مختصر کہانیاں

#دربار_عشق #عائشہ_اقبال #قسط_نمبر_34 وہ ریک س…

#دربار_عشق
#عائشہ_اقبال
#قسط_نمبر_34

وہ ریک سے ٹیک لگائے کتنی دیر سوچتی رہی .نیند اڑن چھو ہوچکی تھی .کتنے ہی لمحے ایک ہی شخص کو سوچتے گزرگئے وہ بیڈ کے سائید دراز سے سلیپنگ پلز ڈھونڈنے لگی.اسے اکثر نیند نہیں آتی تھی اسلیے وہ اپنے ساتھ ہی رکھتی.سلیپنگ پلز مل چکے تھے مگر پانی کا جگ خالی تھی .وہ کمرے سے نکل کر سیڑھیاں اترنے لگی .پانی کا جگ بھرنے کے لیے وہ کچن میں گھسی .چار سوں اندھیرا چھایا ہوا تھا.لیکن ایک کمرے کی لائٹ اب تک جل رہی تھی وہ جگ بڑھ کر کومن کراس کرنے لگی جب اسے کسی کی آواز سنائی دی کمرے میں سے مہرام شاہ کی دھیمی آواز آرہی تھی محرما نے پورے کان لگاکر سننا چاہا.
واثق تم سمجھتے کیوں نہیں ہو .وہ مجھ نفرت کرتی ہے,خالص نفرت .اسکی نفرت کبھی محبت میں نہیں بدل سکتی .بے بس لہجہ مکمل ہارا ہوا تھا.
تمہیں اپنی محبت پہ یقین ہی نہیں ہے اگر ہوتا تو تم ابھی یہاں کھڑے ہوکر ایسا نہیں کہہ رہے ہوتے بلکہ اسکو جاکر منارہے ہوتے واثق اسے سمجھارہا تھا.
وہ اتنی آسانی سے نہیں مانتی وہ صرف ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے .زندگی میں پہلی بار اسنے مجھ سے کچھ مانگا ہے بڑی مان سے, اس نے مجھ سے وعدہ لیا ہے.میں کیسے اسکو انکار کرسکتا ہوں .وہ اگر مجھ سے جان بھی مانگ لینا تو بھی میں دینے سے دریغ نہ کروں .وہ اگر میرے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی تو میں اسکے ساتھ زبردستی کیسے کرسکتا ہوں .وہ ہارے ہوئے سپاہی کی طرح اپنے دل کے احوال بتارہا تھا.
واثق اسے گہری نظروں سے جانچ رہا تھا .واقعی تم محبت کے اعلی مقام تک پہنچ چکے ہو.جہاں صرف چار سو محبوب ہی دیکھائی دیتا ہے.اس سے واپسی نا ممکن ہے….
ہممم …..مہرام بیڈ پہ بیٹھ کر بولا.
مجھے بھی حیرت ہوتی ہے .میں کیسے عشق میں گرفتار ہوچکا ہوں جس میں مجھے اپنی ہی ذات دکھائی نہیں دیتی. صرف اسی کی حسرت دل میں کھٹکتی رہتی ہے.
اگر وہ دن کو رات کہے تو بلا جھجھک یقین کرلونگا. میں اسکی خوشی میں خوش ہوں حتی کہ اگر وہ مجھ سے قطع تعلق کرنے میں خوش ہے تو اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے پیچھے ہٹ جانا چاہونگا۔ یہی سچی محبت کی پہچان ہے جس میں انا کا کوئی عمل دخل نہیں.
میں نے اسے پانے کے لیے کتنی دعائیں مانگی ہے .میں اسکی کسی بات کا انکار نہیں کرسکتا .اگر وہ شاویز کے ساتھ خوش رہے گی تو میں خود اسکا نکاح کرواؤنگا .
پوری زندگی اسے میں اس طرح ناخوش نہیں دیکھ سکتا .پہلے میں نے سوچا تھا وہ یہاں آکر نارمل ہوجائے گے.لیکن سب الٹا ہوگیا .جب بھی میرے سامنے آتی ہے ایک ہی مطالبہ اسکے زیر زبان ہوتا ہے…
وہ اپنی محبت کی معراج تک پہنچ چکا تھا اور میں یہاں اس کھوکھلی نفرت نبھارہی ہوں ….وہ یہ باتیں سن کر سکتے کی کیفیت میں کتنی دیر کھڑی رہی.
محرما پر آج کیسے انکشاف ہورہے تھے .ابھی محبت کا کنول کھلا بھی نہیں تھا زمانے کے بےرحم طوفان نے اسے کچلنا شروع کردیا.
مہرام شاہ مجھے نہیں معلوم تھا جسے میں پتھر سمجھتی ھی اصل میں وہ ہیرہ نکلے گا.
میری دسترس میں یہ کیسا خزانہ آیا ہے جسے میں سنبھال ہی نہ سکی .آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا وہ اپنا سب کچھ ہاررہی تھی سب بکھر چکا تھا .اسک نئی محبت زندہ ہونے سے پہلے ہی مر رہی تھی کسی نے اسکا گلا گھوٹ دیا تھا…
وہ قدموں کا بوجھ اٹھائے شکستہ وجود لیے کمرے میں آگئی .مجھے مہرام شاہ پہ اعتبار ہوچکا تھا مگر اسے ابھی تک مجھ پہ ذرا برابر بھی اعتبار نہیں تھا.
عشق کی منازل میں اعتبار کس سیڑھی کے سپرد ہوتا ہے .جب اعتبار کے بغیر رشتے فقط معاہدے ہیں تو محبت پھر کھوکھلی ہوئی نہ.
اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا جلدی جلدی اسنے پلز پی اور سونے کے لیے زبرسستی لیٹ گئی.
……..
مہرام واثق کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا .وہ دونوں دیر رات تک اسی موضوع پہ بات کرتے رہے .ابیرہ کو اچانک اتنی دوستی بڑھ جانے پہ حیرت سی ہوئی .آج انکی فلائٹ تھی .ابیرہ اپنا سامان پیک کرنے لگی ابیرہ کے سسرال والے اسی رات کی فلائٹ سے چلے گئے تھے لیکن ابیرہ نے دوسرے دن آنے کو ترجیح دی.
لاؤ دو میں ہلیپ کروادوں محرما اسکے کمرے میں آئی .سلپنگ پلز نے کام کر دکھایا تھا وہ صبح تک بے خبر سوتی رہی .کسی نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا .اٹھ کر ٹائم دیکھ کر اسکی چیخ نکل گئی .اچھی بہو بننے کے لیے سب سے پہلے صبح جلدی اٹھنا ہوگا .امی کی بات اسے اچانک یاد آئی وہ اکثر سسرال میں رہنے کے طور طریقے سکھایا کرتی تھی.اور ساتھ ساتھ اچھے سسرال ملنے کی دعائیں بھی دیتی جو بہت اچھے سے قبول ہوئی تھی مگر وہ آنکھیں ہی موجود نہ تھی جو اسے دیکھ کر ٹھنڈی ہو.
نہیں بس تم ابیا کا ساتھ باتیں کرو .اسے ابھی سے باتیں چاہیے ہوتی ہے ابیرہ سوٹ کیس بھرتے ہوئے بولی..
اپنی سوئیٹ سے مام پہ جو گئی ہے محرما نے مذاق کیا.
ہاں اور ذرا ذرا سی بات پہ غصہ بھی کرنے لگ جاتی ہے اس معاملے میں اپنی ممانی پہ گئی ہے ابیرہ نے فورا جواب دیا.
کوئی نہیں میں کب غصہ ہونے لگی.محرما صاف مکر گئی.
توبہ توبہ صاف جھوٹ بول رہی ہو.میرا بھائی بچارا تمہارے غصے کے آگے کچھ کہہ بھی نہیں پاتا.ابیرہ نے چھیڑنے والے انداز میں کہا.
اور یہ سب تمہیں یقینا اس مہرام شاہ نے بتایا ہوگا.محرما نے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے گھورا.
اندر آتا مہرام اپنے نام پہ ٹھٹھکا.
آئیے بھائی آپکو ہی یاد کیا جارہا تھا ابیرہ اسے بٹھا کر مہرام کو کچھ بولنے کا موقعہ دیئے بغیر اتنی پھرتی سے غائب ہوئی جیسے بیل کے سر سے سینگ.
مہرام کے آنے پر محرما سر جھکا کر رہ گئی دل تھا کہ قابو سے باہر ہوچکا تھا.
مہرام اسے متغیر چہرے کو دیکھ رہا تھا.اسکی سرد مہری مہرام کے دل میں اک کسک سی ابھار گئی ..وہ کل والی جھڑپ سے اب تک نہیں نکلا تھا شاویز کو بغیر پوچھے انوائیٹ کرنا اسکی جلن ابھارگیا تھا.
شاویز کے ساتھ ہنستی مسکراتی محرما اسے بہت بری لگی تھی.
کچھ الفاظ ترتیب نہ پاسکے تو اسنے ابیا کے بارے میں پوچھ لیا.
جو ٹانگے زور زور سے ہلائے محرما کو اس سے باتیں کرنے کا کہہ رہی تھی.ابیا کو بھوک لگی ہے شاید میں ابیرہ کو بلاتا ہوں وہ بولتا ہوا چلاگیا.
بیوی کو بندہ گڈ مورننگ ہی کرلے محرما منہ بگاڑ کے رہ گئی .تم نے کونسے اس سے اچھے مراسم بنا کر رکھے ہے.
کسی نے سرگوشی کی.
بھوک نہیں لگی ابیا کو .اسے تو باتیں چاہیے ہے.وہ اسے گود میں اٹھا کر بولی .کچھ ہی دیر میں ابیرہ جن کی طرح حاضر ہو گئی.
کچھ فائدہ نہیں ہوا ..
محرما اور مہرام کا چہرہ دیکھ کر اسنے دل میں کہا.
معلوم نہیں کس دنیا سے آئی ہے اپنے ہی شوہر سے بات کرنے میں سانپ سونگھ جاتا ہے
……..
وہ دونوں کو چھوڑنے ائیر پوڑٹ تک مہرام جارہا تھا.
محرما تیار ہوکر باہر آئی ..
محرما تم نہیں چلوگی ہمیں چھوڑنے .ابیرہ اسے پوچھنے لگی.
مہرام نے نظر اٹھاکر اسے دیکھا.
یہ نہیں آئے گی ..میرے ساتھ .آخری دو لفظ دل میں کہے گئے.
یہ کہاں میری گھٹیا کار میں بیٹھے گی اسے پچھلا رویہ یادآیا..محرما نے اسے دیکھا جو اسے ساتھ لے جانا ہی نہیں چاہتا تھا اور الزام مجھ پہ..
ہنہہہ.
محرما نے غصے سے منہ پھیر لیا.
ابیرہ پلیز مجھے آنے کے لیے فورس کرو اسنے فوری دعا مانگی.
سب سامان رکھا جاچکا تھا مہرام ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ چکا تھا.
ابیرہ نے سب سے مل کر اسے سے بھی گلے ملی .اک لمبے عرصے کے لیے وہ دور جارہی تھی.ابیرہ نے ڈبڈباتی آنکھوں سے اسے دیکھا.
اپنوں سے دور رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے نہ.
محرما پلیز ہمارے ساتھ آجاؤ .
اتنے بڑے راستے میں تم سے بہت ساری باتیں ہوجائے گی.
میرا بس چلے تو تمہیں اپنے ساتھ اسلام آباد لے جاؤ اسنے چہکتے ہوئے کہا.
ایسا ظلم نہیں کرنا ورنہ مہرام کا کیا ہوگا واثق نے فقرہ چھوڑا جس پہ وہ بلش ہوکر نظریں جھکاگئی
ابیرہ نے محرما کے دل کی کہی سن لی تھی.
وہ بلا چو چرا دوسری طرف سے کار میں بیٹھ چکی تھی.
مہرام ہکا بکا اسکا چمکتا چہرہ دیکھنے لگا.
عالم صاحب اور مسز عالم کو ہاتھ ہلائے خدا حافظ کرنے لگی مہرام نے بیک ویو سے محرما کو دیکھا جو اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھی.

"مت پوچھو کیسے گزرتا ہے ہر پل تیرے بنا
کبھی بات کرنے کی حسرت کبھی دیکھنے کی تمنا ”

اک پل میں نظروں کا تصادم مہرام کو ہوش و خرد سے دیوانہ کرگیا.
……
ان دونوں ائیرپورٹ پہ چھوڑا .محرما اور ابیرہ خوب گلے ملی .ابیرہ کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور محرما کی بھی آنکھیں بھر آئی ناجانے اب کب ملاقات ہوگی.
ابیرہ بس بھی کرجاؤ .اتنا تو تم اپنی ودائی پر بھی نہیں روئی ہوگی .ہم سہیلیاں اتنے عرصے بعد ملی ہیں اور پھر واپس جدا ہورہی ہیں رونا تو آئےگا نہ. وہ واثق کو بتا کر ٹشو سے آنسو صاف کرنے لگی.
چلو اپنا بہت سارا خیال رکھنا اور ابیا کو بھی میری طرف سے پیار دینا.وہ.زبردستی مسکراتے انہیں الوداع کرنے لگی.
مہرام اسکی گیلی خشک آنکھوں کو دیکھتا ہی رہ گیا.
وہ واپس کار کی طرف آئے .مہرام نے کار کے پیچھے کا دروازہ اس کے لیے کھول کر کھڑا ہوگیا.اسے معلوم تھا وہ میرے ساتھ آگے نہیں بیٹھے گی.
محرما اسکے اگنور کرتی ہوئی آگے کا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی.
مہرام حیرت زدہ کچھ پل کے لیے وہیں ساکت کھڑا رہا پھر وہ اپنی جگہ آکر ڈرائیو کرنے لگا.
میرا مرر میں سے اسے دیکھنا اسے برا لگا ہوگا تبھی آگے بیٹھنے کو ترجیح دی.اسنے سوچا.
…….
شام کے سائے گہرے ہوچکے تھے.انکے گھر سے ائیر پورٹ کا رستہ لمبا تھا. مہرام نے اور زیادہ لمبا راستہ اختیار کیا تھا.
لمحل لمحہ جدائی بڑھنے لگی تھی .فون بجتے ہی مہرام نے سائیڈ پہ کار روک کر کال پک کی.
جی اچھا میں راستے میں ہوں ..
نہیں آپ گھر نہیں جائے میں آفس سے اٹھا لیتا ہوں .
ہاں صرف پانچ منٹ میں آرہا ہوں .اوکے.
شکریہ اللہ حافظ یہ کہہ کر اسنے سیل واپس رکھ دیا.
محرما جو ونڈو سے سے ٹکائے اسکی موجودگی کو محسوس کررہی تھی .اسکی نا سمجھ میں آنے والی گفتگو سننے لگی.
کچھ دیر بعد اسنے ایک جگہ کار روک دی.اجنبی راستے پہ روکنے پر محرما نے اسے دیکھا.
لیکن کچھ پوچھ نہ سکی.
مہرام اسکی پل پل کی سکنات کو نوٹ کرکے اپنی میموری میں فکس کررہا تھا .جس کے سہارے وہ اپنی پوری زندگی بِتائے گا.
تم یہی بیٹھی رہو میں ذرا ایک کام نمٹا کر آیا وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا.
محرما نے اسے دور تک جاتے دیکھا .پھر وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا.
کتنے ہی لمحے گزر گئے وہ اسکے انتظار میں بیٹھی رہی وہ آنکھیں موندھے سوچنے میں مگن تھی جب ونڈو پہ کھٹ کھٹ ہوا.
اچانک آواز سے اسنے فورا آنکھیں کھولی .کوئی فقیر اس سے بھیک مانگ رہا تھا .فقیر کا عجیب سا حلیہ دیکھ کر وہ خوف زدہ ہوئی اور فورا آدھا کھلا ونڈو پورا بند کردیا.
بابا معاف کرو …
اللہ کے لیے کچھ دے دیں اللہ تجھے سدا سکھی رکھے وہ طرح طرح دعائیں دینے لگا.
محرما کے پاس پرس ہی نہ تھا کہاں سے اسے پیسے دیتی.
بابا معاف کرو .میرے پاس سچی میں کچھ نہیں ہے ورنہ میں دے دیتی.وو اپنی ن
ہی چلا رہا تھا.
مہرام واپس آرہا تھا جب اسنے کسی فقیر کو اسکی کار میں جھکے دیکھا.پاس آنے پر دیکھا وہ محرما سے لڑرہا تھا.
مہرام نے پاکٹ سے نکال کر دو نوٹیں تھمائی جس پر وہ دعاؤں سے نوازنے لگا.
بابو تیری عورت بہت ضدی ہے کیسے سنبھالتا ہے تو… وہ محرما کے ساتھ ہونے والی جھڑپ سے نتیجہ اخذ کرکے پیشانی پہ بل ڈالتا بولا.
محرما نے غصے سے اسے دیکھا .اور پھر مہرام کی طرف نظر کی جو مسکراہٹ ڈبائے کھڑا تھا.
فقیر کے جاتے ہی وہ واپس آکر بیٹھا اور کار گھر کی طرف موڑدی .
اب راستہ جلدی سمٹ آیا تھا کچھ ہی وقت میں وہ گھر کے پاس کھڑے تھے.
وہ اترنے لگی جب مہرام.نے اسے براؤن لفافہ پکڑایا.محرما نے اسے حیرت سے دیکھا.جیے پوچھ رہی ہو اس میں کیا ہے.
مہرام نے اسکی آنکھوں میں چھپے سوال کا جواب دیا
یہ لو تمہارا مطالبہ.
طلاق کے پیپرز .مہرام نے بھرائی ہوئی آواز سے کہا.
دو آنسو پھسل کر اسکی ڈاڑھی میں جذب ہوگئے .محرما یہ الفاظ سن کر سناٹے میں آچکی تھی بولنے کے لیے لب وا کیے مگر آواز حلق میں ہی پھنس کر رہ گئی.
مہرام نے اپنی متاع حیات کو آزاد کرنے کا عندیہ اسے تھمادیا تھا.وہ مزید نکتے آنسو کو ضبط کیے بیٹھا تھا.دل تھا کہ چیخ چیخ کے رونا چاہتا تھا.محرما پلکیں جھپکائے بنا اسے دیکھتی رہی. محبت کا اعتبار چکنا چور ہوچکا تھا.ملن سے پہلے جدائی اپنا پنجہ گار چکی تھی.
وہ اب سیدھا ہوکر بیٹھ گیا.مزید اسکی آنکھوں میں جھاکنا اسکی سانس کھینچ سکتا تھا.
وہ محرما کے اترنے کا انتظار کرنے لگا.
اسے خود پہ اسکی نظروں کی تپش محسوس ہوئی وہ پیپر تھامے اتر کے بھاگتے ہوئے اندر گئی .دونوں کی سمتیں الگ ہوچکی ہے.اسنے پیچھے مڑکر اس سنگ دل کو دیکھنا چاہا مگر پیچھے دیکھنا گویا اسے پتھر کا کردے گا.
"گو چل پڑی ہوں ، دل سے مگر چاہتی ہوں میں
وہ اٹھ کے مجھکو روک لے اور راستہ نہ دے”
دل نے کہا روک لیں مگر وہ جو چاہتی ہے وہ ہوگیا .اگر وہ ایسا نہیں چاہتی اپنے فیصلے سے ناخوش ہوتی تو مجھے ضرور سناتی .برا بھلا کہتی .پیپر میرے منہ پہ دے مارتی .لیکن یہ سب میری خام خیالی ہے.
وہ میری محبت میں کبھی گرفتار نہیں ہوسکتی .
کبھی بھی نہیں ….
اسنے کار انجان رستوں پہ موڑ دی.

کتنے عرصے سے پگھل رہا ہوں میں
میرے مولا میں ختم کیوں نہیں ہوتا.
دھندلائی آنکھوں سے سب دھندلا نظر آرہا تھا.

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/