اس کے چہرے پر عجیب سی سنجیدگی چھائی تھی
حالانکہ اس کا ہر ایک نقش بولتا تھا کہ وہ بہت خوش قسمت ہے کاری ہونے سے بچ گئی ہے
سیدھی گولیوں سے بچتی بچاتی آخر پولیس اسٹیشن پہنچ گئی ہے
اس کے رخسار بازو ٹانگیں کانٹوں سے الجھے زخم زخم تھے
ایک ایک خراش دکھا کر کہتی
” ساہ (سانس) تو سب کو پیارا ہوتا ہے نا گولیوں کو چلتے دیکھ کر میں نے ہمت کرلی اور بھاگتی بھاگتی پولیس اسٹیشن چلی گئی اب دارلآمان میں ہوں ”
کسی رشتہ دار کی ضرورت نہیں کسی کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی ادھر ہی ٹھیک ہوں
دو بیٹے ہیں ایک تین سال کا ہے وہ وہیں رہے دو سال والا مجھے لا کر دے دو
باپ بھائی بے قصور ہیں مارنے کی نیت شوہر اور دوسرے رشتہ داروں کی تھی
باپ بھائی کو کچھ نہ کہنا
ان کو پولیس بالکل نہ چھیڑے 😓
کیسی اچھی بیٹی تھی جو باپ کو مصیبت سے بچا رہی تھی
تھانے کے اندر پوچھ گچھ کے لیے بھی ایک دن نہیں دیکھنا چاہتی تھی
بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں باپ کے لیے جان چھڑکنے والی ان کو تکلیف سے بچانے والی
تبھی جب عدالت میں باپ نے ہشیاری سے اپنی پگڑی پیروں میں رکھ دی تو بیٹی تڑپ اٹھی
اپنا ساہ بچا کر خوش قسمتی سے کاری ہونے سے بچ جانے والی فوری طور پر دارلآمان جانے کا ارادہ ترک کرکے آنکھیں بند کرکے باپ کے ساتھ چل پڑی😓
دل کا سچا خیال مگر زبان پر ضرور آیا تھا
” میں جانتی ہوں مجھے مار دیا جائے گا مگر باپ کی عزت بچانے کو جا رہی ہوں ”
اور آخر وہ خیال سچ نکلا
باپ نے دشمنوں کے ساتھ مل کر جو چال چلی وہ کامیاب ہوئی
گولیوں سے بچ جانے والی پھر سے موت کے منھ میں پہنچ گئی
ایک بار ہمت دکھا کر بھاگ جانے والی باپ کے پگڑی کے آگے کمزور ہو کر چھلنی چھلنی ہوگئی
باپ کو تکلیف سے بچانے والی خود لہو لہان ہوگئی اور باپ کو احساس بھی نہ ہوا
فرح بھٹو
Source
