سید نصیرالدین نصیرؔ گیلانی کی نعتیہ شاعری – میر امتیاز آفریں

[ad_1]

سید نصیر الدین نصیرؔ گیلانی کا تعارف دیتے ہوئے اردو زبان کے مشہور شاعر اور نقاد احمد ندیم قاسمی لکھتے ہیں:

“سید نصیر الدین نصیر اردو اور فارسی کے ایک نوجوان شاعر ہیں اور دونوں زبانوں میں ان کی سخن وری نے پورے ملک میں دھوم مچا رکھی ہے۔ اس دھوم کا سبب یہ نہیں ہے کہ سید صاحب گولڑہ شریف کے اس آستانہ عالیہ سے متعلق ہیں جس کا ایک دنیا احترام کرتی ہے۔ اس کا واحد سبب ان کا پاکیزہ اور اعلیٰ ذوقِ شاعری ہے۔۔۔ (ان کی) غزلوں کی سلاست اور ساتھ ہی بلاغت میرے نزدیک حیرت انگیز بھی ہے اور مسّرت بخش بھی۔ “

پیر سید نصیر الدین نصیرؔ گیلانی بیک وقت ایک جید عالمِ دین، محقق، خطیب، سجادہ نشین صوفی اور قادرالکلام شاعر تھے۔ آپ کا تعلق پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ کے معروف علمی و روحانی خانوادے سے تھا جو کافی عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی پورے برصغیر میں کافی شہرت رکھتا ہے۔

آپ نے عربی و فارسی، تفسیر و حدیث، فقہ و اصول، فلسفہ و منطق، تصوف و عرفان کے علاوہ دیگر مذہبی و عصری علوم میں کمال دسترس حاصل کی۔ سید نصیر گیلانی نے فن شعر اور ادبیات فارسی و اردو میں بڑا کمال حاصل کیا۔ آپ نے اردو، فارسی، عربی، پنجابی، ہندی اور سرائیکی زبانوں میں شعر کہے اسی لئے انہیں ‘شاعرِ ہفت زبان’ کے لقب سے بھی جانا گیا۔ ان کے تخلیقی کینواس (creative canvas) کو دیکھ کر انسان حیرت زدہ ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ آپ کی شخصیت غیر معمولی اوصاف سے متصف تھی، خوبصورت شاعرانہ کلام، دل لبھانے والا انداز خطابت، علوم اسلامیہ پر کمال کی دسترس، دلکش طرزِ تصنیف، مسندِ سلوک پر دولتِ فقر اور سب سے بڑھ کر حق گوئی و بیباکی۔۔۔ یہ سب خوبیاں آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے باوجود لوگ آپ سے آج بھی بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں اور آپ کے کلام کو گنگناتے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ آپ کے خطابات سے فیض حاصل کرتے ہیں اور آپ کی شاعری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سید نصیر گیلانی کی زیادہ تر شاعری غزلیات پر مشتمل ہے جن کی لے متصوفانہ اور عاشقانہ ہے۔ آپ کی شاعری میں زیادہ تر بیدلؔ، جامیؔ، رومیؔ، عراقیؔ اور حافظؔ کا رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔
چونکہ نعت گوئی کا ذوق ان کو اپنے جد بزرگوار پیر مہر علی شاہ گولڑوی ؒ سے وراثت میں ملا جنہوں نے کچھ شاندار نعتیں تخلیق کی ہیں۔
سُبْحَانَ اللہ مَا اجْمَلَکَ
مَا اَحْسَنَکَ مَا اَکمَلَکَ
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیں کتھے جا اڑیاں

سید نصیر گیلانی کا نعتیہ شاعری پر مشتمل مجموعہ ’’ دیں ہمہ اوست‘‘ کے نام سے ہے جس میں فارسی، اردو، عربی اور پنجابی زبان میں بڑی عمدہ نعتیں شامل ہیں۔
جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے ان کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ ان کی نظر میں سارا دین ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے عبارت ہے اور آپؐ کی اطاعت ہی نجات کی راہ ہے۔ ان کے نزدیک نسبتِ رسولؐ ہی مومن کی متاعِ زیست ہے اور اس کے بغیر ایمان کی حلاوت کو پانا ناممکن ہے۔ نبیؐ کی نگاہِ عنایت ان کا سرمایہ حیات ہے اور ان کی نعت گوئی کا محرک بھی۔

ہم ہیں اور ان کی عنایات کا اقرار نصیرؔ
نعت لکھنی ہے، زباں کوئی، زمیں کوئی ہو

چونکہ نعت عشقِ رسولؐ کے چشمے سے پھوٹتی ہے اور پاکیزہ روحوں کو وجد میں لاکر جاودانی بخشتی ہے اس لئے آپ اس پاکیزہ جذبے سے سرشار نظر آتے ہیں اور آپ کو کائنات کے ہر گوشے میں جلوہ رسول نظر آتا ہے۔
گیسوئے مصطفٰی سے یقیناً ہوئی ہے مَس
خوشبو کہاں سے آئی، یہ بادِ صبا کے ہاتھ

کوئی بھی چیز نہ خلقت کا بن سکی باعث
سبب بنی تو بس ان کے ظہور کی نسبت

اپنی وجدانی کیفیات کے زیر اثر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکت کو خود سے دور نہیں سمجھتے اور داخلی احوال کا والہانہ انداز سے اظہار کرتے ہیں۔

تھی کس کے مقدر میں گدائی تیرے در کی
قدرت نے اسے راہ دکھائی تیرے در کی

میں بھول گیا نقش و نگار رخ جنت!
صورت جو کبھی سامنے آئی تیرے در کی

پھر اس نے کوئی اور تصور نہیں باندھا
ہم نے جسے تصویر دکھائی تیرے در کی

ان کی شاعری میں راز و نیاز، ہجر و وصال اور لطف و عنایات کی کیفیات موجزن ہیں اور وہ وجدانی یکسوئی کے ساتھ اپنی قلبی کیفیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے انداز بیان میں سادگی، سلاست اور دلکشی اپنے شباب پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی حسن یا خیر کا پہلو پایا جاتا ہے ان کے مطابق وہ سارا نورِ نبوت سے ہی مستعار لیا گیا ہے۔

تیرے ہی نور سے روشن ہوئے افلاک و زمیں
رونما ہوگئے ہر گوشے میں آثارِ حیات
سیرت سید عالم ؐ نے وہ بخشی رفعت
اوج در اوج ابھرتا گیا معیارِ حیات

پیر نصیر کے ادبی مزاج میں چونکہ کلاسیکیت رچی بسی ہے، اس لئے ان کی نعتیہ شاعری بھی اس وصف سے خالی نہیں۔ ان کی شاعری اس روایت کا حصہ محسوس محسوس ہوتی ہے جو خواجہ میر درد، امام احمد رضا فاضل بریلوی، بیدم شاہ وارثی، اصغر گونڈوی، پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور بعض دیگر اکابر صوفی شعراء کے ہاتھوں پروان چڑھی۔ ان کی بیش تر نعتیہ شاعری روایتی اسلوب میں ہے، اجتہادی تراکیب کے بجائے وہ روایتی آہنگ کو اپناتے ہیں اور دلنشین انداز میں اپنے خیالات کو زبان دیتے ہیں۔
زندگی جب تھی یہ جینے کا قرینہ ہوتا
رخ سوئے کعبہ تو دل سوئے مدینہ ہوتا
یوں مدینے میں شب و روزگزرتے اپنے
دن صدی ہوتا ہر اک لمحہ مہینہ ہوتا
یہی خوائش تھی یہی اپنی تمنا تھی نصیرؔ
میرا سر اور درِ شاہِ مدینہ ہوتا

نصیرؔ گیلانی کے ترنم اور آہنگ سے ایک پرکیف ماحول کا احساس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے روح طمانیت کی ہواوں میں پرواز کررہی ہو۔
اردو زبان کے دیگر غزل گو شعراء کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری میں خاص طور پر امام احمد رضا فاضل بریلویؒ کی نعتیہ شاعری کے اثرات نظر آتے ہیں۔ انہوں نے فاضل بریلوی ؒ کی کچھ مشہور و معروف نعتوں پر تضمینات بھی لکھی ہیں۔ مقبولِ عام ‘سلامِ رضا’ پر ان کی تضمین سے کچھ اشعار یوں ہیں:
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
صاحب تاجِ عزت پہ لاکھوں سلام
واقفِ راز فطرت پہ لاکھوں سلام
قاسمِ کنزِ نعمت پہ لاکھوں سلام
مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

کہیں کہیں اصلاحِ امت کے جذبے کے زیر اثر وہ اصلاحی روش بھی اختیار کر لیتے ہیں اور اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ ہر دور میں اعلیٰ معیاراتِ انسانیت تک اسوہ رسول کی روشنی میں ہی پہنچا جا سکتا ہے۔

تیرے کرم نے فقیروں کی جھولیاں بھر دیں
تیری نظر نے گدائوں کو شہریار کیا
تیرے وجود کا اعجاز ہے کہ انسان نے
صفات و ذاتِ الٰہی کا اعتبار کیا

ایک دوسرے مقام پر کچھ اس طرح لکھتے ہیں:

زندگی جب تھی، یہ جینے کا قرینہ ہوتا
رخ سوئے کعبہ، تو دل سوئے مدینہ ہوتا
اسوہ پاک پہ کرتی جو عمل آج امت
کسی دل میں نہ کَپٹ ہوتی، نہ کینہ ہوتا

سید نصیر گیلانی قرآن و حدیث سے بھی اپنے کلام میں استشہاد کرتے ہیں۔ وہ قرآنی تلمیحات کا بھی خوبصورتی کے ساتھ اپنی نعتوں میں استعمال کرتے ہیں۔

والشّمس جمالِ ہوشربا، زلفیں والّیلِ اذا یغشیٰ
القابِ سیادت قرآں میں، یٰسین طٰہٰ سبحان اللہ

یہ کہہ کے رک گئے، سدرہ پہ جبرئیلِ امیں
نہیں عروجِ محمدؐ کی انتہا کوئی

ہر سچے عاشقِ رسول کی طرح دیدارِ رسولﷺ کی تمنا میں ان کی روح تڑپتی رہتی ہے اور ان کیفیات کے زیر اثر کبھی ہجر تو کبھی وصال کا مضمون باندھتے ہیں۔

دل ہوا روشن محمدؐ کا سراپا دیکھ کر
ہوگئیں پر نور آنکھیں ان کا جلوہ دیکھ کر
کیا عجب مجھ پر کرم فرمائیں سلطانِ اممؐ
ذوقِ دل، ذوقِ وفا، ذوقِ تمنا دیکھ کر

سید نصیر گیلانی کا دل عجم میں رہتے ہوئے بھی حرم میں بستا ہے۔ وہ عالمِ خیال میں مدینے کا تصور باندھتے ہیں اور گنبد خضرٰی کی یادوں سے دل کو بہلاتے رہتے ہیں۔
جو تصور میں رہا پیش نظر بھی ہوگا
کعبہ دیکھوں گا مدینے کا سفر بھی ہوگا
سبز گنبد کی ضیائیں بھی ہوں جس میں شامل
میری تقدیر میں وہ نورِ سحر بھی ہوگا۔

دور حاضر میں جہاں مادیت، عقلیت پسندی اور ظاہر پرستی کا دوردورہ ہے، سیکولر تو سیکولر، مذہبی طبقات بھی تشکیک کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ ایسے میں خود مسلمانوں کے اندر بھی حبِ رسولﷺ کے پاکیزہ جزبے کو شخصیت پرستی کے خانے میں ڈالنے کی مذموم کاوشیں ہو رہی ہیں۔ ایسے میں سید نصیر گیلانی جیسے نعت گو شعراء غنیمت ہیں جو لوگوں کے دلوں کو حرارتِ شوق سے گرما رہے ہیں اور اس بات پر ابھارتے ہیں کہ ‘خاکِ مدینہ و نجف’ کو آنکھوں کا سرمہ بنایا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فکری و روحانی فیض سے خود کو منور کیا جائے۔

ہزار بار ہوئی عقل نکتہ چیں پھر بھی
درِ حضورؐ پہ جھکتی رہی جبیں پھر بھی
رواں ہے گرچہ ترقی کی راہ پر دنیا
بغیرِ عشقِ نبیؐ شاد تو نہیں پھر بھی

(Visited 1 times, 19 visits today)



[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo