ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب نظمیں“تم ماں بننے کے قابل ہی نہیں ہو…” میرے شوہر نے یہ...

“تم ماں بننے کے قابل ہی نہیں ہو…” میرے شوہر نے یہ…

💔 “تم ماں بننے کے قابل ہی نہیں ہو…”
میرے شوہر نے یہ جملہ اُس رات کہا… جب میں اپنی دو ماہ کی بیٹی کو دودھ پلا کر سو بھی نہیں پائی تھی۔

اور عجیب بات یہ ہے…
یہ وہی آدمی تھا… جس نے کبھی خود کہا تھا:

“تم اپنا خواب مت چھوڑنا… میں گھر سنبھال لوں گا…”

میرا نام زارا ہے۔
میں 33 سال کی ہوں… اور ایک وکیل ہوں۔

میں نے اپنی زندگی کے دس سال کتابوں، عدالتوں، راتوں کی نیند اور مسلسل محنت میں گزارے تھے۔
میں نے اپنا مقام آسانی سے حاصل نہیں کیا تھا۔

میرے شوہر احد کی نوکری عام سی تھی۔
تنخواہ کم۔
دلچسپی اُس سے بھی کم۔

جب میں حاملہ ہوئی… ہم نے بیٹھ کر ہر چیز پلان کی تھی۔

اخراجات۔
بچے کی روٹین۔
کام۔
چھٹیاں۔

اور فیصلہ بالکل واضح تھا۔

میں کام جاری رکھوں گی…
اور احد کچھ عرصہ گھر سنبھالے گا۔

یہ میرا فیصلہ نہیں تھا۔
اُس کا تھا۔

وہ خوش تھا۔
اتنا خوش… کہ ہر جگہ “#GirlDad” لکھتا پھرتا تھا۔
دوستوں سے کہتا،
“میری بیٹی میری best friend ہوگی…”

پھر ہماری بیٹی پیدا ہوئی۔

اور دو ماہ بعد…
ایک رات وہ میرے سامنے بیٹھا اور بولا:

“میں نے سوچ بدلی ہے…”

میں نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا،
“کس بارے میں؟”

وہ بولا،
“تم نوکری چھوڑ دو…”

میں نے سمجھا وہ مذاق کر رہا ہے۔

لیکن اُس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔

“احد… ہم پہلے فیصلہ کر چکے ہیں…”

وہ خاموش رہا۔
پھر بولا:

“ماں کو بچے کے ساتھ ہونا چاہیے۔”

میں نے آہستہ سے کہا،
“اور باپ؟”

وہ فوراً بھڑک گیا۔

“مرد گھر میں اچھے نہیں لگتے!”

کمرے میں خاموشی جم گئی۔

پھر جیسے اُس کے اندر دبی ہوئی ہر بات باہر آنے لگی۔

“میرے دوست ہنستے ہیں…”
“لوگ کہتے ہیں میں بیوی کے پیسوں پر پل رہا ہوں…”
“تم سوٹ پہن کر باہر جاؤ گی اور میں گھر میں ڈائپر بدلوں گا؟”

میں اُسے دیکھتی رہی۔

یہ وہی آدمی تھا…
جس نے کبھی کہا تھا:
“Partnership ہوگی…”

اب وہ کہہ رہا تھا:

“عورت کی اصل جگہ گھر ہے…”

اس رات اُس نے مجھے selfish کہا۔
career obsessed کہا۔
اور پھر…

وہ جملہ کہا… جو آج تک میرے اندر گونجتا ہے:

“اگر تم اچھی ماں ہوتیں… تو اپنی بیٹی کو کسی nanny کے حوالے نہ کرتیں…”

میں نے اپنی سوئی ہوئی بیٹی کو دیکھا۔

دو ماہ سے میں راتوں کو جاگ رہی تھی۔
دودھ پلا رہی تھی۔
خود بخار میں بھی اُس کا diaper بدل رہی تھی۔

اور سامنے بیٹھا آدمی…
صرف اس لیے مجھے بری ماں کہہ رہا تھا…
کیونکہ میں اپنے خواب بھی زندہ رکھنا چاہتی تھی۔

پھر اچانک مجھے سمجھ آیا…

مسئلہ بچہ نہیں تھا۔
مسئلہ معاشرہ تھا۔

وہی معاشرہ…
جو “modern husband” بننے پر تالیاں تو بجاتا ہے…
لیکن جب واقعی وقت آتا ہے…
تو مرد کے کان میں یہی ڈالتا ہے:

“بیوی زیادہ کامیاب ہو گئی تو تم چھوٹے لگو گے…”

اگلی صبح احد نے پھر وہی بحث شروع کی۔

میں نے پہلی بار اُس کی بات بیچ میں کاٹی… اور آہستہ سے کہا:

“تمہیں معلوم ہے اچھی ماں کون ہوتی ہے؟”

وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا۔

“اچھی ماں وہ ہوتی ہے…
جو اپنی بیٹی کو یہ نہ سکھائے…
کہ عورت بننے کا مطلب خود کو مٹا دینا ہے…”

احد پہلی بار خاموش ہوا۔

اور میں پہلی بار… خود کو قصوروار محسوس نہیں کر رہی تھی۔

💔

کبھی کبھی مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ عورت کام کرنا چاہتی ہے…
مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اب بھی عورت کی کامیابی سے ڈرتے ہیں۔

اب آپ بتائیں…
کیا زارا غلط تھی؟
یا احد صرف وہ مرد بن گیا تھا… جسے معاشرے نے ڈرا دیا؟ 💭

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/