مختصر کہانیاں

#hamidnaved حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان ک…

#hamidnaved

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کے مکان کی چھت پر بھڑوں نے اپنا چھتا لگا لیا ۔ اس شخص نے ارادہ کیا کہ وہ اس چھتے کو توڑ دے لیکن اس کی بیوی آڑے آگئی اور اسے کہنے لگی کہ یہ مناسب نہیں لگتا کہ ہم بھڑوں کا چھتاتوڑ کر انہیں بے گھر کردیں۔ اس شخص نے جب بیوی کی بات سنی تو اپنے ارادے سے باز آگیا۔
کچھ روز بعد وہ شخص کاروبار کے سلسلہ میں شہرسے باہر چلاگیا۔ ایک دن اس کی بیوی ان بھڑوں کے چھتے کے پاس سے گزری تو بھڑوں نے اس کو جھپٹ لیا اور ڈنک مارنا شروع کردیئے یہاں تک کہ اس کا سارا بدن سوج گیا۔
جب وہ شخص کاروباری معاملات نپٹا کر اپنے گھر واپس لوٹا تو اس نے اپنی بیوی کو تڑپتا ہوا دیکھا۔ اس کی بیوی گھر میں ادھر اُدھر بھاگ رہی تھی اور شور مچارہی تھی ۔ اس شخص نے جب اپنی بیوی کی یہ حالت دیکھی تو کہنے لگا کہ اب شور کیوں مچاتی ہو جب میں بھڑوں اک چھتا ختم کرنا چاہتا تھا تو تم نے ہی مجھے ان کا چھتا ختم کرنے سے روکا اگر آج میں نے ان کا چھتا ختم کردیا ہوتا تو تمہاری یہ حالت ہر گز نہیں ہوتی ۔ عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ سانپ کو دیکھتے ہی اس کا سر کچل دیا جائے اور نقصان پہنچانے والے پر رحم کرنا بے ضرر پرظلم کرنے کے مترداف ہے۔
مقصود بیان:
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ کوئی بھی موذی شے ہوا سے نقصان پہنچانے سے پہلے ختم کردینا چاہئے اور یہی عقلمندی کی نشانی ہے بجزاس کے کہ اس موذی سے کوئی نقصان اٹھایاجائے پھر اس کا تدارک کیا جائے۔ نیزبرائی کے راستہ پر چلنے والوں اور برے کام کرنے والوں کی ہرگزحوصلہ افزائی نہ کی جائے بلکہ جہاں تک ممکن ہوسکے انہیں روکا جائے وگرنہ انہیں ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔
حکایات سعدی رحمتہ اللہ علیہ.

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/