سردار آصف کا یومِ وفات
May 05, 2021
——
منتخب کلام
——
یہ کیسے مرحلے میں پھنس گیا ہے میرا گھر مالک
اگر چھت کو بچا بھی لوں تو پھر دیوار جاتی ہے
….
میں خود کو دیکھوں اگر دوسرے کی آنکھوں سے
ملیں گی خامیاں اپنے ہی شاہ کاروں میں
….
ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے
دل میں ہیں کچھ زخم پرانے دھو لیں گے
….
خط ہو کوئی کتاب ہو یا دل کا زخم ہو
جو بھی ہے میرے پاس نشانی اسی کی ہے
…..
خطا اس کی معافی سے بڑی ہے
میں کیا کرتا سزا دینی پڑی ہے
….
یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری
مگر وہ میرے لئے زندگی سے کم بھی نہیں
….
سنا ہے دھوپ کو گھر لوٹنے کی جلدی ہے
وہ آج وقت سے پہلے ہی شام کر دے گی
….
میں تجھ سے جھک کے ملا ہوں مگر یہ دھیان رہے
بڑا نہیں ہوں مگر تجھ سے قد میں کم بھی نہیں
….
کوئی شکوہ نہیں ہم کو کسی سے
خود اپنی ذات ہم کو چھل رہی ہے
….
آتا رہا ہوں یاد میں اس کو تمام عمر
اس زاویے سے عشق میں ناکام کب ہوا
….
آسماں تو نے چھپا رکھا ہے سورج کو کہاں
کیوں کلائی میں تری بند گھڑی ہے اب بھی
….
غزل کہنے میں یوں تو کوئی دشواری نہیں ہوتی
مگر اک مسئلہ یہ ہے کہ معیاری نہیں ہوتی
…..
کبھی خدا سے ملا تو ضرور پوچھوں گا
گلاب کتنے لگے تھے اسے بنانے میں
…..
تمام عمر یہ الجھن تمھارے ساتھ رھی
ہمارے جسم کی اترن تمھارے ساتھ رھی
……………………….
May 05, 2021
——
منتخب کلام
——
یہ کیسے مرحلے میں پھنس گیا ہے میرا گھر مالک
اگر چھت کو بچا بھی لوں تو پھر دیوار جاتی ہے
….
میں خود کو دیکھوں اگر دوسرے کی آنکھوں سے
ملیں گی خامیاں اپنے ہی شاہ کاروں میں
….
ہو لینے دو بارش ہم بھی رو لیں گے
دل میں ہیں کچھ زخم پرانے دھو لیں گے
….
خط ہو کوئی کتاب ہو یا دل کا زخم ہو
جو بھی ہے میرے پاس نشانی اسی کی ہے
…..
خطا اس کی معافی سے بڑی ہے
میں کیا کرتا سزا دینی پڑی ہے
….
یہ بات سچ ہے کہ وہ زندگی نہیں میری
مگر وہ میرے لئے زندگی سے کم بھی نہیں
….
سنا ہے دھوپ کو گھر لوٹنے کی جلدی ہے
وہ آج وقت سے پہلے ہی شام کر دے گی
….
میں تجھ سے جھک کے ملا ہوں مگر یہ دھیان رہے
بڑا نہیں ہوں مگر تجھ سے قد میں کم بھی نہیں
….
کوئی شکوہ نہیں ہم کو کسی سے
خود اپنی ذات ہم کو چھل رہی ہے
….
آتا رہا ہوں یاد میں اس کو تمام عمر
اس زاویے سے عشق میں ناکام کب ہوا
….
آسماں تو نے چھپا رکھا ہے سورج کو کہاں
کیوں کلائی میں تری بند گھڑی ہے اب بھی
….
غزل کہنے میں یوں تو کوئی دشواری نہیں ہوتی
مگر اک مسئلہ یہ ہے کہ معیاری نہیں ہوتی
…..
کبھی خدا سے ملا تو ضرور پوچھوں گا
گلاب کتنے لگے تھے اسے بنانے میں
…..
تمام عمر یہ الجھن تمھارے ساتھ رھی
ہمارے جسم کی اترن تمھارے ساتھ رھی
……………………….

