مختصر کہانیاں

غزوہ حنین – شوال 8 ہجری مکہ فتح ہو چکا تھا، عرب ق…

غزوہ حنین – شوال 8 ہجری

مکہ فتح ہو چکا تھا، عرب قبائل تیزی سے دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں، جن کا خیال تھا کہ اگر رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کر لیا اور قریش پر غلبہ پا لیا تو وہ سچے پیغمبر ہیں اب آ کر اسلام قبول کر رہے تھے۔
لیکن دو قبیلے ایسے تھے جن پر اس کا الٹا اثر پڑا یہ ہوازن اور ثقیف کے قبائل تھے جو جنگ جو اور فنونِ جنگ میں ماہر سمجھے جاتے تھے ان دو قبائل نے آپس میں طے کیا کہ رسول اللہ ﷺ پر مکہ میں حملہ کر دیا جائے اور اس کے لئے تیاریاں شروع کیں، جنگ میں اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لیا کہ ان کی حفاظت کے لئے لوگ اپنی جانیں دے دیں گے۔

اس جنگ میں کفار کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن عوف تھا جبکہ مشیر کے طور پر درید بن الصمۃ کو ساتھ لیا گیا، یہ شخص گو کہ اب سو سال کی عمر کا ہو چکا تھا لیکن شاعر تھا اور نہایت بہادر حتیٰ کے اس کی بہادری کےقصے اب بھی عرب کی داستانوں میں موجود ہیں۔
ان دو قبائل کی ذیلی شاخوں میں کعب اور کلاب نے اس جنگ میں شرکت نہیں کی تھی۔
درید بن الصمۃ کی چارپائی لا کر میدانِ جنگ میں رکھ دی گئی، اس نے سوال کیا کہ یہ کونسا مقام ہے، اس کو بتایا گیا کہ اوطاس ہے، اس نے کہا کہ ہاں اس کی زمین نہ تو زیادہ سخت ہے نہ بہت نرم یہ میدان موزوں ہے، پھر بچوں کی آوازیں سن کے پوچھا کہ یہ شور کیسا ہے بتایا گیا کہ تمام اہل و عیال ساتھ ہیں تا کہ کسی کو واپسی کا خیال نہ آئے، کہنے لگا کہ جب پاؤن اکھڑ جاتے ہیں تو کوئی چیز نہیں روک سکتی، میدانِ جنگ میں صرف تلوار کام دیتی ہے، شکست ہوئی تو عورتوں کی وجہ سے مزید ذلت ہوگی۔
پھر پوچھا کیا کعب اور کلاب بھی اس جنگ میں شریک ہیں جب بتایا گیا کہ شریک نہیں تو کہنے لگا کہ آج کا دن عزت اور شرف کا دن ہوتا تو کعب اور کلاب بھی ضرور شریک ہوتے۔

رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن ابی جدرد کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا اور وہاں کی معلومات حاصل ہونے پر جنگ کی تیاریاں کیں۔ سامان کے لئے قرض کی ضرورت پیش آئی تو ابوجہل کے بھائی (سگے نہیں) عبداللہ بن ربیعہ سے تیس ہزار درہم قرض لیا، صفوان بن امیہ سے ـ (جو ابھی تک مشرک تھا) ـ کے پاس کچھ آدمی روانہ کئے اور اس سے کچھ ہتھیار اور زرہیں بطور عاریۂ مضمونہ (اس ضمانت کے ساتھ کہ امانت کو عینا لوٹائیں گے) کے لئے کہا۔ صفوان نے قبول کیا اور 100 زرہیں مسلمانوں کو بطور عاریہ دے دیں۔
رسول اللہ ﷺ کےساتھ (فتح مکہ میں شریک 10000 مجاہدین اور مکہ کے 2000 نو مسلموں کو لے کر) شوال 8 ہجری میں لشکرِ اسلام انتہائی سر و سامان کے ساتھ حنین کے لئے روانہ ہوا کہ بعض صحابہ کی زبان سے بے اختیار نکل پڑا کہ آج ہم پر کون غالب آسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں آیا اور سورۃ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
یقیناً اللہ تعالیٰ نے بہت سے میدانوں میں تمہیں فتح دی ہے اور حنین کی لڑائی والے دن بھی جب کہ تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہوگیا تھا، لیکن اس نے تمہیں کوئی فائده نہ دیا بلکہ زمین باوجود اپنی کشادگی کے تم پر تنگ ہوگئی پھر تم پیٹھ پھیر کر مڑ گئے۔

مقدمۃ الجیش حضرت خالد کی افسری میں تھا اور اس میں زیادہ تر مکہ سے جدید السلام نوجوان شامل تھے، جبکہ ہوازن کا قبیلہ ایسا تھا کہ جنگ میں ان کا ایک تیر بھی ضائع نہیں ہوتا تھا، دوسرے کفار نے پہلے آکر تمام مناسب جگہوں پر قبضہ کر لیا تھا اور مسلمانوں کو حملہ کرنے کے لئے نشیب کی طرف دوڑنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے پاؤں جم ہی نہیں سکتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے جنگی لباس زیب تن کرکے اپنی سپاہ کی صفوں کا معائنہ کیا اور مجاہدین کو جنگ اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی اور انہیں فتح کی نوید سنائی؛ اور بعدازاں صبح کی تاریکی میں مسلمانوں کے ہمراہ درہ حنین سے نیچے اترے۔

مسلمانوں نے صبح کا اجالا نکلنے سے پہلے حملہ کیا جب ٹھیک طرح روشنی بھی نہ ہوئی تھی، ادھر مسلمانوں نے حملہ کیا ادھر کفار کی فوجیں نکل آئیں اور آس پاس چھپے تیر اندازوں نے تیروں کی بارش کر دی۔ نتیجہ یہ کہ بارہ ہزار کا اسلام لشکر ٹوٹ پڑا، کہیں کوئی پاؤں جما کر کھڑا نہ رہ سکا، مقدمۃ الجیش کے پاؤں اکھڑتے ہی ساری فوج میں ہلچل مچ گئی اور سب کے پاؤں اکھڑ گئے۔ بنو سُلَیم کے گھڑ سوار، ان کے بعد مکی اور دوسرے لوگ منتشر ہوکر فرار ہوگئے؛ بھاگنے والے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی ساتھ نہ تھا، آپ ﷺ ایک پیکرِ یقین بنے اکیلے کھڑے تھے اور وہ ایک لشکر تھا جو اپنی جگہ سے ہلا تک نہ تھا۔ آپ ﷺ نے اپنی دائیں جانب نگاہ دوڑائی اور آواز دی،
یا معشر الانصار،
اور جواب آیا، ہم حاضر ہیں،
ایسے ہی بائیں طرف رخ کر کے فرمایا وہاں سے بھی یہی آواز آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا
"میری طرف آؤ، میں محمد رسول خدا ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ہوں میں پیغمبر ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں”۔

پھر حضرت عباس کو حکم دیا اور انہوں نے یہی بات اونچی آواز میں دہرائی اس کا یہ اثر تھا کہ جو جہاں تھا وہیں سے واپس پلٹا، جو پلٹ نہ سکا اس نے ذرہ پھینکی اور گھوڑے سے کود پڑا، نتیجہ یہ کہ لڑائی کا رخ بدل گیا، کفار بھاگ نکلے جو بچ گئے گرفتار ہوئے۔

تاریخی مآخذ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پامردی سے لڑنے اور رسول اللہ ﷺ کا دفاع کرنے والوں کی تعداد کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض کا کہنا ہے وہ چار افراد تھے: علی(ع)، عباس بن عبد المطلب اور ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب ـ جو بنو ہاشم میں سے تھے اور ابن مسعود۔

دوسری روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے گرد پروانہ وار لڑنے والوں میں 9 ہاشمی یعنی: علی بن أبی طالب، عباس بن عبد المطلب، حارث بن ابی طالب کے تین بیٹے ابو سفیان، نوفل اور ربیعہ، ابو لہب کے دو بیٹے عتبہ اور معتب، فضل بن عباس، عبداللہ بن زبیر بن حارث اور ایک غیر ہاشمی یعنی: ام ایمن کا بیٹا ایمن، شامل تھے۔

بعض مآخذ میں فرار ہونے والوں کی تعداد 300 بتائی گئی ہے۔طلقاء یعنی اہل مکہ کے بھاگنے والے افراد میں شامل ابو سفیان بن حرب اور کلدہ بن حنبل نیز شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ ـ جس کا باپ غزوہ احد میں مارا گیا تھا ـ نے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت اپنی پرانی عداوت ایک بار پھر ظاہر کرکے دکھائی؛ حتی کہ مؤخر الذکر شیبہ بن عثمان نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا لیکن ناکام رہا۔

اس جنگ میں بھی ـ صدر اول کی دوسری جنگوں کی طرح ـ حضرت علی(ع) سب سے زیادہ بہادر اور طاقتور ثابت ہوئے رسول اللہ ﷺ نے حملہ کرکے دشمن کے پرچمدار کو ہلاک کر ڈالا جس کے بعد مشرکین نے راہ فرار اختیار کی اور منتشر ہوئے ایک روایت کے مطابق علی(ع) نے 40 مشرکوں کو ہلاک کردیا۔

مشرکین مالک بن عوف کے ساتھ طائف چلے گئے۔ بعض دوسروں نے اوطاس میں پڑاؤ ڈالا اور بعض دیگر ـ منجملہ ثقیف سے تعلق رکھنے والے ابن وُغِیرَہ ـ نخلہ پہنچ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک گروہ کو نخلہ کی طرف بھاگنے والے مشرکین کی سرکوبی کے لئےاور ابو عامر اشعری کو اوطاس میں پڑاؤ ڈالنے والے مشرکین کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ ابو عامر اس جنگ میں شہید ہوگئے اور ان کے چچا زاد بھائی ابو موسی اشعری نے مشرکین کے ساتھ جنگ جاری رکھی اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔

اس جنگ میں بعض مشرکین کو قید کرلیا گیا جن میں رسول اللہ ﷺ کی رضاعی بہن شَیما بنت حارث بن عبد العُزّی، بھی شامل تھیں۔ قیدیوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے شیما کا بہت احترام کیا اور ان کی خواہش پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کی قوم کے پاس پلٹا دیا۔ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شیما کی بات چیت اور ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ان کی شفاعت ہی قیدیوں کی رہائی کا سبب ہوئی۔

حنین کے اختتام پر آپ ﷺ جعرانہ تشریف لے آئے۔ غنیمت کا مال بہت زیادہ تھا اس میں چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار سے زیادہ بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی شامل تھی۔ کئی دن تک اسیرانِ جنگ کے لواحقین کا انتظار کرنے کے بعد بھی کوئی نہ آیا تو مالِ غنیمت کے حصے کئے گئے۔چار حصے فوج میں تقسیم کئے گئے جبکہ پانچواں بیت المال اور غرباء کے لئے رکھا گیا۔ اس میں یہ خاص خیال رکھا گیا کہ مکہ کے وہ رؤسا جنہوں نے حال ہی میں فتح مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور جن کو قرآن نے مولفۃ القلوب کہا ہے ان کو آپ ﷺ نے انعامات سے فیاضانہ طور پر نوازا جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔۔
ابوسفیان کو 300 اونٹ اور 120 اوقیہ چاندی، حکیم بن حزام کو دو سو اونٹ، نضیر بن حارث، صفوان بن امیہ، قیس بن عدی، سہیل بن عمرو، حویطب بن عبدالعزیٰ، ان کا تعلق مکہ سے تھا اور ان کو سو سو اونٹ دئیے گئے۔ اس کے علاوہ معتدد افراد کو پچاس پچاس اونٹ دئیے گئے جبکہ عام فوج میں فی کس چار اونٹ اور چالیس بکریاں تھیں جبکہ سوار کو تگنا ملا تھا اس لحاظ سے سوار کے حصے میں بارہ اونٹ اور ایک سو بیس بکریاں فی کس آئیں۔

یہاں انصار کو رنج ہوا کہ ہم تو کب سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہیں پھر بھی انعامات کی بارش ان پر، بعض نے کہا کہ ہماری تلواروں سے اب تک قریش کا لہو ٹپک رہا ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کو انعام دیا۔ بعض نے کہا کہ مشکلات میں ہماری ضرورت ہوتی ہے غنیمت اوروں کو ملتی ہے۔آپ ﷺ نے یہ سب سنا تو انصار کو طلب کیا گیا، ایک چرمی خیمہ نصب کیا اور وہاں آپ ﷺ نے انصار سے پوچھا کیا تم لوگوں نے ایسا کہا؟ انصار نے جواب دیا کہ ہمارے سربر آوردہ لوگوں میں سے کسی نے نہیں کہا، کچھ نوجوانوں نے کہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ کی ایک روایت بھی ہے کہ آپ ﷺ نے انصار سے پوچھا کیا یہ واقعہ ہے؟ تو انصار چونکہ جھوٹ نہیں بولتے تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ آپ ﷺ نے یہاں ایک خطبہ دیا۔۔

انصار کو مخاطب کر کے فرمایا کہ
کیا یہ سچ نہیں کہ تم گمراہ تھے اللہ نے میرے ذریعے تم کو ہدایت دی؟
تم منتشر اور پراگندہ تھے اللہ نے میرے ذریعے تم میں اتفاق پیدا کیا؟
تم مفلس تھے خدا نے میرے ذریعے تم کو دولت مند کیا؟

آپ ﷺ یہ فرماتے جاتے تھے اور انصار ہر فقرے پر کہتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا احسان سب سے بڑھ کر ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا نہیں!، تم یہ جواب دو کہ

اے محمدﷺ تجھ کو جب لوگوں نے جھٹلایا تو ہم نے تیری تصدیق کی،
تجھ کو جب لوگوں نے چھوڑ دیا تو ہم نے تجھ کو پناہ دی، تُو مفلس آیا تھا ہم نے ہر طرح کی مدد کی۔،

پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم یہ جواب دیتے جاؤ اور میں کہتا جاؤں گا کہ تم سچ کہتے ہوں
لیکن اے انصار کیا تم کو یہ پسند نہیں کہ لوگ اونٹ اور بکریاں لیکر جائیں اور تم محمد ﷺ کو لے کر اپنے گھر جاؤ؟

اب انصار کا حال یہ تھا کہ چیختے تھے کہ نہیں ہمیں کو رسول اللہ ﷺ ہی درکار ہیں بعض تو اتنا روئے کہ داڑھیاں تر ہو گئی۔
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اہلِ مکہ جدید الاسلام ہیں میں نے ان کو جو کچھ دیا حق کے طور پر نہیں دیا بلکہ تالیفِ قلب کے لئے دیا۔

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/