اتوار, اپریل 12, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںیہ بھی نہیں کہ دستِ دعا تک نہیں گیا میرا سوال خلقِ...

یہ بھی نہیں کہ دستِ دعا تک نہیں گیا میرا سوال خلقِ…

یہ بھی نہیں کہ دستِ دعا تک نہیں گیا
میرا سوال خلقِ خدا تک نہیں گیا
..
فیصل عجمی کا یوم پیدائش
(پیدائش: 7 اپریل 1954ء)
——
منتخب کلام
——
پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا
خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا
——
وہ مجھے چھوڑ گیا زہر بھرے چشمے پر
اس کو معلوم تھا اور میں نے اتر کر جانا
——
آج معلوم ہوا بارِ ندامت کیا ہے
آنکھ جھک جاتی ہے کس طرح طلب سے پہلے
——
میرے سب کام مری ماں کی دعاؤں سے ہوئے
ورنہ دوزخ نہ کبھی سرد ہواؤں سے ہوئے
——
اک شجر پہ کستی ہے روز دھوپ آوازے
اور وہ کچھ نہیں کہتا، بے زبان کیسا ہے
——
سنگ مت پھینک ٹھہرنے دے ذرا پانی کو
ورنہ اس جھیل میں مہتاب نہیں آئے گا
——
ہم ٹوٹ کے روئے بھی تو دیکھا نہ کسی نے
وہ شب تھی اماو س کی ستارے بھی نہیں تھے
——
ہو گئی شام تو کشکول الٹ کر دیکھا
اتنے سکے تھے کہ لوگوں نے پلٹ کر دیکھا
——
صبح کو رات میں داخل بھی وہی کرتا ہے
درمیاں شام کو حائل بھی وہی کرتا ہے
وہی گویائی عطا کرتا ہے رفتہ رفتہ
پھر زباں حمد کے قابل بھی وہی کرتا ہے
حوصلہ دیتا ہے وہ بے سر و سامانی میں
دل کو دنیا کے مقابل بھی وہی کرتا ہے
وقت اس کا ہے، زماں اُس کے، زمانے اُس کے
ان کو احساس پہ نازل بھی وہی کرتا ہے
بارشیں اُس کی ہیں، بہتے ہوئے دریا اُس کے
ان کو صحراؤں سے غافل بھی وہی کرتا ہے
امتحاں لیتا ہے بے رحم سمندر میں وہی
پھر عطا ناؤ کو ساحل بھی وہی کرتا ہے
لوحِ محفوظ پہ تحریر ہے تقدیر کے بعد
سعی کرتا ہے جو حاصل بھی وہی کرتا ہے
حمد ہونٹوں پہ ہے دھڑکن میں ثنا ہے فیصلؔ
میں جو کرتا ہوں مرا دل بھی وہی کرتا ہے
——
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے
پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
میں بھی رکتا ہوں مگر ریگِ رواں کی صورت
میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے
تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں
کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے
جسم تھکتا نہیں چلنے سے کہ وحشت کا سفر
خواب میں نقلِ مکانی کی طرح ہوتا ہے
چاند ڈھلتا ہے تو اس کا بھی مجھے دکھ فیصل
کسی گم گشتہ نشانی کی طرح ہوتا ہے
——
ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے
مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے
ہے کوئ سخی اس کی طرف دیکھنے والا
یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے
حصہ ہے کسی اور کا اس کارِ زیاں میں
سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے
سانپوں میں عصا پھینک کے اب محوِ دعا ہوں
معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے
دنیا کے بجھا نے سے بجھی ہے نہ بجھے گی
اس آگ کو تقدیر نے دہکایا ہوا ہے
کیا دھوپ ہے جو ابر کے سینے سے لگی ہے
صحرا بھی اسے دیکھ کے شرمایا ہوا ہے
اصرار نہ کر میرے خرابے سے چلا جا
مجھ پر کسی آسیب کا دل آیا ہوا ہے
تو خوابِ دگر ہے تری تدفین کہاں ہو
دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے
——
اک چٹائی ہے ،مصّلیٰ ہے ، کتب خانہ ہے
رہنا سہنا ترے درویش کا شاہانہ ہے
رونے والوں کی صدا آتی ہے ہر رات مجھے
دل نہیں ہے مرے سینے میں عزا خانہ ہے
یہ جو دنیا ہے تعاقب میں ،سمجھ والی ہے
یہ جو زنجیر لیے پھرتا ہے ، دیوانہ ہے
ہم سے پہلے سگِ درویش بتا دے گا تمہیں
کس کا کھانا ہے میاں ،کس کا نہیں کھانا ہے
میں نے دنیا سے محبت تو کبھی کی ہی نہیں
وہ تو اک ضد تھی کہ پا کر اسے ٹھکرانا ہے
…………………………….


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/