حکومت، بلدیات ، کارکن اور کان کن تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

موجودہ حکومت نے ملک کی ترقی و تعمیر میں لا تعداد منصوبے تکمیل تک پہنچائے ہیں اور عوام کی بہبود کے لیے اجتماعی طور پر بھی کافی کام کیا ہے۔پل بنائے ہیں، تعلیمی اداروں میں اضافہ کیا ہے، پاک چین دوستی میں اعتماد، اعتبار اور یقین کی حد تک پیش رفت ہوئی ہے مگر اس کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ خرابیوں کی بھی بھرماراسی طرح ہے۔ ایسی ایسی غلطیاں حکومت سے سرزد ہو رہی ہیں جن کی تلافی ناممکن ہے۔ مشیروں اور وزیروں کی فوجِ ظفر موج کی سوچ کا زاویہ ذاتی تشہیراور اپنی ہی بہبود پر مرکوز ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا عزم و ارادہ ایک روشن مستقبل کا آئینہ دار ہے۔ ان کے اس وژن پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب ان کے اپنے ہی مشیر اور وزیر دو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ تعمیر و ترقی کے کاموں میں پوری منصوبہ بندی سے اگر قدم نہیں اٹھایا جاتا تو منزلیں دور اور لوگ بیزار ہو جاتے ہیں۔ اس وقت حکومت کی سب سے بڑی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ تمام اختیارات یا تو وزیراعظم کے پاس ہیں یا پھر وزیراعلیٰ کی جیب میں ہیں۔ ان حالات میں بلدیاتی حکومت کی تشکیل بھی بے سود اور فضول ثابت ہو گی۔ اگر بلدیات کے لیول پر اختیارات نہ دیئے گئے اور اگر اختیارات مرکزی یا صوبائی سطح پر اپنے ہی ہاتھ میں رکھے گئے تو پھر یہ انتخابی بلدیاتی ڈرامہ رچانے کی ضرورت ہی نہیں۔ اس طرح وقت اور پیسہ ضائع کرنے کا فائدہ کیا ہے۔ بلدیاتی حکومت تو بنیاد ہوتی ہے اور وہ حکومت کی خشتِ اول قرار پاتی ہے۔ عدل و انصاف، تعلیم و تربیت، صفائی و ستھرائی سے لے کر گلی کوچوں، کھیل کے میدانوں اور ہسپتالوں تک کا نظام بلدیات کے دائرے میں آتا ہے۔ پنچایتی فیصلے اور مواصلاتی فاصلے، سارے کام بلدیات کے ذمہ ہیں۔ اگر ہم نے کونسلرز کو اختیارات سے مستثنیٰ ہی رکھنا ہے تو پھر اس سارے عمل سے دوچار ہونے کی کیا ضرورت ہے۔
اس وقت پاکستان مسلم لیگ ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے لیکن بلدیات کے حوالے سے اس کاہوم ورک بالکل بھی نہیں ہے۔ مشیروں اور وزیروں کی بجائے گراس روٹ تک ابھی بھی اگر بنیادوں تک کوئی منصوبے نہ بنائے گئے تو فضائے بسیط میں یوں تو حکومت پوری دنیا کو دکھائی دے رہی ہے لیکن اس کے ایک دم گرنے کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جماعتوں میں تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور بعض دوسری پارٹیوں نے اپنا ہوم ورک پورا کر لیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے کارکنوں کو بلدیاتی حکومت کے خدوخال سے بہت دور رکھا ہوا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرے۔ اختیارات کی تقسیم جمہوریت کا حسن ہے اور اختیارات جمہور کی آواز ہوتے ہیں۔ مگر ابھی تو یہ حالات ہیں کہ کسی کالج یا سکول میں نائب قاصد کی بھی تقرری ہونی ہو تو وزیراعلیٰ ہی اس کی منظوری دیتے ہیں۔ ایسے میں بلدیاتی الیکشن چہ معنی دارد؟
انتخابی جنگی حکمت عملی پر جتنا سرمایہ دونوں امیدواروں کا حالیہ ضمنی الیکشن حلقہ 122میں صرف ہوا ہے ، اس کی مثال پاکستان کی نصف صدی کی تاریخ میں دور دور تک نہیں ملتی۔ اوکاڑہ میں تحریک انصاف کا امیدوار بری طرح ہارا اور آزاد امیدوار جیت گیا۔ لاہور میں جو معرکۂ صادق و علیم شروع ہوا تو پورے ملک کے عوام کی نظریں اس حلقے کی طرف مبذول ہو گئیں اور یہ معرکہ ایسے لگا جیسے حق و باطل کے درمیان کوئی بہت بڑی جنگ کا آغاز ہو۔ علیم خان نے مقابلہ جس انداز میں کیا اور اپنا سرمایہ جس طرح حلقے کے گلی کوچوں میں ندیوں اور نالوں کی طرح بہایا اس کی مثال بھی نہیں ملے گی۔ ایاز صادق کو اگر ریاستی کمک نہ پہنچتی تو وہ بالکل ہار رہے تھے۔ قومی اسمبلی کی سیٹ پر تین ہزار ووٹوں سے جیتنا کوئی بڑی جیت نہیں۔ بہرحال جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں اس میں سب جائز ہے۔ اگر حکومت نے اپنے تمام وسائل اس حلقے میں جھونک دیئے تھے تو وہ بھی اس لیے کہ اس سسٹم کا تقاضا یہی تھا۔ عام آدمی الیکشن لڑنا تو دور کی بات، وہ اپنے حلقے کے لوگوں تک بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس وقت ایاز صادق کے کاندھوں پر پہلے سے زیادہ بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ اب اسے اپنے حلقے کے لوگوں کے سے رابطہ رکھنا پڑے گا اور پورے ضابطوں کے ساتھ قومی اسمبلی کے سپیکر کی حیثیت سے دوبارہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ قدم اٹھانے پڑیں گے کیونکہ احتسابی قوتوں کی دونوں امیدواروں پر نگاہ ہے۔
اگر کارکنوں کے پاس اختیارات ہوتے اور انہوں نے ایاز صادق کے حلقے میں کام کیا ہوتا، لوگوں کے کام ہوتے یا نہ ہوتے، صرف ان  کے ساتھ رابطہ ہی برقرار رکھا گیا ہوتا جس سے وہ اپنی عزت و توقیر میں اضافہ سمجھتے تو حکومت کو اتنی بھاری قیمت ادا نہ کرنا پڑتی۔ تحریک انصاف کا امیدوار مسلم لیگ ن کے امیدوار سے نہیں ہارا، وہ حکومت سے ہارا ہے۔ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ کارکنوں کو عزت و توقیر ملے گی تو حکومت کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ عالمی منظرنامے اور ملکی منظرنامے تو خوش فہمیوں کے خواب ہیں۔ اصل تعبیریں آپ کو سطحٔ آب پر نہیںبلکہ اس کی تہہ میںچھپے ہوئے انمول موتیوں کی صورت میں ملتی ہیں۔ ہیرے بادشاہوں کے تاجوں سے نہیں نکلتے، یہ کوئلے کی کانوں میں دستیاب ہوتے ہیں، اور ان کانوں کی طرف کوئی توجہ اس لیے نہیں دیتا کہ اس میں ہاتھ منہ کالا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ حالانکہ جتنی کالک کوئلے کی دلالی میں ہوتی ہے اتنی ہی عزت و توقیر اس کان کن کو سرفراز کر دیتی ہے، کیونکہ جواہرات کے بازار سے گزرتے وقت کسی کی نگاہ نہیں پڑتی مگر کوئلے کی کان سے اگر کوئی انمول موتی نکال کر لیجا رہا ہو تو پوری دنیا کی نظر اس پر ہوتی ہے۔
وزیراعظم میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس اور خاموش دورہ حلقہ 122نے بہت کام دکھایا اور ایاز صادق کی کامیابی پر مہر ثبت کر دی۔ ایسی شکست سے امیدوار دلبرداشتہ نہیں ہوتا بلکہ خوش ہوتا ہے کہ میں نے مقابلہ کیا ہے، میدان کو خالی نہیں چھوڑا۔ دونوں طرف پیسے کی ریل پیل تھی، چلیں ایک لحاظ سے اچھا ہوا، اس انتخابی مہم سے تو جان چھوٹی، زندگیاں معمول پر آئیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں امیدوارالیکشن کے بعد بھی اپنا دل یونہی فراخ اور ذہن کشادہ ررکھیںگے اور حلقے کے عوام کی فلاح کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo