منتخب نظمیں

بیس برس کے خود کش حملہ آور کے نام جن آنکھوں کو خواب محبت کی پہلی من موہنی دستک …

بیس برس کے خود کش حملہ آور کے نام

جن آنکھوں کو
خواب محبت کی پہلی من موہنی دستک سے کھلنا تھا
وہ آنکھیں اک وحشت ناک دھماکے
کے خونی جھٹکے سے … بند ہوئی ہیں
بھورے بھورے بال الجھے ہیں … اک جھاڑی سے
تن کی دھجی دھجی رستوں پر بکھری ہے

مارنے اور مر جانے کی اندھی خواہش میں
کس بدلے کی بھاونا … اک شعلے کی صورت
اس نازک تن میں جلتی تھی
دشمن کو بن پہچانے ہی
بیس برس کے اس سینے میں
کیوں اتنی نفرت پلتی تھی؟

بیس برس کی عمر تو ماں کی سبز دعاؤں سے اُگتی ہے
بیس برس کی آنکھوں کے محمل میں تو لیلیٰ رہتی ہے
بیس برس کا دل تو عشق کی اونچی لَو سے
سرخ چراغ بنا رہتا ہے
اپنے انجانے جذبوں کا
خود ہی سراغ بنا رہتا ہے

کس نے تمہارے روشن دل کو نفرت کرنا سکھلایا تھا
لمبی عمر کی… سبز دعاؤں والی رُت میں
کس ظالم نے موت کا سپنا دکھلایا تھا؟
کس نے کہا، اس آگ میں جل کر تم کو شہادت مل جائے گی
کس نے بتایا، موت کی کالی راہ پہ جنت مل جائے گی
بیس برس کے کم سنِ دل کو
پہلی چاہت مل جائے گی؟

ثمینہ راجا

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/