دروازہ کھولنے سے پہلے ہی بدبو نے میرا استقبال کیا۔
سڑی ہوئی دال…
گیلے کپڑے…
جلے ہوئے سالن کی تیز بدبو…
میرا نام عائشہ ہے۔
چھ سال سے میں ایک ہی چیز سیکھ رہی تھی…
چپ رہنا۔ برداشت کرنا۔ اور “اچھی بہو” بنے رہنا۔
میرے شوہر کا نام احد ہے۔
اور ہمارا چھوٹا سا گھر… جہاں میں رہتی تو تھی… مگر میری کوئی جگہ نہیں تھی۔
پھر ایک دن احد نے کہا،
“امی آ رہی ہیں… چند دن کے لیے…”
چند دن۔
اور وہ چند دن… پھر ہفتوں میں بدل گئے۔
امی، ابو، پھوپھی، چچا… اور نند ۔
سات لوگ۔ ایک چھوٹا سا گھر۔
اور میں… ایک انسان سے زیادہ… ایک مشین بن گئی۔
صبح فجر سے پہلے اٹھنا…
ناشتہ، لنچ، ڈنر…
آفس، پھر گھر کا کام…
اور بدلے میں؟
“نمک کم ہے…”
“روٹی ٹھیک نہیں…”
“چائے میں مزہ نہیں…”
کسی نے نہیں پوچھا…
“تم تھک گئی ہو؟”
چوتھے دن… میں ٹوٹ گئی۔
باتھ روم میں جا کر خود سے کہا:
“میں ختم ہو رہی ہوں…”
اسی وقت میری دوست انعم کا میسج آیا:
“پانچ دن کے لیے مری چل… تُو ٹھیک نہیں لگ رہی…”
اس بار… میں نے خود کو چُنا۔
میں چلی گئی۔
پانچ دن…
پانچ دن میں میں نے سکون دیکھا… نیند پوری کی… خود کو دوبارہ محسوس کیا۔
اور ادھر…
“چینی کہاں ہے؟”
“سب کیا کھائیں گے؟”
“واشنگ مشین کیسے چلتی ہے؟”
پھر…
“جلدی واپس آ جاؤ…”
میں نہیں آئی۔
میں نے صرف لکھا:
“manage کر لیں…”
پانچویں دن جب میں واپس آئی…
گھر بکھرا ہوا تھا۔
ہر چیز اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی۔
برتنوں کا ڈھیر۔
گند۔ بے ترتیبی۔
اور درمیان میں… احد۔
آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے…
چہرے پر تھکن…
اور وہ خاموشی… جو پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
میں نے آہستہ سے پوچھا،
“یہ کیا حال ہے گھر کا؟”
وہ کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا… جیسے الفاظ ڈھونڈ رہا ہو۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“یہ… وہی ہے جو تم روز سنبھالتی تھیں…”
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
امی پہلی بار چپ تھیں۔
پھوپھی نے نظریں جھکا لیں۔
نند نے فون رکھ دیا۔
اور احد…
وہ آگے بڑھا… اور پہلی بار… میرے سامنے بیٹھ گیا۔
“عائشہ… مجھے نہیں پتا تھا تم اتنا کچھ اکیلی کرتی ہو…”
میں کچھ نہیں بولی۔
وہ مزید بولا،
“پہلے دن لگا آسان ہے… دوسرے دن مشکل… تیسرے دن… میں ہار گیا…”
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
“میں نے کبھی سوچا ہی نہیں… کہ تم انسان ہو… تھکتی ہو…”
میرے اندر کچھ نرم ہوا… مگر میں خاموش رہی۔
وہ اٹھا… کچن کی طرف گیا… اور سنک کے پاس کھڑا ہو کر بولا:
“آج سے… یہ صرف تمہارا کام نہیں ہے…”
امی نے حیران ہو کر کہا،
“احد… کیا کر رہے ہو؟”
وہ مڑا… اور پہلی بار مضبوط لہجے میں بولا:
“امی… عائشہ نوکرانی نہیں ہے… میری بیوی ہے…”
کمرے میں جیسے وقت رک گیا۔
میں وہیں کھڑی تھی…
جہاں کبھی خود کو اکیلا محسوس کرتی تھی…
آج پہلی بار… میں اکیلی نہیں تھی۔
💛
کبھی کبھی عورت گھر چھوڑ کر جاتی ہے…
رشتہ ختم کرنے کے لیے نہیں…
بلکہ خود کو بچانے کے لیے۔
اور اگر مرد سمجھ جائے…
تو وہی پانچ دن…
چھ سال کی خاموشی توڑ دیتے ہیں۔
اب آپ بتائیں…
کیا ہر بار جانا غلط ہوتا ہے؟
یا کبھی کبھی… یہی جانا کسی رشتے کو بچا لیتا ہے؟ 💭
