ہفتہ, مئی 16, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںاب تو یہ شا ید کسی بھی کام آ سکتا نہیں آپ...

اب تو یہ شا ید کسی بھی کام آ سکتا نہیں آپ ہی لے ج…

اب تو یہ شا ید کسی بھی کام آ سکتا نہیں
آپ ہی لے جائیے میرے دل نادان کو
ذی شان ساحل کی وفات
Apr 12, 2008
(پیدائش: 15 دسمبر 1961ء – وفات: 12 اپریل 2008ء)
منتخب کلام
——
شہر جنگل ہو جب مکانوں کا
گھر ٹھکانہ نہیں ، سہولت ہے
——
اک دریچہ ہے مرا ، اک دریچہ آپ کا
ایک میں چہرہ ہے میرا ، اک میں سایہ آپ کا
——
نہ دن کو دن سمجھتے ہیں ، نہ شب کو شب سمجھتے ہیں
جو کہتا ہے اسے دیوانگی تو کب سمجھتے ہیں
تمہارے ہجر میں حالت ذرا اچھی نہیں اپنی
کوئی کہتا ہے کچھ ، ہم اور کچھ مطلب سمجھتے ہیں
——
کسی کی دین ہے لیکن مری ضرورت ہے
جنوں کمال نہیں ہے کمال وحشت ہے
میں زندگی کے سبھی غم بھلائے بیٹھا ہوں
تمہارے عشق سے کتنی مجھے سہولت ہے
گزر گئی ہے مگر روز یاد آتی ہے
وہ ایک شام جسے بھولنے کی حسرت ہے
زمانے والے تو شاید نہیں کسی قابل
جو ملتا رہتا ہوں ان سے مری مروت ہے
ہوا بہار کی آئے گی اور میں چوموں گا
وہ سارے پھول کہ جن میں تری شباہت ہے
خدا رکھے تری آنکھوں کی دل نوازی کو
تری نگاہ مری عمر بھر کی دولت ہے
ترے بغیر بجھا جا رہا ہوں اندر سے
جو ٹھیک ٹھاک ہوں باہر سے تو یہ عادت ہے
جو ہو سکے تو مجھے اپنے پاس رکھ لینا
ترا وصال تو اک ثانوی سعادت ہے
ترے بغیر کوئی کیسے زندہ رہتا ہے
مگر میں ہوں کہ یہی عشق کی روایت ہے
——
یاد کرنے کے زمانے سے بہت آگے ہیں
آج ہم اپنے ٹھکانے سے بہت آگے ہیں
کوئی آ کے ہمیں ڈھونڈے گا تو کھو جائے گا
ہم نئے غم میں پرانے سے بہت آگے ہیں
جسم باقی ہے مگر جاں کو مٹانے والے
روح میں زخم نشانے سے بہت آگے ہیں
اس قدر خوش ہیں کہ ہم خواب فراموشی میں
جاگ جانے کے بہانے سے بہت آگے ہیں
جو ہمیں پا کے بھی کھونے سے بہت پیچھے تھا
ہم اسے کھو کے بھی پانے سے بہت آگے ہیں
——
جو میرے بس میں ہے اس سے زیادہ کیا کرنا
سفر تو کرنا ہے اس کا ارادہ کیا کرنا
بس ایک رنگ ہے دل میں کسی کے ہونے سے
اب اپنے آپ کو اس سے بھی سادہ کیا کرنا
جب اپنی آگ ہی کافی ہے میرے جینے کو
تو مہر و ماہ سے بھی استفادہ کیا کرنا
ترے لبوں کے سوا کچھ نہیں میسر جب
سو فکر ساغر و ساقی و بادہ کیا کرنا
تمام کشتیاں ساحل پہ ہیں ابھی ٹھہری
ابھی سے ان کو جلانے کا وعدہ کیا کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل مضطرب ہے اور پریشان جسم ہے
اس کے بغیر بے سر و سامان جسم ہے
اب ہو نہیں سکے گا مداوا کسی طرح
وہ جو کہیں نہیں ہے تو بے جان جسم ہے
دل تو جنوں کے کھیل میں مصروف ہے مگر
اس کی نوازشات پہ حیران جسم ہے
میں نے بنا دیا ہے جسے عشق مین غزل
دل اس کا ہے بیاض تو دیوان جسم ہے
اب اس کے غم سے مجھ کو ملے گی کہاں نجات
دل پاسباں ہے اور نگہبان جسم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عشق کی دیوانگی مٹ جاۓ گی
یا کسی کی زندگی مٹ جاۓ گی
ختم ہو جاۓ گا جب قصہ حضور
آپ کی حیرانگی مٹ جاۓ گی
آپ بھی روئیں گے شاید زارزار
پھول جیسی یہ ہنسی مٹ جاۓ گی
ایک دن بجھ جائیں گے یہ مہر و ماہ
یا نظر کی روشنی مٹ جاۓ گی
یا فنا ہو جائیں گی گلیاں تری
یا مری آواز ہی مٹ جاۓ گی
حسن بھی برباد ہو جاۓ گا دوست
اور دل کی دلکشی مٹ جاۓ گی
اس قدر آباد ہو جائیں گے لوگ
حسرت تعمیر ہی مٹ جاۓ گی
——
کالی چڑیا
پنجرہ خالی تھا
اور تمہاری کھڑکی میں رکھا ہوا گلدان
پھولوں سے بھر چکا تھا
کتابوں کی دکان میں
نظموں کی نئی کتاب آ چکی تھی
اور سٹیشن پر ٹرین
کہیں جانے کے لیے تیار کھڑی تھی
پنجرہ خالی تھا
اور کالی چڑیا
ٹرین کے آگے آگے اڑ رہی تھی
ایک سرنگ سے آگے نکلتے ہی
انجن نے چیخ ماری
میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا
خواب میری آنکھوں میں گھر بنا چکے تھے
اور پنجرہ خالی تھا
——
مجھ سے باہر
مجھ سے باہر ایک جنگل ہے
جہاں پتوں کے گرنے کے لیے
کوئی خاص دھن مقرر نہیں
جہاں ہوا چلنے پر
درخت ایک دوسرے سے باتیں نہیں کر سکتے
جہاں تیز آواز والے پرندے
اور گہری رنگت والے پھول بہت کم ہیں۔
مجھ سے باہر ایک جنگل ہے
جہاں ہر شام
میں درختوں کے درمیان
دھوپ کو آخری بار دیکھتا ہوں
اور باہر نکل جاتا ہوں
——
آپ کیا کرتے ہیں؟
میں درخت لگاتا ہوں
ہر رات ایک نیا درخت
صبح ہونے تک آسمان سے جا لگتا ہے
میرا درخت
اب تک تو جنگل بن گیا ہو گا؟
ہاں کئی جنگل
سب کے سب آسمان سے ملے ہوئے
لیکن کسی میں دھوپ نہیں ہوتی
اور جانور؟ اور پرندے؟
وہ کیا کرتے ہیں؟
سب ہیں، بیٹھے رہتے ہیں
ایک ہی درخت کے نیچے
جو میں نے سب سے پہلے لگایا تھا
اور آپ کہاں رہتے ہیں؟
میں اسی درخت کے اندر
——
یہ آسمان ہے
——
یہ آسمان ہے
اور یہ میرے آنسو
میں آسمان کو دیکھتا ہوں
اور نظم لکھتا ہوں
میں آسمان کو دیکھتا ہوں
اور محبت کرتا ہوں
میں آسمان کو دیکھتا ہوں
اور اداس نہیں ہوتا
آسمان میرے آنسوؤں کو
ہوا سے خشک نہیں کرتا
آسمان میرے آنسوؤں کو
چھوٹے چھوٹے بادل نہیں بناتا
آسمان میرے آنسو
ستاروں تک نہیں لے جاتا
میں اپنے آنسوؤں سے
نرگس کے پھول بناؤں گا
میں اپنے آنسوؤں سے
ایک سیڑھی بناؤں گا
میں ہمیشہ کے لیے آسمان کو
اپنے ایک آنسو میں بند کر لوں گا
…………………….


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/