کالم

سالار نامہ – ابوالکلام یا قائد اعظم

(شاہتاب خان عباسی)

تحریر کے ٹائٹل کو دیکھ کر میری طرح ڈر نہ جانا۔ یہ موضوع یا قضیہ اپنے اندر صدیوں کی تاریخ کو سموئے ہوئے ھے جس کا احاطہ میرا کمزور قلم کرنے سے نہ صرف قاصر ھے بلکہ نہ بلد بھی ھے۔ لیکن ھوا کیا ؟ ھوا یہ کہ ابھی ابھی ایک بہت عظیم پختون قلم کار کی تحریر نظر سے گزری۔صاحب تحریر نے باچا خان کی عظمت بیان کرنے کے فورا بعد مولانا آزاد کی پیشن گوئیاں بیان کی اور پس تحریر یہ ثابت کرنے کی کو شس بھی کی کہ دارصل باچا خان ،مولانا آزاد اور ان کے ہمنوا ہی درست تھے ۔ اس سارے بیانیے میں قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین بہت چھوٹے ،کم فہم اورموقع پرست نظر آئے جبکہ مولانا آذاد اور باچا خان عظمت کی بلندیوں پر نظر آئے۔ تو سن لیجئے استاد محترم ! نہ ابولکلام کے کلام سے انکار نہ باچا خان کی پختون قوم کیلیے جدوجہد سے انکار نہ گاندھی اور ولبھ بائی پٹیل اور دیگر کی تحریک آذادی کییلیے خدمات سے انکار ،ہم مولانا مدنی کے افکار کے سامنے بھی سر تسلیم خم کرتے ہیں ،ہم مولانا مودودی کو بھی صدی کا بہت بڑا مصلے تسلیم کرتے ہیں ۔ لیکن میرے استاد جی ! مذکورہ بالا تمام عظیم تر شخصیات کے علاوہ بھی ہندوستان کی دوسری بڑی اکثریت بھی ایک مخلوق تھی جس کو مسلمانانِ بر صغیر کہا جاتا تھا ۔ اب غور فرمائیے ! مولانا آزاد وہ کہ جنھیں شیخ الہند مولانا محمود الحسن نے امام ہند قرار دیا تھا اور اپنی زندگی مہیں ہی امام ہند کی دستار مولانا کے سر پر رکھنا چایتے تھے جو بوجوہ نہ رکھی جا سکی نے مسلمانان برصغیر تک اپنا پیغام پنچانے میں کوئی کسر چھوڑی ھو گی ؟ مولانا کے فن خطابت پر کوئی کلام ھے ؟ یقینا نہیں۔ اور آپ جانتے ہیں کہ فن خطابت اور جو شیلی تقریروں کے زور پر نسبتا کم پڑھی لکھی عوام کو بہت جلد ورغلایا جا سکتا ھے لیکنی یہ عوام ٹس سے مس نہ ہوئی اور ایک انگریزی بولنے والے فن خطابت سے نا بلد انگریزی بود و باش کے حامل شخص کے ہاتھ پر بیت کر لی ۔ کسی دیہاتی سے کسی نے پوچھا یہ انگریزی بول رہا ھے تمہں کیا سمجھ آتی ھے ،دیہاتی نے کہا جو بھی کہتا ھے سچ کہتا ھے ۔ اب آتے ھیں سرحدی گاندھی باچا خان کی طرف ۔آپ نے خود فرمایا کہ باچا خان دارصل پختون قوم کی پہچان تھے کیوں ؟ کیوں وہ مسلمانوں کے یا یوں کہہ لیں کہ ہندوستانیوں کے قائد کے طور پر اپنی پہچان نہ بنا سکے ۔جی ! میں بتا تا ھوں اس لیے کہ ان کا قد کاٹھ اتنا ہی تھا اور دوسری طرف ایک شخص متحدہ ہندوستان میں بھی صف اول کے سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا تھا اور جب مسلمانان برصغیر کی قیادت کی تو قائد اعظم ٹھہرا نہ کہ قائد پختون ،قائد پنجاب یا قائد سندھ بلوچستان۔ یہی وہ فرق ھے جس کو اس وقت کے مسلامانوں نے محسوس کر لیا تھا جن پر آج ہم تہمت باندھتے ہیں۔انہوں نے کسی باچا خان کو مولانا آزاد کو یا گاندھی نہرو کو قائد نیں مانا تو آپ کو اعتراض کیا ھے ۔آپ جمیوریت کے علمبردار ہیں نا تو مان جایئے اس وقت کے جمہور نے فیصلہ مولانا آزاد یا باچا خان کے حق میں نہیں بلکہ قائد آعظم کے حق میں دیا ۔ آپ کا اعتراض کہ اس وقت کے قائدین نے مذہب کو تقسیم کی بنیاد قرار دیا تو قرار دیا، کیا شک ھے ؟ لیکن اکثریت نے اس مذہبی جغرافیائی تقسیم کو ہی قبول کیا نہ کہ صرف جغرافیائی تقسیم کو اس نقطے پر غور فرمائیے شائد افاقہ ہو جائے۔

 

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/