منتخب نظمیں

مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے اب چھیڑو نہ تم …

مجھ میں وہ تابِ ضبطِ شکایت کہاں ہے اب
چھیڑو نہ تم کہ میرے بھی منہ میں زباں ہے اب

وہ دن گئے کہ حوصلۂ ضبطِ راز تھا
چہرے سے اپنے شورشِ پنہاں عیاں ہے اب

جس دل کو قیدِ ہستئ دنیا سے ننگ تھا
وہ دل اسیرِ حلقۂ زلفِ بتاں ہے اب

آنے لگا جب اُس کی تمنا میں کچھ مزا
کہتے ہیں لوگ جان کا اس میں زیاں ہے اب

لغزش نہ ہو بلا ہے حسینوں کا التفات
اے دل سنبھل وہ دشمنِ دیں مہرباں ہے اب

اک جرعۂ شراب نے سب کچھ بھلا دیا
ہم ہیں اور آستانۂ پیرِ مغاں ہے اب

ہے وقتِ نزع اور وہ آیا نہیں ہنوز
ہاں جذبِ دل مدد کہ دمِ امتحاں ہے اب

ہے دل غمِ جہاں سے سبکدوش ان دنوں
سر پڑتا سوجھتا کوئی بارِ گراں ہے اب

حالیؔ تم اور ملازمتِ پیرِ مے فروش
وہ علمِ دیں کدھر ہے وہ تقویٰ کہاں ہے اب

(مولانا الطاف حسین حالیؔ)

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/