منتخب نظمیں

مدتوں کا پروردہ ایک نقش تھا دل پر جس کو چند لمحوں …

مدتوں کا پروردہ
ایک نقش تھا دل پر
جس کو چند لمحوں نے
داستاں بنا ڈالا
رات بھر کوئی دل میں
کروٹین بدلتا تھا
اک چراغ بجھتا تھا
اک چراغ جلتا تھا
سبھی چہرے
اک دھوئں کے بادل میں
ڈوب ڈوب جاتے تھے
صرف ایک چھرا تھا
جو کبھی نہیں بکھرا
اور پھر وہ دن آیا
جب یہ جاگتی آنکھیں
اس کو دیکھ سکتی تھیں
اس کو دیکھ لینے پر
دل کی ایسی حالت تھی
جیسے کوئی پردیشی
دور کے سفر کے بعد
ایک سرد چشمے پر
ہاتھ پیر دھوتا ہے
لیکن اے غمے آخر
صرف ایک لمحے کو
زندگی نہیں کہتے
اے تلاش لا حاصل
مسکرا کے ملنے کو
دوستی نہیں کہتے
اے مرے تصور
بات ایک کھنی تھی
بات جس کے کہنے کو
میرے ہونٹ جلتے تھے
میرا دل سلگتا تھا
اب فقط یہ کہنا ہے
جو چراغ سینے کی آندھیوں میں جلتے تھے
وہ ذرا سی کوشش سے
جھلملا بھی سکتے ہیں
حوصلے کے آدمی
اپنے دل کے زخموں پر
مسکرا بھی سکتے تھے
بت بنانے والے ہاتھ
فیصلوں کے لمحوں میں
بت گرا بھی سکتے ہیں
.
مصطفیٰ زیدی

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/