ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب نظمیںوہ صبح… عام نہیں تھی— کیونکہ اُس دن ایک عورت نے اپ...

وہ صبح… عام نہیں تھی— کیونکہ اُس دن ایک عورت نے اپ…

وہ صبح… عام نہیں تھی—
کیونکہ اُس دن ایک عورت نے اپنے شوہر کو دیکھا…
ایسے وقت پر… جب وہ دنیا میں کہیں اور ہونا چاہیے تھا۔

میرا نام سارہ ہے۔

میرے شوہر فہد… بیرونِ ملک ٹرک چلاتے تھے۔
لمبے راستے… لمبی خاموشیاں… اور ہمارے درمیان رہ جانے والی وہ باتیں… جو کبھی پوری نہ ہو سکیں۔

ہماری آخری گفتگو… ایک لڑائی تھی۔
چھوٹی سی بات… مگر انا بڑی تھی۔
اور ہم دونوں نے یہ سوچ کر فون رکھ دیا… کہ “کل بات کر لیں گے…”

لیکن کبھی کبھی…
“کل” نہیں آتا۔

اُس صبح… میری آنکھ ایک ہلکی سی آواز سے کھلی۔
جیسے کوئی لاؤنج میں چل رہا ہو۔

میں اٹھی…
اور جیسے ہی دروازے تک پہنچی…

میری سانس رک گئی۔

وہ وہاں تھا۔

فہد۔

بالکل ویسا ہی…
جیسے وہ ہر بار گھر آتا تھا۔

میں نے بے یقینی سے پوچھا:
“تم… یہاں؟ تم تو باہر تھے… کب آئے؟”

وہ ہلکا سا مسکرایا۔
وہی مسکراہٹ… جس میں تھکن بھی ہوتی تھی اور سکون بھی۔

“میں آیا نہیں…”
وہ آہستہ سے بولا…
“بس تم سے بات کرنے آیا ہوں…”

میرے دل میں ایک عجیب سا سکون اترا…
اور ساتھ ہی ایک انجان سا خوف بھی۔

“کیا بات کرنی ہے؟”
میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔

وہ چند لمحے خاموش رہا…
جیسے الفاظ چن رہا ہو…

پھر اُس نے میری طرف دیکھا—

“ہم نے بہت فضول باتوں پر لڑائی کی…”
“میں جا رہا تھا… اور ہم ناراض تھے…”
“لیکن میں یہ بوجھ لے کر نہیں جانا چاہتا…”

میری آنکھیں نم ہو گئیں۔

وہ بولا—

“میں نے تمہیں کئی بار فون کرنے کا سوچا…”
“لیکن میرا غرور… مجھ سے بڑا نکلا…”

پھر اُس نے میرا ہاتھ تھاما۔

گرم… نرم… بالکل ویسا ہی جیسے ہمیشہ ہوتا تھا۔

“مجھے معاف کر دو، سارہ…”

یہ جملہ… میرے دل میں کہیں گہرائی تک اتر گیا۔

میں کچھ کہنے ہی والی تھی…
کہ اُس نے میرے ماتھے کو چُوما…

اور آہستہ سے کہا—

“تم… اور ہمارے بچے… میری سب سے بڑی طاقت ہو…”
“اور سب سے قیمتی بھی…”

میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

وہ ایک قدم پیچھے ہٹا…
اور اُس نے وہ جملہ کہا… جس نے میری روح تک ہلا دی—

“میں جا رہا ہوں…
اور اس بار… سفر تھوڑا لمبا ہوگا…”

اُسی لمحے…

فون بجا۔

میری انگلیاں کانپ رہی تھیں…
میں نے کال اٹھائی—

“ہیلو…؟”

دوسری طرف ایک سنجیدہ آواز تھی—

“میڈم… ہمیں افسوس ہے… آپ کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا…”
“اور وہ… اب اس دنیا میں نہیں رہے…”

میری دنیا… ایک لمحے میں ٹوٹ گئی۔

“نہیں!” میں چیخی…
“آپ غلط کہہ رہے ہیں… وہ ابھی یہاں تھے… میں نے اُن سے بات کی ہے…”

میں نے فون پھینک دیا…

اور پورے گھر میں دوڑنے لگی…

ہر کمرہ… ہر دروازہ… ہر کونا…

“فہد…؟”
“فہد… کہاں ہو تم…؟”

لیکن…

وہ کہیں نہیں تھا۔

وہ واقعی… کہیں نہیں تھا۔

میرے قدم ساتھ چھوڑ گئے…
اور میں وہیں زمین پر گر گئی…

تب مجھے سمجھ آیا—

وہ خواب نہیں تھا…
وہ وہم نہیں تھا…

وہ… اُس کی آخری ملاقات تھی۔

وہ آیا تھا…
صرف ایک بات کہنے—

“میں تم سے محبت کرتا ہوں…”

اور میں…
پہلی بار… اُس محبت کو پوری طرح سن پائی تھی۔

💔

ہم سب… ناراض ہو کر سو جاتے ہیں…
یہ سوچ کر کہ کل منا لیں گے…
کل بات کر لیں گے…
کل معاف کر دیں گے…

لیکن کبھی کبھی…

“کل” نہیں آتا۔

اور پھر…
ایک ادھورا جملہ…
ساری زندگی کا بوجھ بن جاتا ہے۔

💬 آج خود سے پوچھیں—
اگر یہ آپ کی آخری بات ہو…
تو کیا آپ خاموش رہیں گے…
یا محبت کا ایک لفظ کہہ کر جائیں گے؟

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/