اتوار, اپریل 12, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںاپنی کتابِ زیست پہ تنقید کے لئے آخر میں چند سادہ و...

اپنی کتابِ زیست پہ تنقید کے لئے آخر میں چند سادہ و…

اپنی کتابِ زیست پہ تنقید کے لئے
آخر میں چند سادہ ورق چھوڑ جاوں گا

آج نامور شاعر، دانشورفخرالدین بلے کا یوم پیدائش ہے
April 06, 1930
نامور شاعر ،ادیب،دانشور اورسابق ڈائریکٹرجنرل تعلقات عامہ پنجاب سید فخرالدین بلے کی برسی آج منائی جارہی ہے ۔فخرالدین بلے کاشمار ان شخصیات میں ہوتاہے جنہوں نے شعر وادب اور فنون لطیفہ کے فروغ کے لئے گراں قدرخدمات سرانجام دیں۔وہ ملتان اوربہاولپورمیں آرٹس کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ملتان آرٹس کونسل میں 1982میں فخرالدین بلے نے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے 25روزہ جشن تمثیل منعقد کیا ، جو اب تک سٹیج ڈراموں کاسب سے بڑا میلہ ہے۔اس جشن تمثیل کے نتیجے میں سہیل اصغر ،زاہدسلیم ،محسن گیلانی جیسے فنکار متعارف ہوئے جنہوں نے بعدازاں ملک گیر شہرت حاصل کی ۔فخرالدین بلے 6 اپریل 1930ءکو میرٹھ میں پیداہوئے۔انہوں نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم ایس سی کی ۔فخرالدین بلے نے تحریک پاکستان میں بھی بھرپورحصہ لیا۔علی گڑھ میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔فخرالدین بلے اطلاعات ،تعلقات عامہ ،سیاحت ،آرٹس کونسل ،سوشل ویلفیئر ،وزارت مذہبی امور اورسمندرپارپاکستانیوں کی وزارت میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔
۔وہ 28جنوری 2004ءکو دل کادورہ پڑنے سے ملتان میں انتقال کرگئے

آگ پانی میں ہے کیا فرق کہ ہم سب کے بدن
کبھی بارش میں، کبھی دھوپ میں نم ہوتے ہیں
..
میں تو لے آیا ہوں ایمان فرشتوں پہ،مگر
ان کا کیا ہوگا بھلا مجھ سے جو کم بھولے ہیں
..
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے
خود آگہی کی ضرورت ہے بے خودی کے لئے
..
کھڑا ہوں جادہ ءحیرت پہ آج بھی تنہا
کبھی تو کوئی مسافر ادھر سے گزرے گا
….
دیدہ وروں کے شہر میں ہر ایک پستہ قد
پنجوں کے بل کھڑا ہے، کہ اونچا دکھائی دے

پینے والے تو ہمہ وقت پیا کرتے ہیں
رندِ بدمست کو پابندی اوقات سے کیا

کسی نے توڑ دیا ، دل کو دل لگی کے لیے
کوئی تڑپتا رہا عمر بھی کسی کے لئے
….
کیا چاہتا تھا اور یہ کیا دے گیا مجھے
قاتل بھی زندگی کی دعا دے گیا مجھے

میں جانتا ہوں مگر تو بھی آئینہ لے کر
مجھے بتا کہ مرا انتخاب کیسا ہے؟

اٹھائے پھرتا ہوں سر اپنے تن کے نیزے پر
ہوئی ہے تنگ زمیں مجھ پہ کربلا کی طرح

اتنا بڑھا بشر، کہ ستارے ہیں گردِ راہ
اتنا گھٹا، کہ خاک پہ سایہ سا رہ گیا
ہنگامہ ہائے کارگہِ روز و شب نہ پوچھ
اتنا ہجوم تھا ، کہ میں تنہا سا رہ گیا

سر اٹھا کر زمیں پہ چلتا ہوں
سر چھپانے کو گھر نہیں نہ سہی

ہم نے اے دوست ! خودکشی کے لئے
آستینوں میں سانپ پالے ہیں

یوں صاف بیانی کی جسارت نہیں ہوتی
ممکن ہے مری بات گوارا نہ کریں آپ

کر دیا دفن مجھے زیرِ زمیں یاروں نے
میں نے جب گردشِ دوراں سے نکلنا چاہا

شہر کے محتسب ہمیں بھی دکھا
ایسا دامن جو داغدار نہیں
….
اگلی صف میں جو لوگ بیٹھے ہیں
تن کے اجلے ہیں من کے کالے ہیں
..
پڑا ہوا ہے بہت سے چہروں پہ مستقل جو غبار کیا ہے
ذرا کبھی آئینوں سے پوچھو، نگاہ کا اعتبار کیا ہے
یہ زندگانی تو یوں لگے ہے، ہوکھیل کٹھ پتلیوں کا جیسے
ہے اور ہاتھوں میں ڈور ہی جب تو پھر مرا اختیار کیا ہے
شکستہ دل ہیں بہت سی کلیاں ،بدن دریدہ ہیں پھول سارے
ہیں خار زاروں میں قید آنکھیں، کہ جانتی ہیں بہار کیا ہے
پلے ہیں جو دل کی دھڑکنوں میں ، لہو ہے جن کی رگوں میں جاری
بھلا انہیں کوئی کیا بتائے، سکون کیا ہے قرار کیا ہے
زمیں کو گھیرے سمندروں اور ہوا کے طبقوں کا رقص پیہم
خلا میں یا رب ! یہ طرفگی ءحصار اندر حصار کیا ہے
وہ دیدہ ور ہے جو آبدیدہ ، مدام ہے جس کی مسکراہٹ
اسی سے پوچھو، کہ بار و کربِ لب تبسم شعار کیا ہے
ہے پیار کا کھیل مصلحت اور خیالِ سود و زباں سے بالا
لگا ہی لی ہے جو دل کی بازی تو جیت کیا اور ہار کیا ہے
……………………..


RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/