منتخب غزلیں

13؍جولائی 1864 دبستانِ لکھنؤ کے ادیب، نثر نگار، …

13؍جولائی 1864
دبستانِ لکھنؤ کے ادیب، نثر نگار، ڈرامہ نگار، صحافى اور شاعر افقؔ لکھنوی کا جنم دن
نام منشی دوارکا پرشاد اور تخلص افقؔ تھا۔ 13؍جولائی 1864ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام منشی پورن چند ذرّہؔ تھا۔ ان کے دادا منشی ایشور پرشاد شعاعؔ اور پردادا منشی اودے پرشاد مطلعؔ لکھنوی بھی شاعر تھے۔ افقؔ صاحب نے نو برس کی عمر میں شاعری شروع کی۔
افقؔ لکھنوی کی کچھ تصانیف کے نام یہ ہیں:👇
رامائن یک قافیہ، کرشن سداما سوانح عمری، رامائن یک قافیہ، گرو گوبند سنگھ، ترجمہ نثر رامائن، ترجمہ نثر مہابھارت، بھاگوت مختصر۔
افقؔ لکھنوی 13؍ستمبر 1913ء کو لکھنؤ میں انتقال کر گئے۔
منتخب اشعار
عاشق بے سرو ساماں سے نہ تم اے مہرباں
رشتۂ الفت نہ توڑو عہد و پیماں کی طر ح
ساتھ غیروں کے نہایا جس گھڑی وہ بہر حسن
پھٹ گیا دریا کا دل عاشق کے داماں کی طرح
——
امیری آدمی کو عیش سے مجہول کرتی ہے
غریبی درگاہ ﷲ میں مقبول کرتی ہے
——
خودی اہل خودی کا آپ ہی سر توڑ دیتی ہے
خودی انسان کا منہ راہ ادب سے مو ڑ دیتی ہے
بنا دیتی ہے اندھا چشم باطن پھوڑ دیتی ہے
ڈبونے کے لیے کشتی بھنور میں چھوڑ دیتی ہے
——-
غضب ڈھاتی ہیں مظلوماں پریشان حالی کی آہیں
جلا دیتی ہیں جسم آہن کا مردہ کھال کی آہیں
——
گوہر انسان خوش گوہر کا ہے جوہر یہی
فخر کا تمغہ یہی ہے وقر کا زیور یہی
آدمیت آدمی کو زینہ معراج ہے
گر نہیں انسانیت کیا ہے جو سر پر تاج ہے
——
ہندوستاں گھر جہا ں پناہی کا ہے
ما تھے پر اسی کے فخر کا ٹیکہ ہے
عظمت کا ثبوت قدرتی ہے افقؔ
اوپر ہے ہند نیچے امریکہ ہے
——-
حوروں کی طبیعت اس پہ لوٹی دیکھی
وسعت میں بہشت اس سے چھو ٹی دیکھی
سر ہند سے ہو گیا فلک کا نیچا
جس وقت ہمالیہ کی چو ٹی دیکھی
……………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/