آقا ﷺ
میں جب اپنے اندر جھانکتی ہوں
تو وہاں کوئی مضبوط ایمان نہیں
بس ذلیل کر دینے والی خواہشیں،
بکھری ہوئی نیتیں
اور ایک کرچی کرچی دل
جو ہر سمت سے ہارا ہوا ہے۔
یا رسول اللہ ﷺ
میں آپ کے سامنے
اپنی نیکیوں کا انبار نہیں رکھتی
کیونکہ میرے ہاتھ خالی ہیں۔
میں اپنے گناہوں کی فہرست بھی نہیں پڑھتی،
کیونکہ میری زبان ساتھ نہیں دیتی۔
میں بس
اپنی بے بسی لائی ہوں
برہنہ، سچّی، لرزتی ہوئی۔
وہ بے بسی
جو رات کے آخری پہر
آنکھوں سے پہلے جاگ اٹھتی ہے،
جو سجدے میں ماتھا رکھنے سے پہلے
دل کو توڑ دیتی ہے،
جو کہتی ہے
”میں نے خود کو رد کیا مگر اب اور نہیں“
آقا ﷺ
میں جانتی ہوں
یہ دربار دلیل نہیں مانگتا،
یہاں منطق نہیں چلتی،
یہاں سکہ صرف ٹوٹا ہوا دل
ہے تو آپ نظر ڈالیے نا
میرا کشکول انہیں سکوں سے بھرا ہے
میں آپ ﷺ کے سامنے
اپنی خاموشی کو گواہ بناتی ہوں
وہ خاموشی
جس میں رات کی وہ چیخیں دفن ہیں جو میرا رب جانتا ہے
وہ آنسو
جو ابھی گرے نہیں
مگر دل کو بھگو چکے ہیں۔
یا نبی ﷺ
اگر کبھی
آپ کے سامنے
میرا سر زیادہ جھکا ہوا ہو،
تو اسے عجز نہ سمجھئے گا،
یہ وہ بوجھ ہے
جو میں خود سے اٹھا نہیں پائی
میرا اقرار کہ میرا ربّ
شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ قرب
جس کی جگہ
کسی اور کے لیے نہیں تھی۔
مگر میں نے دی
سو میرے حصے میں
رد کی خاموشی لکھ دی گئی
مگر میں بے بس آپ کے سامنے پیش ہوں کہ
یہاں مول ہی بےبس دھتکارے ہوئے کا لگتا ہے
آقا ﷺ
میرا دل ٹوٹ کر یہ کہتے ہوئے آپ کے نام پر آ ٹھہرا ہے
یا رسول اللہ انظر حالنا
یا حبیب اللہ اسمع قالنا
اننی فی بحر ھم مغرق
خذ یدی سہل لنا اشکالنا
منتخب
Source









