ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںشاعر اور ادیب ظفر گورکھپوری کا یوم پیدائش (پیدائش...

شاعر اور ادیب ظفر گورکھپوری کا یوم پیدائش (پیدائش…

شاعر اور ادیب ظفر گورکھپوری کا یوم پیدائش
(پیدائش: 5 مئی 1935ء – وفات: 30 جولائی 2017ء)
——
منتخب کلام
——
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے
——
ناوک جاں پیوستہ سے سینوں کی خلش تو زندہ ہے
پل پل درد کے اٹھنے سے کچھ جاتی تو ہے بیماروں میں
ہم نے کھائے زخم تو مَروہ کی شاخوں پر کچھ پھول کھلے
ہم آشفتہ سروں سے پہلے تھا ہی کیا گلزاروں میں
——
تا دور کہیں سایۂ قاتل نہیں ملتا
کچھ تیر مگر اب بھی رگِ جاں سے ملے ہیں
——
جو چیز ہے اپنی وہ بہرحال ہے اپنی
یہ درد یہ سوز غم و آلام کسے دوں ؟
ملتا نہیں کوئی دلِ پُرخوں کا طلب گار
یہ میکدۂ حافظ و خیام کسے دوں ؟
——
یوں ہی تو زمانے کے نشانے پہ نہیں ہم
کچھ بھی نہ کیا ، ایسا نہیں ، کچھ تو کیا ہے
——
تھا کلہاڑی کا زخم برگد پر
چھاؤں اپنے لہو میں لت پت تھی
——
میں اس جہاں میں ظفرؔ مسخرے کا آنسو تھا
دکھائی کس طرح دیتا تماش بینوں کو
——
گھر کو پہنچے تھے ظفرؔ صاحب کہ زخمی ہو گئے
منتظر آنکھوں نے ایسا کھینچ کر مارا سوال
——
دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے
اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے
لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے
نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر
دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے
دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک
سورج سا آئینے سے گزرتا دکھائی دے
چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں
لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے
کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفرؔ
اک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے
——
سلسلے کے بعد کوئی سلسلہ روشن کریں
اک دیا جب ساتھ چھوڑے دوسرا روشن کریں
اس طرح تو اور بھی کچھ بوجھ ہو جائے گی رات
کچھ کہیں کوئی چراغ واقعہ روشن کریں
جانے والے ساتھ اپنے لے گئے اپنے چراغ
آنے والے لوگ اپنا راستہ روشن کریں
جلتی بجھتی روشنی کا کھیل بچوں کو دکھائیں
شمع رکھیں ہاتھ میں گھر میں ہوا روشن کریں
آگہی دانش دعا جذبہ عقیدہ فلسفہ
اتنی قبریں ہائے کس کس پر دیا روشن کریں
شام یادوں سے معطر ہے منور ہے ظفرؔ
آج خوشبو کے وضو سے دست و پا روشن کریں
——
بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
میں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا
نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگے
مجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا
تم آنکھوں سے مجھے جاں کے سفر کی مت اجازت دو
اگر اترا لہو میں پھر نہ آسانی سے نکلوں گا
میں ایسا خوبصورت رنگ ہوں دیوار کا اپنی
اگر نکلا تو گھر والوں کی نادانی سے نکلوں گا
ضمیر وقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت
زمانہ کیا سمجھتا ہے کہ آسانی سے نکلوں گا
یہی اک شے ہے جو تنہا کبھی ہونے نہیں دیتی
ظفرؔ مر جاؤں گا جس دن پریشانی سے نکلوں گا
…………………….


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/