سوادِ زلف میں اب شام ہو گئی ہو گی
عروجِ شوق کا موسم کہاں سے لاؤں میں؟
وہ ایک موج تھی، دریا میں کھو گئی ہو گی
غبارِ وقت نے دھندلا دیئے نقوش تمام
صبا چمن میں پریشان ہو گئی ہو گی
جہاں بھی جاؤ گے ٹوکیں گے شب کے سنّاٹے
کہاں کا قصد ہے؟ ہر راہ سو گئی ہو گی
فضول ہے کسی ناکام زندگی کی تلاش
غریب نذرِ خرابات ہو گئی ہو گی
کبھی تو قتلِ وفا پر لجا گئے ہوں گے
کبھی تو پھولوں کو شبنم بھگو گئی ہو گی
یہ تشنگی جسے ہونٹوں کی آبرو کہیے
نہ جانے کتنوں کو ظالم ڈبو گئی ہو گی؟
کہانی درد کی کل پر اٹھا رکھو تاباںؔ
تھکی ہوئی "تھی” بہت رات، سو گئی ہو گی
(غلام ربّانی تاباںؔ)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
