ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںتجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی...

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے پھر جو بھی در…

تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

پھر یوں ہوا کہ غیر کو دل سے لگا لیا
اندر وہ نفرتیں تھیں کہ باہر کے ہو گئے

کیا لوگ تھے کہ جان سے بڑھ کر عزیز تھے
اب دل سے محو نام بھی اکثر کے ہو گئے

اے یاد یار تجھ سے کریں کیا شکایتیں
اے درد ہجر ہم بھی تو پتھر کے ہو گئے

سمجھا رہے تھے مجھ کو سبھی ناصحان شہر
پھر رفتہ رفتہ خود اسی کافر کے ہو گئے

اب کے نہ انتظار کریں چارہ گر کہ ہم
اب کے گئے تو کوئے ستم گر کے ہو گئے

روتے ہو اک جزیرۂ جاں کو فرازؔ تم
دیکھو تو کتنے شہر سمندر کے ہو گئے

(احمد فراز)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/