اتوار, اپریل 12, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںکبھی آنکھوں پہ، کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا زندگی تلخ ...

کبھی آنکھوں پہ، کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا زندگی تلخ …

کبھی آنکھوں پہ، کبھی سر پہ بٹھائے رکھنا
زندگی تلخ سہی، دل سے لگائے رکھنا

لفظ تو لفظ ہیں، کاغذ سے بھی خوشبو پھوٹے
صفحۂ وقت پہ وہ پھول کھلائے رکھنا

چاند کیا چیز ہے؟ سورج بھی ابھر آئے گا
ظلمتِ شب میں لہو دل کا جلائے رکھنا

حرمتِ حرف پہ الزام نہ آنے پائے!
سخنِ حق کو سرِ دار سجائے رکھنا

فرش تو فرش، فلک پر بھی سنائی دے گا
مری آواز میں آواز ملائے رکھنا

بخشؔ سیکھا ہے شہیدانِ وفا سے ہم نے
ہاتھ کٹ جائیں، علَم منہ سے اٹھائے رکھنا

(بخشؔ لائلپوری)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/