کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا
کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا
..
ابرار اعظمی کا یوم وفات
07 اپریل 1936
نام :ابرار حسین خاں
پیدائش :05 Feb 1936 | گورکھپور, اتر پردیش
وفات : Apr 07، 2020 | اعظم گڑہ, اتر پردیش
…
تمام رات وہ پہلو کو گرم کرتا رہا
کسی کی یاد کا نشہ شراب جیسا تھا
…
پرندے فضاؤں میں پھر کھو گئے
دھواں ہی دھواں آشیانوں میں تھا
…
مجھے بھی فرصت نظارۂ جمال نہ تھی
اور اس کو پاس کسی اور کے بھی جانا تھا
…
شاید تمہاری یاد مرے پاس آ گئی
یا ہے مرے ہی دل کی صدا سوچنا پڑا
…
آوازوں کا بوجھ اٹھائے صدیوں سے
بنجاروں کی طرح گزارہ کرتا ہوں
….
میں نے کل توڑا اک آئینہ تو محسوس ہوا
اس میں پوشیدہ کوئی چیز تھی جوہر جیسی
….
چہروں کے میلے جسموں کے جنگل تھے ہر جگہ
ان میں کہیں بھی کوئی مگر آدمی نہ تھا
…..
خوش نما دیوار و در کے خواب ہی دیکھا کئے
جسم صحرا ذہن ویراں آنکھ گیلی ہو گئی
…
کس کا ہے جرم کس کی خطا سوچنا پڑا
رہتے ہیں کیوں وہ ہم سے خفا سوچنا پڑا
گل کی ہنسی میں رقص نجوم و قمر میں بھی
شامل ہے کتنی تیری ادا سوچنا پڑا
جب بھی مری وفاؤں کی بات آ گئی کہیں
ان کو پھر ایک عذر جفا سوچنا پڑا
غنچے اداس گل ہیں فسردہ چمن چمن
کس کا کرم ہے باد صبا سوچنا پڑا
شاید تمہاری یاد مرے پاس آ گئی
یا ہے مرے ہی دل کی صدا سوچنا پڑا
جب بھی کوئی بھٹک کے سر راہ آ گیا
کتنی کٹھن ہے راہ وفا سوچنا پڑا
زنداں کی بات دار کے چرچے رسن کا ذکر
کتنی عجب ہے طبع رسا سوچنا پڑا
…
دھوپ چمکی رات کی تصویر پیلی ہو گئی
دن گیا اور سرد تاریکی نُکیلی ہو گئی
جانے کس کی جستجو میں اس قدر گھوما کئے
ہم جواں مردوں کی ہر پوشاک ڈھیلی ہو گئی
مے کدہ سے گھر کی جانب خود بہ خود کیوں آ گئے
سرد کمرے کی فضا کیا پھر نشیلی ہو گئی
ہم سرابوں کے سفر کے اس قدر عادی ہوئے
جل بھری ندیوں کی لذت بھی کسیلی ہو گئی
خوش نما دیوار و در کے خواب ہی دیکھا کئے
جسم صحرا، ذہن ویراں، آنکھ گیلی ہو گئی
….
کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا
کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا
بستر میں چلی آئیں مچلتی ہوئی کرنیں
آغوش میں تکیہ تھا سو انجان بنا تھا
وہ میں تھا مرا سایہ تھا یا سائے کا سایہ
آئینہ مقابل تھا میں حیران بنا تھا
نظروں سے چراتا رہا جسموں کی حلاوت
سنتے ہیں کوئی صاحب ایمان بنا تھا
ندی میں چھپا چاند تھا ساحل پہ خموشی
ہر رنگ لہو رنگ کا زندان بنا تھا
حرفوں کا بنا تھا کہ معانی کا خزینہ
ہر شعر مرا بحث کا عنوان بنا تھا
……………………..
کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا
..
ابرار اعظمی کا یوم وفات
07 اپریل 1936
نام :ابرار حسین خاں
پیدائش :05 Feb 1936 | گورکھپور, اتر پردیش
وفات : Apr 07، 2020 | اعظم گڑہ, اتر پردیش
…
تمام رات وہ پہلو کو گرم کرتا رہا
کسی کی یاد کا نشہ شراب جیسا تھا
…
پرندے فضاؤں میں پھر کھو گئے
دھواں ہی دھواں آشیانوں میں تھا
…
مجھے بھی فرصت نظارۂ جمال نہ تھی
اور اس کو پاس کسی اور کے بھی جانا تھا
…
شاید تمہاری یاد مرے پاس آ گئی
یا ہے مرے ہی دل کی صدا سوچنا پڑا
…
آوازوں کا بوجھ اٹھائے صدیوں سے
بنجاروں کی طرح گزارہ کرتا ہوں
….
میں نے کل توڑا اک آئینہ تو محسوس ہوا
اس میں پوشیدہ کوئی چیز تھی جوہر جیسی
….
چہروں کے میلے جسموں کے جنگل تھے ہر جگہ
ان میں کہیں بھی کوئی مگر آدمی نہ تھا
…..
خوش نما دیوار و در کے خواب ہی دیکھا کئے
جسم صحرا ذہن ویراں آنکھ گیلی ہو گئی
…
کس کا ہے جرم کس کی خطا سوچنا پڑا
رہتے ہیں کیوں وہ ہم سے خفا سوچنا پڑا
گل کی ہنسی میں رقص نجوم و قمر میں بھی
شامل ہے کتنی تیری ادا سوچنا پڑا
جب بھی مری وفاؤں کی بات آ گئی کہیں
ان کو پھر ایک عذر جفا سوچنا پڑا
غنچے اداس گل ہیں فسردہ چمن چمن
کس کا کرم ہے باد صبا سوچنا پڑا
شاید تمہاری یاد مرے پاس آ گئی
یا ہے مرے ہی دل کی صدا سوچنا پڑا
جب بھی کوئی بھٹک کے سر راہ آ گیا
کتنی کٹھن ہے راہ وفا سوچنا پڑا
زنداں کی بات دار کے چرچے رسن کا ذکر
کتنی عجب ہے طبع رسا سوچنا پڑا
…
دھوپ چمکی رات کی تصویر پیلی ہو گئی
دن گیا اور سرد تاریکی نُکیلی ہو گئی
جانے کس کی جستجو میں اس قدر گھوما کئے
ہم جواں مردوں کی ہر پوشاک ڈھیلی ہو گئی
مے کدہ سے گھر کی جانب خود بہ خود کیوں آ گئے
سرد کمرے کی فضا کیا پھر نشیلی ہو گئی
ہم سرابوں کے سفر کے اس قدر عادی ہوئے
جل بھری ندیوں کی لذت بھی کسیلی ہو گئی
خوش نما دیوار و در کے خواب ہی دیکھا کئے
جسم صحرا، ذہن ویراں، آنکھ گیلی ہو گئی
….
کمرے میں دھواں درد کی پہچان بنا تھا
کل رات کوئی پھر مرا مہمان بنا تھا
بستر میں چلی آئیں مچلتی ہوئی کرنیں
آغوش میں تکیہ تھا سو انجان بنا تھا
وہ میں تھا مرا سایہ تھا یا سائے کا سایہ
آئینہ مقابل تھا میں حیران بنا تھا
نظروں سے چراتا رہا جسموں کی حلاوت
سنتے ہیں کوئی صاحب ایمان بنا تھا
ندی میں چھپا چاند تھا ساحل پہ خموشی
ہر رنگ لہو رنگ کا زندان بنا تھا
حرفوں کا بنا تھا کہ معانی کا خزینہ
ہر شعر مرا بحث کا عنوان بنا تھا
……………………..

