جانوروں کے حقیر ہونے کا مغالطہ – قاسم یعقوب

[ad_1]

آپ نے یہ الفاظ اکثر سنیں ہوں گے:
’انسان بن، جانور نہ بن‘
’وہ توانسانی روپ میں بھیڑیا ہے‘
’تمھاری عقل گھاس چرنے گئی ہے؟‘
’تمھیں مار مار کے دنبہ بنا دوں گا‘
’اوئے گدھے کے بچے‘
’خنزیر کی اولاد‘

اور پھر کتے کے بارے میں بھی تو القابات اتنے عام ہیں کہ ان کے بتانے کی یہاں ضرورت نہیں۔ اساطیر ی کہانیوں میں موجود ہے جب انسان اسفل یا گھٹیا حالت کا سامنا کرتا ہے تو وہ بندر (یا جانور) بن جاتا ہے۔ کچھ مذاہب میں آواگون کا نظریہ موجود ہے جس کی رُو سے انسان اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے دنیا میں دوبارہ آتا ہے اور اس کی روح مختلف جانوروں (چرند، پرند، حشرات وغیرہ) میں ظہور کرتی ہے۔ یوں جانوروں کا وجود ہی انسان کے بُرے اعمال کا نتیجہ ہے۔ جاتک کہانیوں کا پس منظر یہ ہے کہ گوتم بدھ اسی آواگون (Reincarnation) کے تحت مختلف حیوانی وجودوں میں کایا کلپ ہوتا ہوا انسانی روپ میں آیا اور گیان پانے میں کامیاب ہوا۔ بدھا کو اپنے پچھلے تمام روپ یاد ہیں۔ وہ بندر، بٹیر، سانپ، کتا وغیرہ بن کے ان مخلوقات میں موجود رہا ہے۔ البتہ بدھ مت کے پیروکاروں میں جانوروں کے حوالے سے ایک فرق یہ ہے کہ وہ بدھا کو ان مخلوقات کے دکھ درد میں شریک بتاتے ہیں۔ ان کی کایا کلپ اس کے گناہوںکی وجہ یا اسفل حالت کا دوسرا روپ نہیں۔

رفیق حسین کو اردو افسانے میں ان کی حیوانات کے موضوع پر لکھی جانے والی کہانیوں کی وجہ سے ممتاز مقام حاصل ہے۔ رفیق حسین نے پہلی دفعہ اردو افسانے میں جانوروں کی زندگی کے مشاہدات کو فکشن کے قالب میں ڈھالا۔ یہ محض ’’شکاریات‘‘ قسم کی چیز نہیں تھی بلکہ اس میں انسانی تمدن میں حیوانات کو سمجھنے کی طرف اہم اشارے بھی تھے۔ عمومی طور پر جانوروں پر لکھنے والے انسانی احساسات کو حیوانات پر لاگو کرکے لکھتے ہیں۔ یعنی ہم انسان جن معاملات میں حسّاس ہوتے ہیں، انھی معنوں میں حیوانات کو بھی جذباتی دکھایا جاتا ہے۔ یوں جانور کو سمجھنے کے لیے انسان کی عینک ضروری سمجھی جاتی ہے۔ انسانی عینک پہن کے جب جانوروں کو سمجھا جاتا ہے تو انسان خود کو پہلے ہی ’’اشرف‘‘ سمجھنے لگتا ہے۔ یوں حیوانی مخلوقات دوسرے درجے کی یا کم از کم انسان سے کم تر مخلوق بن جاتی ہیں۔ رفیق حسین کو پڑھتے ہوئے ایک جگہ مجھے سخت حیرانی ہوئی کہ وہ بھی جانوروں کو انسانی پیمانے سے ماپ رہے ہیں، حالاں کہ انھیں تو دعویٰ ہے کہ وہ جانوروں کو بہتر سمجھتے ہیں:

ان کے افسانے ’’ہرفرعونے را موسیٰ‘‘ کی ابتدا ہی میں یہ لائنیں دیکھیے:

’’جنگل کے واسطے ابھی بہت سویرا ہی تھا، اس لیے سٔور، چیتل اور نیل گائے ایسے ہی نیچ ذات جانوروں کی صورتیں فی الحال نظر آ رہی تھیں جو کہ پوری طرح رات نہ ہونے کی وجہ سے قدرے بے خوف ادھر اُدھر خوراک کی جستجو میں جا رہے تھے۔ ‘‘ (انتخاب سید رفیق حسین، آ ٓٓکسفرڈ، پریس)

کیا جانور نیچ ذات ہوتے ہیں؟
کیا مخلوقات میں صرف انسان اعلیٰ ذات رکھتا ہے؟
کیا حیوانات کی بھی ذاتیں ہوتی ہیں؟ جو اعلیٰ اور گھٹیا میں تقسیم ہیں؟

یقین مانیں؛ پہلے تو میں حیران ہوا کہ رفیق حسین جیسا افسانہ نگار یہ کیا لکھ رہا ہے، مگر دوسرے ہی لمحے افسوس ہوا کہ یہ صرف ایک کہانی کار ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی معاشرت میں پائے جانے والے اُس ’تفاخر‘ کے بیانیے کا ہے جوانسان کو پیدائش کے ساتھ ہی ہر طرح کی مخلوقات سے ’اشرف‘ ہونے کا عندیہ دیتا آرہا ہے۔

’اشرف المخلوقات‘ سے کیا مراد ہے؟ ’اشرف‘ کے لغوی معنی ہیں بزرگی والا یا بہتر۔ اور یہ ’بزرگی‘ اس کے شعور کی وجہ سے ہے جو دوسری مخلوقات کو حاصل نہیں۔ اگر انسان اور حیوانات میں بنیادی فرق اُس شعور کا ہے جو انسان کے پاس ہے، جانور کے پاس نہیں تو اس سے جانوروں کا انسانوں کے مقابلے میں ’’نیچ ذات‘‘ ہونا کیسے ثابت ہوتا ہے؟ یوں تو انسانوں میں بھی دنیا کے آدھے انسان بنیادی انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے اہل نہیں۔ لکھ پڑھ نہیں سکتے یا اعلیٰ تخلیقی اذہان نہیں رکھتے۔ کیاشعور یا سمجھ بوجھ کی بنیاد پر یہ تقسیم انسانوں میں جائز ہوگی کہ دنیا کے آدھے انسان حقیر اور آدھے اشرف ہیں؟ کسی ایک مخلوق کی خوبی دوسری مخلوق میں اس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ’بزرگی‘ بن جاتی ہے؟ اگر شعور ہی سب کچھ ہے تو انسان اسی شعور کی وجہ سے ’بدتر‘ کیسے ہو سکتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انسان اپنے جبلی وجود میں شعور رکھتاہے جب کہ جانور اپنے جبلی وجودوں میں باشعور۔ خدائے کائنات نے دونوں کو الگ الگ اور مکمل شعور فراہم کر رکھا ہے۔ دونوں کو وجود ان کے وجودی حوالوں کے عین مطابق ہے۔ گٹھیا، کم ظرف، نیچ ذات، بے غیرت یا کم تر وغیرہ تو انسانی رویے ہیں۔ ان سے دوسری مخلوقات کو کیا لینا۔ گھٹیا اور اعلیٰ کے پیمانے تو انسان خود بناتا ہے جانور کو اس سے کیا غرض۔

جب کسی ایک مخلوق کی فضیلت کی بات کی جاتی ہے تو اس سے دوسری مخلوق کے گٹھیا یا نیچ ذات ہونے کا تصور پیدا نہیں ہوتا۔ چیزیں اپنے تضاد سے اپنا وصف واضح کرتی ہیں، اپنی درجہ بندی متعین نہیں کرتیں۔ یوں دیکھا جائے تو شیر کے پاس بے پناہ طاقت کے اظہار کی ایسی خوبی ہے جو انسان کے پاس نہیں، حتیٰ کہ کتوں کے پاس وہ طاقت اور حاضر دماغی ہے جو انسان کا وصف نہیں تو کیا ہم کسی وصف کی بنا پر ان جانوروں کو انسان سے افضل قرار دے سکتے ہیں؟

ہمارا عمومی تصور جانوروں کو گھٹیا اور حقیر تصور کرتا ہے۔ اس میں مشرق و مغرب کی کوئی تفریق نہیں۔
فیروز اللغات میں جو حیوان کے معنی لکھے گئے ہیں، ملاحظہ ہوں:
’’حیوان:جاندار، ذی روح(۲) مویشی، چوپایہ(۳) نادان، بے وقوف، وحشی
حیوانِ مطلق:جانور، بے سلیقہ، بد تمیز، بالکل گنوار
حیوانِ ناطق: بولنے والا جانور یعنی ناطق‘‘ ص ۵۷۸
کیمبرج (Cambridge)ڈکشنری کے مطابق حیوان معنی دیکھیے:
Animal [noun](BAD PERSON)
an unpleasant, cruel person or someone who behaves badly:
He’s a real animal when he’s had too much to drink.
یہ کسی ایک خطے کا سماجی رویہ نہیں بلکہ بنی نوع انسانی کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ جانور بد تمیز، گھٹیا، وحشی، گنوار اور بد سلیقہ مخلوقات کو کہتے ہیں۔

انسانی معاشرت کا اس بڑا سماجی مغالطہ کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ انسان جو صدیوں سے جانوروں کے ساتھ بلکہ تمام مخلوقات کے مشترکہ سماج میں رہتا رہا ہے تمدن کے دامن میں سمٹتے ہی اس نے جانوروں کو گنواراور اپنی شعوری حالت سے الگ کرنے کی غرض سے اسے حقیر اور گھٹیا کہنا شروع کر دیا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جانوروں کے وجود کے گھٹیا تصورات کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر مذاہب اورثقافتوں میں جانور آج بھی ایک مقدس اور طاقت کے روپ میں موجود ہیں۔ ہندوئوں کے ہاں گائے اور بندر، سانپ جاپان میں، چین میں کچھوے، برصغیر کے مسلمانوں کے ہاں کبوتر اور انگلستان میں اُلّو کو نہ صرف مقدس بلکہ مختلف انسانی صفات کے ساتھ انسانی سماج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ عرب تہذیب میں جانوروں کو تقدس دینے کی بجائے ان کی صفات کی بنا پر حرام حلال یا حقیر قرار دینے کی روایت قائم ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جانوروں کی ایک ماورائی طاقت کی شکل میں انسانی سماج میں جو شمولیت رہی ہے وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں قائم ہے۔

جب ہم جانوروں کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں ایسی کوئی شعوری صفت نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے ہم ان سے نظریاتی یا شعوری فاصلہ قائم کریں۔ جب انسان جانوروں سے ربط قائم کرتا ہے تو ان کی عادات یا رہن سہن کی بنیاد پران کو مختلف صفات عطا کرنے لگتا ہے۔ انسان چوں کہ شعور رکھتا ہے لہٰذا جانوروں کو بھی اخلاقی، نظریاتی اور اقداری رویے دینے لگتا ہے۔ حشرات ہوں یا اڑنے والے پرندے، چوپائے ہوں یا پانی میں دوڑنے والی مخلوقات سب شعور سے عاری فطرت کے بندھے ٹکے نظام میں قید ہیں۔ انسان خود فطرت کا پروردہ ہے اور اس کے اٹل نظام میں قید ہے۔ شعور رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ فطرت سے ماورا ہے۔ اس کا شعور بھی فطرت ہی کا ایک حصہ ہے جس کی بنیاد پر وہ کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے فطری وجود کو سہارا دیتا ہے۔ جانور فطرتی نظام (Nature System) کا ایسا عنصر (Component) ہیں جو انسان کو براہ راست متاثر کرتا ہے بلکہ بعض ماحولیاتی حالتوں میں انسان جانور کے بغیر رہ نہیں سکتا۔ ان کی زندگیا ں انسان کی زندگی سے بہت مشابہ ہونے کی وجہ سے ان سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ کھانا، پینا، سونا، ڈرنا، چھیننا، حملہ کرنا، گھر بنانا، بیمار پڑنا، مرنا وغیرہ انسانی اور حیوانی رویوں میں مشترک بدنی رویے ہیں۔ اس لیے انسان نے جانوروں کو اپنے معاشرے میں مختلف صفاتی حوالوں سے پہچان دے دی۔ جیسے بزرگی، شرافت، بزدلی، بہادری، چالاکی، مکاری، خوبصورتی، طاقت وری، خون خواری، سمجھ داری وغیرہ۔ یہ سب خصوصیات انسانوں میں پائی جاتی ہیں جو جانوروں میں انسان اپنی نظر سے دیکھتا رہا ہے۔ حالاں کہ ان کے پاس یہ انسانی صفات نہیں ہوتیں۔ یہ صدیوں کا باہمی میل جول اور ارتباط تھا کہ انسان نے جانوروں کو صرف صفات ہی نہیں دیں بلکہ اپنے سماج کے لیے لازم و ملزوم حصہ بنا رکھا تھا۔ انھیں اپنے وجود تک میں محسوس کرتا رہا۔ انتظار حسین لکھتے ہیں:

’’ اساطیر میں مرد عورت اور مختلف جانوروں کے اجسام یا اعضا کے ملاپ سے تشکیل کردہ مخلوق یا دیوی دیوتا بھی اسی باعث تھے مثلاً یونانیوں میں گھوڑے کے دھڑ اور مرد کے سر والا ’قنطور‘ (Cantoaur) رومیوں میں بکرے کے جسم اور مرد کے سروالا ساطیر (Satyr)اور ہندوئوں میں دانش اور مشکل کشائی کا دیوتا ’گنیش‘ جس کا سر ہاتھی کا اور جسم بچہ کا ہے۔ یہ سب انسان اور حیوان کو ایک سطح پر دیکھنے کے باعث ممکن ہو سکا۔ اسی ان مل کا ملاپ داستانوں کی تخلیقی فضا میں پری، جل پری، مختلف شکلوں کے جنوں بھوتوں چڑیلوں اورعفریتوں کی صورت میں تخیل کے لیے مہمیز کا باعث بنا۔ ‘‘

مختلف مذاہب نے انسان کا جانوروں سے ایک فاصلہ قائم کرنے کے علاوہ ان سے ناپاکی اور انسانی اقدار بھی جوڑ دیں۔ جس کی وجہ سے جانوروں کا وجود انسانی معاشروں میں اقداری نوعیت اختیار کرتا گیا۔ خاص طور پر سامی النسل معاشروں میں جانور کو بے عقل، ناسمجھ، ناپاک اور گھٹیا قرار دینے کی روایت مضبوط تر ہوتی گئی۔ آج دنیا بھر میں ایک طرف جانوروں کی پوجا کی جا رہی ہے اور دوسری طرف ان کو نجس اور نیچ ذات سمجھا جاتا ہے۔

یہ بڑا دلچسپ سوال ہے کہ اگر جانوروں کے پاس شعور آجائے تو وہ انسان کو کن کن القاب سے نوازے گا؟

(Visited 1 times, 40 visits today)



[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo