مختصر کہانیاں

بھگوڑا (قسط نمبر 7) ریاض عاقب کوہلر ”منظور ہے۔“ م…

بھگوڑا (قسط نمبر 7)
ریاض عاقب کوہلر

”منظور ہے۔“ میں نے اثبات میں سرہلا کر کہا۔ ”مگر راز داری شرط ہے۔“
”وہ آپ نہ بھی کہیں توہو گی۔“ یہ کہہ کروہ میرے قریب آئی اور میرا ہاتھ تھام کر چلنے کے لیے تیار ہو گئی۔ بالکل سرد اور جذبات سے خالی لمس تھا۔ مجھے تھوڑی دیر پہلے ہونے والی جوہی کے ساتھ اپنی آخری ملاقات یاد آگئی۔ اس کے ہونٹوں کی حدت ابھی تک مجھے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی۔
”اگر ریٹ طے کر لیتے؟“ اس کے ساتھ چلتے ہوئے میں گھٹیا پن کی حد عبور کر گیا تھا۔عام حالات میں کبھی بھی اس قسم کی گھٹیا بات میرے منہ سے نہ نکلتی لیکن اس وقت حالات ایسے بن گئے تھے کہ مجھے اس روپ میں ڈھلنا پڑا۔ ورنہ عورت کی تکریم و تقدیس تو بچپن سے مجھے سکھائی گئی۔ ماں، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے مقدس رشتوں کے علاوہ میں عورت کے کسی اور روپ سے واقف نہیں تھا۔ یہ تو عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد مجھے پتا چلا کہ مرد کی عیاری نے عورت کو کئی قسم کے بھیس بدلنے پر مجبور کر دیا اور اس پھولوں سی نزاکت اور شبنم کے قطروں جیسی پاکیزگی رکھنے والی صنف کو اتنا پستی میں گرا دیا کہ اس سے زیادہ پستی کا تصور ناممکن ہے۔ گو اس جرم میں عورت بھی مرد کے ساتھ شریک ہے لیکن اس میں زیادہ ہاتھ مرد کا ہے۔ عورت کو اس کی فطرتی سادگی نے اس جرم میں ملوث کر رکھا ہے۔ شاید کچھ قارئین کو میرے اس نقطہ¿ نظر سے اختلاف ہو بہ ہر حال یہ میری اپنی سوچ ہے اور اختلاف رکھنے والے اختلاف کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
”دو سو اور پچاس کمرے کے۔“
”کمرہ ہوٹل کا ہو گا؟“ میں بے اختیار رک گیا کیونکہ اس صورت میں مجھے اپنا پلان فیل ہونا ہوا نظر آیا۔
”نن…. نہیں…. میرا اپنا گھر ہے۔“ وہ جلدی سے بولی۔
”اور کون کون ہے اس میں۔“ میں مطمئن ہو کر پھر اس کے ساتھ چلنے لگ گیا۔
”اس سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے۔“ وہ تلخ ہونے لگی ۔ ”آپ کے لیے اتنا کافی ہے کہ ہمیں کوئی بھی ڈسٹرب نہیں کرے گا۔“
”سوری۔“ اس کے لہجے میں ناگواری محسوس کر کے میں بے ساختہ بولا۔ ”اصل میں میراارادہ ہے کہ میں پوری شب ہی آپ کے ہاں گزاروں اور اس ضمن میں میں معاوضا دوگنا ادا کرنے کا پابند ہوں گا ۔“
”لل…. لیکن میں پوری شب آپ کا ساتھ نہیں دے سکوں گی۔“ اتنے زیادہ معاوضے کا سن کر اس سے انکار نہ کیا گیا۔
”مجھے صرف آرام کے لیے جگہ درکار ہے۔“ میں نے اپنی بات کی وضاحت کی۔
”پھر ٹھیک ہے۔“ وہ مطمئن ہو گئی تھی۔
(قارئین کی معلومات کے لیے عرض کرتا چلوں کہ انڈیا میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن میں پنجابی، ہندی، گجراتی، اردو وغیرہ شامل ہیں، لیکن ان کی اردو میں ہندی کے بہت زیادہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ انڈیا میں مَیں نے جتنا عرصہ گزارا میرا واسطہ بھی ایسی ہی اردو سے پڑتا رہاقارئین کی سہولت کی خاطر کہ زیادہ تر قارئین ہندی کے الفاظ سے ناآشنا ہوں گے میں نے مکالمے میں ایسے الفاظ کے استعمال سے احتراز برتا ہے۔ البتہ جواَکا دکا لفظ مکالمے میں مستعمل ہوئے ہیں وہ بھی اتنے عام فہم ہیں کہ انشاءاﷲ کسی کو سمجھنے میں دقت نہیں ہو گی)
میں اس کے ہمراہ ٹیڑھی میٹرھی گلیوں سے گزرتا ایک بوسیدہ سی بلڈنگ کے احاطے میں داخل ہوا اس کی عمارت تین منزلہ تھی۔ وہ مجھے دوسری منزل کے ایک پرانے سے فلیٹ کے سامنے لائی اور بے دھڑک دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی۔ میں بھی اس کے پیچھے اندر داخل ہو گیا اس فلیٹ کی حالت جو ہی والے فلیٹ سے بہت خستہ تھی لیکن ان دونوں فلیٹوں کے رقبے میں کوئی خاص فرق مجھے نظر نہ آیا۔ یہ فلیٹ بھی تین چھوٹے کمروں اورکچن باتھ روم پر مشتمل دکھائی دیا۔ جس میں داخلی کمرہ ڈرائنگ روم کے طور پر استعمال ہوتاتھا۔ اس میں دو پرانی سی چارپائیوں کے علاوہ اور کوئی قابل ذکر چیز مجھے نظر نہ آئی۔ وہ مجھے لے کر ایک اندرونی کمرے میں داخل ہوئی۔ کمرے میں ایک ہی چار پائی پڑی تھی اوراس کی حالت باہر والی چارپائیوں کی نسبت بہتر تھی چارپائی پر ایک پھولدار چادر بھی بچھی ہوئی تھی۔یہ وہ واحد چیز تھی جو اس فلیٹ میں مجھے ستھری دکھائی دی۔
”بیٹھیں۔“ اس نے چارپائی کی طرف اشارہ کرکے کہا اور میں آرام سے چارپائی پر بیٹھ گیا جبکہ وہ منتظر نظروں سے میری جانب دیکھنے لگی اور پھر میری جانب سے کوئی حرکت نہ ہوتی دیکھ کربولی۔ ”میرا خیال ہے آ پ کا یہ پہلا موقع ہے۔“ میںاس کے اندازے پر حیران رہ گیاتھا۔
”تمھیں کیسے پتا چلا؟“
”مجھے ۔“ وہ آہستہ سے ہنسی۔ ”مجھے اس طرح پتا چلا ہے کہ آپ نے ابھی تک طے کی ہوئی رقم ادا نہیں کی ہے۔“
”رقم ادا نہیں کی ہے؟“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا۔ ”کیا مطلب ہے تمھارا۔ میں کوئی بھاگا جارہا ہوں؟“
”بھاگنے کی بات نہیں ہے بابو!…. عورت واحد جنس ہے کہ خریدار کے حوالے ہونے سے پہلے اپنا معاوضا وصول کرتی ہے۔“
”اوہ …. سوری مجھے واقعی معلوم نہیں تھا۔“ میں نے کوٹ کی اندرونی جیب سے پانچ سو روپے نکال کر اس کی جانب بڑھائے ۔
” میں ابھی آئی۔“رقم لے کر وہ باہر نکل گئی ۔
اس کے کمرے سے نکلتے ہی میں چارپائی پر لیٹ گیا۔ پتا نہیں وہ چارپائی کتنے رازوں کی امین تھی اور نامعلوم کتنے مرد یہاںپر اپنی جوانی لٹا چکے تھے۔ مجھے اس چارپائی پر کراہت سی محسوس ہوئی۔ میں بے اختیار اٹھ بیٹھا۔
چند لمحوں بعد ہی وہ آن موجود ہوئی اور آتے ہی بولی۔
”بابو آپ کے پاس صرف ایک گھنٹا ہے اس کے بعد مجھے جانا ہوگا۔“
میں پوچھا۔”اس ایک گھنٹے کے دوران آپ میری ہر بات ماننے کی مجاز ہیں نا؟“
”بالکل ۔“ وہ بے باکی سے بولی ۔
”اچھا تو پھرا دھر آﺅ بیٹھو۔“ میں نے اسے قریب بلایا اور وہ میرے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔“
”تھوڑا سا اُدھر ہو جاﺅ۔“ میں نے اسے خود سے دور دھکیلا۔ وہ بے ساختہ پیچھے ہو کر بیٹھ گئی۔
”تمھارا نام۔“ میں نے اطمینان سے پوچھا۔
”بابو! آپ اپنے کام سے کام رکھیں۔“ وہ تلخ ہونے لگی ۔ ”اپنا مطلب پورا کریں اور مجھے جانے دیں۔“
”اپنا مطلب ہی پورا کر رہا ہوں نا؟“ میںمسکرایا۔ ”تم خود تصدیق کر چکی ہو کہ ایک گھنٹے کے دوران میری ہر بات مانو گی ۔“
”بات ماننے سے میری مراد….“
”مراد وغیرہ چھوڑو۔“ میں نے قطع کلامی کی ۔ ”اپنا نام بتاو¿۔
”شرلا۔“ وہ جھلا کر بولی۔
”شادی شدہ ہو؟“
”ہاں شادی شدہ ہوں ایک بچے کی ماں ہوں۔ میرا پتی ٹیکسی چلاتا ہے اور اپنی زیادہ تر آمدنی شراب نوشی کی نذر کر دیتا ہے۔ میرا بچہ سخت بیمار ہے ڈاکٹر نے علاج کے لیے دس ہزار کی رقم طلب کی ہے۔ اسی رقم کو پورا کرنے کے لیے ایک ہفتے سے کوشاں ہوں اور ابھی تک بہ مشکل دوہزار جمع کرپائی ہوں۔ بس یا اور کچھ؟“ وہ تیز لہجے میں بولی۔ ”اب جلدی کرو تاکہ میں اپنے بچے کے پاس جا سکوں۔“
یہ کہہ کر اس نے کھڑے ہو کر اپنی ساڑھی کے بل کھولنے شروع کر دیئے۔ وہ بھرے بھرے جسم کی قبول صورت عورت تھی اور کسی بھی مرد کے لیے اس کو نظر انداز کرنا بہت مشکل تھا مگر میں ایک تو اس لائن کا بندہ نہیں تھا اور دوسرے حالات نے بھی مجھے اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ اس قسم کی عیاشی کا متحمل ہو سکتا۔
”کیا کر رہی ہو۔“ میں بو کھلا کر کھڑا ہو گیا اور اس کو ہاتھوں سے پکڑ کر چارپائی پر دھکیل دیا۔
”بابو تمھارا مقصد کیا ہے۔“ وہ حیرانی سے میری جانب دیکھنے لگی ۔
”تمھارا خاوند اس وقت کہاں ہو گا؟“ میں اس کے سوال کو نظر انداز کر کے پوچھا۔
”پڑا ہو گا کسی شراب خانے میں بے ہوش۔“ وہ نفرت سے بولی۔ ”بس شادی کرنے اور بچہ پیدا کرنے کا شوق تھا۔“
”کب واپس آئے گا۔“ میں اس کی بات پر مسکرا دیا تھا۔
”بھگوان جانے۔ کوئی مقرر وقت تو ہے نہیں۔“
”اچھا ٹھیک ہے کوئی رضائی، کمبل یا گرم چادر وغیرہ ہو تو مجھے لا کر دے دو اور اس کے بعد تم اپنے بچے کے پاس جا سکتی ہو۔“
”کیا مطلب ؟“ وہ حیران رہ گئی تھی۔ ”میں سمجھی نہیں۔“
”سمجھنے کو چھوڑو اور جو کہا ہے وہ کرو۔“
”تو کیا آپ….“
”ہاں مجھے بالکل تمھاری حاجت نہیںاور میں سونا چاہتا ہوں۔“میں نے اسے بات پوری نہ کرنے دی۔
”کیوں۔ کیا میری شکل اتنی بری ہے۔“ اس کا عورت پن اپنے ٹھکرائے جانے کو برداشت نہ کر سکا اور وہ غصیلے لہجے میں بولی۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔“ میں نے جلدی سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ۔ ”مجھے صرف رات گزارنے کے لیے ٹھکانہ چاہئے تھا ورنہ تم تو لاکھوں میں ایک ہو ۔“
”تو پھر شرما کیوں رہے ہو۔ رقم تو آپ نے یوں بھی ادا کر دی ہے۔“ وہ مجھے اکسانے لگی ،شاید پانچ روپے حلال کر رہی تھی ۔
”فی الحال تو مجھے کوئی حاجت نہیں ہے۔“ میں نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔ ”البتہ رات گئے ضرورت ہوئی تو بلوا لوں گا۔“
”اور اس وقت اگر میں نہ آ سکی تو؟“
”تو پھر میری قسمت ۔“
” جیسے تمھاری مرضی۔“ وہ میرے پاس سے اٹھ گئی ۔ ”اور ہاں آپ پہلے مرد ہیں جس کو میں اپنے گھر لائی ہوں۔ اس لیے صبح سویرے جلدی نکلنے کی کوشش کرنا ویسے میرا پتی تو نو دس بجے ہی واپس آتا ہے، لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے۔ وہ پہلے بھی واپس آ سکتا ہے اور آ پ کی اطلاع کے لیے عرض کرتی چلوں کہ وہ میری ان کا رروائیوں سے ناواقف ہے۔“
”بات سنو۔“ وہ جیسے ہی اپنی بات ختم کر کے جانے کے لیے مڑی میں نے اسے آوازدی ۔
”جی ۔“وہ ہلکے سے مسکراتے ہوئے پیچھے مڑی۔ شاید اس نے میرے پکارنے کا کوئی اور مطلب سمجھا تھا۔
”اگر تم واقعی کسی مجبوری کے تحت اس گندگی میں ملوث ہوئی ہو تو فکر نہ کرو صبح مجھ سے اپنے بچے کے علاج کے لیے جتنی رقم چاہیے ہو لے لینا۔“
”کیا؟“ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں۔ ”تم اتنی رقم مجھے کیوں دو گے؟“
”اس سے تمھیںکوئی مطلب نہیں ہونا چاہئے۔“
”نہیں تم مجھے اتنی رقم بغیر کسی غرض سے کیوں دینے لگے۔“ اس نے بے یقینی کے انداز میں سر ہلایا۔
”انسانیت سے تمھارا اعتبار اتنا زیادہ اٹھ گیا ہے کہ کسی کی پُرخلوص کوشش بھی غرض پرمبنی نظر آتی ہے۔ حالانکہ تم سے کسی قسم کی کوئی غرض ہوتی تو وہ میں ان پیسوں کے دینے کا وعدہ کیے بغیر پوری کر لیتا۔ بہ ہر حال تمھیں یقین نہیں آتا تو یہ لو۔“ میں نے جیب میں موجود دلیر سنگھ کے دیے ہوئے پیسے نکال کر اس میں سے دس ہزار کی رقم گن کر اس کی طرف بڑھادی ۔
وہ گو مگو سی کیفیت میں کھڑی رہی۔ بے یقینی اس کی آنکھوں میں ہلکورے لے رہی تھی۔
”یہ اصلی نوٹ ہیں۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”اس سے پہلے کہ میرا ارادہ بدل جائے یہ لے لو۔“
”میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں ۔“ وہ میرے ہاتھ سے پیسے پکڑ کر ممنونیت بھرلے لہجے میں بولی خوشی اور تشکر سے اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
”اسی منہ سے کر لو۔“ میں شرارتاً بولا۔
”کیا….؟“ وہ حیرانی سے مستفسر ہوئی۔
”شکریہ…. ادا ۔“ میں نے اپنی بات کی وضاحت کی۔ ”تم پوچھ رہی تھیں ناکہ کس منہ سے شکریہ ادا کروں۔ تو تمھارا یہ منہ بھی کافی اچھا ہے۔ اسی سے کر لو۔“
میری بات پروہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ وہ ہنستے ہوئے مجھے کافی اچھی لگی تھی ۔
”چاے لاﺅں آپ کے لیے۔“
”نہیں شکریہ۔ اب آپ جائیں میں بھی آرام کروں گا۔“ یہ کہہ کر میں چارپائی پر لیٹ گیا۔
” میں آپ کے لیے رضائی لاتی ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی اور چند لمحوں بعد ہی صاف ستھری رضائی لیے واپس آئی اور میرے منع کرنے کے باوجود بڑے پیار سے رضائی مجھے اوڑھا کر دوبارہ واپس لوٹ گئی۔
l l l
دن کو سونے کی وجہ سے مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں بھارت سے نکلنے کے مختلف طریقوں پر غور کرنے لگا۔ سرحد عبور کرنے کے لیے مجھے یا تو واپس مقبوضہ کشمیر والا راستا اختیار کرنا پڑتا کیونکہ پہاڑی علاقوں میں سیکورٹی جتنی بھی زیادہ سخت رکھی جائے پھر بھی ایسے کئی محفوظ راستے مل جاتے ہیں جہاں سے بندہ آسانی سے سرحد عبور کر سکے اور اس کے لیے مجھے انبالہ سے جالندھر اور پھر وہاں سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں باہر نکل پڑتا ، لیکن یہ ایک طویل اور دشوار سفر ہوتا۔ دوسرا راستا سمندرکا تھا اور اس کے لیے مجھے انبالہ سے بمبئی تک کا طویل سفر کرنا پڑتا۔
بمبئی ویسے بھی مجرموں کی جنت ہے اور وہاں پر لازماً مجھے کئی ایسے جرائم پیشہ افراد مل جاتے جو رقم لے کر مجھے پاکستان جانے میں مدد دے سکتے تھے۔ اس رستے کو اختیار کرنے کے لیے مجھے بھاری رقم کی ضرورت پڑ سکتی تھی اور رقم کا یہ مسئلہ بمبئی کے جوا¿ خانے آسانی سے حل کر سکتے تھے۔ تاش کھیلنے میں مہارت رکھنے کی وجہ سے مجھے یقین تھا کہ میں مطلوبہ رقم آسانی سے پیدا کر لیتا، لیکن یہ ایک لمبی بات تھی مجھ سے بڑا کوئی بھی پتا باز میرے اس منصوبے کو خاک میں ملا سکتا تھا۔
میں رقم کے حصول کے متبادل طریقوں پر غور کرنے لگا۔ جس میں چوری ڈکیتی سے لے کر اغوا برائے تاوان کی سکیمیں تک شامل تھیں اور پھر انھی خیالوں میں نہ جانے کس وقت میری آنکھ لگ گئی۔
رات کا جانے کو ن سا پہر تھا جب مجھے اپنے بستر میں کسی دوسرے شخص کی موجودی کا احساس ہوا۔ کمرے کی لائیٹ آف تھی، لیکن کسی جوان عورت کے جسم کا لمس اپنی پہچان کرانے کے لیے روشنی کا محتاج نہیں ہوتا۔
”کون؟“ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ کون ہو سکتی تھی میں نے آہستہ سے پوچھا۔
”میں ہوں شرلا۔“ وہ مجھ سے لپٹتے ہوئے بولی۔ ”میں نے سوچا شاید اب آپ میری ضرورت محسوس کر رہے ہوں۔“ اس کے گداز بدن کی گرمی نے ایک آگ سی میرے اندر بھڑکا دی اور مجھے محسوس ہوا کہ اگر چند لمحے اور وہ مجھ سے لپٹی رہی تو اپنی خواہشات پر قابو پانا میرے لیے مشکل ہو جائے گا۔ میں جلدی سے اٹھ بیٹھا اور سخت لہجے میں بولا۔
”شرم آنی چاہئے تمھیں۔اب کون سی سے مجبوری ہے کہ غیر مرد کے بستر میں گھسی ہوئی ہو۔“
”ش….شش….شماچاہتی ہوں مہاراج۔“ وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔ ”مم مجھ سے بھول ہو گئی۔“ اور میں نے اسے جواب دینے کی بجائے باز و سے پکڑ کر چارپائی سے نیچے دھکیل دیا ۔ اتنا غصہ کرنے کا مقصد صرف اسے کمرے سے باہر نکالنا تھا۔ کیونکہ میرے اندر نفسانی خواہش انگڑائی لے کر بیدار ہو چکی تھی اور مجھے پتا تھا کہ اس کے بعد شرلا کی ہلکی سی پیش قدمی بھی مجھے ثابت قدم نہ رہنے دیتی۔
”مم….“
”نکل جاﺅ یہاں سے۔“ میں دھاڑا۔ اور وہ تیزی سے چلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔ مجھے اپنے رویے پرندامت محسوس ہوئی۔ چند ٹکے دے کر ایک عورت کو میں نے اس کے گھر میں بے عزت کر دیا تھا۔ یہ غصہ مجھے اپنی ذات پر آنا چاہئے تھا۔ جو غلطی سے شرلا کی طرف منتقل ہو گیا، لیکن کیاکرتا کہ اپنی عزت بچانے کے لیے یہ رویہ برتنا میری مجبوری بن گیا تھا۔قصور اس بے چاری کا بھی نہیں تھا ۔ایک عورت کے پاس مرد کو دینے لیے سب سے بڑا تحفہ اس کا گوہر عصمت ہی ہوتا ہے ۔جو کبھی تو وہ بہ حالت مجبوری مرد کی جھولی میںڈالتی ہے ،کبھی اس کی ممنون و احسان مند ہو کر اس کے حوالے کر تی ہے اور کبھی سرکا سائیں سمجھ کر اس کی خدمت میں پیش کرتی ہے ۔وہ بے چاری بھی میرا شکریہ ادا کرنے آئی تھی اب یہ اور بات کہ میرا کردار مجھے ان عیاشیوں کی چھوٹ دینے پر تیار نہیں تھا ۔
اس کے بعد مجھے صبح تک نیند نہ آ سکی۔ صبح کی اذان میرے کانوں میں پڑی اور میرے قدم بے ساختہ باتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔ ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے ہوئے مجھے عجیب سی فرحت کا احساس ہوا۔ کمرے میں آکر میں نے بستر کی چادر سے فرش کو جھاڑا اور پھر ننگے فرش پر ہی نماز کی نیت باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ انڈیا میں داخلے کے بعد یہ میری پہلی نماز تھی۔ نماز کے بعد میں نے گڑگڑا کر اپنے گھر والوں کی خیریت کی دعا کی۔ دل کو نماز پڑھنے کی بعد بہت سکون کا احساس ہو رہا تھا۔
فرش سے اٹھ کر میں چارپائی پر بیٹھ گیا۔ پتا نہیں شرلا کا خاوند واپس آیا تھا کہ نہیں۔ بہ ہر حال جیسے بھی تھا میرا وہاں سے کوچ کرنے کا وقت ہوگیا تھا اور میں زیادہ دیر وہاں ٹھہر کر شرلا کے لیے کوئی مصیبت کھڑی کرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں اس ادھیڑ بن میں تھا کہ شرلا دروازہ کھول کرکمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں چاے کے برتن پراٹھے۔ آملیٹ اور ابلے ہوئے انڈے نظر آرہے تھے۔
”بابو! ناشتا کرلو۔“ وہ آہستہ سے بولی۔ رات والے واقع کی وجہ سے وہ بجھی بجھی اور نادم دکھائی دے رہی تھی۔
”اتنے سویرے ناشتا؟ کیا روزانہ اسی وقت ناشتا تیار کرتی ہو۔“
”یہ ناشتوں والا گھر نہیں ہے بابو۔“ وہ دکھی لہجے میں بولی۔ ”یہ تو صرف آپ کے لیے بنایا ہے۔“
”تمھیں کیسے پتا چلا میں جاگ گیا ہوں؟“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا۔
”میں نے آپ کو باتھ روم میں جاتے دیکھ لیا تھا۔“
”چلو یہ اچھا ہو گیا۔ میں ویسے بھی جانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ ناشتا کرتے ہی نکل پڑوں گا۔“
”اگر آپ کی اِچھا ہو تو آپ یہاں چند دن اور بھی ٹھہر سکتے ہیں۔“ وہ چاے کپ میں ڈال کر میری طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔
”کیوں…. اپنے شوہر سے پٹوانے کا ارادہ ہے کیا؟“ میں مزاحیہ لہجے میں بولا۔
”نن…. نہیں…. نہیں۔“وہ میرے مذاق کو نہ سمجھتے ہوئے جلدی سے بولی۔ ”اصل میں ہم چند دنوں کے لیے دہلی جارہے تھے نا۔ تو پیچھے گھر خالی رہے گا اس لیے میں نے سوچا کہ آپ رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔“
”دہلی؟“ میں حیرانی سے مستفسر ہوا۔ ”وہاں کس لیے۔“
”اب آپ کی مہربانی سے اتنے پیسے ہو گئے ہیں کہ ہم اپنے بچے کا علاج دہلی میں کروا سکیں۔“
”یہاں سے بس کے ذریعے جاﺅ گے؟“ میں نے معلومات لینے کی غرض سے پوچھا۔
”نہیں…. اپنی ٹیکسی میں جائیں گے۔ وہاں پر میری بہن کا گھر ہے۔ میرا پتی بھی وہیں اپنی ٹیکسی چلا کر ٹوٹی پھوٹی مزدوری کرتا رہے گا جب تک کہ منا ٹھیک نہیں ہو جاتا۔“
”اگر میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ دہلی جانا چاہوں تو۔“
”آپ کی ہر خواہش میرے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے۔“وہ جذباتی لہجے میں بولی۔
”لیکن ایک بات بتا دوں۔“ میں نے سنجیدگی سے کہا۔ ”میں مجرم ہوں اور پولیس سرگرمی سے میری تلاش میں ہے۔“
”پھر بھی اگر آپ کی یہی اِچھا ہے تو ہم آپ کو لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ البتہ پولیس سے بچنا آپ کا اپنا مسئلہ ہے۔“
”تمھارا پتی راضی ہو جائے گا ؟۔“ اتنا مشکل کام اتنی آسانی سے ہوتے دیکھ کر میں اپنے جوش کو دباتے ہوئے بولا۔ ”اگر وہ کچھ نہ کہے تو میں ٹیکسی کی ڈگی میں گھس کر سفرکر لوں گا۔“
”ڈگی میں….؟“ وہ حیرانی سے بولی۔ ”مگر اتنا کشٹ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے۔ آپ پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کر لینا۔“
” بتایا تو ہے کہ پولیس شدت سے میری تلاش میں ہے۔“
”اوہ مجھے خیال نہیں رہا تھا۔بہ ہر حال جو آپ کی اِچھا ہو۔“
”ٹھیک ہے تم اپنے پتی کو تیار کر لینا۔ میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔“
”اس کو تیار ہی سمجھو۔“
”اوکے ۔“کہہ کر میں سرہلاتا ہوا فلیٹ سے باہر نکل آیا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس طرح گھومنا میرے لیے نقصان دہ تھا، لیکن میری غرض صرف تازہ اخبار کا حصول تھی تاکہ میں حالاتکا جائزہ لے سکوں ۔ اس کام کے لیے شرلا کو بھیجنا مجھے خلاف مصلحت لگا۔ شرلا کے فلیٹ کی طرف آتے وقت رستے میں مجھے ایک بک سٹال نظر آیا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ صبح سویرے اس پر اخبار مل جائے گا۔ مفلر نے میری آنکھوں کے علاوہ تمام چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا اور مجھے آسانی سے پہچاننا مشکل تھا۔ لے دے کے میری قامت تھی جس سے مجھے پہچانا جا سکتا تھا۔ میرا قد چھ فٹ دو انچ کے قریب تھا، لیکن یہ کوئی اتنا بڑا قد بھی نہیں تھا کہ میری شناخت کا خصوصی سبب بن جاتا۔ سورج نکل آیا تھا اور گلیوں میں لوگوں کی آمد ورفت جاری ہو گئی تھی۔ان میں زیادہ تر لوگ کاروباری قسم کے تھے۔
مطلوبہ بکسٹال ابھی تک نہیں کھلا تھا۔ میں آگے بڑھ گیا ۔ خوش قسمتی سے مجھے بہت زیادہ دور نہیں جانا پڑاتھا۔ نزدیک ہی مجھے دوسرا بک سٹال کھلا ہوا مل گیا۔ وہاں سے انگریزی کے دو اخبار لے کر میں نے واپسی کا قصد کیا۔
شرلا کے فلیٹ تک کوئی قابلِ ذکر واقعہ پیش نہ آیا۔ دستک دینے پر دروازہ شرلا نے ہی کھولا۔
”آئیں جی۔“ شرلا نے ایک طرف ہو کر مجھے اندر آنے کا رستا دیا۔ اندر داخل ہوتے ہی مجھے ڈرائنگ روم کی چارپائی پر ایک نحیف ونزار شخص بیٹھا دکھائی دیا۔ میرے اندازے کے مطابق اس کو شرلا کا شوہر ہونا چاہئے تھا۔ میرے اندازے کی تصدیق شرلا کے تعارف کرانے سے ہوئی ۔ شرلا ابھی تک میرے نام سے ناواقف تھی لیکن اپنے شوہر کو اس نے میرا نام موہن بتایا اور میں نے بھی اس خود ساختہ نام کی تردید کرنا مناسب نہ سمجھی۔
شرلا کے شوہر کانام شنکر تھاوہ نہایت بے توجہی سے مجھے ملا۔ پتا نہیں شرلانے اسے میرے بارے کیا بتایا تھا۔ ہمارا تعارف کرا کے شرلا کچن میں گھس گئی اس کا ارادہ راستے کے لیے کھانے وغیرہ کا بندوبست کرنا تھا۔میں بھی شنکر کو اکیلا چھوڑ کر اندرونی کمرے میں گھس آیا تاکہ آرام سے اخباروں کی ورق گردانی کر سکوں۔ حسب ِ توقع فرنٹ پیج پر مجھے اپنی ایک درمیانے سائز کی تصویر نظر آگئی۔ جس کے نیچے میرا نام حلیہ وغیرہ تفصیل سے لکھا ہوا تھا۔ اطلاع دینے والے کے لیے انعام کی رقم50,000/=سے بڑھا کر ایک لاکھ تک کر دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ایک منسلک خبر کوبرے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق تھی اور ان کی موت کا ذمہ دار بھی مجھے ہی ٹھہرایا گیا۔ یہ دونوں خبریں دونوں اخباروں میں تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ شائع ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ کافی تلاش کے باوجود مجھے اپنے متعلق کوئی خبر نہ مل سکی۔
دونوں اخباروں کے اپنی تصویر والے صفحات میں نے پھاڑ کر ان کے ٹکڑے چارپائی کی ادوان میں چھپا دیئے۔ گھنٹے دو کے بعد انھوں نے جانے کی تیاریاں مکمل کرلی تھیں۔
شنکر کی ٹیکسی عمارت کے احاطے میں پارک تھی۔ شرلا نے میرے آرام کی خاطر ڈگی کے اندر ایک کمبل بچھا دیا تھا۔ دائیں بائیں احتیاط سے نظر دوڑانے کے بعد میں تیزی کے ساتھ اس کھٹارا ٹیکسی کی ڈگی میں منتقل ہو گیا۔ شرلا نے رقم کی پوٹلی اور کپڑوں والا سوٹ کیس بھی ڈگی میں رکھ چھوڑا تھا۔ڈگی کے اندر سفر کرنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ڈگی کو لاک ہونے بچانے کے لیے میں ایک رسی کا ٹکڑا لاک کے نیچے رکھ چھوڑا تھا تاکہ کسی ناگہانی صورت حال میں میں چوہے دان کی طرح ڈگی میں نہ پھنس جاتا ۔
ٹیکسی جھرجھری لے کر اسٹارٹ ہوئی اور دہلی کی جانب ہمارا سفر شروع ہو گیا۔چند موڑ مڑنے کے بعد ہی سمتوں کا اندازہ لگانا میرے لےے دشوار ہو گیاتھا لیکن اتنا اندازہ بہ ہر حال مجھے تھا کہ دہلی انبالہ سے جنوب کی سمت میں ہے۔
راستے میں ایک دو چیک پوسٹوں پر پولیس والوں نے روکا مگر سرسری تلاشی لے کر گاڑی کو جانے دیا۔ گو دیکھنے میں ٹیکسی خاصی خستہ دکھائی دے رہی تھی لیکن چلنے میں کافی بہتر تھی۔ایک ویرانے میں گاڑی روک کر ہم نے کھانا کھایا اور پھر آگے جانے کے لیے تیار ہو گئے۔ اس جگہ شرلا نے مجھے بتایا کہ ہم میرٹ سے نکل آئے ہیں۔ میں ایک مرتبہ پھر ڈکی میں منتقل ہوا اور گاڑی روانہ ہو گئی۔ مجھے امید تھی کہ انبالہ کی نسبت دہلی میں میرے لےے خطرہ کم ہو گا، لیکن یہ ایک ظنی بات تھی ۔ انڈین انٹیلی جنس کا کوئی پتا نہیں تھا کہ وہ کس پیمانے پر میری تلاش میں سرگرداںتھی ۔پاک بھارت ہر دو ممالک میں جاسوسوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کے مخالف متحرک رہتی ہے اور ایسے جاسوس مستقل بنیادوں پر مخالف ملک میں براجمان رہتے ہوئے آستین کا سانپ بنے رہتے ہیں، لیکن ان کی شناخت نہایت ہی مشکل ہوتی ہے اور پہچانے جانے کے بعد کوئی معجزہ ہی کسی جاسوس کو پکڑے جانے سے بچا سکتا ہے ورنہ متحرک اور فعال ایجنسیاں اسے گھیرنے میں دیر نہیں لگاتیں۔
میں بھی اس وقت انھی حالات سے گزر رہا تھا۔ میری شناخت پہلے ہی دن سے ہو چکی تھی بلکہ شناخت کیا میں ان کی حراست سے بھاگا ہوا تھا۔ ابھی میری گرفتاری ملک کے تحفظ سے زیادہ ان کی انا کا مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ میں موت سے نہیں ڈرتا تھا، لیکن گاﺅں کے حالات جانے بغیر مرنے کے لیے تیار بھی نہیں تھا۔ اگر کچھ عرصے کے لیے میںنے چھپنا ہوتا تو ان انٹیلی جنس والوں کاباپ بھی مجھے تلاش نہ کرسکتا لیکن افسوس کہ اس وقت ایک ایک منٹ گزارنا میرے لیے کارِ دار تھا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اُڑ کر اپنے گاو¿ںپہنچ جاﺅں۔
اچانک ٹیکسی جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔ ”شاید کسی ایکسیڈنٹ سے بچنے کے لیے شنکر نے بریک لگائی ہوگی ۔“ میں نے اپنے دل میں سوچا۔ مگر ایک گرج دار آواز نے میری سوچ کو جھٹلا دیا۔
”باہر آجاﺅ تم دونوں۔“
”مہاراج ہم سے کیا بھول ہوئی ہے۔“مجھے شنکر کی سہمی ہوئی آواز سنائی دی۔
”بھول کے بچے! سنا نہیں کہ گاڑی سے باہر نکلو۔“
”میرا خیال ہے چھوری کو ساتھ لے چلتے ہیں۔ کچھ موج میلا لگا رہے گا۔“ اس مرتبہ بولنے والا کوئی دوسرا تھا ۔
”واہ کیا ذہن پایا ہے پرنس۔“ پہلے والی گرج دار آواز سنائی دی۔ ”اسی لیے ہم تمھیں پلان میکر کہتے ہیں۔ جُورا ہوتا تو تمھارا منہ چوم لیتا۔“
”دادا بس تمھاری کرپا ہے۔“ پرنس نامی شخص کی خوشامدانہ آواز آئی۔ اسی اثنا میں مجھے شرلا کی منت بھری آواز سنائی دی۔
”بھائی بھگوان کے لیے ہمیں جانے دو، ہم نے بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے۔“
”بھگوان کے لیے۔ ہا ہا ہا۔“ وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنسے۔ ”کون سا بھگوان اور کون سا واہ گرو، ان سے ہم بہت عرصے سے پیچھا چھڑا چکے ہیں۔ اب شیطان ہی ہمارا بھگوان ہے اور وہی ہمارا واہ گرو۔“ یہ غلیظ الفاظ دادا کے منہ سے نکلے تھے، لیکن ہنسنے والے وہ دونوں تھے۔
”اس کا مطلب ہے ان کی تعداد دو ہے۔“ میں اپنے دل میں سوچا۔
اچانک ٹیکسی کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی اس کے ساتھ ہی شنکر کی منمناتی آوازآئی ۔ ”مہاراج بنتی کرتا ہوں شما دے دو۔“ جبکہ شرلا زور زور سے رونے لگ گئی تھی۔ انھوں نے غالباً شنکر کو گھسیٹ کر باہر پھینکا تھا اور ان کا ارادہ لازماً شرلا اور ٹیکسی دونوں پر قبضے کا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا کہ جس جگہ وہ ٹیکسی روک کر کسی قسم کی غلط حرکت شرلا کے ساتھ کریں گے تو بے خبری میں ان پر جا پڑوں گا۔ لیکن پھر سوچا کہ اس طرح وقت ضائع ہوناتھا اور شنکر کی غیر موجودی میں ہمارا دہلی پہنچنابھی مشکل ہو جاتا۔ اس کے علاوہ شنکر شرلا کا شوہر بھی تھا۔ اس کو بچانا بھی میرا فرض تھا۔میں نے خطرہ مول لیتے ہوئے اسی جگہ حرکت میں آنے کافیصلہ کیا یوں بھی احتیاطاً میں نے ڈگی کے لاک کے نیچے رسی کا ٹکڑا رکھا ہوا تھااور وہ احتیاط میرے کام آگئی تھی۔
ایک جھٹکے کے ساتھ ڈگی کا ڈھکن اٹھا کر میں نے باہر چھلانگ لگا دی۔ اس وقت ان میں سے ایک شرلا سے بچہ چھیننے کی کوشش کر رہا تھا جو ایک چادر میں لپیٹ کر شرلا نے سینے سے لگایا ہوا تھا جبکہ دوسرا نیچے گرے شنکر کی سمت بڑھ رہا تھا ۔اس کا ارادہ لازمی طور پر شنکر کو عارضی یا مستقل خاموش کرنے کا تھا۔ ڈگی کے کھلنے کی آواز سن کر وہ دونوں چونک کر میری جانب متوجہ ہو گئے تھے۔ شرلا کے ساتھ زور آزمائی کرنے والا ہلکی پھلکی جسامت کا ٹیڈی نما شخص تھا اس کے برعکس شنکر کی سمت بڑھنے والا پہلوان نما آدمی قدمیں بہ مشکل مجھ سے ایک دو انچ کم ہو گا لیکن جسامت میں دوگنا تھا اور میرے خیال میں اسی کو دادا ہونا چاہئے تھا۔وہ دونوں مجھے خالی ہاتھ نظر آرہے تھے شاید ہتھیار وغیرہ ان کی جیب میں پڑے تھے۔
”اوئے پرنس یہ بالک کہاں سے نکلا ہے۔“ دادا اپنی منحوس آواز میں گرجا۔
پرنس مزاحیہ لہجے میں بولا۔”دادا میرا خیال ہے یہ اس چھوری کا کوئی پریمی ہے اس کی حفاظت کے خیال سے ڈگی میں چھپ کر سفر کر رہا تھا۔“
ہم ایک روڈ پر کھڑے تھے اور میں زیادہ دیران کے ساتھ مکالمہ بازی میں وقت نہیں گزارا سکتا تھا اور یہ تو مجھے خوب پتا تھا کہ وہ لاتوں کے بھوت تھے ،انھیں باتوں سے سمجھانا اپنا وقت ضائع کرنے کے مترادف تھا۔ جبکہ میرے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت وقت کی تھی۔ میں نے اپنے دونوں اہداف پر نگاہ دوڑائی پرنس نامی شخص میرے لیے آسان ہدف تھا اور اس کو چھوڑ دینے کی صورت میں داد ا سے لڑائی کے دوران وہ کوئی ہتھیار نکال کر سچوئیشن کو پیچیدہ کر سکتا تھا۔ اس لیے میں نے پہلے اسی کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یوں بھی میرے استاد صوبیدار مراد صاحب کی نصیحت تھی کہ سب سے پہلے اپنے مخالفین کی تعداد گھٹاﺅ کیونکہ ایک سے زیادہ مخالف تمھیں بے خبری میں آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہیں اس موقع پر وہ ”ایک اکیلا دو گیارہ“ والی کہاوت ضرور سناےاکرتے تھے۔
میں اپنی جگہ پر اچھلا اور پرنس پر جا پڑا۔جو دادا سے اپنے جوک کی داد چاہنے کے انتظار میں تھا۔ کنپٹی پر لگنے والی بوٹ کی ضرب نے اسے دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ گھنٹے ڈیڑھ میں اس کا ہوش میں آنا ناممکن تھا۔اس سے فارغ ہوتے ہی میں دادا کی طرف متوجہ ہوا۔
وہ پرنس کی حالت دیکھ کر شاک کی سی کیفیت میں کھڑا تھا۔ مگر مجھے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر ناقابل بیان گالیاں بکتا ہوا میرے جانب لپکا۔ اس نے پہلوانوں کے انداز میں اپنے دونوں بازو دائیں بائیں پھیلا لیے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ اس کے پاس صرف طاقت تھی یا اگر تکنیک تھی بھی سہی تو وہ پہلوانوں والی ہو سکتی تھی جس کی ضرورت فری سٹائل لڑائی میں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
اس کے قریب آتے ہی میں اچھلا اور اپنے دونوں پاﺅں اس کی چھاتی پر مارنے کی کوشش کی۔ مگر اس کوسمجھنے میں مَیں نے غلطی کی تھی وہ بجلی کی سی سرعت سے اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ وارخطا جانے پر میرا پختہ روڈ پر گرنا لازمی ہو گیا مگر میں نے آخری وقت میں اپنے آپ کو سنبھال لیا اور شدید چوٹ کھانے سے بچ گیا۔
جیسے ہی میں گر کر کھڑا ہوا مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ دادا نے مجھے پوری قوت سے پیچھے سے جپھا ڈال دیا۔ طاقت کے لحاظ سے میں نے کبھی اپنے آپ کو کمزور نہیں پایا، لیکن وہ شاید جناتی قوت کا مالک تھا کہ مجھے اپنا سانس گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے مجھے بازوﺅں کے اوپر سے اس طرح جکڑا ہوا تھا کہ میں کہنی وغیرہ کا وار بھی اس پر نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے اپنے سر کو زور سے پیچھے کی طرف جھٹکا دیا کہ سرکی عقبی چوٹ اس کے ناک پر لگاﺅں، لیکن اس نے اپنا چہرہ بائیں سمت میں جھکایا ہوا تھا اور مجھے اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی۔ میں تیزی سے اس کے شکنجے سے نکلنے کے متعلق سوچنے لگا اگر کچھ دیر اور وہ مجھے اسی حالت میں رکھنے میں کامیاب ہو جاتا تو میری مدافعاتی قوت بالکل ختم ہو جاتی اور میں حقیر کینچوے کی طرح مارا جاتا۔
پہلوان نما دادا نے مجھے اوپر اٹھایا ہوا تھا اس طرح کہ مجھے زور آزمائی کرنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی۔ ایک فیصلے پرپہنچ کر میں نے اپنا بائیں پاﺅں گھٹنے سے موڑا اور اس کی ایڑی پوری قوت سے اس کی ٹانگوں کے درمیان دے ماری۔ میں نے اپنی طرف سے پوری قوت استعمال کی تھی مگر کوئی خاطر خواہ چوٹ اسے نہ لگی۔ البتہ اتنا فائدہ ضرور ہوا تھا کہ اس کی گرفت میرے جسم پر تھوڑی سے کمزور ہوگئی تھی اور میرے لیے اتنا ہی غنیمت تھا۔ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنساکر پوری قوت استعمال کرتے ہوئے اپنی کہنیوں کو دائیں بائیں پھیلایا۔ اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ پھسلتے ہوئے اوپر کی جانب کھسکے، جیسے ہی اس کی گرفت میری کہنیوں پر ڈھیلی ہوئی میں نے اپنی باہنی کہنی پوری قوت سے اس کی پسلیوں میں دے ماری۔ اس کے منہ سے بے ساختہ ”اوغ“ کی آواز نکلی اور میں اس کی گرفت سے آزاد ہو گیا میں دو تین قدم آگے دوڑ کر پیچھے مڑا تاکہ اس کے اگلے داﺅ سے بچاو¿ اختیار کر سکوں اور میری یہ احتیاط کام آگئی۔
میں جیسے ہی پیچھے مڑا میں نے دیکھا کہ وہ سانڈ کی طرف سر جھکا کر میری طرف دوڑ پڑا تھا۔ اگر وہ ٹکر مجھے لگ جاتی تو میرا بچنا محال ہوتاتھا۔میں اس کی سخت جانی پر حیران رہ گیا۔ کہنی کی اتنی شدید ضرب کھانے کے باوجود اسے کچھ نہیں ہوا تھا۔جیسے ہی وہ میرے قریب پہنچا میں تیزی سے اپنے دائیں سمت میں ہٹا اور اگلے لمحے ہی اس کی موٹی گردن میرے بائیں بازو کے شکنجے میں تھی۔ وہ اتنا تیزی میں تھا کہ میں بے ساختہ چند قدم اس کے ساتھ گھسٹتا گیا لیکن یہ اس کی زندگی کے آخری قدم تھے ، جیسے ہی میرے پاﺅں کی حرکت رکی میں نے اپنے بائیں بازو کو مخصوص انداز میں جھٹکا دیا اور کٹاک کی آواز کے ساتھ ہی دادا کا رابطہ زندگی سے منقطع ہو گیا۔ آخری لمحے میں اس نے اپنی گردن میری گرفت سے آزاد کرانے کی کوشش کی تھی مگر اس کی جگہ اگر کوئی سانڈ بھی ہوتا تو اپنی گردن نہ چھڑوا سکتاوہ تو پھر بھی انسان تھا۔
اسے نفرت کے ساتھ زمین پر پٹخ کرمیں جیسے ہی سیدھا ہوا اچانک کوئی پوری قوت سے میرے ساتھ آن لپٹا۔ وہ شرلا تھی اور ہیجانی لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
”بابو!آپ ٹھیک ٹھیک تو ہیںنا۔“
”ہاں میں بالکل ٹھیک ہوں۔“میں آہستہ سے اس کی گرفت سے نکلا۔ ”اب جلدی کرو یہ مین روڈ ہے کسی بھی وقت کوئی گاڑی آ سکتی ہے۔“
”ہاں …. ہاں چلو۔“ وہ ٹیکسی کی جانب بڑھ گئی۔
شنکر سڑک سے اٹھ کر ٹیکسی کی فرنٹ سیٹ پر آڑا ترچھا ہو کر بیٹھا تھا۔ پختہ سڑک پر گرنے کی وجہ سے اس کو اچھی خاصی چوٹ آئی تھی۔
”ڈرائیونگ کرلو گے؟“ میں نے شنکر سے ہمدردانہ لہجے میں پوچھا۔ میرا خیال تھا کہ شرلا کو وارفتگی سے میرے ساتھ لپٹتے دیکھ کر شاید اس نے برا محسوس کیا ہو۔ مگر اس قسم کا کوئی تاثر مجھے اس کے چہرے پر نظر نہ آیا اور اس کا مطلب یہی ہو سکتا تھا کہ وہ شرلا کی چھپی ہوئی سرگرمیوں سے واقف تھا۔
”ہاں …. ہاں کیوں نہیں؟“ وہ سیدھا ہوتا ہوا بولا۔ ”میں تو آپ کے لیے پریشان بیٹھا تھا کہ آپ نے ہماری خاطر اتنا کشٹ اٹھایا۔“
”ایسی کوئی بات نہیں شنکر بھائی۔ یہ میرا فرض تھا اور آپ گاڑی سٹارٹ کریں۔یہ نہ ہو کوئی آجائے۔“ یہ کہہ کر میں ڈگی کی طرف بڑھ گیا جبکہ شنکر گاڑی سٹارٹ کرنے لگ گیا۔
اس کے بعد دہلی پہنچنے تک کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا۔ ہم رات گئے ہی دہلی پہنچ سکے۔
ایک ویران سی سڑک پر گاڑی روک کر شنکرنے مجھے ڈگی سے نکالا اور میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پرمنتقل ہو گیا۔
”کسی غیر معروف ہوٹل کے قریب مجھے اتار دینا۔ ”ٹیکسی کے آگے بڑھتے ہی میں شنکر کو مخاطب ہوا۔
”ہوٹل میں کیوں؟“ شرلاتیزی سے بولی۔ ”آپ ہمارے ساتھ رات گزاریں۔ میری دیدی کا گھر بہت بڑا ہے۔“
” نہیں شرلا!“ میں نے کہا۔ ”مجھے پتا ہے کہ تمھاری دیدی کا گھر بہت بڑا ہو گا لیکن میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تم لوگوں پر کوئی مصیبت آئے۔“
”ایک ہی رات کی تو بات ہے۔“ وہ مصر ہوئی ۔ ” وہ بھی آدھی گزر چکی ہے۔“
”نہیں یہ ناممکن ہے۔“میں حتمی لہجے میں بولا اور شرلا نے اداسی سے سرجھکا کر چپ سادھ لی۔ شنکر نے کسی قسم کا مشورہ دینے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ یہاں تک کہ ہم ایک چھوٹے سے ہوٹل کے قریب پہنچے۔ شنکر نے گاڑی روک کرپوچھا۔
”مہاراج یہ ہوٹل سستا بھی ہے اور رہائش کا انتظام بھی کافی اچھا ہے۔ یہیں اترنا چاہیں گے یا پھر کوئی اور ہوٹل دیکھیں۔“
”نہیں یہی ٹھیک ہے ۔“ میں گاڑی سے نیچے اتر آیا۔
شرلا نے خفگی سے سر کو نیچے جھکا لیا تھا۔ اس کے شوہر کی موجودی میں میں اسے کسی قسم کی تسلی نہیں دے سکتا تھا، لیکن پھر بھی اس کی دلجوئی کی خاطر بولا۔
”شرلا اپنی دیدی کا پتا مجھے لکھ دو اگر موقع ملا تو میں تمھیں ملنے ضرور آوں گا۔“
” پتا بہت آسان ہے۔“ شرلا دھیرے سے بولی۔ ”آرمی ہسپتال کے پیچھے سٹریٹ نمبر2میں 10 نمبر کوارٹر ان کا ہے۔“
”ٹھیک ہے جیسے ہی مجھے موقع ملا میں ضرور آﺅں گا۔“ کہہ کر میں نے شنکر سے ہاتھ ملا یا اور پھر شرلا سے ہاتھ ملا کر وہاں سے چل پڑا۔
”بھگوان تمھاری رکھشا کرے۔“ شرلا دھیرے سے بولی تھی ۔ شنکر نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ میں ان کو دکھانے کی غرض سے ہوٹل کے دروازے تک گیا لیکن اندر گھسنے کی بجائے آگے نکلتا چلا گیا۔ میرا ارادہ وہاں سے آگے نکلنے کا تھا۔ اس مقصد کے لیے مجھے بس اڈے پر پہنچنے کی فکر ہوئی۔ تھوڑا آگے چلنے کے بعد ہی مجھے ایک خالی ٹیکسی مل گئی۔
”لاری اڈے ….۔“میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اورڈرائیور نے سرہلاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی۔میرا اندازہ تھا کہ میں آج آسانی سے دہلی سے آگے نکل جاو¿ں گا۔ شاید مجھے براہ راست بمبئی کے گاڑی مل جاتی اور بمبئی پہنچنے کے بعد میرا کام آسان ہوجاتا۔ مجھے امید تھی کہ سمندر کے راستے میں بغیر کسی خطرے سے دو چار ہوئے پاکستان میں داخل ہو جاتا اور اس کے بعد اپنے علاقے میں پہنچنا کوئی مشکل نہ ہوتا۔ میں مستقبل کے منصوبے بنانے میں گم تھا کہ ٹیکسی ایک جھٹکے سے رکی، میں نے دائیں بائیں دیکھا ۔ وہ ایک زیر تعمیر عمارت کے اندر آکر رکی تھی۔
”میں نے لاری اڈے کا بتایا تھا۔“ میرے لہجے میں حیرانی تھی۔ مگرڈرائیور میری بات کا جواب دیئے بغیر فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گیا۔
مجھے گڑبڑ کا احساس ہوا اور میں بھی جلدی سے دروازہ کھول کر ٹیکسی سے باہر آ گیا۔ اس اثناءمیں مجھے اندرونی کمرے سے تین افراد باہر آتے دکھائی دیئے تینوں نے ہاتھوں میں ہتھیار تھامے ہوئے جن کا رخ میری جانب تھا۔
ڈرائیور نے بھی اپنی جیب سے ریوالور نکال کر مجھ پر تانتے ہوئے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
”آپ ہاتھ اٹھانے کا کشٹ کریں گے مہاراج!“
میں نے اپنے ہاتھ سر بلند کرتے کہا۔”میرے پاس کیا ہے برادر، جو آپ لوٹیں گے۔ کوئی تگڑی اسامی تو دیکھنا تھی۔“
”یہ تو تمھاری تلاشی لینے پر پتا چلے گانا بالک!“ ٹیکسی ڈرائیور مکروہ آوازمیں بولا۔ باقی تینوں بھی اس کے ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ وہ کوئی چھوٹی موٹی وار داتیں کرنے والا گروہ تھا۔ ایسے گروہوں کا کام اکیلے مسافر کو لوٹ لینا۔ کسی راہگیر کی جیبوں کا بوجھ ہلکا کر لینا۔ دکان کا تالا توڑ کر نقدی سامان وغیرہ لے اُڑنا وغیرہ ہوتا ہے۔ کسی بڑے کام میں ہاتھ ڈالنے سے یہ لوگ زیادہ تر احتراز برتتے ہیں۔ البتہ وقت پڑنے پر کسی کو قتل کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔
اس قسم کے گروہ بھارت کے مختلف شہروں میں مکڑی کے جالوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں، خصوصاً بمبئی تو ان کا گڑھ ہے۔ آج پاکستان میں بھی ایسے گروہوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ سندھ والی جانب تو شام کے بعد اکیلے بندے کا رات کو باہر نکلنا دوبھر ہو گیا ہے۔
”بِّلے اس کی تلاشی لو۔“ ڈرائیو نے کہا۔
”اوکے باس۔“ بِّلا نامی شخص بڑے اندازسے اپنا پستول دائیں سے بائیں ہاتھ میں منتقل کرتا ہوا میری جانب بڑھا۔
میں اسے آڑے ہاتھوں لینے کے لیے مستعد ہو گیاتھا، مگر اس سے پہلے کہ وہ میرے قریب پہنچتا سڑک سے گزرنے والی کسی گاڑی کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی ہم پر پڑی اور ایسا چار دیواری کے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔ لیکن ایسی وارداتیں کرنے والے ان باتوں سے نہیں گھبراتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عام لوگ یہ سب کچھ نظر انداز کر کے گزر جانے والے ہوتے ہیں ،پرائی آگ میں کون کودتا ہے۔ کوئی بہت نیک ہوا بھی تو وہ تھانے اطلاع دے کر اپنے فرض سے سبک دوش ہو جاتا ہے اور پولیس ایکشن لینے میں جتنی تیز ہے اس سے کون ناواقف ہے۔
مگر اس وقت ان کی بدقسمتی یامیری خوش قسمتی کہ گاڑی کے ڈرائیور نے یہ منظر دیکھنے کے بعد اپنی گاڑی کا رخ اسی طرف کر لیا۔
”یہ کون…. ہے؟“ ٹیکسی ڈرائیور نے ناقابل اشاعت گالی بکتے ہوئے کہا۔
لیکن جیسے ہی اس نے چندھیائی آنکھوں سے ادھر دیکھا اوراسے گاڑی کی چھت پررنگ برنگی روشنی والی بتیاں نظر آئیں وہ چیخا۔
”ارے باپ رے؟ یہ تو پولیس ہے…. بھاگو۔“ تمام نے اندرونی عمارت کی طرف دوڑ لگائی۔ پولیس کا نام سنتے ہی میرے دماغ کو جھٹکا لگا۔ چھوٹے خطرے سے میں بڑے خطرے میں گھرنے والا تھا۔میں نے بھی عمارت کے داہنی جانب دوڑ لگا دی۔ مجھے اپنے پیچھے پولیس کا للکارا اور ہوائی فائر سنائی دیا لیکن میں نے رکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ رکنے کا مطلب تھا گرفتاری، جس کا میں بالکل متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔
(جاری ہے)

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/