مختصر کہانیاں

#hamidnaved حاصل از عمیرہ احمد قسط نمبر 6 _______…

#hamidnaved
حاصل از عمیرہ احمد
قسط نمبر 6
_____________

زرشی کی موت کے دوسرے دن اس نے ایک بار پھر ٹینا سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی- ایک بار پھر وو ناکام ہو گیا تھا-

"میں نے انہیں آپ کے بارے میں بتا دیا تھا، وہ آپ سے خود ہی رابطہ کر لیں گی-”

"کب؟”

"یہ انہوں نے نہیں بتایا-” فون رکھ دیا گیا تھا-

حدید کو اس وقت کسی کی ضرورت تھی تو ٹینا کی ضرورت تھی- وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا- وہ اس کے ساتھ اپنی تکلیف شیئر کرنا چاہتا تھا- وہ اسکے سامنے رونا چاہتا تھا تا کہ وہ اسے دلاسا دے، اسے چپ کروائے جس طرح وہ ہمیشہ کیا کرتی تھی- وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اب اسے کیا کرنا چاہیے- کیا اسے پاکستان میں رہنا چاہیے یا پھر واپس انگلینڈ چلے جانا چاہیے-

کورٹ جائیداد کے بارے میں فیصلہ کر چکا تھا- جائیداد کا ایک بڑا حصہ بلال علی کی دوسری بیوی کے پاس چلا گیا تھا- فیکٹری کے کچھ شیئرز، گھر اور بینک اکاؤنٹس حدید کے حصے میں آئے تھے- اس نے وہ شیئر بھی بلال علی کی بیوی کو ہی بیچ دیے تھے- زرشی کا بوتیک اور ورکشاپ بھی وہ بیچ چکا تھا-

اب وہ ٹینا سے پوچھنا چاہتا تھا کہ اسے آگے کیا کرنا چاہیے- وہ اس سے اپنی اور اس کی شادی کے بارے میں بھی بات کرنا چاہتا تھا- وہ سارے رشتے کھونے کے بعد ایک بار پھر سے نئے رشتے قائم کرنا چاہتا تھا اور ٹینا…. ٹینا جیسے گم ہو گئی تھی-

"اس نے میرا بہت انتظار کیا ہے- مجھے بھی اس کا انتظار کرنا چاہیے، وہ کبھی نہ کبھی تو واپس آئے گی-” اس نے دل میں فیصلہ کیا تھا-

اس دن وہ لبرٹی کے سامنے سے گزر رہا تھا جب بے اختیار اس نے گاڑی کو بریکیں لگا دی تھیں- اس نے ٹینا کو ایک دوسرے لڑکے کے ساتھ ایک دکان میں داخل ہوتے دیکھا تھا- اس کا دل جیسے خوشی سے اچھل کر حلق میں آ گیا تھا-

"تو وہ واپس آ گئی ہے-”

وہ بھاگ کر اس دکان میں جانا چاہتا تھا مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ گاڑی میں ہی بیٹھا رہا-

پندرہ منٹ کے بعد اس نے ٹینا کو اسی لڑکے کے ساتھ دکان سے نکلتے دیکھا تھا- دکان سے نکلنے کے بعد وہ پارکنگ میں کھڑی اپنی کار کی طرف گئی تھی- ٹینا کی گاڑی چند لمحوں کے بعد ایک فراٹے سے حدید کے پاس سے گزر گئی تھی- حدید تیز رفتاری سے گاڑی چلاتے ہوئے اپنے گھر چلا گیا تھا- آج ٹینا کو دیکھ کر وہ بہت عرصے کے بعد اتنا خوش ہوا تھا-

اس نے گھر پہنچتے ہی ٹینا کو کال کیا تھا- ایک بار پھر فون پر وہی آواز سنائی دی تھی- حدید نے اپنا تعارف کروایا تھا-

"دیکھیں، میں نے آپ کو بتایا ہے ناکہ وہ ملک میں نہیں ہے- باہر گئی ہوئی ہیں- جب واپس آئیں گی تو آپ سے رابطہ کر لیں گی-”
حدید کو جیسے کرنٹ لگا تھا-

"آپ کیا کہہ رہی ہیں، میں نے ابھی چند منٹوں پہلے ٹینا کو لبرٹی میں دیکھا ہے-” اس نے بے یقینی کے عالم میں کہا تھا-

دوسری طرف یک دم خاموشی چھا گئی تھی- چند لمحوں بعد آواز دوبارہ آئی تھی-
"آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے- ٹینا یہاں…….”

حدید نے تیزی سے بات کاٹ دی تھی- "مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی- میں نے ٹینا کو ہی دیکھا ہے- میں اس کی گاڑی کا نمبر تک جانتا ہوں- کیا مجھے اس کے بارے میں بھی غلط فہمی ہوئی ہے، آپ آخر مجھ سے جھوٹ کیوں بول رہی ہیں-”

"آپ صاف صاف سننا چاہتے ہیں تو سن لیجئے- ٹینا آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی-”
حدید کے سر پر جیسے آسمان گر پڑا تھا-

"میں ٹینا کے کہنے پر ہی آپ سے جھوٹ بولتی رہی ہوں-”
حدید کچھ بول نہیں سکا-

"پلیز، آپ ایک بار اس سے میری بات کروا دیں-”

"وہ آپ سے بات کرنا نہیں چاہتی-”

"اس سے کہیں کہ وہ یہ بات خود فون پر مجھ سے کہہ دے-”

فون بند کر دیا گیا تھا- وہ پاگلوں کی طرح بار بار ٹینا کو کال کرتا رہا- دوسری طرف سے بلآخر کسی نے ریسیور اٹھا کر رکھ دیا تھا- وہ کچھ سوچے سمجھے بغیر ٹینا کے گھر پہنچ گیا تھا- لیکن گیٹ کیپر نے اسے اندر نہیں جانے دیا تھا-

"ٹینا بی بی کسی سے ملنا نہیں چاہتی- آپ یہاں سے جاؤ ورنہ ہم پولیس کو بلوا لے گا-”
اس نے انٹر کام پر بات کرتے ہوئے حدید سے کہا تھا- وہ شاک کے عالم میں وہاں سے آیا تھا-

گھر آنے کے بعد وہ کچھ دیر بعد فون کرنے لگا تھا- ہر بار اس کی آواز سنتے ہی فون رکھ دیا جاتا- وہ باز نہیں آیا تھا-

رات کے نو بجے بلآخر ٹینا کی آواز اسے فون پر سنائی دی تھی- وہ شدید غصے میں تھی-

"تم بار بار مجھے تنگ کیوں کر رہے ہو- تم جانتے ہو کہ میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتی-”

"لیکن کیوں ٹینا؟ آخر میں نے کیا کیا ہے؟”

"بس میں تم سے بات کرنا نہیں چاہتی- تم میرا پیچھا چھوڑ دو-”

"ٹینا! تم نے مجھ سے شادی…..”

"حدید! یہ فضول باتیں چھوڑو- میں اپنی زندگی کا ساتھی چن چکی ہوں اور وہ تم سے بہت بہتر ہے- تم بھی اپنے لئے کسی اور لڑکی کو ڈھونڈ لو-” اس کا سانس رک گیا تھا-

"تم کیا کہہ رہی ہو؟”

"وہی کہہ رہی ہوں جو تم سن رہے ہو- آئندہ مجھے فون مت کرنا-”

"ٹینا پلیز، پلیز ایک بار مجھ سے مل لو- آئی سویئر میں دوبارہ تمہیں تنگ نہیں کروں گا- بس ایک بار میری بات سن لو- اگر پھر بھی تم مجھے چھوڑنے کے فیصلے پر قائم رہیں تو میں دوبارہ کبھی تمھارے راستے میں نہیں آؤں گا-”

دوسری طرف خاموشی چھائی رہی تھی- چند لمحوں بعد ٹینا نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا-

"ٹھیک ہے کل ماڈل ٹاؤن پارک میں مجھ سے مل لو-”

فون بند ہو گیا تھا- وہ بہت دیر تک ریسیور ہاتھ میں لئے بیٹھا رہا- "میں اس سے بات کروں گا، وہ مجھ سے محبت کرتی ہے- وہ میری بات سمجھ جائے گی- میں اس کی ہر غلط فہمی دور کر دوں گا- میں اسے یاد دلاؤں گا اس کے سارے وعدے، وہ مجھے کیسے چھوڑ سکتی ہے-” وہ بہت دیر تک بے چینی کے عالم میں لاؤنج میں چکر لگاتا رہا تھا-

"آخر مجھ سے ایسی کون سی غلطی ہوئی جس نے اسے ناراض کر دیا- میں نے تو کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسے ناراض کر دے- میں پھر بھی اس سے ایکسکیوز کر لوں گا- ہو سکتا ہے، انجانے میں میری کوئی بات اسے بری لگی ہو-” وہ خود کو دلاسہ دینے لگا تھا-

"مگر اگر اس نے میری کوئی بات نہ سنی، اگر اس نے اپنا فیصلہ نہ بدلہ، اگر اس نے مجھے چھوڑ……”

وہ آگے کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا- اس کی بے قراری بڑھتی جا رہی تھی- مجھے کیا کرنا چاہیے جس سے ٹینا کی خفگی ختم ہو جائے، وہ اپنا فیصلہ تبدیل کر دے- میری کون سی بات اس کا دل بدل سکتی ہے-” وہ لاؤنج میں چکر کاٹتا رہا تھا-

"دل تو صرف الله پھیر سکتا ہے-”

وہ نہیں جانتا، اس کے دل میں یہ بات کیسے آئی تھی، مگر وہ رک گیا تھا-

کیا پھر ایک بار خدا کے سامنے-” اس نے سوچا تھا- پاؤں میں پہنے ہوئے شوز اس نے اتار دیے تھے-

"مگر خدا تو….” وہ سوچ رہا تھا-

"کیا پھر مجھے خدا سے….” وہ جرابیں اتارنے لگا تھا-

"اور اگر اس نے….” نہ محسوس طور پر اس نے شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک فولڈ کر لی تھے- "میں بار بار کیوں….”

وہ اب جینز کو ٹخنوں تک فولڈ کرنے لگا تھا- واش روم کے بیسن کے سامنے کھڑے ہو کر اس نے آخری بار سوچنے کی کوشش کی تھی-

"کیا اس بار مجھے خدا سے….” وہ نل کو گھمانے لگا تھا-

"کیا اب مجھے خدا سے کچھ مانگنا چاہیے یا نہیں-”
نل سے پانی نکلنے لگا تھا- اس نے خود کو وضو کرتے پایا تھا-

"میں زندگی میں پہلی بار نہیں مگر آخری بار تجھ سے کچھ مانگ رہا ہوں- اگر آج بھی میری دعا قبول نہ ہوئی تو پھر دوبارہ میں کبھی ایک مسلم کے طور پر یہاں اس طرح بیٹھ کر تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا- ٹینا! میری زندگی کی آخری اچھی چیز ہے، اگر وہ بھی مجھ سے چھن گئی تو میں سب کچھ چھوڑ دوں گا- سب کچھ- اپنا مذہب، اپنا عقیدہ، اپنے پیغمبر سب کچھ، میں دوبارہ کبھی تیرا نام تک نہیں لوں گا- پچھلے انیس سالوں میں نے جو پایا، اس ایک سال میں سب کھو دیا- اب ایک آخری چیز، ایک آخری چیز میرے پاس ہے، اسے میرے پاس رہنے دے-”
وہ سجدے میں گر کر روتا رہا تھا-

"اگر میرے ساتھ یہ سب کچھ میری کسی غلطی کی وجہ سے ہو رہا ہے تو مجھے معاف کر دے- مجھے اور سزا مت دے، مجھے وہ بخش دے جو میں چاہتا ہوں، مجھے زندگی میں اور مت بھٹکا- مجھے سکون دے دے، مجھے سہارا دے دے- تو تو کسی کو سزا نہیں دیتا پھر مجھے کیوں؟ میں نے تو زندگی میں کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی، میں تو ساری عمر دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کرتا رہا ہوں- میں تو ساری عمر اپنے ساتھ زیادتیاں کرنے والوں کو معاف کرتا رہا ہوں- میں نے تو کبھی کسی زیادتی کا بدلہ نہیں لیا- پھر تو میرے لئے آسانیاں پیدا کیوں نہیں کرتا، میں نے اپنے ماں باپ پر اس حد تک احسان کیا ہے جس حد تک مجھ سے ہو سکتا تھا- میں نے ان دونوں سے کبھی شکوہ نہیں کیا- ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والوں کے لئے تو اجر ہوتا ہے عذاب نہیں- اے خدا تو مجھ سے کیوں ناراض ہے میرا کون سا عمل تیری ناراضی دور کر سکتا ہے کہ تو مجھ سے خوش ہو جائے اور پھر میری زندگی کی مشکلات ختم کر دے- مجھے سکون دے دے-

بہت دیر تک رونے کے بعد اُسے جیسے عجیب سا سکون مل گیا تھا- یک دم خود بخود ہی جیسے اسکے آنسو تھم گئے تھے- اس نے زندگی میں کبھی خود کو اتنا ہلکا پھلکا محسوس نہیں کیا تھا- ایک عجیب سی ٹھنڈک اس کے اعصاب میں اترتی جا رہی تھی- اس وقت اسے کچھ بھی یاد نہیں رہا تھا- ذہن بالکل خالی ہو چکا تھا- چند لمحوں کے بعد اس نے خود پر نیند کا غلبہ محسوس کیا تھا- اس نے اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنے کی کوشش کی تھی- مگر وہ ایسا نہیں کر پایا تھا- وہ ٹینا کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا مگر وہ کچھ سوچ نہیں پا رہا تھا- نیند کی گرفت میں آنے سے پہلے اسے آخری خیال آیا تھا-

"شاید خدا نے بلآخر میری دعا قبول کر لی ہے-”
وہ سو چکا تھا-

اگلی صبح وہ بہت پرسکون تھا- عجیب بات یہ تھی کہ وہ پر سکون ہی نہیں غیر معمولی طور پر خوش بھی تھا- اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ وہ کتنے عرصے کے بعد ٹینا سے مل رہا تھا- اس نے ذہن میں وہ سب کچھ دہرایا تھا جو اسے ٹینا سے کہنا تھا- اس کے بتائے ہوئے وقت پر وہ پارک میں پہنچ گیا تھا- حدید بہت دیر تک اس کے چہرے سے نظر نہیں ہٹا سکا- وہ اسے لے کر ایک بینچ پر آ کر بیٹھ گئی تھی-

"میں آج تم سے سب کچھ صاف صاف کہنے آئی ہوں، مجھے زندگی میں کبھی بھی تم سے محبت نہیں رہی- تمہارا میرا تعلق نوجوانی کی بہت سی دلچسپیوں میں سے ایک تھا یا تم یہ کہہ لو کہ تم میرے دوست رہے تھے- مگر تم کبھی بھی میرے واحد دوست نہیں رہے- تم نے جب مجھے پرپوز کیا، اس وقت پہلی بار میں نے سنجیدگی سے تمھارے بارے میں سوچا مگر تب بھی تم سے محبت نہیں ہوئی- میں نے سوچا تم اگر اپنا کیریئر بنا لیتے ہو تو زندگی گزارنے کے لئے ایک اچھے ساتھی ثابت ہو سکتے ہو- تم ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتے تھے- تمھارے پاس اچھی خاصی دولت تھی- ہینڈسم تھے اور ہماری کلاس کے لڑکوں کے برعکس بہت سلجھے ہوئے تھے- تم فلرٹ نہیں تھے- مگر تب تم نے حماقتیں کرنی شروع کر دیں- اپنی ممی کے زخمی ہونے پر تم نے پاکستان شفٹ ہونے کا فیصلہ کر لیا- تم باہر کی بجائے یہاں پڑھنا چاہتے تھے- میں نے سوچا، میں تمہیں سمجھا لوں گی- تم وقتی طور پر ایموشنل ہو رہے ہو، بعد میں ٹھیک ہو جاؤ گے- مگر ایسا نہیں تھا-

پھر تمھارے پاپا والا حادثہ ہو گیا- تمھارے ممی پر اس معاملے میں انوالو ہونے کے الزامات لگنے لگے- اخبارات میں تمھارے پاپا کی دوسری بیوی کے بیان آنے لگے- جائیداد پر کیے جانے والے جھگڑوں کی تفصیلات اخباروں میں چھپنے لگیں- تمہاری ممی کے مختلف لوگوں کے ساتھ اسکینڈلز کی تفصیلات سامنے آ گئیں- پہلے جنھیں صرف اسکینڈل سمجھا جاتا تھا، اب ان کے ثبوت بھی ملنے لگے- پھر تمہاری ممی نے اقبال جرم کر لیا- تمہاری جائیداد تمھارے خاندان میں بٹ گئی- تمہاری ممی نے خودکشی کر لی- حدید! میرے لئے شاید یہ سب کچھ نظر انداز کرنا بہت آسان ہوتا اگر مجھے تم سے محبت ہوتی مگر ایسا نہیں تھا- میری فیملی کسی بھی صورت میں مجھے تمھارے ساتھ شادی کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی- خود میں بھی ایک ایسے شخص سے شادی نہیں کر سکتی جس کے پاس ماں باپ کے چھوڑے ہوئے چند بینک اکاؤنٹس کے علاوہ کچھ نہ ہو-

میری فیملی اس شہر کی چند نامی گرامی فیملیز میں سے ایک ہے- کیا وہ ایک ایسے خاندان کے ساتھ رشتہ جوڑنا پسند کریں گی، جو خاندان صرف اپنے اسکینڈلز کی وجہ سے مشہور ہو، کیا کوئی بھی پیرنٹس اپنی بیٹی کی شادی ایسے لڑکے سے کریں گے جس کی ماں نے اپنے شوہر کو قتل کر دیا ہو اور پھر خودکشی کر لی ہو- جس کے افیئرز کی داستانیں اخباروں میں چھپتی رہی ہوں- جس کے باپ نے اپنے سے بیس سال چھوٹی لڑکی سے شادی کر کے ساری جائیداد اس کے نام لکھ دی ہو- تم مجھ سے ایک سال چھوٹے ہو- تم نہیں جانتے، تمہیں زندگی میں کیا کرنا ہے- تمہاری تعلیم مکمل نہیں ہے- تمہارا کوئی بزنس نہیں ہے- تمھارے پاس خاندان کی اچھی شہرت بھی نہیں ہے- ذہنی طور پر تم فرسٹریشن کا شکار ہو- کیا گارنٹی ہے کہ کل تم وہی سب کچھ نہیں کرو گے جو تمھارے ماں باپ نے کیا، کیا گارنٹی ہے کہ تم زندگی میں ایک اچھے شوہر ثابت ہو گے؟ کیا گارنٹی ہے کہ تم مجھے وہ سب کچھ دے سکو گے جس کی مجھے خواہش ہے- میرے ماں باپ نے مجھے جتنی آسائشات دی ہیں، میں چاہتی ہوں میرا شوہر مجھے اس سے زیادہ آسائشات دے مگر تمہارے پاس کیا ہے، اسٹیبلش ہوتے ہوتے تمہیں بہت سال لگ جائیں گے اور میں اتنا لمبا انتظار نہیں کر سکتی-

تم خود کو میری جگہ رکھ کر سوچو، کیا تم ان سب چیزوں کو اگنور کر سکتے تھے اگر تمہیں دوسرے فریق سے محبت ہوتی مگر میرا پرابلم یہ ہے کہ مجھے تو تم سے محبت بھی نہیں تھی- اس لئے میں نے تمہیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا- میرے پرنٹس میری انگیجمنٹ کر چکے ہیں، اسی مہینے کے آخر میں میری شادی ہے- میرا فیانسی آئی اسپیشلسٹ ہے- تم چاہو تو ایک اچھے دوست کی طرح شادی میں شرکت کر سکتے ہو ورنہ خدا حافظ- امید ہے، آج کے بعد تم اپنے وعدے کے مطابق دوبارہ کبھی مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کرو گے-”

وہ اٹھ کر چلی گئی تھی- حدید نے اسے بھی جاتے دیکھا تھا ہمیشہ کے لئے، اس نے تب تک اس پر نظریں جمائے رکھی تھیں جب تک وہ نظر آتی رہی تھی پھر وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی تھی- اس نے پنے چہرے کو ہاتھوں سے ڈھانپ لیا تھا- ٹینا کے لفظ کوڑے بن کر اس کے ذہن اور جسم پر برس رہے تھے-

"تمہارا باپ، تمہاری ماں، تمہارا خاندان……..”

وہ حیران تھا کہ وہ خود اپنے لباس پر لگے ہوئے یہ سارے داغ کیسے بھول گیا تھا- "انیس سال ایک بے داغ زندگی گزارنے کے بعد بھی میں اس ایک لڑکی کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہوں- جس سے میں محبت کرتا تھا- وہ بھی مجھے اس چشمے سے دیکھ رہی ہے جس سے دنیا دیکھتی ہے- با عزت ہونے کے لئے آپ کا باکردار ہونا ضروری نہیں ہے- آپ کے ماں باپ کا کردار اور دولت مند ہونا ضروری ہے- محبت کرنے کے لئے آپ کا ایثار، قربانی، صبر اور برداشت ضروری نہیں، آپ کی ڈگری اور کیریئر ضروری ہے- خدا کے نزدیک سب سے اچھا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے مگر خود خدا اس تقویٰ والے کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اور اب یہاں سے مجھے حدید بن کر واپس نہیں جانا مجھے اب کچھ اور بن کر کہیں اور جانا ہے- اگر میرے مذہب کا خدا مجھے ٹھکرا رہا ہے تو میں کسی اور مذہب کے خدا کو ڈھونڈ لوں گا ایسے خدا کو جو میری بات سنتا ہو- جس کے پیغمبر کے لئے میرے آنسو، آنسو ہوں پانی نہیں- جس کے لئے میں انسان ہو، کیڑا نہیں- سکون مذہب بدلنے میں ہے تو میں مذہب بدل لوں گا-

اس نے غم و غصے کے عالم میں اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹا لیے تھے- اپنے سے کچھ فاصلے پر پارک کی روش پر اس نے لبادہ میں ملبوس ننز کا ایک گروپ دیکھا تھا- وہ جان گیا تھا اسے کیا کرنا تھا- بے اختیار وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان لوگوں کی طرف بڑھ گیا تھا-

وہ خاموش ہو گیا تھا- اس نے حدید کے چہرے سے نظریں ہٹا لیں- دھند بہت گہری ہو گئی تھی- کیتھڈرل کے اوپر لگا ہوا جگمگاتا ہوا ہولی کراس اب نظر نہیں آ رہا تھا- دھند نے اسے نظروں سے اوجھل کر دیا تھا- اس نے اسے ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی تھی- چرچ میں اب بہت خاموشی تھی- پہلے والا شور بہت کم ہو چکا تھا- سروس بہت دیر کی ختم ہو چکی تھی اور اب دور پارکنگ سے گاڑیاں نکالنے کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دے رہی تھیں-

وہ دونوں چپ چاپ بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے- دونوں سوچ رہے تھے ایک ماضی کے بارے میں، دوسرا مستقبل کے بارے میں اور حال…… حال سے دونوں بے خبر نظر آ رہے تھے-

"مجھے نہیں پتا محبت کیا ہوتی ہے اسے کس طرح ڈیفائن کرتے ہیں، کس طرح وضاحت کرتے ہیں- میں یہ سب نہیں جانتا لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ میں نے خدا سے بہت محبت کی ہے- اتنی محبت جتنی میں کر سکتا تھا-”

کرسٹینا نے ایک طویل خاموشی کے بعد اپنے بائیں جانب اس کو بولتے سنا تھا- گردن موڑ کر اس نے حدید کا چہرہ دیکھا تھا- وہ کیتھڈرل کے اوپر لگے ہوئے کراس کو دھند میں تلاش کرنے کو کوشش کر رہا تھا-

"لیکن میرے پیرنٹس کی طرح خدا کے پاس بھی میرے لئے وقت نہیں ہے- میں نے جب بھی اس سے دعا کی ہے مجھے کچھ نہیں ملا- پچھلے اٹھارہ انیس سال میں نے ایک جہنم میں گزارے ہیں- ہر دن میں خدا سے دعا کرتا تھا- اس سے درخواست کرتا تھا کہ وہ ہمارے گھر کو ٹھیک کر دے، سب لوگوں کے گھروں کی طرح میرے پیرنٹس ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہنا سیکھ لیں- میرے لئے ان کے پاس کچھ وقت بچ جائے- مگر کچھ بھی نہیں ہوا، مجھے کچھ نہیں ملا، جب ممی اور پاپا کی ڈائی ورس ہونے والی تھی تو میں نے خدا سے دعا کی تھی کہ ایسا نہ ہو وہ کبھی الگ نہ ہوں مگر ڈائی ورس ہو گئی- جب پاپا پر حملہ ہوا تب میں نے دل سے خدا کو پکارا تھا- کہا تھا کہ پلیز میرے پاپا کو بچا لو، میری دعا قبول نہیں ہوئی- میں نے دعا کی تھی کہ ممی کو سزا سے بچا لو، انھیں کچھ نہ ہو- وہ میرے پاس آخری رشتہ تھیں، مجھے ان سے محبت تھی مگر کچھ نہیں ہوا- میری کوئی دعا ان کے کام نہیں آئی- ممی کو سزا ہو گئی اور پھر ان کی ڈیتھ ہو گئی اور پھر میں نے ایک فقیر کی طرح خدا سے کہا تھا کہ وہ ٹینا کو مجھ سے جدا نہ کرے، اسے تو میرے ساتھ رہنے دے مگر……. مگر خدا نے میرے ساتھ کیا کیا- مجھ سے آخری چیز بھی چھین لی- جب میں امریکہ میں تھا تو وہاں میں نے ان لوگوں کو ہر بات پر یسوع کہتے سنا تھا- وہ اپنے پرافٹ کا نام لیتے تھے میرے سارے فرینڈز میں کوشش کرتا تھا اتنی ہی عقیدت سے اپنے پرافٹ کا نام لوں- ان سے مدد مانگوں انہیں بتاؤں کہ الله میرے ساتھ کیا کر رہا ہے اگر یسوع خدا سے اس فیصلے کو تبدیل کروا سکتے تھے تو پھر میرے پرافٹ کیوں نہیں- یسوع مسیح مردوں کو زندہ کر دیتے تھے، مٹی کے پرندوں میں جان ڈال دیتے تھے، بیماروں کو ٹھیک کر دیتے تھے- وہ ایک دو نہیں لوگوں کے بہت سے معجزے کیا کرتے تھے- میں نے سوچا میرے پرافٹ میرے لئے یہ سب کیوں نہیں کرتے جبکہ میں ان سےمحبت کرتا ہوں- سب کچھ ان ہی کے بتائے طریقے سے مانگ رہا ہوں- پھر بھی ان کے نزدیک میں کچھ بھی نہیں ہوں، میری کوئی اہمیت نہیں ہے- کوئی آخر کتنی بات ٹھکرایا جائے اور یقین کرو مجھے واقعی ہر بار لیٹ ڈاؤن کیا گیا ہے- ہر بار مجھے مایوس کیا گیا ہے- کوئی بھی شخص اپنے مذہب کو معمولی بتاؤں پر تو نہیں چھوڑتا کچھ نہ کچھ تو ایسا ضرور ہوتا ہے جو آپ کو کہیں اندر سے ہرٹ کرتا ہے اور میں…… میں اندر سے ہرٹ ہوا ہوں ایک بار نہیں کئی بار- میرا ہاتھ اتنی بات جھٹکا گیا ہے کہ اب میں نے ہاتھ بڑھانا ہی چھوڑ دیا ہے- مذہب مشکل وقت میں آپ کا سہارا ہوتا ہے اور اگر یہ مشکل وقت میں بھی سہارا نہیں بن سکتا تو پھر ایسے مذہب کا کیا فائدہ- پھر میں خدا کے بنائے ہوئے دو مذاہب میں سے ایک کا انتخاب کر رہا ہوں- کوئی غلط کام تو نہیں کر رہا- بس ایک مذہب چھوڑ رہا ہوں الله کو تو نہیں چھوڑ رہا- تم بتاؤ کیا میں غلط کر رہا ہوں-”

وہ اب اس سے سوال کر رہا تھا- وہ بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی تھی-

"اگر میں کہوں ہاں تو؟”
حدید نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا- شاید وہ اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا-

"میں تمھارے بارے میں کچھ نہیں جانتا- مجھے نہیں پتا، تم کیسی زندگی گزار رہی ہو- مجھے یہ بھی پتا نہیں کہ تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے یا نہیں- مگر میں نے اپنی ساری زندگی دوزخ میں گزاری ہے، ایسے دوزخ میں جس میں مجھے میری کسی غلطی کی سزا کے طور پر نہیں ڈالا گیا تھا- جب آپ دوزخ میں ہوں تو پتا ہے زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہوتی ہے، صرف ایک ہلکی سی معمولی سی ٹھنڈک کی تاکہ دوزخ کی گرمی کچھ تو کم ہو جائے- ٹینا میرے لیے وہی ٹھنڈک تھی- میں نے زندگی میں اس سے بڑھ کر کسی کو نہیں چاہا بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے کہ میں نے زندگی میں اس کے علاوہ کسی کو چاہا ہی نہیں- میں نے خدا سے کہا تھا، میں نے ہر چیز کھو دی ہے مجھے پرواہ نہیں ہے لیکن اگر ٹینا میری زندگی سے نکل گئی تو پھر سب کچھ بدل جائے گا- ہر چیز ختم ہو جائے گی- میرا یقین، میرا پرافٹ، میرا مذہب میں سب کچھ چھوڑ دوں گا اور میں نے خدا سے ریکویسٹ کی تھی کہ وہ ایسا کبھی نہ کرے لیکن اس نے کیا- اس نے مجھے دکھا دیا کہ اسے میری پرواہ نہیں- اس نے مجھے بتا دیا کہ اس کے نزدیک میری ویلیو ایک چیونٹی جتنی بھی نہیں ہے- تم مجھے بتاؤ، میری جگہ اگر تم ہو تو تم کیا کرو گی- میں یہاں سے جس گھر میں واپس جاؤں گا وہاں نہ پیرنٹس ہیں نہ بہن بھائی، وہاں صرف دیواریں ہیں اور دیواروں سے تو آپ کو محبت نہیں مل سکتی- دنیا میں کوئی ایک شخص نہیں ہے جس کو مجھ سے محبت ہو جس کے لئے میرا وجود کوئی معانی رکھتا ہو، جو میری پرواہ کرتا ہو، دنیا میں کتنے بلین لوگ ہیں ان میں سے ایک کو بھی حدید نام کے اس شخص کی ضرورت نہیں ہے-

تم کبھی اندازہ لگا سکتی ہو جب میں لوگوں کا ہجوم ہر جگہ دیکھتا ہوں تو میرا دل کیا چاہتا ہے، میرا دل چاہتا ہے ان میں سے کوئی میرا نام پکارے- کسی کے چہرے پر مجھے دیکھ کر مسکراہٹ آ جائے- مگر مجھے کوئی جانتا ہے نہ پہچانتا ہے- محبت تو بہت دور کی بات ہے- میں چرچ جانا شروع نہ کرتا تو میں پاگل ہو جاتا یا خودکشی کر لیتا- میں زندگی سے اس حد تک تنگ آ چکا ہوں مجھے نہیں پتا الله نے دنیا کس کے لئے بنائی ہے مگر کم از کم میرے جیسے انسان کے لئے تو نہیں بنائی-”
اس کی آواز بھرا گئی تھی-

"جو بات میں تمہیں اب بتاؤں گی، شاید تمہیں اس پر کبھی یقین نہیں آئے گا- تم سوچو گے، میں جھوٹ بول رہی ہوں، شاید تم قہقہہ لگا کر ہنس پڑو لیکن پھر بھی مجھے تم سے یہ بات تو کہنا ہی ہے-”

حدید نے حیرانی کے ساتھ اسے دیکھا تھا- وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی بھیگی پلکوں اور پر سکون چہرے کے ساتھ-

"کیا تم کو یقین آئے گا کہ میں تمہاری محبت میں نہیں تمہارے عشق میں گرفتار ہوں-”
اس کے جملے پر وہ ساکت رہ گیا تھا-

"اور یہ عشق اس روز پارک میں تمہیں دیکھنے پر ہوا تھا- میں نے تمہیں، پہلی نظر تمہیں دیکھا تھا اور میں جان گئی تھی کہ میں اسیر ہو چکی ہوں- تم نہیں جانتے یہ بات تم سے کہنے کے لئے میں نے تمہیں اس دن کتنا ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر تم نہیں ملے اور اس دن میں نے الله سے کہا تھا کہ اگر تم مجھے دوبارہ مل گئے تو میں اسلام قبول کر لوں گی کیونکہ تم مسلم تھے، اس دن تم نے سسٹر کو اپنا نام بتایا تھا نا؟”
وہ ایک لمحہ کے لئے خاموش ہوئی تھی- حدید کے چہرے پر بے انتہا بے یقینی تھی-

"تم خاموش کیوں ہو، بولو نا؟”

"کیا بولوں؟” وہ کچھ توقف کے بعد بولا تھا-

"کچھ کہو-” اس نے اصرار کیا تھا-

"کیا کہوں؟”

"وہی-”

حدید حیران ہوا تھا- "کیا؟”

کرسٹینا مسکرائی تھی- "کہ مجھے تمہاری بات پر یقین نہیں آ رہا-”

حدید اسے خاموشی سے دیکھتا رہا- "ہاں مجھے یقین تو نہیں آ رہا-” چند لمحوں کے بعد اس نے کہا تھا-

"ہاں ٹھیک ہے….. اور کبھی یقین کرنا بھی مت، پتا ہے کیوں؟ تم یقین کرو گے، اعتبار کرو گے تو میرا عشق اور گہرا ہوتا جائے گا- تمہیں پتا ہے یقین محبت کو اندھا کر دیتا ہے اور میں کسی سے اندھی محبت نہیں کرنا چاہتی کم از کم کسی انسان سے تو نہیں- تم میری بات پر یقین نہیں کرو گے تو مجھے ٹھوکر لگے گی، ہر ٹھوکر مجھے سنبھلنے کا موقع دے گی- ایک بار نہیں دو بار نہیں مگر کبھی نہ کبھی تو میں سنبھل جاؤں گی-”
حدید کو پہلی بار وہ لڑکی عجیب لگی تھی بے حد عجیب-

"میں تمہیں….. میں تمہیں سمجھ نہیں پا رہا-”

وہ اس کی بات پر مسکرائی تھی- سمجھنا چاہتے ہو؟”

"ہاں-”

"ایک ڈیل کرتے ہیں، تم مجھے سمجھنے کی کوشش کرو- میں تمہیں سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں اور جب سمجھ لیں گے تو شاید میں کرسٹینا نہ رہوں مگر تم حدید ہی رہو گے- ایک ماہ تک ہم یہاں آئیں گے چرچ میں- تم اپنی بات کرنا، میں اپنی بات کروں گی- تم میرے بارے میں جو پوچھو گے میں بتا دوں گی اور میں تمھارے بارے میں جو جاننا چاہوں، وہ تم بتا دینا-” وہ حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا، وہ اسکے سامنے جیسے شطرنج کی بساط بچھا رہی تھی یا پھر کوئی جگسا پزل رکھ رہی تھی-
___________
جاری ہے

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/