گفتگو کسی سے ہو، تیرا دھیان رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے، سلسلہ تکلم کا
——
خوش بیان شاعر فرید جاوید کا یومِ پیدائش
08 April 1927
(پیدائش: 8 اپریل، 1927ء – وفات: 27 دسمبر، 1977ء)
فرید جاوید کے اشعار
——
غزل کے حسن کا احساس اس کو کیا جاوید
خلوص نرمیٔ گفتار کو جو پا نہ سکے
——
گھر سے نکلے تھے کہ وہ دیوار و در کافی نہ تھے
اُف یہ ویرانہ کہ اک شوریدہ سر کافی نہیں
——
وہ ہاتھ کسی اور کی قسمت میں ہیں شاید
آ برگِ حِنا تجھ کو ہی آنکھوں سے لگا لیں
——
میں مسکرا تو دیا اُن کی بے نیازی پر
یہ کیا کہ دل پہ لگی چوٹ مسکرانے سے
——
زندگی کو بہت عزیز ہوں میں
ڈھونڈ لیتے ہیں حادثات مجھے
——
چھیڑ دیا پھر دل نے راگ
ہم سمجھے تھے بجھ گئی آگ
——
کیا خبر تھی یہ دن بھی آئیں گے
جی کڑا کر کے مسکرائیں گے
——
کیا کیا نازک دور الم کے
بیت گئے اور یاد نہ آئے
——
زندگی برستی ہے دورِ جام چلنے تک
زندگی کے متوالو دورِ جام چلنے دو
——
رات جاگی ہوئی ہے ہوا مہرباں
پھر یہ لمحے کہاں آج پیتے رہو
——
زندگی سے گریز کیا کرتے
زندگی میکدے میں لائی ہے
——
مرے رفیق مرے آنسوؤں پر غور نہ کر
چھلک گیا ہے کہ لبریز ہو گیا تھا جام
———-
نکہتیں، رنگ و نور، نغمہ و جام
اک کہانی ہے اور کتنے نام
——
جام صہبا کسے نصیب ہوا
ہم ہیں اور تشنگی کا عالم ہے
——
اپنی تنہائی سے گھبرا کے کہاں جاؤ گے
اپنی تنہائی کو سینے سے لگا لو یارو
——
ذہن میں آہٹیں ہیں نغموں کی
آ رہا ہے لبوں پہ کس کا نام
——
ساز دل کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تو نے
ساز دل کے تاروں کی بات بھی سنی ہوتی
——
جلوہ فشاں ہے آفتاب آپ کا انتظار ہے
آپ کا انتظار ہے ڈوب رہا ہے آفتاب
——
کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں
یوں بھی ہماری راہ میں گردش روز گار ہے
——
دھیما دھیما سہی الجھے ہوئے انفاس کا راگ
ایک آواز تو ہے دل کے بہلنے کے لیے
——
گھر کی یاد ظالم ہے لَو دیئے ہی جائے گی
گھر تو ہم بنا لیں گے اجنبی دیاروں میں
——
ہم جو شعلۂ جاں کی لَو نہ تیز کر دیتے
آج غم کی راہوں میں کتنی تیرگی ہوتی
——
کتنی ظالم ہے زندگی جاوید
میں نے دیکھا ہے حسن کو مغموم
——
اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں
کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم کا
——
کہہ کے جانِ غزل تجھے ہم نے
اپنی کم مائیگی چھپائی ہے
——
میرے ہی دل کی دھڑکنیں ہوں گی
تم مرے پاس سے کہاں گزرے
——
کسے بتاؤں مرے دل پہ کیا گزرتی ہے
جہاں میں پُرسشِ احوال کا ہے کیوں دستور
——
غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج
کھلی فضا میں کہیں دور جا کے رو لیں آج
کسے خبر ہے کہ کل زندگی کہاں لے جائے
نگاہ یار تیرے ساتھ ہی نہ ہو لیں آج
——
حسرت و محبت سے دیکھتے رہو جاوید
ہاتھ آ نہیں سکتا حسن ماہ و انجم کا
——
چاہے پھول بن جائیں چاہے آگ برسائیں
بس یہی کہ اپنا لو حسن کے شراروں کو
——
سحر انگیز چاند کی کرنیں
کہہ رہی ہے کہ تم یہاں ہوتے
——
نگہت و رنگ کا شعر و آہنگ کا
منتشر ہو گیا کارواں دوستو
——
ہر منظرِ چمن ہے سزا وار شوقِ دید
جشن بہار و رقص خزاں دیکھتے چلو
——
مجھے خیال اُن دل گرفتہ کلیوں کا
جنھیں نسیمِ سحر چھیڑ دے کھلا نہ سکے
——
گمرہی بھی تو ایک منزل ہے
راستے یوں بھی ہو رہے ہیں طے
——
چوم لے میکدے کی رات مجھے
سخت تھا دن کا بوجھ اتار آیا
——
سکوتِ نیم شبی ہے کہ ڈھل رہی ہے شراب
یہ چاندنی ہے کہ تیرے خیال کا سایہ
——
میکدے کے سوا ملی ہے کہاں
اور دنیا میں روشنی ہے کہاں
——
تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو
شعر کہتے رہو زہر پیتے رہو
…………………….
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے، سلسلہ تکلم کا
——
خوش بیان شاعر فرید جاوید کا یومِ پیدائش
08 April 1927
(پیدائش: 8 اپریل، 1927ء – وفات: 27 دسمبر، 1977ء)
فرید جاوید کے اشعار
——
غزل کے حسن کا احساس اس کو کیا جاوید
خلوص نرمیٔ گفتار کو جو پا نہ سکے
——
گھر سے نکلے تھے کہ وہ دیوار و در کافی نہ تھے
اُف یہ ویرانہ کہ اک شوریدہ سر کافی نہیں
——
وہ ہاتھ کسی اور کی قسمت میں ہیں شاید
آ برگِ حِنا تجھ کو ہی آنکھوں سے لگا لیں
——
میں مسکرا تو دیا اُن کی بے نیازی پر
یہ کیا کہ دل پہ لگی چوٹ مسکرانے سے
——
زندگی کو بہت عزیز ہوں میں
ڈھونڈ لیتے ہیں حادثات مجھے
——
چھیڑ دیا پھر دل نے راگ
ہم سمجھے تھے بجھ گئی آگ
——
کیا خبر تھی یہ دن بھی آئیں گے
جی کڑا کر کے مسکرائیں گے
——
کیا کیا نازک دور الم کے
بیت گئے اور یاد نہ آئے
——
زندگی برستی ہے دورِ جام چلنے تک
زندگی کے متوالو دورِ جام چلنے دو
——
رات جاگی ہوئی ہے ہوا مہرباں
پھر یہ لمحے کہاں آج پیتے رہو
——
زندگی سے گریز کیا کرتے
زندگی میکدے میں لائی ہے
——
مرے رفیق مرے آنسوؤں پر غور نہ کر
چھلک گیا ہے کہ لبریز ہو گیا تھا جام
———-
نکہتیں، رنگ و نور، نغمہ و جام
اک کہانی ہے اور کتنے نام
——
جام صہبا کسے نصیب ہوا
ہم ہیں اور تشنگی کا عالم ہے
——
اپنی تنہائی سے گھبرا کے کہاں جاؤ گے
اپنی تنہائی کو سینے سے لگا لو یارو
——
ذہن میں آہٹیں ہیں نغموں کی
آ رہا ہے لبوں پہ کس کا نام
——
ساز دل کے تاروں کو چھیڑ تو دیا تو نے
ساز دل کے تاروں کی بات بھی سنی ہوتی
——
جلوہ فشاں ہے آفتاب آپ کا انتظار ہے
آپ کا انتظار ہے ڈوب رہا ہے آفتاب
——
کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں
یوں بھی ہماری راہ میں گردش روز گار ہے
——
دھیما دھیما سہی الجھے ہوئے انفاس کا راگ
ایک آواز تو ہے دل کے بہلنے کے لیے
——
گھر کی یاد ظالم ہے لَو دیئے ہی جائے گی
گھر تو ہم بنا لیں گے اجنبی دیاروں میں
——
ہم جو شعلۂ جاں کی لَو نہ تیز کر دیتے
آج غم کی راہوں میں کتنی تیرگی ہوتی
——
کتنی ظالم ہے زندگی جاوید
میں نے دیکھا ہے حسن کو مغموم
——
اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں
کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم کا
——
کہہ کے جانِ غزل تجھے ہم نے
اپنی کم مائیگی چھپائی ہے
——
میرے ہی دل کی دھڑکنیں ہوں گی
تم مرے پاس سے کہاں گزرے
——
کسے بتاؤں مرے دل پہ کیا گزرتی ہے
جہاں میں پُرسشِ احوال کا ہے کیوں دستور
——
غبار دل پہ بہت آ گیا ہے دھو لیں آج
کھلی فضا میں کہیں دور جا کے رو لیں آج
کسے خبر ہے کہ کل زندگی کہاں لے جائے
نگاہ یار تیرے ساتھ ہی نہ ہو لیں آج
——
حسرت و محبت سے دیکھتے رہو جاوید
ہاتھ آ نہیں سکتا حسن ماہ و انجم کا
——
چاہے پھول بن جائیں چاہے آگ برسائیں
بس یہی کہ اپنا لو حسن کے شراروں کو
——
سحر انگیز چاند کی کرنیں
کہہ رہی ہے کہ تم یہاں ہوتے
——
نگہت و رنگ کا شعر و آہنگ کا
منتشر ہو گیا کارواں دوستو
——
ہر منظرِ چمن ہے سزا وار شوقِ دید
جشن بہار و رقص خزاں دیکھتے چلو
——
مجھے خیال اُن دل گرفتہ کلیوں کا
جنھیں نسیمِ سحر چھیڑ دے کھلا نہ سکے
——
گمرہی بھی تو ایک منزل ہے
راستے یوں بھی ہو رہے ہیں طے
——
چوم لے میکدے کی رات مجھے
سخت تھا دن کا بوجھ اتار آیا
——
سکوتِ نیم شبی ہے کہ ڈھل رہی ہے شراب
یہ چاندنی ہے کہ تیرے خیال کا سایہ
——
میکدے کے سوا ملی ہے کہاں
اور دنیا میں روشنی ہے کہاں
——
تم ہو شاعر مری جان جیتے رہو
شعر کہتے رہو زہر پیتے رہو
…………………….

