میں نے اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی۔
اسے ٹھوکریں لگاتے ہوئے مجھے عجیب قسم کی لذت محسوس ہو رہی تھی اور ایسا شاید شیتل کے ساتھ اس کے گھٹیا سلوک کرنے کی وجہ سے تھا۔
اس نے میرا پاﺅں پکڑنے کی کوشش کی لیکن میری پھرتی کی وجہ سے اسے کامیابی حاصل نہ ہو سکی وہ لڑھکنیاں کھاتا ہوا میرے پاﺅں کی پہنچ سے دور ہٹا اور پھر اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ پسینہ دھاروں کی صورت میں ہم دونوں کے جسموں سے بہہ رہا تھا۔ رگھو کسی تھکے ہوئے کتے کی مانند ہانپ رہا تھا۔ اس کی پہلی اکڑ فوں اور دم خم رخصت ہو چکاتھا۔ اب اسے کوئی راہِ فرار نظر نہیں آرہی تھی۔
”رگھو۔“ میں نے اسے استہزائیہ لہجے میں پکارا ۔ ”میں نے کہا تھا ناکہ لڑائی بھڑائی مردوں کا کام ہے۔ اب بھی اگر تم چوڑیاں پہن کر ایک ٹھمکالگا کر دکھا دو تو میں تمھیں زندگی کی بھیک دے سکتا ہوں۔“
میری بات سنتے ہی رگھو ایک مرتبہ پھر غصے میں بکتا جھکتا میری جانب بڑھا غصے کی شدت میں وہ اپنے دفاع سے بالکل غافل ہو گیا تھا جو کہ میرا مطمح نظر تھا۔ جونھی وہ میرے قریب پہنچا میں نے اپنا سیدھا پاﺅں اس کی بائیں سائیڈکی پسلیوں کے نیچے ماراوہ ”اوغ“ کی آواز کے ساتھ رکوع کے بل جھک گیا مجھے بھی اس کی یہی پوزیشن درکار تھی۔ اگلے ہی لمحے اس کی موٹی گردن میرے بائیں بازو کی گرفت میں تھی۔
”رگھو تمھیں کہا تھانا چوڑیاں پہن کر اپنی جان بخشی کروالے۔“ میں اس کی گردن پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے بولا۔ ”مگر تُو نہ مانا، اب اپنے گرو شیطان کو یاد کر لے کہ یہ تیرا آخری وقت ہے۔“
رگھو نے تڑپ کر اپنی گردن میری گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کی مگراس کی کوشش اتنی ہی ناکام گئی جتنی بلی کے منہ میں پھنسے کسی چوہے کی جان بچانے کی کوشش ۔
میں نے اپنے بائیں بازو کو مخصوص انداز میں جھٹکا دیا اور ”کٹاک“ کی آواز کے ساتھ رگھو کا جسم میرے ہاتھوں میں جھول گیا۔ میں نے اسے نفرت سے زمین پر پھینک دیا۔
کونے میں سمٹی شیتل بھاگ کر میرے قریب آئی اور وارفتگی کے ساتھ مجھ سے لپٹ گئی۔
”تم ٹھیک تو ہونا؟“ وہ میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چاہت سے بولی۔
”ہاں۔“ میں گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ اس کا اس طرح وارفتگی سے میرے ساتھ لپٹنا مناسب نہیں تھا لیکن کوشش کے باوجود میں اسے خود سے علاحدہ نہ کر سکا بڑی مشکل سے میں اپنے بازوﺅں کو اس کے گرد گھیرا ڈالنے سے باز رکھ سکا تھا۔
” سردی کے باوجود اتنا پسینہ؟ “ وہ اپنے ہاتھوں سے میرے چہرے کا پسینہ پونچھنے لگی۔
”میں کھانا نہیں کھا رہاتھامحترمہ!….زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔“
”میری خاطر،ہے نا؟“ میرے سینے کے ساتھ اپنا رخسار رگڑتے ہوئے وہ پیار سے بولی۔
میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی اورشیتل کے اپنی طرف بڑھتے قدموں کو روکنے کے لیے میں نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
”نہیں۔ تمھاری جگہ پر کوئی بھی عورت ہوتی میں نے یہی کرنا تھا۔“
”ہاں….آپ ہیں ہی اتنے اچھے…. اتنے پیارے۔“
”اچھا آپ مجھ سے علاحدہ ہونے کی زحمت کریں گی۔“ میں ناچاہتے ہوئے بھی مجبوراً بولا۔ ”ابھی تک اس کے گر گے صحیح سلامت باہر موجود ہیں۔“
”آپ کی موجودی میں مجھے کسی کا خوف نہیں ہے۔“
”میں کب تک تمھارے پاس رہوں گا۔“ میں نے ایک تلخ حقیقت بیان کی ۔ جس کا جواب اس کے پاس موجود نہیں تھا۔ وہ آہستگی سے مجھ سے علاحدہ ہوئی اور چارپائی پر جا کر بیٹھ گئی۔ اس مضحکہ خیز لباس میں بھی وہ اتنی ہی سندر اور پیاری لگ رہی تھی جتنی کسی بھی نئے فیشن کے لباس میں لگتی۔ لباس اور زیورات ہمیشہ سے عورت کی کمزوری رہے ہیں۔ بلا امتیاز کسی رنگ، مذہب، نسل اور قومیت کے ، عورتیں ان لوازمات کی دلدادہ ہوتی ہیں لیکن حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ عورتوں کا پاگل پن ہے۔ حسن کبھی بھی لباس یا آرائش کا محتاج نہیں رہا ہے۔ اچھی صورت ہر لباس اور بغیر آرائش کے بھی اچھی ہی لگتی ہے۔ جس طرح چمڑے کی جیکٹ میں ملبوس شیتل لگ رہی تھی۔
میں نے اس کے سراپے سے نگاہیں ہٹائیں اور زمین پر بکھرے رگھو کے لباس کی طرف متوجہ ہو گیا اس کی تلاشی لینے پر کو برے کا بریٹا اور نیلم کا چھوٹاپسٹل دونوں اس کی جیب میں پڑے مل گئے۔ ایک تیز اور لمبی چوڑی دھار کا خنجر بھی چمڑے کے کور میں بند مجھے نظر آگیا۔
نیلم کاپسٹل میں نے پتلون کی جیب میں ڈالا جبکہ خنجر کا کور اپنی جراب کے نیچے پنڈلی کے ساتھ ایک تسمے سے باندھ دیا۔
شیتل اس دوران خاموشی سے چارپائی پر بیٹھی میری حرکات کو دیکھتی رہی۔ بریٹا ہاتھ میں لے کر میں دروازے کی سمت بڑھا اور تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔ وہ ایک سادہ سی عمارت تھی تمام کمرے ایک قطار میں بنے ہوئے تھے۔ سورج کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ہر کمرے کا دروازہ مشرقی سمت میں تھا۔ عمارت کی شمالی اور جنوبی دیوار کے ساتھ بھی ایک ایک کمرے کا دروازہ نظر آرہا تھا جن کا رخ ایک دوسرے کی جانب تھا۔ تمام کمروں کے سامنے ایک کھلا اور وسیع برآمدہ تھا اور اس کے بعد ایک لمبا چوڑا وسیع صحن تھا۔ کمروں کے دروازے باہر کی جانب کھلتے تھے اس لیے میں نے احتیاط سے باہر جھانکاکہ دور سے ہی دروازہ کھلتا نظر آجاتا لیکن خوش قسمتی سے مجھے برآمدہ اور صحن خالی نظر آئے بائیں ہاتھ کے ایک کمرے سے مجھے ہلکی ہلکی گانے کی آواز آرہی تھی شاید کوئی ریڈیو یا ٹیپ ریکارڈ رپر گانا سن رہا تھا۔
میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر شیتل کو اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا وہ تو جیسے میرے اشارے کی منتظر تھی بھاگ کر میرے قریب آگئی۔میں نے چھوٹا پستول اس کے حوالے کر کے کہا۔
”میں بائیں سمت کو جارہا ہوں تم کمرے کے اندر رہتے ہوئے داہنی جانب پر نظر رکھنا۔ یہ نہ ہو پشت کی جانب سے کوئی مجھے پار کر دے ۔“
”بھگوان نہ کرے۔“ وہ جلدی سے بولی۔ ”برے شبد تو نہ نکالو منہ سے۔“
”گولی تو چلا لو گی نا….؟“ میں مستفسر ہوا۔
”یہ تو وقت آنے پر پتا چلے گا؟“ وہ شرارت سے مسکرائی۔اور میں سر ہلاتا آواز والے کمرے کی سمت بڑھتا چلا گیا۔وہ ریڈیو کی آواز تھی کیونکہ جس وقت میں کمرے کے نزدیک پہنچا اس وقت پروگرام کی میزبان سامعین کے خطوط پڑھ رہی تھی۔ اس کے ساتھ رگھو کے گرگوں کی بات چیت کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ میں دبے قدموں دروازے کے قریب پہنچا کمرے کا دروازہ نیم وا تھا۔ میرے ہاتھ میں موجود پستول فائرنگ پوزیشن میں ریڈی تھا۔
”ہینڈز اپ۔“ میں دروازے کو مکمل کھول کرکمرے میں داخل ہوا۔ وہ دونوں چارپائیوں کے اوپر لیٹے مصروفِ گفتگو تھے ان کا تیسرا ساتھی ادھر نظر نہیں آرہا تھا۔ میری دھاڑ سن کر وہ اچھل پڑے لیکن ہاتھ اٹھانے کی ضرورت انھوں نے محسوس نہ کی اور جھپٹ کر اپنی کلاشن کوفیں اٹھانی چاہیں۔ یہ ان کی خام خیالی تھی کہ وہ اس میں کامیاب ہو جائیں گے ۔بریٹاپستول کی مزل سے نکلنے والی بے رحم گولیاں ان سے زیادہ تیز ثابت ہوئیں دونوں کی کھوپڑیوں میں سرخ روشندان کھل گئے تھے۔ میں نے پستول اپنے بیلٹ میں اڑسا اور جھپٹ کر چارپائی کے ساتھ کھڑی کلاشن کوف اٹھالی تیسرے بندے کا کوئی پتا نہیں تھا کہ وہ کدھر چھپا ہوا تھا۔ میں جونھی باہر نکلنے کے لیے مڑا مجھے ہلکے ہلکے دو دھماکے سنائی دیئے یہ نیلم کے پستول کی آواز تھی ۔ میں بھاگ کر باہر نکلا برآمدے میں تیسرا آدمی پڑا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔
میرے سامنے رگھو، انیل اور ان کے ساتھ یہی تین بندے آئے تھے جو اس وقت جہنم رسید ہو چکے تھے لیکن یہ بات بعیداز قیاس نہیں تھی کہ ان کے علاوہ بھی اس جگہ ان کا کوئی اور ساتھی پوشیدہ ہو۔
مجھے دیکھ کر شیتل بھی کمرے سے نکل آئی۔
”ادھر ہی رہو۔“ میں نے اسے واپس کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور وہ جلدی سے کمرے کے اندر ہو گئی۔ لاش کے قریب پڑی کلاشن کوف اٹھا کرمیں بھی شیتل کے پیچھے کمرے میں گھس گیا۔
”ادھر کتنے بندوں کو ختم کرا ٓئے ہو۔“
”دو تھے…. اور تیسرا تمھارے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔“
”وہ باورچی بھی تو تھانا جو ہمارے لیے کھانا لے کر آیا تھا۔“ وہ مجھے یاد دلاتے ہوئے بولی میں اس کی بات سن کر حقیقتاً اچھل پڑا۔
”تم اسی کمرے میں رہواور اندر سے کنڈی لگا لو جب تک میری آواز پہچان نہ لو دروازہ نہیں کھولنا۔“
”ٹھیک ہے۔“اس نے اثبات میں سر ہلایااور میں احتیاط سے چلتا ہوا باہر نکل آیا۔ شیتل نے میرے باہر آتے ہی اندر سے کنڈی چڑھا دی تھی۔
میں نے ایک طرف سے کمروں کی تلاشی لینی شروع کر دی مطلوبہ شخص مجھے بائیں جانب کے آخری کمرے میں مل گیا، لیکن اس حالت میں کہ کوئی کام کرنے قابل نہیں تھا۔ وہ کسی نامعلوم نشے کے زیر اثر دھت پڑا تھا۔ وہ افیون، چرس، بھنگ، شراب سے لے کر کوکین پاوڈر تک کسی چیز کا نشہ بھی ہو سکتا تھا۔
میں نے اسے ہلایا جلایا مگر اس میں کوئی جنبش پیدا نہ ہوئی۔ اس کے کمرے کی تلاشی لینے پر مجھے تھوڑی سی نقدی کے علاوہ کوئی کام کی چیز نہ ملی۔ وہ غالباً ان کا باورچی تھا اور دوپہر کے کھانے کے بعد آرام فرما رہا تھا۔ یوں بھی نشئی بندہ اپنا نشہ لیے بغیر سو نہیں سکتا۔ اس کی چارپائی کے نیچے جھا نکنے پر گھٹیاشراب کی تین چار بوتیں پڑی نظر آئیں ان بوتلوں پر کوئی لیبل وغیرہ لگا ہوا نہیں تھا اس کا مطلب تھا کہ وہ مقامی طور پر تیار کی گئی شراب تھی۔ انڈیا میں شراب کی بھٹیاں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں اور شوقین حضرات بھی اتنی ہی کثرت سے ہیں مسلمانوں کے علاوہ کسی بھی مذہب کے پیرو کار اس سے احتراز نہیں برتتے۔ بلکہ آج کل تو خالی خال ہی ایسے مسلم پائے جاتے ہیں جوام الخبائث سے پرہیز کرتے ہوں۔
وہ باورچی مختصر قامت کا شخص تھا اس کا لباس شیتل کو فٹ آسکتا تھا۔ میں نے اس کے سامان میں سے ایک صاف ستھری پینٹ شرٹ اٹھائیاور کمرہ باہر سے کنڈی کر دیا تاکہ ہوش میں آنے پر وہ کوئی گڑ بڑ نہ کر سکے اور شیتل کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ میری آواز پہچانتے ہی اس نے دروازہ کھول دیا۔
”وہ باورچی اپنے کمرے میں دھت پڑا ہے، میرا اندازہ ہے کہ اس کا لباس تمھیں فٹ آئے گا۔لو یہ پہن لو اور میری جیکٹ واپس کرو۔“میں نے لباس اس کی سمت بڑھایا۔
”تمھاری جیکٹ تو میں کھا ہی جاﺅںگی نا؟“ وہ مصنوعی خفگی سے بولی۔ ”یہ لو“ اس نے زپ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ میرا دل بے اختیار دھڑک اٹھا۔
”ادھر دفع ہو جاﺅ۔“ میں نے باتھ روم کی طرف اشارہ کیا۔
”ہا…. ہا…. ہا….“اس کا شرارتی قہقہہ گونجا ۔ ”دل تو بڑا کر رہا ہے لیکن اوپر اوپر سے کہہ رہے ہو کہ ادھر چلی جاﺅ تاکہ میں ضد میں آ کر اِدھر ہی چینج کر لوں۔ تمھاری یہ حسرت میں کبھی بھی پوری نہیں ہونے دوں گی۔“
میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔”سب کچھ کو میرا دیکھا بھالاتوہے ۔“
”صحیح کہا ….لیکن اب دل کر رہا ہوگا ناںدوبارہ دیکھنے کو ….یوں بھی میں ہوں ہی ایسی کہ جو ایک مرتبہ دیکھ لیتا ہے وہ یہی کہتا ۔
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
”اتنا وقت نہیں ہے کہ میں تمھاری بکواس سن سکوں۔“
”سچی بات سن کر غصہ آہی جاتا ہے۔“ وہ شوخی سے بولی اور میں پاﺅں پٹختا کمرے سے نکلا اور تمام کمروں کی تلاشی تفصیل سے لینے لگا۔ تھوڑی سی نقدی کے علاوہ مجھے کام کی کوئی چیز نہ ملی۔ سارے کمروں میں گھٹیا شراب، فحش تصاویر،چرس، سگریٹ اور اسی قسم کی دیگر اشیاءوافر مقدار میں موجود تھیں۔ میں ایک مرتبہ پھر اس باورچی نما شخص کے کمرے میں گھس گیا اس کے چہرے پر پانی پھینکنے اور تھپڑ مارنے پر بھی میں اسے ہوش میں نہ لا سکا۔ مجبوراً میں اسے اپنے حال پر چھوڑ کر باہر نکل آیا۔ کمرہ باہر سے بند کرنا میں نہیں بھولا تھا ۔
شیتل منہ پھلائے کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی۔ باورچی کا لباس اسے بالکل فٹ آیا تھا میں اس سے بات کے لیے بغیر کمرے میں داخل ہو گیا۔ میری قمیص اور جیکٹ چارپائی پر پڑی تھیں۔ جیکٹ وغیرہ پہن کر میں نے پتلون کی جیبوں میں ٹھونسا ہوا سارا سامان جیکٹ کی جیبوں میں منتقل کیا اور وہاں سے جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ وہ جگہ ہمارے لیے محفوظ نہیں تھی۔ ضروری نہیں تھا کہ رگھو کے گرگوں کی تعداد تین چار ہی ہو۔ حویلی کی ساخت سے تو لگتا تھا کہ اس میں کافی بندے رہائش پذیر تھے۔
حویلی کے صحن میں شیتل کی کار اور ایک جیپ کھڑی تھی۔ یہ وہی جیپ تھی جس میں کل رات انیل اور اس کے ساتھی سوار تھے۔
”چلو“ میں کلاشن کوف کی دو فالتو میگزینیں جیب میں ڈال کر شیتل کو مخاطب ہوا۔ ”یہ جگہ ہمیں فی الفور چھوڑنی پڑے گی۔“
”نہیں۔“ وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔ ”میں یہیں پر ٹھیک ہوں۔“ اس نے اپنا منہ بالکل کسی بیوی کی طرح پھلایا ہوا تھا۔خدا حسن دیتا ہے اور نازو ادا حسین خود سیکھ لیتے ہیں۔ اپنی اداﺅں سے کسی کی بھی عقل خبط کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ بھول پن اور سادگی ان کے ایسے تیر ہوتے ہیں جو کبھی خطا نہیں جاتے۔
شیتل بھی ہزاروں نہیں لاکھوں ،کروڑوں میں ایک تھی۔ اس کی عام حرکات بھی نازو ادا کے غلاف میں لپٹی دکھائی دیتی تھیں۔کجا حقیقت میں ناز نخرہ کرنا۔ کسی مرد کے خلاف اگر وہ میدانِ میں کود پڑتی تو اس مرد کا بچنا ناممکنات میں سے ہوتا۔
مجھے بھی اس کی حرکات دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ میرے خلاف وہ سرگرم عمل ہو گئی ہے۔ اگر وہ مجھے عام حالات میں ملی ہوتی تو اس سے دامن چھڑانا میرے لیے حقیقی معنوں میں کارِ داد ثابت ہوتا لیکن اس کی یا میری بد قسمتی کہ حالات نامو¿افق تھے۔ بقول شاعر:
جیسا موڈ ہو ویسا منظرہوتا ہے
موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے
اور میرے اندر خزاں کا موسم پھیلا ہوا تھا۔ حالات کی سنگینی اور گھر کی یاد نے مجھے ذہنی طور پر اتنا ڈسٹرب کیا ہوا تھا کہ صنفِ نازک کے لیے میرے لطیف جذبات پر اوس پڑی ہوئی تھی۔ اس وقت شیتل کی خواہش تھی کہ میں اسے مناﺅں لیکن میرے پاس اتنا فالتو وقت نہیں تھا کہ کسی عاشق کی طرح اس کی قدم بوسی کرتا رہوں۔
”زیادہ نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں سمجھیں۔“ میں نے اسے بازو سے پکڑ کر صحن کی طرف دھکیلا۔
”کہہ جود یا نہیں جانا۔“ وہ اپنا ملائم بازو ایک جھٹکے سے میری گرفت سے چھڑاتے ہوئے بولی۔
”جہنم میں جاﺅ۔“ میں نے غصیلے لہجے میں کہا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا صحن میں کھڑی گاڑیوں کی طرف بڑھ گیا۔ دونوں گاڑیوں میں مجھے سفر کرنے کے لیے شیتل کی کار مناسب معلوم ہوئی۔ خنجر نکال کر میں نے جیپ کے دونوں اگلے ٹائر بیکار کر دیئے تاکہ اس میں بیٹھ کر کوئی ہمارا تعاقب نہ کر سکے، گو اس کا امکان نہیں تھا لیکن احتیاط کے طور پر میں نے ایسا کرنا ضروری سمجھا۔
حویلی کا داخلی دروازہ کھول کر میں نے باہر جھانکا، خلافِ توقع باہر مجھے چھدرے چھدرے درخت نظر آئے جو دور تک بتدریج گھنے ہوتے چلے گئے تھے۔ عمارت کے نزدیک مجھے کوئی اور تعمیر نظر نہ آئی۔
”اس کا مطلب ہے ہم شہر سے کافی دور لائے گئے تھے۔“ منطقی انداز میں سوچتے ہوئے میں کار کے قریب آ گیا ۔وہ مجھ سے پہلے ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی تھی۔
میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ میں اس کی ناراضی کے سبب سے بھی واقف تھا اور اس کی خفگی دور کرنے کے فن سے بھی آشنا ،مگر حالات اور میری دماغی پریشانیاں اس اضافی بوجھ کو برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی تھیں۔ شیتل سے تعلقات بڑھانا اپنی منزل کھوٹی کرنے کے مترادف تھا۔اس لیے اس لایعنی مسئلہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے میں نے گاڑی سٹارٹ کرکے آگے بڑھا دی۔
گیٹ سے باہر مجھے دوراستے مخالف سمتوں میں جاتے دکھائی دیئے۔ جس وقت رگھو گروپ نے ہمیں اغواً کیا تھا اس وقت ہم دہلی شہر کے جنوب مشرقی سمت میں تھے اور میرا گمان تھا کہ ابھی ہم دہلی کے مضافات میں شہر سے مشرقی سمت میں موجود تھے۔ دہلی شہر کی طرف واپس جانا اوکھلی میں سر دینے کے مترداف تھا۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے گاڑی کارخ جنوب کی سمت موڑ دیا۔
شیتل آنکھیں بند کر کے سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی اس طرح گویا گاڑی میں وہ بالکل اکیلی ہو میں نے بھی خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔راستا ناہموار اور ٹیڑھا میٹرھا تھا۔ نارمل رفتار سے چلتے ہوئے بھی مسلسل جھٹکے لگ رہے تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ پختہ روڈ پر پہنچتے ہی کار مع شیتل کے چھوڑ دوں گا اب زیادہ دیرا س کو اپنے ساتھ لگائے رکھنا غیر مناسب تھا۔ لیکن تقدیر کی ہمیشہ ارادوں سے مخالفت رہی ہے بقول حضرت علیؓ۔ ”میں نے خدا کو اپنے ارادوں کی ناکامی سے پہچانا ہے۔“
ہمیں روانہ ہوئے بہ مشکل آدھا گھنٹا ہوا تھا کہ کار یکدم بند ہو گئی۔ میں نے سلف گھما یا لیکن کار ”گھوں گھوں“ کر کے خاموش ہو گئی اور میری دو تین مرتبہ کوشش کرنے پر بھی سٹارٹ نہ ہوئی۔
”کمانڈو صاحب!“ شیتل جو جانے کس وقت سے آنکھیں کھولے میری کوششوں کو دیکھ رہی تھی طنزیہ لہجے میں بولی۔ ”فیول گیج کو دیکھنے کی زحمت فرمائیں گاڑی میں پٹرول ختم ہو چکا ہے۔“
”آپ اگرچند ٹکے خرچ کر کے ٹینکی فل رکھتیں تو آج ہمیں یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا ۔“
”میں نے تو منت کرکے مہاراج کو بلایا تھانا؟“ وہ تلخی سے بولی۔ ”ایک تو مفت اپنے ساتھ خوار کر دیا ہے اوپر سے طعنے سنو۔“
”مجھے اگر پتا ہوتا کہ اتنی کنجوس سیٹھ زادی سے واسطہ پڑے گا جو کار میں پٹرول ڈالنے کی زحمت ہی نہیں کرتی تو میں کبھی بھی تمھاری کار کے قریب نہ پھٹکتا۔“
”اونہہ ….کنجوس…. تُوبڑا دیالو ہے نا؟“
”اپنے سے بڑے کو تُو نہیں کہتے۔“
”میں کہوں گی۔“ وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔ ”اور تمھیں میرا بڑا کس نے بنا دیا ہے۔“
”بدتمیز!….تمھارے ساتھ سفر کرنا ہی گناہ ہے۔“ یہ کہہ کر میں کار سے نکلا اور زرو دار جھٹکے سے دروازہ بند کرکے اسی ٹیڑھے میٹرھے راستے پرپیدل چل پڑا ۔
”اے! “ وہ بھی تیزی سے کار سے نکلتے ہوئے بولی۔ ”بد تمیز کس کو کہا ہے۔ بدتمیز تُو خود ہو گا۔“
لیکن میں اس کی بات کا جواب دیئے بغیر آگے بڑھنے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ میرے پیچھے ہی آئے گی۔
”واہ….“ وہ دوڑ کر میرے قریب پہنچی اور میرے ساتھ چلتے ہوئے بولی۔ ”جب تک میرے پاس کار تھی اس وقت تک میرے ساتھ سفر کرنا پُن تھا جو کار کے خراب ہونے پر پاپ ہو گیا۔“
”ہا ہاہا“ میں اس کی بات پر قہقہہ لگایا۔
”ہی ہی ہی۔“ اس نے منہ ٹیڑھا کر کے مجھے چڑایا۔ ”زہر لگ رہی ہے مجھے تمھاری ہنسی۔“
جواباً میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”میری اپنی ہنسی ہے، جس وقت میرا جی چاہے گا میں ہنسوں گا۔ اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لے ۔“
”صحیح کہا کسی نے پاگلوں کے ہنسنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ہوتا۔“
”اے!….پاگل کسے کہا ہے۔“
”کسی کو بھی نہیں….صرف پاگلوں کی نشانی بتلائی ہے۔“
”اچھا یہ بات ہے۔ ایک نشانی میں بھی بتلا دیتا ہوں۔“
”بتاﺅ؟“ اس کے لہجے میں اشتیاق نمایاں تھا۔
”پاگلوں کا کوئی پتا نہیں ہوتا کہ وہ کس وقت کیا کر گزریں۔“
”درست۔“ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”اگر تم مانتی ہو تو یہ لو میں تو گیا۔“ یہ کہہ کر میں نے راستے کو چھوڑ کر جنگل کی اندرونی سمت میں دوڑ لگا دی۔
”جان…. جان…. تم کہاں چلے ۔“ وہ چیخ پڑی تھی۔
”پاگل کو کیا پتا ؟ وہ کہاں جارہا ہے۔“ میں نے دوڑتے دوڑتے جواب دیا اور اپنی رفتار مزید بڑھالی۔ اس نے دوڑ کر میرے قریب پہنچنے کی کوشش کی لیکن فیشن اپبل چپل پہن کر وہ کہاں میرا مقابلہ کر سکتی تھی اس کے برعکس میرے پاﺅں میں سپورٹس شوز تھے اور یوں بھی میری رفتار کافی تیز تھی۔
جلد ہی میں اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس کی آوازیں آنا بند ہو گئیں۔ ایک گھنے سے درخت کا انتخاب کرکے میں اس کے اوپر چڑھ گیا اور ایک دوشاخے کے ساتھ ٹیک لگا کراپنی چڑھی ہوئی سانسیں بحال کرنے لگا۔
”تھوڑی دیر بعد ہی مجھے اس کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دینے لگیں۔
”جان…. پلیز…. سوری…. دوبارہ بدتمیزی نہیں کروں گی۔ تم کہاں ہو۔ جان مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ سامنے آجاﺅ ورنہ میں رونے لگی ہوں۔“اور میں دوشاخے سے ٹیک لگائے اس کی باتوں سے لطف اندوز ہوتا رہا۔ نامعلوم کیوں اسے تنگ کرنے میں مجھے مزہ آرہا تھا۔ حالانکہ مجھے پتا تھا کہ اس کا اور میرا ساتھ مزید چند گھنٹوں تک کا تھا۔ اگر ہم دونوں چاہتے تب بھی ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے تھے۔ سعدیہ کے ساتھ بیوفائی کرنے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن پھر بھی جانے کیوں میں اس طرح کی غیر ضروری حرکت کر بیٹھا تھا۔
میں نے سرجھٹک کر ان فضول خیالات سے پیچھا چھڑایا اور بمبئی پہنچنے کے طریقوں پر غور کرنے لگا بمبئی تک پہنچنا میرے لیے اتنا مشکل ہو گیا تھا نا معلوم وہاں پہنچ کرکون سے ہنگامے میرے منتظر تھے اور کن چیلنجز کا مجھے سامنا کرنا پڑتا۔
تھوڑی دیر بعد ہی شیتل مجھے نظر آگئی وہ اندازے سے صحیح سمت اختیار کیے ہوئے تھی جھاڑیوں کے اندر جھانکتی وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی گاہے گاہے وہ مجھے آواز بھی دے لیتی تھی۔جیسے ہی وہ اس درخت کے قریب سے گزری جس پر میں چھپا بیٹھا تھا میں نے بھیڑیئے کی طرح غراہٹ نما آواز نکالی وہ خوف سے اچھل پڑی اور زور زور سے مجھے پکارنے لگی۔ نیلم والا پستول اس نے دونوں ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا اور فائر کھولنے کے لیے بالکل تیار تھی۔
میں نے ایک مرتبہ پھر منہ سے غراہٹ کی آواز نکالی۔ اس مرتبہ اس نے آواز کی سمت کا اندازہ لگا لیا اور جلدی سے سرا ٹھا کر اوپر دیکھا جہاں پر میں دانت نکالے بیٹھا تھا۔
”وحشی، جنگلی، گنوار“ وہ غصے سے تپ کر بولی۔ ”نیچے اترو ورنہ میں گولی چلا دوں گی۔“
”پھر وہی بدتمیزی “ میں نے نیچے اترتے ہوئے کہا۔ ”میں دوبارہ بھاگ جاﺅں گا اور اس دفعہ تمھیں ملوں گا بھی نہیں۔“
”تم ایک قدم تو لے کر دکھاﺅ“اس نے پستول میری جانب تان لیا تھا ۔
اور میں نے جواباً قہقہہ لگانے پر اکتفا کیا، لیکن اس مرتبہ مجھے کوئی جواب دینے کے بجائے بس غصے سے گھورتی رہی میں نے اس سے نظریں ملانے سے گریز کیا کہ اس کی موٹی غلافی آنکھیں میرے حواس پر چھانے لگ جاتیں۔
”اچھا اب غصہ تھوکو اور چلو۔“ میں نے قدم آگے بڑھائے ۔
”نہیں جانا مجھے تمھارے ساتھ ۔“ وہ جیسے غصے سے پھٹ پڑی تھی اور اس کے ساتھ ہی اس نے پستول نیچے پھینکا اور دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا کر رونے لگ گئی۔
ایک مفکر کا قول ہے کہ ”عورت کا سب سے بڑا ہتھیار اس کے آنسو ہیں وہ مرد جو بڑے بڑے طوفانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں ان چند آنسوﺅں میں تنکے کی طرح بہہ جاتے ہیں۔“
میں بھی اس کے رونے سے گھبرا گیا تھا میری سمجھ میںنہیں آرہا تھا کہ اسے کیسے چپ کراﺅں۔
”سوری شیتل! “ میں ندامت بھرے لہجے میں بولا۔ ”میں تو صرف مذاق کر رہا تھا۔ سوری رئیلی سوری دوبارہ ایسے نہیں ہو گا۔“
”کھاﺅ قسم کہ دوبارہ مجھے چھوڑ کر نہیں جاﺅ گے۔“ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بولی۔میں اس کی ذومعنی بات سن سٹپٹا گیا تھا۔
”کہا تو ہے دوبارہ ایسے نہیں ہو گا۔“
”نہیں تم قسم کھاﺅ۔“
”پاگل مت بنو شیتل!“ میں نے اس کی کلائیوں سے پکڑ کر اس کے ہاتھوں کو اس کے چہرے سے دائیں بائیں کیا۔ ”مین روڈ پرپہنچتے ہی تمھارے میرے راستے جدا ہونے والے ہیں۔“
”نہیں۔“ اس نے انکار میں سرہلاتے ہوئے کہا۔ ”جب تک تم مجھے خیریت سے پتا جی کے پاس پہنچا نہیں دیتے تم کہیں بھی نہیں جا سکتے۔“
”اچھا بابا…. تمھیں خیریت سے تمھارے پتا جی کے حوالے کرنے کے بعد ہی جاﺅں گا۔ اب تو چلو ۔“ اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ کمبخت ایک تو حسین بلا کی تھی اوپر سے نازو انداز ایسے کہ صدسالہ عابد کو بھی اپنا گرویدہ کرلے۔
میں نے نیچے جھک کر پستول اٹھاتے ہوئے اپنے کوٹ کی جیب میں منتقل کیا اور اندازے سے راستے کی طرف چل پڑا۔ سورج مغرب کی جانب زوال پذیر تھا ڈیڑھ دو گھنٹے میں شام کا اندھیرا چھا جاتا اور اس سے پہلے ہمیں کسی محفوظ ٹھکانے کے قریب پہنچنا تھا۔
”مسٹر میرا پستول واپس کرو۔“ وہ میرے ساتھ بہ مشکل قدم ملا کر چلتے ہوئے بولی۔
”یہ تمھارا کب سے ہو گیا۔“
”تم نے خود میرے حوالے کیا تھا اور دی ہوئی چیز واپس لینا اپنا تھوک چاٹنے کے مترادف ہے۔“
”پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے عارضی استعمال کے لیے تمھارے حوالے کیا تھا اور دوسرا میں نے تم سے واپس نہیں لیا ہے تم نے خود پھینک دیا تھا۔“
”بس مجھے پتا نہیں ہے۔“ وہ ضدی پن سے بولی۔ ”تم پستول میرے حوالے کرو۔“
”یہ لو میری ماں۔“ میں نے سچ مچ زچ ہو کر پستول اس کی طرف بڑھا یا۔
”اس طرح تو میں نے نہیں لینا۔“
”تو اور کیا ٹرے میں رکھ کر پیش کروں ۔“ میں نے غصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔
”نہیں تھوڑا پیار سے کہونا؟۔“ وہ شوخی سے بولی۔
”ایک بات کان کھول کر سن لو مس شیتل!“ میں ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولا۔ ”میں شادی شدہ ہوں ،ایک بچے کا باپ ہوں اور اپنی بیوی سے اتنی ہی محبت کرتا ہوں جتنا کوئی بھی پسند کی شادی کرنے والا کر سکتا ہے۔“
”تم جھوٹ بول رہے ہو۔“ وہ سنجیدگی سے بولی لیکن اس کے لہجے میں اعتماد کی کمی تھی۔
میں نے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔ جلد ہی ہم دوبارہ اسی ٹیڑھے میٹر ھے اور ناہموار راستے پر آگئے تھے۔ میری کوشش تھی کہ جلد از جلد ہم کسی محفوظ مقام پر پہنچ جائیں اور اس مقصد کے لیے میں نے اپنے قدموں کی رفتار تیز رکھی تھی۔ شیتل کو میر ے ساتھ ملنے کے لیے دوڑنا پڑ رہا تھا۔ ہم آدھا گھنٹا ہی چلے ہو ں گے کہ وہ رک گئی اور روہانسی ہو کر بولی۔
”میں تھک گئی ہوں۔“
”ٹھیک ہے تم اپنی مرسڈیز میں آجانا۔“ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
”اے شادی شدہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تمھیں لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز بھی نہ رہے۔“ مجھے نہ رکتا دیکھ کر وہ دوبارہ دوڑ کر میرے ساتھ مل گئی تھی۔
”احمق لڑکی سورج کو دیکھ رہی ہو۔“ میں نے تپ کر کہا۔ ”یہ گھنٹے ڈیڑھ میں غروب ہو جائے گا اور اس کے بعد اس جنگل میں سفر کرنا دشوار نہیں بلکہ ناممکن ہو گا۔“
اس کے بعداسے میری تیزی کی وجہ معلوم ہو گئی تھی اس لیے وہ میرے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی کوشش کرتی رہی لیکن اس کی حالت دیکھ کرمجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ زیادہ دیر تک میرا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ مجبوراً مجھے اپنی رفتار میں کمی کرنی پڑی۔
اچانک شیتل ٹھوکر کھا کر نیچے گر گئی میں نے جلدی سے جھک کراسے بازو سے پکڑ کر سیدھا کرنا چاہا مگر وہ میرے ہاتھ میں جھول گئی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور اس سردی میں بھی اس کے ماتھے پر پسینہ چمکتا نظر آرہاتھا۔
”شیتل…. شیتل۔“ میں جلدی سے اس کا سرگود میں رکھ کر زمین پربیٹھ گیا۔
”پپ…. پانی ۔“ وہ جیسے نیند میں بڑبڑائی۔
میں نے بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا مگر پانی وہاں ہوتا تو نظر آتا۔ اس کا کملا یا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھے اپنی زیادتی کا احساس ہوا۔ وہ نازو نعم میں پلی سیٹھ زادی ایک پاکستانی گوریلے کے ساتھ قدم ملا کر کہاں چل سکتی تھی۔ مجھے اس کی رعایت رکھ کر چلنا چاہیے تھا۔ میں اپنی سخت جانی کے زعم میں ایک کمزور لڑکی کو اذیت دینے کا باعث بنا تھا۔
”پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ….مسلسل اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہوں۔“میں نے خود کلامی کی ۔
ایک لمحہ سوچ کر میں نے اسے کندھے پر اٹھایا اور چل پڑا سورج غروب ہونے والا تھا اور اس سے پہلے کہ بالکل اندھیرا چھا جاتا میں چاہتا تھا کہ کوئی محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈ لوں۔
”مم…. میں ٹھیک ہوں۔“ میں چند قدم اسے اٹھا کر چلا ہوں گا کہ اس کی منمناتی ہوئی آواز سنائی دی۔
”ہاں بالکل۔ تم یہیں پر ٹھیک ہو۔“ میں نے مزاحیہ لہجے میں جواب دیا ۔گووہ ایک صحت مند لڑکی تھی لیکن مجھے بالکل پھول کی طرح ہلکی پھلکی لگ رہی تھی۔ یوں بھی آرمی کے اندر ٹریننگ کے دوران لاش اورز خمی کو اٹھانے کی تربیت دیتے ہیں اور اس طرح ایک آدمی اپنے وزن کے بہ قدر آدمی کو آسانی سے اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا سکتا ہے۔ وہ تو وزن میں مجھ سے بہت کم تھی ۔میں تو امجد کو دوران تربیت اپنے کندھے پر اٹھا کر پھراتا رہا تھا۔
”مجھے نیچے اتارو میں چل سکتی ہوں۔“ وہ ایک مرتبہ پھر بولی۔
”آرام سے پڑی رہو۔“ میں مصنوعی غصے سے بولا۔ ”اگر تم چل سکتیں تو یوں نہ لیٹ جاتیں۔“
”تُم بہت تگڑے ہو نا؟“ وہ جل کر بولی۔ ”کمزور لڑکی سے مقابلہ کر کے اترا رہے ہو۔“
”تُم کمزور کہاں ہو…. اچھی خاصی دو فیکٹریوں کی وارث سیٹھ زادی ہو۔“
”تو تمھیں کیا تکلیف ہے میرے سیٹھ زادی ہونے پر۔“
”یوں ہی بس امرا¿ مجھے بہت برے لگتے ہیں۔“
”جلو مت…. محنت کرو اور دولت کماﺅ۔“
”میں باز آیا ایسی دولت سے….اور اب نیچے بھی اترو تم نے تو پکی سواری گانٹھ لی ہے۔“ ایک گھنے درخت کو دیکھ کر میں اسے کندھے سے نیچے اتار ا۔
”میں نے کب تمھاری منت کی تھی۔“ وہ بگڑ کر بولی۔ ”خود ہی شوق تھا ایک خوب صورت لڑکی کو کندھوں پر اٹھانے گا۔“
”یہ تمھیں کس نے کہہ دیا کہ تُم خوب صورت ہو؟“ میںنے اس درخت کی طرف بڑھتے ہوئے پوچھا۔
”ساری دنیا کہتی ہے۔“ وہ میرے ساتھ قدم ملا کر چلنے لگی ۔
”اس دنیا میں کم از کم میں شامل نہیں ہوں۔“ یہ کہہ کر میں بوٹ اتارے بغیر اس مضبوط تنے والے درخت پر چڑھنے لگا۔
”کیا کررہے ہو؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوئی۔
”دیکھتی جاﺅ۔“ کہہ کر میں اوپر چڑھتا چلاگیا۔ درخت کی نصف اونچائی پر پہنچ کر مجھے ایسی جگہ نظر آگئی جو مچان بنانے کے لیے موزوں تھی۔سنائپر کورس کے دوران میں یہ کام کر چکا تھا۔ قارئین کے لیے شاید یہ بات دلچسپی کا باعث بنے کہ سنائپر ایک چھوٹے سے تیز رفتار اور چست و چالاک پرندے کا نام ہے۔ جو کبھی ٹک کر نہیں بیٹھتا اور اپنا سر تھوڑا سا زمین سے اٹھا کر پھر نیچے چھپ جاتا ہے۔ برطانیہ کی افواج میں جو شخص اس پرندے کو نشانہ بنا لیتا اس کو ماہر نشانہ باز گردانا جاتا اور کہا جاتا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے سنائپر کو نشانہ بنایا ہے۔ آہستہ آہستہ اچھی نشانہ بازی کی تربیت لینے والوں کو سنائپر کہا جانے لگا اور پھر یہ فن رفتہ رفتہ ترقی کر کے اس نہج پر پہنچا کہ دشمن ملک کی اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے اچھے نشانہ بازوں کو نشانہ بازی کے ساتھ کسی جگہ پر چھپ کر بیٹھنے کے لیے مختلف طریقے بھی سکھائے جانے لگے اس مقصد کے لیے درختوں پر مچان بنا کر بیٹھنا۔ چھت یا ٹیکری پر مورچہ بنانا اور مورچہ بھی ایسا جو محسوس نہ ہو کہ مورچہ ہے۔ اس طرح زمین میں گڑھا کھود کرچھپنا وغیرہ اس میں شامل تھے۔ انڈین آرمی میں بھی سنائپرز کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے اور پاکستان آرمی بھی اس کا م میں پیچھے نہیں۔
میں اور امجد دونوں اکٹھے یہ کورس کر چکے تھے۔ کورس کے شروع میں تو مچان بنانے کے لیے ہم رسیاں استعمال کرتے رہے بعد میں ہمیں بغیر رسیوں کے بھی مچان بنانے کی تربیت دی گئی تھی۔
ایک سنائپر کو مچان میں دو تین دن بھی گزارنے پڑ جاتے ہیں اس وجہ سے مچان بناتے وقت سب سے زیادہ اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ مچان آرام دہ ہو اتنی مضبوط بنی ہو کہ اس میں بیٹھنے یا لیٹنے والا بندہ نیچے نہ گر جائے اور دور یا نزدیک سے کسی کو دکھائی بھی نہ دے۔
وہ درخت مچان بنانے کے لیے ہر لحاظ سے موزوں تھا۔ میں نے چھپاﺅ سے زیادہ اس کی مضبوطی پر زور دیا۔ اگلے پونے گھنٹے میں مَیں دو بندوں کے آرام کے لیٹنے کے لیے جگہ بنا چکا تھا۔ رسیوں کی جگہ میں نے اسی درخت کی چھال استعمال کی تھی۔
اندھیرا آہستہ آہستہ گہرا ہوتا جارہا تھا اور سر شام چہچہانے والے پرندے خاموش ہوتے جارہے تھے ۔
”اوپر آجاﺅ۔“ کام ختم کرکے میں نے شیتل کو آواز دی جو درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی تھی۔
”مجھے نہیں آتا درخت پر چڑھنا۔“وہ بے پرواہی سے بولی۔
”تو پھر بیٹھی رہو۔“ میں نے بھی اسی کے انداز میں کہا۔ ”میں تو سو رہا ہوں۔“
”اونہہ…. مطلبی…. خود غرض۔ یہ نہیں کہ کسی کمزور کی مدد کرے۔ مہاراج کو نیند آرہی ہے؟“
”ہا ہا ہا“ اس کے کوسنے دینے کے انداز پر مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔
”ہنس لو…. ہنس لو۔“وہ میری ہنسی سے چڑتے ہوئے بولی۔ ”بھگوان پوچھے گا۔“
”بڑی آئی ملّانی۔“ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر نیچے اترتا ہوا بولا۔
”ملّانی؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوئی۔ ”یہ ملّانی کیا ہوتی ہے؟“
”مولوی کی بیوی۔“ میں نے وضاحت کی۔ ”ویسے تمھاری آسانی کے لیے میں پجارن کہے لیتا ہوں۔“
”میں نے ایسی کون سی بات کرلی ہے کہ تم نے مجھے پجارن سمجھ لیا ہے۔“ اس وقت تک میں اتنا نیچے اتر گیا تھا کہ بازو لمبا کر کے ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام سکتے تھے۔
اس کی بات کا جواب گول کرتے ہوئے میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا ۔ ”ہاتھ پکڑلو“ ۔اور اس نے ایڑیاں اٹھاتے ہوئے اپنا ملائم ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیا۔
”مضبوطی سے پکڑنا ہے۔ یہ نہ ہو درمیان میں چھوٹ جائے۔“ وہ اپنے چپل ایک ہاتھ پکڑتے ہوئے ذومعنی لہجے میں بولی مگر میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے ایک جھٹکے سے اسے اوپرکھینچا اور اگلے لمحے وہ درخت کے اوپر تھی۔
”یہاں سے آہستہ آہستہ اوپر چڑھا جاﺅ۔“ میں نے کہا۔ ”ڈرنا نہیں میں تمھارے ساتھ ہی ہوں۔“اور وہ سر ہلاتے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف حرکت کرنے لگی۔
”واﺅ۔“ وہ حیرانی سے چلائی۔ ”یہ تو بہت ہی پیاری جگہ بن گئی ہے۔ تم تو بڑے کاریگر ہو۔ جان میں تو تمھیں ایویں ہی سمجھتی تھی۔“
”ہاں…. تُو تو گویا بچپن سے میرے ساتھ کھیلتی آئی ہونا اور میری شخصیت سے مکمل واقف ہو۔“
وہ بے ساختگی سے بولی ۔”مجھے تو یونہی محسوس ہو رہا ہے۔“
”کیسے؟“
”جیسے میں بچپن سے تمھارا ساتھ رہتی آرہی ہوں۔“
”فتور ہے تمھاری سوچ کا۔ اگر یوں ہوتا تو میںکب کا پاگل ہو چکا ہوتا۔“
”وہ کیوں؟“
”تمھاری باتیں سن کر شریف بندے نے پاگل ہی ہونا ہے۔“
وہ مسکرائی۔”اگر تمھاری طرح چند اور شریف پیدا ہو گئے تو دنیا میں بدمعاشوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔“
”اب اپنی کیں کیں بند کرو اور مجھے سونے دو۔“ میں اس کے قریب لیٹتا ہوا بولا۔
”مجھے سخت بھوک اور پیاس لگی ہے۔“
”تو میں کیاکروں۔“ میں آنکھیں کھولے بغیربولا۔”تمھیں کہا تھا ناکہ کھانا کھالو…. اب تمھیں پتا چلا ہو گا کہ میں نے کیوں ڈٹ کر کھا نا کھایا تھا۔“
”مجھے کیامعلوم تھا کہ ایسی صورت حال پیش آئے گی۔“ وہ روہانسی ہو نے لگی۔
”تمھیں کہا تو تھا کہ کھانا کھا لو مگر تم ایک نوالہ لے کر سیٹھ زادیوں کی طرح پیچھے ہٹ گئی تھیں۔ اب بھگتو۔“
”بھگوان کرے تمھیں بھی بھوک لگے اور کھانے کو کچھ نہ ملے۔“
”میں الحمد اﷲ بھوک برداشت کر سکتا ہوں۔“ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ ”تمھاری طرح نہیں ہوں کہ ہلکی سی بھوک لگتے ہی چلانے لگوں۔“
”برداشت کر سکتا ہوں؟“ وہ مجھے چڑاتے ہوئے بولی۔ ”جب بھوک لگے گی نا پھر پوچھوں گی۔“
”اچھا اب اپنا منہ بند کرو اور مجھے سونے دو۔“ میں نے اسے جھڑکا اور غیر متوقع طور پر وہ خاموش ہو گئی۔
جاری ہے

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/