مختصر کہانیاں

دلدل قسط نمبر41(آخری قسط) ریاض عاقب کوہلر اسماعیل…

دلدل قسط نمبر41(آخری قسط)
ریاض عاقب کوہلر

اسماعیل کو الٰہی بخش کی کال موصول ہوئی ….
”صاحب!…. سب نے کھاناکھا لیا ہے ۔“
”تمہاری ڈیوٹی کہاں ہے ؟“
”مین گیٹ پرپہلی ڈیوٹی ہے….ابھی کھانا کھا کر ڈیوٹی سنبھال لی ہے ۔“
”اوکے ….اب یوں کرو ذیلی کھڑکی کی کنڈی کھول دو…. تمہارا کام ختم ،اس کے بعدسمجھو تم مجھے جانتے ہی نہیں ۔“
”صاحب !….اس کے بعد بھی کوئی کام ہوتوخدمت کا موقع ضرور دینا ۔“الٰہی بخش کے لہجے میں نوٹوں کی مٹھاس ابل رہی تھی ۔
”ضرور ….ضرور ۔“کہہ کر اسماعیل نے رابطہ منقطع کر دیا ۔
دوگھنٹوں کے بقدر وقت ایک نزدیکی ہوٹل میں گزار کر وہ فاضل خان کی کوٹھی کی طرف بڑھ گیا ۔ مین گیٹ کی ذیلی کھڑکی اسے کھلی ملی ….کھڑکی کا اکیلا پٹ کھول کر اس نے کوٹھی کے اندر جھانکا ،الٰہی بخش اسے کرسی پرآڑاترچھا پڑا نظر آیا وہ بے دھڑک اندر گھس گیا ۔کھڑکی کا بولٹ بند کرنا اسے نہیں بھولا تھا ۔
اس کی جیب میں گلاک ایٹین موجود تھامگر اس نے الٰہی بخش کی گود میں پڑی کلاشن کوف اٹھا نا مناسب سمجھا کہ کلاشن کوف کی کارکردگی بہ ہر حال پسٹل سے کئی گنا زیادہ تھی ۔ اندرونی عمارت کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے ذہن میں اپنی گڑیا کی آخری چیخوں کو تازہ کیا ….اسے اپنی بہن کا کہا ہوا ایک ایک لفظ یاد تھا…. اسی طرح فاضل خان کے منہ سے اگلتی ہوئی غلاظت بھی اس کی سماعتوں میں زندہ تھی ….اسماعیل کی کنپٹیاں جیسے سلگ اٹھیں ۔صحن کو عبور کرتے ہی چار بڑے ستونوں پربنا ہوا کھلا برآمدہ تھا اس سے متصل ہی لکڑی کا منقش دروازہ ،جو ڈرائینگ روم کا تھا ۔وہ جیسے ہی ڈرائینگ روم کا دروازہ کھول اندر گھسا اسے سامنے سے کوئی دوڑتا ہوا نظر آیا ۔ وہ ٹھٹکا مگر آنے والے بلکہ والی کو پہچانتے ہی اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے ۔وہ حنا تھی ، جانے دوڑتے ہوئے کہاں جا رہی تھی اسماعیل کودیکھتے ہی اس کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے اس کے ساتھ ہی اس کے چہرے پرحیرانی اور خوف کا ملا جلا تا¿ثر ابھر اور وہ رکنے کی بجائے پیچھے پلٹ کر بھاگی ….چند قدم لے کے اسے جانے کیا خیال آیا کہ وہ دوبارہ رک گئی ….مگر اس کایہ رکنا بھی عارضی تھا اگلے ہی سیکنڈ میں وہ دوبارہ بھاگ پڑی مگر دو تین قدموں کے بعد ایک بار پھر رک گئی وہ شاید فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔اسماعیل دعا کر رہا تھا کہ کاش وہ اپنے کمرے جا کر چھپ جائے مگر اس کی دعا رد گئی اور وہ باپ کے کمرے کے دروازے سے چند قدم پہلے رک کر پیچھے مڑی اس کی آنکھوں میں خوف کی جگہ اعتماد کا تاثر ابھرا اور اس کے قدم اسماعیل کے جانب اٹھنے لگے ۔
اسماعیل دھاڑا۔”میرے قریب آنے کی کوشش کی تو جان سے جاو¿ گی ۔“
مگر حنا کے قدموں میں لرزش نہ آئی اس کے لبوں سے پر اعتماد آواز برآمد ہوئی ….
”چلاو¿ گولی ….روکا کس نے ہے ؟“
”آج مجھے کوئی نہیں روک سکتا ….کوئی نہیں ؟“اسماعیل نے کلاشن کوف کاک کر لی ۔مگر حنا اس کے لہجے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس سے لپٹ گئی تھی ….
”شاہ جی نہ کرو ….واپس چلے جاو¿ ….دیکھو اس سے زیادہ دکھ برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے مجھ میں ۔ مم….میں بہت کمزور ہوں ….تمھاری توقع سے بھی زیادہ ….پاپا کی موت کا مطلب مجھ سے انتقام لینا ہے ….امی مجھے چھوڑ گئیں ….تو بھی میرا نہ بنا ،ایک پاپا تو میرے پاس رہنے دو ….مم میں وعدہ کرتی ہوں انھیں تمھاری دنیا سے بہت دور لے جاو¿ں گی ….وہ تمھیں دوبارہ پاکستان میں نظر نہیں آئیںگے ۔بس ابھی چلے جاو¿ بہت رلا دیا ہے ….مزید نہ رلاو¿ پلیز چلے جاو¿ ….میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں ….“
”حنا یہ ناممکن ہے ….میں تم سے بھی زیادہ بے بس ہوں ۔“اسماعیل نے اسے اپنے سے دور جھٹکا ۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے نیچے گری مگر اسماعیل کے قدم بڑھانے سے پہلے وہ دوبارہ اس سے لپٹ گئی تھی….
” تو نے پاپا سے انتقام لینا ہے نا ….لو مجھے قتل کر دو انھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف ہوگی جتنی آپ کو اپنوں کے بچھڑنے سے ہوئی ہے ۔“
”میں کہتا ہوں دور ہو جاو¿….“اسماعیل نے دھاڑتے ہوئے اسے دوبارہ دور جھٹکنے کی کوشش کی لیکن وہ بری طرح اس سے چمٹ گئی تھی ۔
”شاہ جی نہیں ….تم پاپا کو کچھ نہیں کہہ سکتے ۔“وہ رونے لگی تھی۔
”کون روکے گا مجھے ؟“
”میں ….میں روکوں گی ….تمھیں میری ماننا پڑے گی ۔“
”نہیں مانوں گا ….آج کسی کی نہیں مانوں گا ۔“
”اگر تو نے قدم بڑھائے تو میں خود کشی کر لوں گی ۔“
”پرواہ نہیں ….“اسماعیل ساری کشتیاں جلانے پرتل گیا تھا ۔
”میری موت برداشت کر لو گے ؟“
”ہاں ….ہاں ….ہاں ….سب کچھ برداشت کر لوں گا ۔“
حنا سسکی ۔”ایک یہی دکھ باقی تھا ۔“
”نہیں ….فاضل خان کی موت کا دکھ ابھی تک رہتا ہے ۔“
”اچھا شاہ جی ایک دفعہ میری آنکھوں میں دیکھ کے کہو کہ تمھیں میری زندگی عزیز نہیں ہے اور میری موت سے تمھیں کوئی فرق نہیں پڑنے والا ،باخدا میں تمھارا رستا چھوڑ دوں گی ۔“
”یہ اتنا مشکل نہیں ہے مس حنا خان !“کہہ کر اسماعیل نے اس کی طرف نگاہیں اٹھائیں ….حنا کی پر نم آنکھیں اسی کی طرف متوجہ تھیں ۔عجیب قسم کی بے بسی ،دکھ اور امید کا تاثر تھا اس کی سیاہ آنکھوں میں ۔اسماعیل بے خود سا ہو گیا ،وہ آنکھیں اسے دنیا کی ہر شیئے سے عزیز تھیں اور ان میں اسی کی وجہ سے پانی بھرا تھا ۔
اس کے لب آہستہ سے ہلے۔ ۔”شاہ جی مجھے باپ کی موت سے زیادہ تمھاری جدائی کا غم ہے ….اگر پاپا کو قتل کرو گے تو تم سے دوری میرامقدر ہو جائے گی ،کیا میرے لیے اتنا نہیں کر سکتے ….اتنا ذرا سا ….چند طعنے ….اگر ظرف بڑا ہو تو معافی دینے پرطعنے نہیں ملا کرتے ….میں نے تمھیں دعاو¿ں میں اپنے رب سے مانگا ہے ۔پاپا کا دشمن ہونے کے باوجود تمھاری سلامتی کے لیے سجدے کےے ہیں ….سب کچھ ٹھکرا کے تمھارا ساتھ نبھانے کا وعدہ کیا ہے ۔تمھیں چاہا ہے ….مجھے اقرار ہے کہ میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتی ….نہیں رہ سکتی ،کیا اپنی حنا کو نہیں بچاو¿ گے ….اچھی طرح جانتی ہوں تم مجھے چاہتے ….مجھے دیکھو شاہ جی!…. میں وہی ہوں جس کی اترن تمھیں نشانی کے طور پر درکار تھی ….جس کے لیے تم نے شراب چھوڑی ….غلط کام چھوڑے ….ہاں ہاں وہی ہوں تمھاری حنا ….صرف تمھاری ….حنا خان نہیں ،حنا شاہ ….کیا مجھے بانہوں میں بھر کے ساری دنیا سے دور نہیں لے جاو¿ گے ۔تمھارے سارے غم ،سارے دکھ ،سارے درد مجھے بھی اتنا ہی بے چین کرتے ہیں جتنا تمھیں کرتے ہیں ، میری وفا کا یقین کرو ….بھروسا کرو مجھ پر ….جاو¿ واپس چلے جاو¿…. جاو¿…. پلیز شاہ جی!…. پلیز ۔“ حنا کی ہچکیاں بندھ گئیں تھیں ۔کلاشن کوف پراسماعیل کی گرفت ڈھیلی پڑی اور گن ایک دھماکے سے نیچے جا گری اسماعیل کے دماغ میں ایکے کی آواز گونجی ….
”میری یہ بات پلے باندھ لو ،محبت کمزور کرتی ہے ….چاہت انسان کو کھوکھلا کر دیتی ہے ….کبھی عورت کو خود پرحاوی نہ ہونے دینا ،وہ جو کہتے ہیں ناں کہ محبت کی نہیں جاتی، ہو جاتی ہے ….میں مانتا ہوں یہ سچ کہتے ہیں لیکن اگر کبھی ایسا موقع آئے تو بائی گاڈ اس سے دور بھاگ جانا ….اس کا سامنا نہ کرنا….بس اسے بھلا دینا…. اپنے اندر کی نفرت کو ہواد ینا ….یہ تمھیں طاقت دے گی ،تمہاری ہمت بڑھائے گی ….ہمت بڑھائے گی ….ہمت بڑھائے گی ……..۔“مگر اسماعیل کی نفرت پرحنا کی چاہت غالب آگئی تھی ….اسماعیل کو لگا وہ مکمل طور پرہپناٹائز ہو چکا ہے ۔اس نے سختی سے آنکھیں بھینچیں اور دھاڑا ….
”میری سب سے بڑی دشمن تم ہو ….تم ….سمجھیں ….تم نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا ۔“پاو¿ں میں پڑی گن کو ٹھوکر مار کر دور کرتے ہوئے اس نے جیب سے پسٹل نکالا اور کھینچ کر دیوار پردے مارا ۔
”بس اب خوش ہو ….یہی چاہتی تھیں ناں کہ ساری عمر بے غیرتوں کی سی زندگی گزاروں لو خوش ہو جاو¿ ….بلا لو پولیس کو تاکہ مجھے پولیس کے حوالے کرنے کی تمھاری حسرت بھی پوری ہو جائے ۔“ عجیب قسم کی بے بسی کا تاثر اس کی نس نس میں بھر گیا ….وہ جنگ ہار چکا تھا ….فاضل خان کی بیٹی نے اسے شکست دے دی تھی ، وہ دشمن کی بیٹی کو مایوس کرنے کی ہمت نہیں کر سکا تھا ۔
حنا اسی طرح اس کے ساتھ لپٹی روتی رہی ۔اچانک فائر کی آواز آئی اور وہ دونوں چونک پڑے ۔ آواز فاضل خان کے بیڈروم سے آئی تھی ۔
”پاپا؟“حنا سراسیمہ ہو کر چلاتے ہوئے کمرے کی طرف دوڑی ۔اسماعیل کے قدم بھی اسی جانب اٹھ گئے تھے ۔ وہ بہ مشکل دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ اس کی سماعتوں میں حنا کی تیز چیخ گونجی ….
”نہیں پاپا….آپ ایسا نہیں کر سکتے ؟“اندر داخل ہونے پر اسے فاضل خان کا بایاں پہلو خون سے رنگین نظر آیا اس کی نظروں دروازے کی طرف اٹھی تھیں ۔اسماعیل کو دیکھتے ہی اس نے دونوں ہاتھ معافی کے انداز میں باندھے اورشکستہ الفاظ میں بولا ….
”شش….شاہ ….جی مجھے معاف کر دینا ….مم ….میں تیر ا قصور وار ہوں ….گگ …. گڑیا کا خیال رکھنا ….“اس کے ساتھ ہی فاضل خان کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی تھی ۔اسماعیل آہستہ سے اس کے ساتھ بیٹھا ،اس کا ہاتھ فاضل خان کی کھلی آنکھوں کی طرف بڑھا اور اس نے اس کی پلکیں ڈھک دیں ۔اس کی مٹھی میں ایک کاغذ دبا ہوا تھا اسماعیل وہ کاغذ نکالنے ہی لگا تھا کہ دروازے کی طرف سے قدموں کی چاپ ابھری اسماعیل نے پیچھے مڑ کر دیکھا عاطف اندر داخل ہو رہا تھا ۔دو اور آدمی بھی اس کے ہمراہ تھے ۔اسماعیل کاہاتھ پیچھے ہو گیا ۔اسماعیل سے تعرض کےے بغیر عاطف حنا کے قریب بیٹھ کر اس کے سر پرہاتھ پھیرنے لگا سسکیاں بھرتی حنا نے نظریں اٹھا کر اس کے جانب دیکھا اور اگلے لمحے وہ ”بھیا ۔“کہہ کر اس سے لپٹ گئی ۔
”گڑیا اللہ کو یہی منظور تھا ….دیکھو وہ بہت دکھی تھا ….اوریہ فیصلہ اس نے بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ، پھانسی کا پھندہ ویسے ہی اس کا مقدر ہو چکا تھا ….شاید تمھیں لمبی اذیت سے چھٹکار ادینے کے لیے اس نے یہ کام کیا ہے….اور تمہاری امی کی موت کا ذمہ داربھی تمھارا پاپا ہی تھا ….اس نے جو کھڈا دوسروں کے لیے کھودا تھا اس میں اس کی اپنی بیوی گر گئی ۔“اس کی باپ کی موت کے صدمے کو کم کرنے کے لیے عاطف نے حقیقت اس کے سامنے بیان کر دی تھی۔”اور گڑیا تمھیں پتا نہیں ہے لیکن تمھارا باپ جانتا تھا کہ اس کی نگرانی ہو رہی تھی….اور یاد ہے ناں تو نے پوچھا تھا کہ میں نے رشوت لے کے تمھارے پاپا کوکیوں رہا کیا تھا ….تو میں واضح کر دوں وہ رشوت نہیں تھی ….صرف تمھارے پاپا کو یہ یقین دلانا تھا کہ ہم اسے پیسے لے کے رہا کر رہے ہیں حقیقت میں ہم نے نگرانی کر کے اس کے ذریعے دوسرے مجرموں کو گرفتار کرنا تھا ….اس وقت میں نے یہ بات تمھیں اس لیے نہیں بتائی کہ یہ راز تم سے سنبھالا نہ جاتا ،آخر کچھ بھی ہو وہ تمھارا والد تھا ۔“
حنا اسے جواب دئےے بغیر روتی رہی ….عاطف کے ہمراہ آنے والے اختر اور عمران فاضل خان کی لاش کو چادر سے ڈھکنے لگے ….اسی اثناءمیں عمران کی نظر اس کی مٹھی میں بند کاغذ پرپڑی اس نے وہ کاغذنکال لیا….کاغذ پر شکستہ الفاظ میں ایک تحریر ثبت تھی۔
”اپنی موت کا ذمہ دار میں خود ہوں،اسماعیل شاہ بے گناہ ہے اس کی بے گناہی کے ثبوت میرے سیف میں محفوظ ہیں ۔“اس تحریر کے نیچے فاضل خان کے اپنے سائن موجود تھے ۔وہ کاغذ عمران نے عاطف کی سمت بڑھا دیا جو پڑھ کر عاطف نے حنا کی سمت بڑھا دیا….
”یہ تمھارے پاپا کا آخری بیان ہے ۔“
حنا اپنے والد کی تحریر اچھی طرح پہچانتی تھی ….تحریر پڑھتے ہوئے وہ دوبارہ رونے لگی تھی ۔
”اب تو یقین آگیا ناں میری بات کا ؟“
”بھیا میں نے پہلے بھی کبھی آپ کی بات پرشک نہیں کیا تھا ۔“
”اچھا اب تمھارا کیا ارادہ ہے ؟“
”میں سمجھی نہیں بھیا ؟“
”اچھا میں بعد میں بتاتا ہوں ….“اسے کہہ کر وہ عمران کی طرف متوجہ ہوا ۔”عمران ! شاہ جی کو میرے آفس لے جاو¿ ۔“
عمران نے پوچھنا چاہا….
”ہتھکڑی ….؟“
”نہیں ….“عاطف نے قطع کلامی کی ۔”یہ مجرم نہیں میرا مہمان ہے ۔“
”بھیا ….“حنا وفور جذبات سے عاطف سے لپٹ گئی تھی ۔
”ہاں گڑیا ! اب تم میری ذمہ داری ہو ناں “عاطف کی آواز بھرا گئی تھی ۔
”چلیں شاہ جی “عمران نے باہر کی طرف قدم بڑھائے اور اسماعیل شاہ اس کے ساتھ ہو لیا ۔ فاضل خان کی موت کے بعد اسے زندگی میں عجیب سا خلا نظر آنے لگا تھا ۔اگر عاطف پارٹی وہاں نہ آتے تو وہ خود گرفتاری دے دیتا ۔
٭….٭….٭
صدیقی صاحب سے فون پرمشورہ کر کے عاطف نے دلشاد امین کو بلوا کر سارا کیس اس کے حوالے کر دیا تھا ۔ اگلے دن فاضل خان کا پوسٹ مارٹم ہوا اور پھر نعش حناخان کے حوالے کر دی گئی ۔ اس کی آخری رسومات میں عاطف کے ساتھ اسماعیل شاہ نے بھی شرکت کی تھی ۔دوتین دن تک عاطف حنا کے ساتھ ہی رہا اس دوران اس کے مشورے پرحنا نے نورل ،چوکیدار اور مالی کے علاوہ باقی سارے محافظوں کو فارغ کر دیا تھا ۔تیسرے دن جب اس نے حنا سے جانے کی اجازت چاہی تو وہ کہنے لگی ….
”بھیا آپ سے کچھ مشورے کرنے تھے ….پہلے تو میں اپنے حواس میں ہی نہیں تھی ۔“
”ضرور۔“عاطف اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔
”بھیا !….شاہ جی کے بارے آپ نے کیا سوچا ہے ؟“
”ابھی تک وہ آرام سے ہے ….اس سے تفصیلی بات چیت آج ہو گی انشاءاللہ ؟“
”کیا اسے ناکردہ جرائم کی سزا ملے گی ؟ “
”اگر سزا ملنی ہوتی…. تو اسے بھی پولیس کے حوالے کر دیا ہوتا ۔“
”بھیا!…. اپنا وعدہ یا د ہے نا؟“
”کون سابھلا ؟“
”آپ نے کہا تھا ….اسے کچھ نہیں ہو گا ؟“
”بھئی کہہ تو دیا میری طرف سے وہ بری ہے ….اگر وہ کسی ملک دشمن کارروائی میں ملوث ہوتا تو پھنس جاتا ۔ اس کی خوش قسمتی کہ وہ اپنے انتقام کی تگ و دو میں مصروف رہا اور را کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے سکا۔“
اس نے اندیشہ ظاہر کیا۔”وہ پولیس کو بھی تو مطلوب ہے ؟“
”انسپکٹر دلشاد امین کو اس کی بے گناہی کے ثبوت میں نے دے دئےے ہیں اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ اسماعیل شاہ کے خلاف سارے کیس وہ ختم کر دے گا….ایس پی صاحب بھی اس کے حق میں ہے ،مزید کچھ ؟“
”بھیا !….اللہ تعالیٰ آپ کو عزت دے ۔“حنا کے دل کی گہرائیوں سے نکلا ۔
”اچھا اب تمھارا کیا ارادہ ہے ؟“
“میرا ارادہ کیا ہونا ہے ….“حنا ہلکے سے مسکرائی ۔”بڑا بھائی موجود ہے ….یہ اس کا درد سر ہے ۔“
فاضل خان کی موت کے بعد یہ پہلا تبسم تھا جو اس کے ہونٹوں ظاہر ہوا تھا۔
”بہنیں، بھائیوں کے لیے بوجھ نہیں ہوتیں لیکن اس کے باوجود وہ جتنی جلدی اپنے گھر کی ہو جائیں بہتر ہے ، اور میری سوچ بھی ایک روایتی بھائی کی طرح ہی ہے ۔“
ََ حنا نے اثبات کے اظہار میں سر جھکا دیا تھا ۔
”یعنی تمھیں کوئی اعتراض نہیں ….“عاطف مسکرایا۔”اب رہ گیا کسی اچھے رشتے کی تلاش تو چند اچھے رشتے میرے ذہن میں ہیں ….۔“
”بھیا ….“حنا خفگی بھرے میں لہجے میں کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی ۔اور عاطف مسکراتے ہوئے باہر نکل آیا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنے آفس میں داخل ہو رہا تھا ۔کرسی پر بیٹھتے ہی اس نے انٹر کام اٹھا کر کہا ….
”اسماعیل شاہ کو میرے پاس بھیجو ۔“اور جواباََ ”جی سر “سنتے ہی اس نے رسیور رکھ دیا ۔تھوڑی دیر بعد ہی اسماعیل شاہ اس کے سامنے تھا ۔
”بیٹھو شاہ جی ۔“اس نے سائیڈ پر پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا ۔
”شکریہ سر ۔“
”کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی یہاں ؟“
”نہیں سر ….بس الجھن ہے کہ ایک مجرم کے ساتھ یہ مہربانی کس لیے ؟“
”مجرم تو چھوڑو ….تم اب ملزم بھی نہیں رہے ….“
”مگر میں تو اپنے جرائم سے واقف ہوں ناں سر ۔“
”اس کا فیصلہ قانون نے کرنا ہے ….اور اب میں تمھاری کہانی بلا کم و کاست سننا چاہوں گا ۔ جواباََ اسماعیل شاہ نے اپنی آپ بیتی تفصیل سے بیان کر دی۔درمیان میں عاطف سوال بھی کرتا رہاتھا ۔ اس کی بات ختم ہوتے ہی عاطف نے کہا ،
”شاہ جی! ….خوش قسمت ہو کہ تم ملک دشمنی میں ملوث نہیں پائے گئے ۔دوسرا یہ کہ تمہاری دشمنی بھی اتفاق سے اس بندے کے ساتھ تھی جو خود ملک دشمن کارروائیوں میں شریک کار تھا ….انسپکٹر حاکم داد گو سرکاری آدمی تھا مگر اس کے بارے جو کچھ مجھے دلشاد امین نے بتایا ہے اس کے مطابق اس کا زیر زمین چلے جانا ہی بہتر تھا ، باقی انسپکٹردلشاد امین بھی تمھاری کافی طرف داری کر رہا ہے ۔…. سب سے بڑھ کر وہ پاگل حنا ہے ….بہ ہر حال میں نے کبھی عام مجرم کو نہیں چھیڑا جب تک کہ وہ ملک دشمنی میں ملوث نہ ہو ….عام مجرموں کاکیس پولیس کے پاس ہوتا ہے ۔جبکہ پولیس ایس پی اور انسپکٹر دلشادنے اپنے کا غذات میں تمھیں ویسے ہی رہا کر دیا ہے اس لیے تم میری طرف سے بھی آزاد ہو اور جاسکتے ہو ….آخر میں صرف یہ نصیحت کرنا چاہوں گا کہ کسی عالم دین سے رجوع کر کے اس سے اپنے ایکے صاحب کے نظریات کی وضاحت ضرور کر لینا کیونکہ اس نے بڑی ٹیکنیک سے تم سب کی برین واشنگ کی تھی“
”تھینکس سر !….“اسماعیل نے الوداعی مصافحے کے لیے اس کے جانب ہاتھ بڑھایا ۔ ”آپ کا احسان مجھے ہمیشہ یاد رہے گا ۔“
”اور ہاں ….“اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے عاطف بولا۔”بھائی ہونے کے ناطے حنا خان کا سرپرست اب میں ہوں ….غالباََ تمھیں اس انفارمیشن کی ضرورت پڑے گی ۔“
ایک زخمی مسکراہٹ اسماعیل کے ہونٹوں پرنمودار ہوئی ….اور وہ کراہنے کے انداز میں بولا….
”شاید کبھی نہیں سر ۔“
”پر کیوں؟“عاطف بے اختیار کھڑا ہوگیا ۔
”عاطف صاحب ! ….میں اسے کتنا چاہتا ہوں یہ میں خود نہیں جانتا ۔اس بات سے خودحنا اچھی طرح واقف ہے،وہ مجھ سے ہر بات منوانے کی طاقت رکھتی ہے اور منواتی بھی ہے ۔لیکن آپ میرے ماضی سے واقف ہو چکے ہیں ،ایمانداری سے بتائیں کیا میں اس کے قابل ہوں….آپ کا جواب لازماََ نفی میں ہو گا ، کیونکہ مجھے اپنے اندر سے بھی یہی جواب مل رہا ہے ….اسے یقیناََ بہتر رشتے مل جائیں گے ۔میں یوں بھی اپنے گناہوں کے کفارے کے لیے کشمیر یا افغانستان کا رخ کروں گا ….شاید مجاہدین کی ہمراہی سے میرے گناہ دھل جائیںاور جو جہنم کی آگ میں اپنے لیے واجب کر چکا ہوں اسے میرا خون بجھا دے ۔“
عاطف نے قریب آکر اسے کندھوں سے پکڑا ….
”بیوقوف !….اسے مار دو گے ….تمھیں اس کی محبت کی شدت کا اندازہ ہی نہیں ہے ۔ والدین کی موت کے بعد تم سے بچھڑنے کا صدمہ….،یقیناََوہ پاگل ہو جائے گی …. وہ ان صدموں کو صرف تمھارے آسرے پرجھیل پائی ہے …. یاد رکھو کہ اہمیت ماضی کی نہیں حال و مستقبل کی ہوتی ہے ،اگر تم سدھرنے کا ارادہ کر چکے ہو تو تمھارے ماضی کو کریدنے والا کوئی کمینہ ہی ہو سکتا ہے ۔اور گنا ہ صرف خون کے قطروں سے نہیں ندامت کے آنسوو¿ں سے بھی دھل جاتے ہیں ….مجاہد اگر افغانستان یا کشمیر میں کفر سے بر سر پیکار ہیں تو یہی کام ہم روشنیوں کے شہر کراچی میں بیٹھ کر کر رہے ہیں ….گو وہ ہم سے بہت اعلیٰ و افضل ہیں مگر ہمارا مقصد بھی تو اسلام اور پاکستان کا دفاع ہے اور میں تمھیں بھی اس کی دعوت دیتا ہوں تم ایک ٹریننڈ شدہ آدمی ہو ….دشمن نے تمھیں اپنے مقاصد کے استعما ل کے لیے ٹریننگ دی ہے تم وہی مہارت انھی کے خلاف استعمال کرو ….میرے ساتھ شامل ہو جاو¿ تھوڑا عرصہ پرائیویٹ کام کرو بعد میں تمھیں باقاعدہ بھرتی کر لوں گا ….بولو کیا کہتے ہو ؟“
”عاطف بھائی !….میرے ماں باپ یا کوئی بڑا تو ہے نہیں، کیا میں خود حنا کارشتہ طلب کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں ؟“
عاطف کے چہرے پرمسکراہٹ ظاہر ہوئی ۔”یقیناََ میرا جواب اثبات میں ہو گا ۔“
اسماعیل گلوگیر لہجے میں بولا۔”تو پھر میں حنا کے لیے آپ کے سامنے جھولی پھیلا رہا ہوں ۔“
عاطف نے اسے سینے سے لگالیا۔”میرے بھائی وہ کل بھی تمھاری منتظر تھی اور آج بھی تمھاری راہ تک رہی ہے ۔“
”میں شکریہ کہہ کر آپ کے احسان کو ہلکا کرنے کی کوشش نہیں کروں گا ۔“اسماعیل کی آنکھیں پرنم ہو گئیں تھیں ۔
”اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔“
اسماعیل نے اندیشہ ظاہر کیا۔”ویسے ایک دفعہ اس کی رضامندی لے لینی چاہیے تھی“
”اب تک شک میں ہو یار ۔“
”نہیں بھائی ….اپنی خوس قسمتی پر یقین نہیں آرہا ۔“
”اچھا یوں کرنا گھر جاتے ہوئے اس سے ملاقات کرتے جانا “اور اسماعیل اس سے الوداعی مصافحہ کر تے ہوئے کہا۔
”آپ کی دوسری آفر پر میں حنا سے مشورہ کرنے کے بعد ہی کچھ کہہ سکوں گا ۔“
”ہاں بھئی جورو والے جو ہوئے ….اور جورو والے غریب ،….جورو کے غلام ہی ہوتے ہیں ۔“
اسماعیل اس کی بات پرہنستا ہوا وہاں سے نکل آیا۔حنا کی کوٹھی تک اسے ٹیکسی مل گئی تھی ۔ چوکیدار اسے پہچانتا تھا اسے حنا سے ملنے کا بتا کر وہ اندر داخل ہو گیا چند لمحوں بعد ہی وہ اس کے سامنے تھا وہ بیڈ پر لیٹی جانے کن سوچوں میں گم تھی کہ اسے اسماعیل شاہ کے اندر آنے کا ہی پتا نہ چلا ۔
”کیا میں بیٹھ سکتا ہوں ؟“
اس نے چونکتے ہوئے اس کی سمت دیکھا ۔اسماعیل کو پہچانتے ہوئے اس کے چہرے پر جو قوس و قزح کے رنگ ابھرے تھے وہ اسماعیل کے دل کو خوشی سے لبریز کرنے کے لیے کافی تھے ۔
”شاہ جی آپ ؟ ….مجھے لگا ملازمہ اندر آئی ہے ۔“وہ بے ساختہ اس کے استقبال کے لیے کھڑی ہو گئی تھی ۔ ”آئیں یہاں بیٹھیں “وہ اسے ساتھ لیے اپنے بیڈ پر ہی بیٹھ گئی۔
”میں ایک بات پوچھنے کے لیے آیا تھا ۔“
اسماعیل کے سنجیدہ لہجے سے اس کے دلکش چہرے پر تفکرات کی پر چھائیاں ابھریںاور وہ ہولے سے بولی ۔
”جی ؟“
”اگرایک تہی دامن ،مفلس اور بے گھر آدمی ، آپ کو پرپوز کرنے کی جسارت کرے تو آپ کے احساسات کیا ہوں گے ؟“
اسماعیل کے کھردرے ہاتھ وہ اپنے ملائم ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولی ۔”مجھے کتنی خوشی ہو گی یہ پوچھنے والے کو مجھ سے زیادہ پتا ہے ۔“
”تو پھر سن لو ….آج میں اس قابل ہوں کہ کہہ سکوں ….حنا میری بے رونق زندگی میں بہار بن کر آ جاو¿ ،میری بے سکونی کو سکون میں بدل دو ….میرے غموں کو خوشیوں میں ڈھال دو ….میری بن جاو¿ صرف میری کہ تم پرصرف میں ہی حق جتا سکوں ۔“
”یہ حق تو آپ کو پہلے بھی حاصل تھا ۔“حنا کھسک کر اس کے قریب ہوئی اور اس کے کاندھے پر سر رکھ دیا ۔
”شاہ جی !….میں آپ کی چاہتوں کا بدلہ کبھی نہیں چکا سکتی ،کبھی نہیں ….جو مان ،جو عزت ،جو اعتماد مجھے آپ سے ملا ہے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی ….میں کل بھی تمھاری تھی آج بھی ہوں اور آئندہ بھی رہوں گی ۔“
”اچھا میں نے عاطف بھائی سے بات کر لی ہے اور وہ بھی راضی ہیں ….تو پھر، کب آو¿ں تمھیں لینے ؟“
حنا شوخی سے بولی ۔”آئے تو ہو ….لیتے جاو¿ ساتھ ۔“
”اچھا مذاق نہیں سچی بتاو¿….آج جمعہ ہے ،سوموار کا دن کیسارہے گا ؟“
”میں سنجیدگی سے بتا چکی ہوں شاہ جی ۔“
”اچھا ایک اور بات ….عاطف بھائی نے مجھے آفر کی ہے کہ میں ان کے لیے کام کروں ….ایک سیکرٹ ایجنٹ بن جاو¿ں ۔“
”یہ تو میرا خواب ہے کہ میرا سرتاج، وطن کا رکھوالا بنے ۔“
”دیکھ لو ….خطرناک کام ہے ،جان بھی جا سکتی ہے ؟“
”اگر مجھے یقین ہو کہ اپنی آغوش میں لے کے ،آپ کو موت سے بچا لوں گی تو شاید میں کبھی آپ کو آغوش سے نہ نکلنے دوں۔لیکن موت تو برحق ہے ۔“
”مجھے فخر ہے اپنی چندا پر “اسماعیل تحسین آمیز لہجے میں بولا ۔حنا کی آنکھیں سرشاری سے بند ہو گئیں اور اسماعیل کی انگلیاں اس کے ریشمی بالوں میں سرسرانے لگیں ۔
٭….٭….٭
”میاں !….تم ابھی تک تیار نہیں ہوئے ؟“
”خیر تو ہے سر!…. کس چیز کی تیاری ؟“عاطف کے لہجے میں حیرانی تھی۔
”یار بتایا تو تھا ،ہفتے کی شام بدر صاحب کے ہاں دعوت پر جانا ہے ۔“
صدیقی صاحب کی بات پر عاطف ماتھے پرہاتھ مارتا ہوا بولا ۔”سوری سر مجھے بھول گیا تھا ۔“
”اچھا تمھارے پاس آدھا گھنٹہ ہے ،فٹا فٹ تیار ہو جاو¿۔“
تھوڑی دیر بعد وہ بدر صاحب کے گھر کی طرف بڑھے جا رہے تھے۔
”سر !….کچھ عجیب سا نہیں لگ رہا ؟“
”کیا ….؟“صدیقی صاحب نے حیرانی سے پوچھا ۔
”یہی ….بدر صاحب کے ہاں کھانے پر جانا ۔“
”بھئی وہ تمھاری حالیہ کارکردگی سے کافی خوش ہوئے ہیں…. اور اسی وجہ سے تمھیں کھانے کی دعوت دے دی ہے ،میں تو یونہی بن بلایا مہمان ہوں ۔“
”پھر بھی سر !….میں نے پہلی مرتبہ تو کوئی کارنامہ انجام نہیں دیاناں ؟“
”یہ تو انھیں پتا ہو گا ….ویسے مجھے جو بات انھوں نے بتلائی ہے وہ آپ کے حق میں نہیں جاتی ۔“
”میں سمجھا نہیں سر؟“
”ان کی بیٹی جوان ہو چکی ہے ۔“
”تو ….؟“
”وہ آپ کو داماد بنانا چاہ رہے ہیں….اور ان کے تیئں یہ آپ کا انعام ہو گا ۔“
”مم….مگر ….سس ….سر….آپ تو جانتے ہیں ….یہ ….یہ کس طرح ہو سکتا ہے ؟“ عاطف بوکھلا گیا تھا ۔
’صدیقی صاحب نے اطمینان سے کہا۔’تو انکار کر دینا ….لیکن لڑکی دیکھ تو لو ہو سکتا ہے تمھیں پسند آ جائے ۔میری تو دیکھی بھالی ہے ۔سگھڑ ،تمیز دار اور خوب صورت بچی ہے ۔تعلیم یافتہ بھی ہے ۔پھر خاندان بھی بہت اچھا ہے ۔“
”سر !….یہ سب اپنی جگہ مگر سمیعہ ….نہیں سر پلیز آپ کوئی حل سوچیں؟“
”جھوٹ بول دینا میں کہ تمھاری منگنی ہو چکی ہے ؟“
”سر!…. میں جھوٹ نہیں بول سکتا ۔“
’صدیقی صاحب ہنسے۔”یار جاسوس ہو اور پہلے قدم پر ہی تمھیں جھوٹ بولنا سکھایا گیا ہے پھر کیسی پریشانی ؟“
”نہیں سر !….وہ جھوٹ بولنا کسی اور مقصد سے ہوتا ہے ۔“
”اچھا یا ر….میں جھوٹ بول دوں گا ،اور کچھ “اور عاطف ہونٹ کاٹتا ہوا خاموش ہو گیا ۔اس وقت تک وہ بدر صاحب کی کوٹھی پر پہنچ گئے تھے۔چوکیدار نے صدیقی صاحب کو پہچان کر گیٹ کھول دیا و ہ کار اندر لیتا گیا ۔ گاڑ ی کھڑی کر کے وہ باہر نکلے اس وقت تک بدر صاحب اپنی اہلیہ کے ہمراہ ان کے استقبال کے لیے باہر نکل آئے تھے ۔رسمی علیک سلیک کے بعدوہ ڈرائینگ روم میں چلے آئے ۔
”اور سنائیں صدیقی صاحب….کوئی نئی تازی ؟“
”کوئی خاص تو نہیں سر!….بس عاطف میاں کی منگنی کی خبر بلکہ خوشخبری تھی۔“
”عاطف کی منگنی مگر کب؟کیسے ؟“بدر صاحب نے حیرانی سے صدیقی صاحب کی طرف دیکھا اور اس نے آنکھ دبا کر انھیں مخصوص اشارہ کر تے ہوئے کہا۔
”سر!…. ان کی امی کی مرضی تھی اور ماں کی تو عاطف میاں کوئی بات بھی نہیں ٹال سکتے ناں ۔“
بدر صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔”چلو مبارک ہو بھئی ۔“عاطف نے خفیف انداز میں سر ہلا دیا وہ خیر مبارک بھی نہیں کہہ سکا تھا ۔
”میرا خیال ہے باقی گپ شپ ڈائیننگ ٹیبل پر صحیح رہے گی؟“
”بالکل سر !….“صدیقی صاحب نے اس کی تائید کی ۔
وہ ڈائیننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے کھانا لگایا جا چکا تھا ۔
”ہماری بھتیجی نظر نہیں آرہی ؟“صدیقی صاحب نے کرسی سنبھالتے ہی پوچھا ۔
”وہ کوکنگ کرتی رہی ہے اور اسے تیار ہونے کا موقع نہیں ملا ….بس آتی ہی ہو گی ۔“یہ بات بدر صاحب کی اہلیہ کے ہونٹوں پر تھی کہ ایک خوب صورت اور دلکش لڑکی ۔”اسلام علیکم انکل ۔“کہتے ہوئے اندر داخل ہوئی ۔
”وعلیکم اسلام….آو¿ بیٹی تمہارا ہی ذکر ہو رہا تھا ؟“صدیقی صاحب نے کہا اور وہ لڑکی جو لازماََ سمیعہ تھی نے آکر صدیقی صاحب کے سامنے سر جھکا دیا ۔
”جیتی رہو بیٹی ۔“صدیقی صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا ،عاطف اسے دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا تھا ۔اس نے عاطف کو بھی شوخ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے سلام کہا ۔مگر عاطف اتنا حیران تھا کہ جواب بھی نہیں دے سکا تھا ۔
کھانے کے دورا ن بھی عاطف گم سم رہا ۔کھانے کے بعد وہ کوٹھی کے خوب صورت لان میں آ بیٹھے تھے۔صدیقی صاحب نے عاطف سے دبی زبان میں پوچھا ۔
”خیر تو ہے میاں ،بالکل خاموش خاموش سے ہو ؟“
”سر ….بڑیگڑ بڑ ہو گئی ہے ؟“عاطف بھی دبی زبان میں بولا۔
”کچھ پتا تو چلے ؟“صدیقی صاحب جانتے بوجھتے انجان بن گئے تھے۔
”سر !….یہی تو سمیعہ ہے ۔“
”کیا سر گوشیاں ہو رہی ہیں بھئی ؟“بدر صاحب نے مداخلت کی ۔
”سر ۱….عاطف میاں کو ابھی ابھی میسج ملا ہے کہ ان کی منگنی ٹوٹ گئی ہے ،اس کے متعلق بتا رہے تھے ۔“
”ہا….ہا….ہا۔“صدیقی کی بات پر بدر صاحب کے منہ سے بے ساختہ قہقہہ نکلا۔”یار کیوں تنگ کر رہے ہو بچے کو ؟“
صدیقی صاحب بھی بے ساختہ ہنس پڑا تھا جبکہ عاطف ہونقوں کی طرح ان کا منہ تکنے لگا ۔
بدر صاحب عاطف سے مخاطب ہوا۔”برخوردار!…. ایسا ہے کہ سمیعہ مجھے سب کچھ بتا چکی ہے اور میری آرزو بھی یہی تھی کہ تمھارے جیسا کوئی باصلاحیت اور محب وطن ہی میرا داماد بنے ،باقی صدیقی صاحب کو پہلے سے اس بارے معلوم تھا اور یہ سارا ڈراما انھوں نے خود ترتیب دیا ہے ۔“بدر صاحب کی بات سن کر عاطف پر گھڑوں پانی پڑ گیا تھا ۔
سمیعہ کی ماں بولی۔”اچھا اب شرمانے کی ضرورت نہیں اور جاو¿ سمیعہ اپنے کمرے میں تمہاری منتظر ہے ،اپنی منگنی کی تاریخ تم دونوں نے خود ہی مقرر کرنی ہے۔“اور عاطف جھجکتا ہوااٹھا جیسے ہی قدم اٹھائے وہ لڑکھڑا کے گرنے لگا مگر اس نے جلدی سے صدیقی صاحب کا سہارا لے لیا ۔اور سوری کہتے ہوئے سمیعہ کے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔اس کی دستک کے جواب میں سمیعہ کی مترنم ”یس “سنائی دی اور وہ اند داخل ہو گیا ۔
”سمیعہ کی بچی ….بتایا کیوں نہیں کہ بدر صاحب تمھارے والد بزرگوار ہیں ۔“اند داخل ہوتے ہی عاطف نے آنکھیں نکالیں ۔
”اتنا بڑا جاسوس بنا پھرتا ہے خود معلوم کرنا تھا نا ں۔“سمیعہ کے لہجے میں چاہے جانے کا گہرا احساس موجود تھا ۔
”اب میں تمھاری جاسوسی کرنے سے تو رہا؟“عاطف منہ بناتے ہوئے بیٹھ گیا ۔
”مگر میں تو تمھاری جاسوسی سے باز آنے والی نہیں ….تمھارے جیسے لڑکوں کا کوئی پتا نہیں چلتا کب کیا کر جائیں؟“
”کیا مطلب؟“
”مطلب وغیرہ کو چھوڑو اور یہ بتاو¿میرا گھرانا کیسا لگا ؟“
”بالکل تمھاری طرح۔“
”یعنی پھیکا اور بے رونق ؟“
”نہیں ….بہت پیارا ،بہت اچھا اور ….اور ….بس تمھاری طرح۔“
سمیعہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی تھی۔اور عاطف اسے مبہوت ہو کر دیکھنے لگ گیا۔
”ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟“وہ شرما گئی ۔
”کچھ نہیں ۔“وہ چونک گیا اور جلدی سے بات بناتے ہوئے بولا۔”اچھا پتا ہے آنٹی نے کیا کہا ہے ؟۔“
”کیا کہا ہے ؟“
”اپنی شادی کی تاریخ ہم دونوں نے مقرر کرنی ہے ۔“
”تو کرو ناں ؟“
وہ شرارت سے بولا۔”نو بج رہے ہیں ….گیارہ بجے کیسا رہے گا ؟“
”یعنی اتنا لیٹ؟“سمیعہ برجستہ بولی اور عاطف کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔ایک دوسرے کو پانے کی خوشی ایسی تھی کہ انھیں بات بے بات ہنسی آرہی تھی۔
”اچھا مذاق نہیں سچ بتاو¿؟“سمیعہ نے پوچھا اور عاطف بولا۔
”ایسا ہے کہ سوموار کو میری منہ بولی بہن کی شادی ہے ….اور منگل کو میری فلائیٹ ہے ،جمعہ تک میں امی جان اور ابوجان کو ساتھ لے کر لوٹ آو¿ں گا ….ہفتہ کے دن بزرگ مل کر طے کر لیں گے۔“
”منظور ہے ….“سمیعہ نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
”ویسے تمھیں پتا ہے ….میری لاعلمی سے صدیقی صاحب نے کیا فائدہ اٹھایا ہے ؟“
”کیا مطلب ….کیسا فائدہ ؟“وہ حیرانی سے بولی اور عاطف نے اسے صدیقی صاحب کے ڈرامے کے بارے بتا دیا ۔سمیعہ کی ہنسی رکنے میں نہیں آرہی تھی۔
”آپ پھر بھی خود کو جاسوس سمجھتے ہیں؟“
”تم دیکھنا تو سہی میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں؟“عاطف سیل فون نکال کر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا ۔اس کے ساتھ ہی اس نے موبائل کا سپیکر آن کر دیا تھا۔
”جی بیٹے ؟“ایک مشفق نسوانی آواز سپیکر سے برآمد ہوئی ۔
”آنٹی اسلام علیکم۔“
”وعلیکم اسلام ….بیٹے کیسے یاد آگئی آنٹی کی ۔“
”آنٹی ….وہ آپ کو بتانا تھا کہ صدیقی انکل تھوڑا لیٹ ہو جائیں گے تو آپ نے کھانے پر انتظار نہیں کرنا ۔“
”مجھے پتا ہے بیٹے ان کا کھانا آج بدر بھائی کے گھر میں ہے ۔“
”اچھا آپ سے یہ بہانہ کر کے آئے ہیں؟“عاطف کا انداز خود کلامی کا سا تھا ۔”چلو ٹھیک ہے آنٹی جب آپ کو پتا ہے تو ….
”بیٹے ….سیدھی بات بتاو¿ کیا پتا ہے ،آپ تو اس طرح کہہ رہے ہیں جیسے ….۔“
”نہیں نہیں آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ….بدر صاحب کے گھر واقعی دعوت تھی لیکن وہ میری تھی صدیقی صاحب تو ایک انکوائری کے سلسلے میں گیسٹ ہاو¿س میں ہیں ۔“
”کیسی انکوائری ؟“وہ چونک گئی تھی۔
”آنٹی !….انڈیا کی ایک جاسوس پکڑی تھی ناں….اداکارہ بن کر آئی ہوئی تھی ،تو اس سے تفشیش کر رہے ہیں اکیلے کمرے میں ،حالانکہ بدر صاحب نے ذیشان کے ذمہ لگایا تھا مگر صدیقی صاحب نے ذیشان کوکہا کو وہ خود انکوائری کریں گے ….“
”بیٹے!….میری بات کراو¿؟“
”آنٹی …. دروازہ انھوں نے اندر سے بند کیا ہوا ہے ،جیسے ہی دروازہ کھلا میں آپ کی بات کر ا دوں گا …. ویسے آپ ان کے نمبر پر ٹرائی کریں شاید وہ کال اٹینڈ کر لیں۔“
”ٹھیک ہے بیٹے۔“آنٹی نے کہا اور رابطہ منقطع کر دیا ۔
سمیعہ نے کچھ کہنے کے لیے ہونٹ ہلانے چاہے مگر عاطف نے اسے اشارے سے خاموش کر دیا ۔اسی وقت موبائل کی گھنٹی بجی ۔آواز عاطف کی جیب سے آرہی تھی ۔اس نے جیب سے موبائل نکال کر سمیعہ کو دکھایا اور کال ڈس کنکٹ کر دی ۔چند سیکنڈ بعد دوبارہ بیل ہوئی مگر عاطف نے دوبارہ کاٹ دی اسی طرح چند مرتبہ ہوا اورپھر عاطف نے موبائل آف کر دیا۔
”یہ ….یہ انکل کا موبائل تھا ؟“سمیعہ حیرانی سے مستفسر ہوئی ۔
”جی ہاں “عاطف اطمینان سے بولا۔
”مگر آپ کے پاس ….؟“
”آپ کے کمرے کی طرف آتے وقت نکالا تھا ۔“
”یعنی چوری ؟“
”ہاں کیونکہ ،اینٹ کا جواب پتھر سے دینا پڑتا ہے ….اب یوں کرو کہ میرے لیے کچھ کھانے کو لے آو¿۔“
”کھانا ….ابھی تو کھایا ہے کھانا؟“اس کے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”خاک کھایا ہے ….تمھیں دیکھنے کے بعد مجھے ہوش کہاں رہا تھا ….ویسے بھی صدیقی صاحب نے مجھے صحیح الو بنایا ہے ۔“
”اچھا ابھی لائی ۔“سمیعہ اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی اور چند منٹ بعد مختلف لوازمات سے ٹرے بھر لائی ۔ کھانے کو دوران وہ زبردستی عاطف کے منہ میں مختلف چیزیں ٹھونستی رہی ۔کھانا کھاتے ہی عاطف جانے کے ارادے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
”تو کیا صرف کھانا کھانے آئے تھے ۔“اس کے ارادے کو دیکھ کر سمیعہ شکوے کے انداز میں بولی ۔
عاطف شرارتی لہجے میں بولا۔”ہاں ….اور جانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ تمھیں دیکھ کر عجیب قسم کے خیال ذہن میں پرورش پانے لگے ہیں ….جن پر عمل شادی کے بعد ہی ہو سکے گا ۔“اس کی بات ایسی نہیں تھی کہ سمیعہ اسے روکنے کی کوشش کر سکتی ۔البتہ وہ اسے رخصت کرنے ساتھ چل پڑی تھی۔لان میں صدیقی صاحب اور بدر صاحب خوش گپیوں میں مشغول تھے ۔سمیعہ کی امی کسی سے فون پر مصرو ف گفتگو تھی ۔
”کتنی پیاری جوڑی ہے ۔“انھیں لان کی طرف آتے دیکھ کر صدیقی صاحب بے ساختہ بولا ۔
”ہاں ….اللہ تعالیٰ نظر بد سے محفوظ رکھے ،گڑیا رانی کے ساتھ عاطف یوں دکھائی دے رہا ہے جیسے پھول کے ساتھ خوشبو ۔“
عاطف نے آتے ہی صدیقی صاحب سے کہا۔”سر!…. اب اجازت لینی چاہےے….گیسٹ روم بھی جانا تھا ؟“
”اوکے سر!….اب ہمیں اجازت ؟“صدیقی صاحب نے بدر صاحب سے پوچھا ۔
بدر صاحب نے کھڑے ہو کر عاطف کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا ۔
”برخوردار پھر کیا طے کیا؟“
”سر اگلے ہفتے امی ابو آجائیں گے پھر مل کر آپ لوگوں نے ہی طے کرنا ہے ۔“
”ٹھیک ہے صدیقی صاحب ….آپ اگر جانا چاہتے ہیں تو پھر خدا حافظ ۔“
صدیقی صاحب نے بدر صاحب سے الوداعی مصافحہ کیا اور سمیعہ کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ آہستہ سے بولی ۔
”انکل ،گیسٹ ہاو¿س جانے سے پہلے ایک مرتبہ آنٹی سے بات کر لینا۔“
اس نے حیرانی سے پوچھا۔”کیا مطلب بیٹا ؟“
”مطلب کا تو پتا نہیں ….عاطف صاحب آنٹی کوکوئی الٹی پٹی پڑھا رہے تھے ۔“
”یے….یہ کیسے ….عاطف میاں کیا بات ہوئی ہے ؟“صدیقی صاحب گھبرا گئے تھے ۔
”کچھ نہیں سر ،سمیعہ ایسے ہی شرارت کے موڈ میں ہے ۔“عاطف اطمینان سے بولا مگر صدیقی صاحب کی پریشانی کم نہیں ہوئی تھی ۔اس نے موبائل کی تلاش میں جیب میں ہاتھ ڈالا ،اور پھر اپنی مختلف جیبیں ٹٹولنے لگا ۔
”سر !….شاید آپ یہ تلاش کر رہے ہیں ؟“عاطف نے اپنی جیب سے موبائل نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا ۔
”ہاں ….مگر یہ تمھارے پاس کیسے ….؟“اس نے موبائل عاطف سے لے کر آن کیا اور عاطف کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی ۔اس نے جلدی سے کال اٹینڈ کی ۔
”جی بیگم ……..“اور پھر جانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا کہ ….اس کے منہ سے مسلسل ”جج….جی …. جی اور نہیں…. نہیں “نکلنے لگی ۔عاطف اور سمیعہ کے ہونٹوں پرمسکراہٹ کھلنے لگی تھی ۔
بدر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے عاطف سے پوچھا کیا معاملہ ہے ۔عاطف سے پہلے سمیعہ انھیں تفصیل سے سب کچھ بتانے لگی اور فضا بدر صاحب کے قہقہے سے گونج اٹھی ۔
٭….٭….٭
موبائل کی مسلسل بجنے والی گھنٹی سے اسماعیل کی آنکھ کھلی گھڑی پر نگاہ دوڑانے پراسے گھنٹے کی سوئی بارہ کا ہندسہ کراس کرتی نظر آئی ۔
”یس سر ؟“اس نے کال رسیو کی ۔
”شاہ جی ….ہوٹل بلیو مون فرسٹ فلور کمرہ نمبر دس میں بلیک لیکوئڈ کی ایک سینئر رکن لارا مقیم ہے ، الیاس ،اشفاق اور راجہ کو وہاں بھیج دیا ہے تم بھی فی الفور وہاں پہنچو اور ہوٹل کے چاروں کونوں کا خیال رکھنا ۔ اگر وہ کہیں جانے کی کوشش کرے تو اس کا تعاقب کرنا ہے ہاتھ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے ۔“
اسماعیل مستفسر ہونے لگا۔”اس کے بارے ….؟“مگر عاطف نے اس کا سوال مکمل نہ ہونے دیا ۔ اور قطع کلامی کرتا ہوا بولا۔
”ہاں اسی آدمی سے پتا چلا ہے جو آج صبح گرفتار ہوا تھا ….یہ پچھلے دو ماہ سے پاکستان میں ہے اور اگر تمھیں ڈیوڈ عرف ڈیوی نامی آدمی یاد ہو تو یہ اسی کی بدلی پریہاں آئی ہے ۔“
”ٹھیک ہے سر میں پہنچ گیا ۔“اور رابطہ منقطع کر کے جلدی جلدی لباس بدلنے لگا ۔لباس بدل کر اس وہ اپنی خوب صورت بیوی کے ماتھے پرجھکا ….اچانک اس کی پلکیں وا ہوئیں اور اسماعیل کے گلے میں بازو حمائل کرتے ہوئے وہ بولی
”شاہ جی اپنا خیال رکھنا ….اور ہر آدھے گھنٹے بعد مجھے اوکے دیتے رہنا ورنہ عاطف بھیا سے شکایت کروں گی ۔“
”ایک تو میں ان بہن بھائیوں سے تنگ ہوں ۔“اسماعیل منہ بناتا ہوا بولا”گھر میں یہ باس بنی رہتی ہے اور آفس میں وہ سر پرسوار رہتا ہے “جواباََ حنا شاہ قہقہہ لگا کے ہنس پڑی ۔
”اللہ کرے تم یونہی میری زندگی میں قہقہے بکھیرتی رہو “اسماعیل کے دل سے دعا نکلی ،اس کے ماتھے پرمہر محبت ثبت کرتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے نکل آیا ۔وہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا سپاہی بن گیا تھا اور جانتا تھا کہ زندگی کی آخری سانس تک اسے لڑتے رہنا ہے ۔
ختم شد

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/