جمعرات, جنوری 15, 2026
الرئيسية بلوق

اعترافِ شکستگی آقا ﷺ میں جب اپنے اندر جھانکتی ہوں تو وہاں کوئی مضبوط ایمان نہیں…

0
اعترافِ شکستگی
آقا ﷺ
میں جب اپنے اندر جھانکتی ہوں
تو وہاں کوئی مضبوط ایمان نہیں
بس ذلیل کر دینے والی خواہشیں،
بکھری ہوئی نیتیں
اور ایک کرچی کرچی دل
جو ہر سمت سے ہارا ہوا ہے۔
یا رسول اللہ ﷺ
میں آپ کے سامنے
اپنی نیکیوں کا انبار نہیں رکھتی
کیونکہ میرے ہاتھ خالی ہیں۔
میں اپنے گناہوں کی فہرست بھی نہیں پڑھتی،
کیونکہ میری زبان ساتھ نہیں دیتی۔
میں بس
اپنی بے بسی لائی ہوں
برہنہ، سچّی، لرزتی ہوئی۔
وہ بے بسی
جو رات کے آخری پہر
آنکھوں سے پہلے جاگ اٹھتی ہے،
جو سجدے میں ماتھا رکھنے سے پہلے
دل کو توڑ دیتی ہے،
جو کہتی ہے
”میں نے خود کو رد کیا مگر اب اور نہیں“
آقا ﷺ
میں جانتی ہوں
یہ دربار دلیل نہیں مانگتا،
یہاں منطق نہیں چلتی،
یہاں سکہ صرف ٹوٹا ہوا دل
ہے تو آپ نظر ڈالیے نا
میرا کشکول انہیں سکوں سے بھرا ہے
میں آپ ﷺ کے سامنے
اپنی خاموشی کو گواہ بناتی ہوں
وہ خاموشی
جس میں رات کی وہ چیخیں دفن ہیں جو میرا رب جانتا ہے
وہ آنسو
جو ابھی گرے نہیں
مگر دل کو بھگو چکے ہیں۔
یا نبی ﷺ
اگر کبھی
آپ کے سامنے
میرا سر زیادہ جھکا ہوا ہو،
تو اسے عجز نہ سمجھئے گا،
یہ وہ بوجھ ہے
جو میں خود سے اٹھا نہیں پائی
میرا اقرار کہ میرا ربّ
شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ قرب
جس کی جگہ
کسی اور کے لیے نہیں تھی۔
مگر میں نے دی
سو میرے حصے میں
رد کی خاموشی لکھ دی گئی
مگر میں بے بس آپ کے سامنے پیش ہوں کہ
یہاں مول ہی بےبس دھتکارے ہوئے کا لگتا ہے
آقا ﷺ
میرا دل ٹوٹ کر یہ کہتے ہوئے آپ کے نام پر آ ٹھہرا ہے
یا رسول اللہ انظر حالنا
یا حبیب اللہ اسمع قالنا
اننی فی بحر ھم مغرق
خذ یدی سہل لنا اشکالنا

منتخب


Source

صرف آفتیں اور مصیبتیں ہی نہیں کچھ انسان بھی ہمارے لیے آزمائش ہوتے ہیں ہم ان سے ا…

0
صرف آفتیں اور مصیبتیں ہی نہیں کچھ انسان بھی ہمارے لیے آزمائش ہوتے ہیں ہم ان سے امید لگاتے ہیں اور وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ دنیا کے کسی بھی بشر سے امید لگاؤ گے تو مایوسی مقدر بنے گی

💚💚💚💚


Source

میں ان سادہ لوح افراد کو پسند نہیں کرتا جو اچھے نمبروں سے اعلیٰ علمی مضامین میں …

0
میں ان سادہ لوح افراد کو پسند نہیں کرتا جو اچھے نمبروں سے اعلیٰ علمی مضامین میں مہارت حاصل کرتے ہیں مگر نہ تو موسیقی سنتے ہیں، نہ کسی شاعر کو جانتے ہیں، نہ کبھی کسی فلم کا لطف اٹھاتے ہیں اور نہ کبھی کوئی نظم لکھنے یا رنگوں کی آمیزش سے کوئی تصویر تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں ان لوگوں کو سمجھ نہیں پاتا جو ذاتی رسوم، عادات، یا باریکیوں سے خالی ہوتے ہیں، جو بٹنوں کے رنگ یا نشستوں کی لکڑی کی پروا نہیں کرتے، جو بغیر چائے کی نوعیت پر توجہ دیے کسی بھی گرم سرخ مائع کو قبول کر لیتے ہیں۔
زندگی تفصیلات میں ہے، احساسات میں ہے، ذائقے میں ہے۔ یہ ان لمحوں میں ہے جب آپ اپنے سر کو پرانے گانے کے کسی حصے پر غم، خوشی، یا لطف کی حالت میں جھٹکتے ہیں، یا پرانے محلے کی گلی سے آنے والی چنبیلی کی خوش بو سے دل لبھاتے ہیں۔

ــ جبرا ابراہیم جبرا، فلسطینی ناول نگار
ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی


Source

Commenting has been turned off for this post.

3
Commenting has been turned off for this post.


Source

آج 15 جنوری اردو کے نامور شاعر "محسن نقوی” کا یومِ…

آج 15 جنوری اردو کے نامور شاعر "محسن نقوی” کا یومِ وفات ہے۔
January 15, 1996

محسن نقوی کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا اور وہ 5 مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بہاﺅ الدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے اردو میں ایم اے کیا اور کم و بیش اسی زمانے میں ان کی شاعری اور ذاکری کا آغاز ہوا۔
1969ء میں ڈیرہ غازی خاں کے ہفت روزہ "ہلال” میں باقاعدہ ہفتہ وار قطعہ اور کالم لکھنا شروع کیا۔ اسی سال ملتان کے روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ہفتے وار کالم لکھے۔
محسن نقوی کا شمار اردو کے خوش گو شعرا میں ہوتا ہے ان کے شعری مجموعوں میں بندقبا، ردائے خواب، برگ صحرا، موج ادراک، ریزہ حرف، عذاب دید، طلوع اشک، رخت شب، فرات فکر، خیمہ جاں اور میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی شامل ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما تھے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
15جنوری 1996ء کو محسن نقوی لاہور میں نامعلوم قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ۔ وہ ڈیرہ غازی خان میں آسودہ خاک ہیں۔


‎اردو کلاسک‎ updated their cover photo.

‎اردو کلاسک‎ updated their cover photo.


او بھلے مانس! گل ذرا دھیان نال سن۔۔۔ یہ جو تم دن رات کتابوں کے ورق الٹتے ہو، یا…

0
او بھلے مانس! گل ذرا دھیان نال سن۔۔۔

یہ جو تم دن رات کتابوں کے ورق الٹتے ہو، یا موبائل کی اسکرین پر دنیا جہان کی معلومات اپنے دماغ میں ٹھونستے رہتے ہو، اس کو "سیکھنا” نہیں کہتے۔ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے تم نے باورچی خانے میں آٹا، دال، چاول اور گھی کے ڈھیر لگا لیے ہوں، لیکن ہانڈی چولہے پر چڑھائی ہی نہ ہو۔ اب راشن جمع کرنے سے تو پیٹ نہیں بھرتا نا؟ پیٹ تب بھرتا ہے، ذائقہ تب آتا ہے جب ہانڈی پکتی ہے۔

دیکھ پتر! سیکھنے کا اصل راز "جمع کرنے” میں نہیں، کچھ "بنانے” میں ہے۔

مطالعہ کیا ہے؟ یہ تمہیں صرف شعور دیتا ہے، جیسے اندھیرے میں کسی نے لالٹین جلا دی ہو۔ منصوبہ بندی کیا ہے؟ یہ تمہیں نقشہ دکھاتی ہے کہ راستہ ادھر کو جاتا ہے۔ لیکن یاد رکھ! نقشہ جتنا مرضی خوبصورت ہو، وہ تمہیں منزل پر پہنچا نہیں سکتا۔ منزل کی طرف سفر اسی لمحے شروع ہوتا ہے جب تم اپنی جگہ سے ہلتے ہو اور پہلا قدم اٹھاتے ہو۔

یہ جو عمل (Action) ہے نا، یہ بڑا ظالم اور سچا استاد ہے۔ جب تم میدان میں اترتے ہو، ہاتھ پاؤں ہلاتے ہو، تو غلطیاں ہوتی ہیں۔ اور ہونی بھی چاہئیں! کیونکہ یہی غلطیاں تمہارے کچے پن کو بے نقاب کرتی ہیں۔ جب تک تم ٹھوکر نہیں کھاؤ گے، تمہیں زمین کی سختی اور اپنے پاؤں کی کمزوری کا پتہ کیسے چلے گا؟ پانی میں اترو گے، ہاتھ پیر مارو گے، غوطے کھائو گے، ناک میں پانی جائے گا سانس پھولے گا تبھی جا کر تیراک بنو گے ناں!
سکوٹر چلانا شروع کرو تو وج وجا کر ہی سیدھا ہوتا ہے بندہ!

یہی غلطیاں تمہیں وہ "سمجھ بوجھ” عطا کرتی ہیں جو کسی یونیورسٹی کی ڈگری میں نہیں لکھی ہوتی۔ جب کوئی چیز تمہارے ہاتھ سے خراب ہوتی ہے، تو تم سیکھتے ہو کہ اسے ٹھیک کیسے کرنا ہے۔ بس اسی سمجھ بوجھ کی بنیاد پر "مہارت” کی اونچی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

تو اب میری یہ نصیحت اپنے پلے باندھ لو، گرہ لگا لو:

چھوٹے پیمانے سے شروع کرو: بڑے بڑے محلوں کے خواب دیکھنے سے پہلے ایک چھوٹی سی دیوار تو سیدھی کر لو۔

کچا پکا جیسا بھی ہے، بسم اللہ کرو: کام کے "پرفیکٹ” ہونے کا انتظار نہ کرو۔ پرفیکشن صرف خدا کی ذات میں ہے، انسان تو غلطیوں کا پتلا ہے۔ شروع کرو، چاہے کام ادھورا ہی کیوں نہ لگے۔

مرمت کرنا سیکھو: جو چیز ٹوٹ جائے، اس پر رونا نہیں، اسے جوڑنا ہے۔ اور جو چیز چل پڑے، اسے مانجھ کر چمکا لو۔

اور آخری بات، جو سب سے قیمتی ہے: یہ "خود اعتمادی” (Confidence) کوئی بازار سے ملنے والی پڑیا نہیں ہے کہ خریدی اور کھا لی۔ یہ کسی سے ادھار نہیں ملتی۔ یہ تو لوہار کی بھٹی کی طرح ہے، جب تم عمل کی آگ میں تپتے ہو، گر کر سنبھلتے ہو، تب جا کر یہ کندن بنتی ہے۔ یہ تمہاری اپنی کمائی ہوتی ہے، تمہارے پسینے کا اجر۔

ترقی کا بس یہی ایک سیدھا اور سچا راستہ ہے—باقی سب دل بہلانے کی باتیں ہیں۔ اٹھو! رب سوھنڑے کا نام لے کر مٹی گوندھنا شروع کرو، کوزہ تب ہی بنے گا-

منتخب


Source

دیسی ور فارمی انڈوں میں فرق۔۔۔ دیسی انڈے اور فارمی انڈے کی غذائیت میں فرق ہوتا …

0
دیسی ور فارمی انڈوں میں فرق۔۔۔

دیسی انڈے اور فارمی انڈے کی غذائیت میں فرق ہوتا ہے، لیکن یہ فرق اکثر جتنا سمجھا جاتا ہے اتنا بڑا نہیں ہوتا۔ اصل فرق انڈے سے زیادہ مرغی کی خوراک اور رہن سہن کی وجہ سے آتا ہے۔۔۔ مثال کے طور پر۔

1. پروٹین
دونوں انڈوں میں پروٹین تقریباً برابر ہوتا ہے۔ جسم کو توانا بنانے اور طاقت کے لیے دونوں مؤثر ہیں۔

2. چکنائی اور اومیگا 3
دیسی مرغی چونکہ کھلی جگہ میں رہتی ہے اور قدرتی خوراک لیتی ہے، اس کے انڈے میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کچھ زیادہ ہو سکتے ہیں۔ یہ دل اور دماغ کے لیے مفید ہیں۔ فارمی انڈے میں یہ مقدار عموماً کم ہوتی ہے، مگر فرق بہت زیادہ نہیں۔

3. وٹامنز
دیسی انڈے میں وٹامن A، D اور E نسبتاً زیادہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اگر مرغی دھوپ میں رہتی ہو۔ فارمی انڈوں میں بھی یہ وٹامنز موجود ہوتے ہیں، بعض اوقات فیڈ کے ذریعے شامل کیے جاتے ہیں۔

4. زردی کا رنگ
دیسی انڈے کی زردی گہری ہوتی ہے، جو قدرتی خوراک کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ لازمی نہیں کہ غذائیت بہت زیادہ ہو، مگر عموماً بہتر اور مفید سمجھی جاتی ہے۔

5. ذائقہ
اکثر لوگ دیسی انڈے کا ذائقہ بہتر سمجھتے ہیں، خاص طور پر ابلے یا دیسی کھانوں میں۔ یہ ذاتی پسند پر بھی منحصر ہے۔

اگر آپ کو صاف ستھرا، معیاری فارمی انڈا دیسی انڈے سے سستا مل رہا ہے تو وہ بھی غذائیت کے لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے۔ دیسی انڈا تھوڑا سا غذائی فائدہ دے سکتا ہے، مگر صحت مند رہنے کے لیے سب سے اہم چیز متوازن غذا ہے، صرف انڈے کی قسم نہیں۔

دیسی انڈا کن لوگوں کے لیے بہتر ہو سکتا ہے؟
جنہیں دل کی صحت کا زیادہ خیال ہو، کیونکہ اس میں اومیگا 3 نسبتاً بہتر ہو سکتا ہے۔
بچوں اور بزرگوں کے لیے، خاص طور پر اگر ان کی خوراک محدود ہو۔
وہ لوگ جو قدرتی خوراک کو ترجیح دیتے ہیں۔
کمزور یا بیماری کے بعد صحت بحال کرنے والے افراد، کیونکہ ذائقہ اور نظام ہضم اکثر بہتر رہتا ہے۔

فارمی انڈا کن کے لیے زیادہ موزوں ہے؟
روزانہ انڈے کھانے والے لوگ، جیسے طلبہ یا کام کرنے والے افراد۔
جم یا ورزش کرنے والے، کیونکہ پروٹین وہی ملتا ہے اور قیمت کم ہوتی ہے۔
بڑے گھرانے جہاں روز اور زیادہ استعمال ہو۔
وہ لوگ جو بجٹ میں رہنا چاہتے ہوں۔

مختصر مشورہ
اگر استطاعت ہو تو کبھی کبھار دیسی انڈا شامل کر لیں، اور روزمرہ کے لیے اچھے معیار کا فارمی انڈا بالکل مناسب ہے۔

منتخب


Source

لوگوں کو ان کی زندگی سے نفرت مت دلاؤ! جس کی چھوٹی سی رہائش ہے، وہ اپنی جگہ سے خ…

0
لوگوں کو ان کی زندگی سے نفرت مت دلاؤ!

جس کی چھوٹی سی رہائش ہے، وہ اپنی جگہ سے خوش اور مطمئن ہے، اسے ضرورت نہیں ہے کہ تم جب اس کے گھر جاؤ تو اسے یہ کہو کہ "تم اس میں کیسے رہتی ہو؟” اور اس کی زندگی کو مشکل بنا دو!

جس کا شوہر مشکل مزاج کا ہے، اور وہ اسے جانتی ہے اور اپنے بچوں اور گھر کے لیے اس کے ساتھ نبھا رہی ہے، وہ تمہاری طرف سے یہ سننے کی منتظر نہیں ہے کہ "ارے یہ تو بہت برا حال ہے، میں تمہاری جگہ ہوتی تو اس کا گلا گھونٹ دیتی، یا چھوڑ دیتی” وغیرہ وغیرہ۔

جس کے بچے تعلیمی میدان میں کامیاب نہیں ہیں، وہ تم سے یہ سننا نہیں چاہتی کہ تم اپنے بچوں کی کامیابیوں کو دکھا کر اس کا مذاق اڑاؤ۔

جو عورت کسی جگہ کام کر رہی ہے کیونکہ اسے مالی مشکلات کا سامنا ہے، اور اس کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے، اسے تمہاری طرف سے یہ سننے کی ضرورت نہیں ہے کہ "یہ کیسی جگہ ہے جہاں تم کام کرتی ہو؟ میں تو کبھی بھی ایسے کام کو قبول نہیں کرتی۔”

کچھ لوگ ہم میں سے بے فکر ہوتے ہیں، وہ اپنی زندگی کو قبول کرتے ہیں، گزارا کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوش ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی اور متبادل نہیں ہوتا۔ وہ اپنی پریشانیوں کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور آدھے بھرے گلاس کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔

لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، ان کی تکلیفوں کو تازہ مت کرو۔ اور ان پر فیصلے مت سناؤ جب تمہاری حالت ان سے مختلف ہو۔ بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو چھان پھٹک لو۔

لوگوں کی زندگی کو آسان بناؤ تاکہ اللہ تمہاری زندگی کو بھی خوبصورت بنا دے۔

منتخب


Source

ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہم ایک باوقار انسان کی لغزش کے منتظر رہتے …

0
ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہم ایک باوقار انسان کی لغزش کے منتظر رہتے ہیں،
تاکہ لوگوں کے سامنے ثابت کر سکیں کہ وہ درحقیقت باوقار نہیں ہے۔

نحن في زمن ننتظر المحترم لكي يخطئ
حتی نثبت للناس أنه ليس محترما


Source

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/