“میرے ابو” از محمود ظفر اقبال ہاشمی

کیا پوزیشن ہے پاکستان کی؟‘

’ابوبہت بری حالت ہے…..نو وکٹ گر چکے ہیں…..جیتنے کے لئے ابھی بھی ۱۸۴رنز چاہئیں!‘

’یہ آخری دونوں کھلاڑی کو ن ہیں جو کھیل رہے ہیں؟‘

’اقبال قاسم اور توصیف احمد!‘

’فکر نہ کرو پاکستان جیت جائے گا…..دونوں کھلاڑی دیکھنے میں بہت تگڑے لگ رہے ہیں!‘

اصولاً مجھے ہنسنا چاہیئے تھا مگر مَیں حیرت سے منہ کھولے اپنے ابو کا منہ دیکھتا رہ گیا!

کرکٹ کی الف ب کی ذرا سی بھی سمجھ نہ ہونے کے باوجود ہمیشہ کی طرح کمال کی امید انہوں نے چہرے پر سجا رکھی تھی۔ ان کا انداز اتنا غیر متزلزل تھا کہ مَیں ان سے بحث بھی نہ کر سکا اور نہ ہی یہ کہہ سکا کہ’ ابو! کرکٹ اور کبڈی میں زمین آسمان کا فرق ہوا کرتا ہے !‘

میرے ابو تھے ہی ایسے !

ساری عمر اپنے ابو کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آئیں۔ مجھ پریہ راز کبھی منکشف ہی نہیں ہوسکا کہ وہ اتنی آسانی کے ساتھ تیز ہَوا میں دِیا کیسے جلا لیا کرتے تھے۔ کمال یقین کے ساتھ عمر بھر انہوں نے غلط فیصلے کئے اور پھر خندہ پیشانی کے ساتھ انہیں یہ کہتے ہوئے قبول بھی کیا کہ ’کوئی بات نہیں…..ہو جاتا ہے…..ورنہ مَیں نے تو اپنی طرف سے سو فیصد درست فیصلہ ہی کیا تھا!‘

مجھے ساری زندگی لفظ’ سادگی‘ اور اس کے مسلمہ اصولوں سے بھرپور اختلاف رہا مگر میرے ابونے سادگی میں ساری زندگی کمال ہی کیا۔ہر کسی پر یہ سمجھ کر یقین کیا کہ جیسے پرسوں ملے ہوئے شخص کو وہ برسوں سے جانتے تھے۔اس قدر محبت کے ساتھ دھوکہ کھاتے تھے کہ دھوکہ دینے والے کا دل بار بار انہیں دھوکہ دینے کو مچلنے لگتا تھا اور وہ ہر بارپچھلا تجربہ بھول کر دھوکہ دینے والے کا دل رکھ لیا کرتے تھے ۔ جب تک رحیم یار خان ٹیکسٹائل مل میں سٹینو گرافر کی نوکری کرتے رہے محض چھوٹی موٹی دفتری سازشوں کا ہی شکار ہوئے ۔ان دفتری سازشوں میں سب سے قابلِ ذکروہ تھی جس کے نتیجے میں انہیں اپنی پندرہ سالہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اپنے دفتر سے جب آخری بار رخصت ہوئے تو سب سے زیادہ گرم جوشی کے ساتھ اس شخص کے ساتھ ملے جس کی سازشوں کے باعث ان کی نوکری گئی تھی۔ سادگی کی بیماری دراصل انہیں بچپن سے تھی۔ پورا بچپن انہوں نے اسی سادگی میں بسر کیا اور وہ اپنے والدین کے اکلوتے اور لاڈلے بیٹے ہونے کا فائدہ محض اپنی سادگی کے باعث نہیں اٹھا سکے۔جب کبھی میری دادی جان ان کا بچپن یاد کرتیں تو یہ کہتے ہوئے ان کی ضعیف آنکھوں میں ایک عجیب سی فخریہ چمک آجایا کرتی تھی!

’چھوٹے ہوتے ہوئے صفدر بہت بِیبا بیٹا تھا…..جو دے دیتے چپ چاپ کھا لیا کرتا تھا اور جو پہنا دیتے چپ چاپ پہن لیا کرتا تھا…..مجال ہے بچپن میں اس نے کبھی ایک بھی فرمائش کی ہو یا بلا وجہ کبھی ستایا ہو…..مجھے یاد نہیں پڑتا کہ سوائے بیلنے سے آئے تازہ گرم گُڑکے اس نے کبھی کوئی شے اپنے منہ سے مانگی ہو!‘

اور دوسری طرف مَیں تھاجوساری زندگی اپنی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے ماسوائے پستول اپنے والدین کی کنپٹی پر رکھنے کے ہر حربہ استعمال کیا کرتا تھا اور فرمائش پوری نہ ہونے پر اپنے والدین کو نتائج بھگتنے کی سنگین دھمکیاں بھی دیا کرتا تھا۔ البتہ میرا اکلوتا بیٹا بالکل اپنے دادا پر گیا ہے۔وہ اپنے دادا کی طرح اس فن سے بالکل نا بلد ہے کہ اکلوتے بیٹے ہونے کا فائدہ کیسے اٹھایا جاتا ہے!

اپنے ابو کی ایک اور ایسی عادت تھی جس کی وجہ سے مجھے پورا بچپن کافی مشکلات درپیش رہیں۔صفائی اور نفاست پسندی سے جتنا رومانس انہوں نے کیا اتنا شائد انہوں نے میری والدہ سے بھی ساری عمر نہیں کیا۔ہر صبح جب وہ سکول جانے سے پہلے مجھے اپنی بائیسکل صاف کرنے کا حکم دیتے تومجھے اپنی بائیسکل دنیا کی سب سے منحوس ترین شے لگنے لگتی۔ہر روزنہانے پرتمام بچپن مجھے شدید تحفظات رہے اور جب کبھی میرے ابو کا دھیان میرے جُڑے ہوئے بالوں پر چلا جاتایا میری والدہ یا دادی میرے نہ نہانے کے متعلق انہیں رپورٹ کر دیتیں تومیرے لاکھ احتجاج اور بہانوں کے باوجود وہ مجھے اپنا پسندیدہ دھاریوں والا پرانا کھلا کچھا پہنا کر خود ہی نہلا ڈالتے۔نہلانے کے بعد بڑے فخریہ انداز میں مجھے جب یہ کہتے کہ’دیکھو کیسا انڈے جیسا پیارامنہ نکل آیا ہے!‘ توناشتے کے وقت فرائی انڈے کی زردی میں مجھے اپنا چہرہ صاف نظر آیا کرتا تھا۔خواہ مخواہ ہر وقت میرے ناخن اور حجامت چیک کرتے رہتے اور میری ہر شے کی ترتیب پر ان کی خاص نظر رہا کرتی تھی۔صفائی کے متعلق ان کے خیالات اس قدر عجیب و غریب تھے کہ بقول میرے دادا جان جب وہ پانچویں کلاس کے طالب علم تھے تو حاصل پور کے پاس واقع اپنے سکول سے واپسی پر اکثراپنی بائیسکل کھڑی کرتے اور راستے میں واقع مختصر پکی سڑک پر پڑی ریت اپنے ہاتھوں سے ہٹانے لگتے۔راہ گیر ہمیشہ حیرت کے ساتھ ان سے پوچھتے’بچے! سڑک کے ارد گرد ریت کے ٹیلے ہیں،ریت ہٹانے کا کیا فائدہ ہوگا، ہَوا چلے گی تو یہ راستہ پھرریت سے اٹ جائے گا!‘ توجواباً سادگی سے جواب دیتے ’ریت میں میری بائیسکل ٹھیک طرح سے نہیں چلتی……جو ریت کا کام ہے وہ ریت کرے گی ،جو میرا کام ہے وہ مَیں کروں گا!‘

اذان ہوتی تو ابو کی نظروں سے اِدھر اُدھر ہونے کی میری ہر کوشش اکثرناکام ثابت ہوتی اور مجھے اپنے ابو کے ساتھ ہر صورت نماز پڑھنے مسجد جانا پڑتا۔ بلا ناغہ وہ مسجد جاتے ہوئے اور واپسی پر مجھ سے تمام نمازوں و رکعتوں کی تعداد ، تیسویں سپارے کی مخصوص آخری سورتیں، چھ کے چھ کلمے، آیت الکرسی، دعائے قنودباقاعدگی سے سنا کرتے۔ہر بار سب کچھ درست سنانے کے بعد مَیں اس زعم کا شکار ہو جاتا کہ اب ابو دوبارہ مجھے کبھی تکلیف نہیں دیں گے مگر اگلی نمازکے لئے مسجد جاتے ہوئے ابو چند گھنٹے پہلے کی میری عمدہ کارکردگی مکمل طور پربھول جاتے!

ٹیکسٹائیل مل والی نوکری چھوٹنے کے بعد انہیں پے در پے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اوراس جیسی دوسری اچھی نوکری ملنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ سادہ مزاج تھے لہٰذا ان کی شدید خواہشیں بھی سادہ تھیں مثلاًضلعی سیشن کورٹ میں سٹینوگرافر کی نوکری مل جائے،لیور برادر زمیں کوئی بھی نوکری مل جائے تا کہ سستے گھی، صابن ،راشن کی سہولت میسرہو سکے وغیرہ وغیرہ لیکن جب کوئی صورت بر نہ آئی تو انہوں نے اپنی انا اور خواہشوں کو لپیٹ کر ایک طرف رکھتے ہوئے ایک واقف وکیل کی مدد سے ضلعی عدالتوں میں ایک چھپریل ڈالا اور ایک پرانی ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ گئے۔چونکہ وہ لوہا کُوٹنے کے اس کام میں بے حد ماہرتھے سو جلد ہی انہوں نے اپنا لوہا پوری عدالت کے وکیلوں، منشیوں اور عدالتوں کے اندر بیٹھے ہوئے جج حضرات میں منوا لیا ۔ایک وقت ایسا تھا کہ صبح سے سہ پہر تک بغیر تھکے ہوئے کسی سخت جان لوہار کی طرح مسلسل لوہا کُوٹتے رہتے اور اپنی صحت کا سودا انتہائی سستے داموں کرتے رہتے!

مَیں ان کا بڑا بیٹا ضرور تھا مگر میری نظر اپنے ابو کی طرح زمین پر کم اور خلاؤں پرزیادہ رہا کرتی تھی۔مجھے کھلے آسمان پسند تھے،تنگ گلیاں اور بند راستوں سے مجھے بہت جلد وحشت ہونے لگتی۔زندگی میں ہرکاوٹ یا شکست کے بعد جب مَیں چیخنے چلانے لگتا تو ایسے میں اکثر مَیں اپنے ابو کی سادہ باتوں کو سمجھ نہیں پاتا تھا۔وہ ہر بار مخصوص انداز و الفاظ میں مجھے دلاسا دیتے۔

’کوئی نہیں ا س دفعہ کام نہیں ہوا تو اگلی دفعہ ہو جائے گا……مایوسی کی کیا بات ہے!‘

’آج سے مَیں نے مغرب کی نمازکے بعد دو نفل حاجات پڑھنا شروع کر دئیے ہیں…..دیکھنا یہ مسئلہ تو سمجھوحل ہوا ہی ہو اانشااللہ!‘

’فکر ہی نہ کرو…..دیکھ لیناہمارے دن ضرور بدلیں گے……سب ٹھیک ہو جائے گا!‘

’یہ بھی کوئی مسئلہ ہے بھلا؟…..سو فیصد کوشش کرو اور باقی اللہ پر چھوڑ دو!‘

مگر ان کا سب سے زیادہ دہرایا جانے والا جملہ ہوا کرتا تھا…..

’گھبرانا نہیں بیٹے…..مَیں تمہارے ساتھ ہوں!‘

ایک فیصد امکان اور آدھے فیصدتوازن پر ہزار سال قائم رہنے والا امید کا مضبوط پُل وہ انجینئرنگ کے تمام اصولوں کو چیلنج کرتے ہوئے بڑی آسانی کے ساتھ تعمیر کرلیا کرتے تھے۔میرے لئے اس سے بھی بڑا امتحان ان کی چندایسی خواہشات تھیں جو انہوں نے نجانے کیوں صرف میری ذات کے ساتھ ہی باندھ رکھی تھیں!

’بھئی زندگی میں وہ سب کام تم نے کرنے ہیں جو مَیں نہیں کر سکا……مَیں چاہتا ہوں تم مجھ سے بھی اچھے سٹینو گرافر بنو اور پھر اسی کی بنیاد پر تم لیور برادرز یا پھرسیشن جج کی عدالت میں سٹینو گرافر کی نوکری حاصل کرو جو مَیں باوجود پوری کوشش کے حاصل نہیں کر سکا…..میری خواہش ہے کہ تم نوکری کے ساتھ ساتھ آگے ضرور پڑھو…… مَیں تو میٹرک سے زیادہ نہیں پڑھ سکا مگر تم نے ایم اے ضرورکرنا ہے…… ایم اے کرنے کے بعد میری خواہش ہے کہ تم باہر کے ملک میں جا کر نوکری کرو…… اپنا ایک اچھا سا گھربناؤ جو مَیں اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے گنوا بیٹھا…..اور ہاں ہماری اپنی گاڑی ضرور ہونی چاہئیے…..مَیں چاہتا ہوں کہ ایک دن مَیں اپنے بیٹے کے ساتھ گاڑی کی اگلی سیٹ پر فخر کے ساتھ بیٹھوں !‘

اورکبھی کبھا رجب وہ بہت خوش گوار موڈ میں ہوتے اور میری والدہ آس پاس نہ ہوتیں تو سر گوشی میں وہ اپنی ایک بہت خاص خواہش کا اظہار ضرور کرتے!

’جس خاندان میں مَیں شادی کرنا چاہتا تھا اس خاندان کی کسی لڑکی کو مَیں اپنی بڑی بہو کے طور پر دیکھنا چاہتا ہوں!‘

زندگی ٹائپ رائٹر کے ربن کی طرح گھومتی رہی مگر جب اس کے ہر چکر میں ابو کی کھانسی کی آواز گونجنے لگی تو مجھے سوچنا پڑا!

دھان پان کی جسامت رکھنے والے اپنے ابو کو اکیلے محنت کرتے، اپنے کنبے کے مشکل حالات اور اپنی صحت سے تنہا لڑتا دیکھ کرسب سے پہلے مَیں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے فائن آرٹس تعلیم حاصل کرنے والے اپنے سنہرے خواب کوخاک برد کیااورمیٹرک کے بعدمیرے خوابوں کا سفر شہر کے پرانے کامرس کالج کی پسماندہ عمارت اور اس کی دیمک زدہ دہلیز پر ختم ہوا۔مَیں نے ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ مضامین کو منتخب کیا اور کالج کے بعدگھر جانے کی بجائے سیدھا عدالت اپنے ابو کا ہاتھ بٹانے چلا آتا۔ پہلے پہل تو ابو نے مجھے بہت سمجھایامگر مَیں نے یہ کہہ کر ان کو منا لیا۔

’ابو صرف اسی طرح ٹائپنگ اور شارٹ ہینڈ کی اچھی پریکٹس ہو سکتی ہے اور کل کواسی بنیاد پر سیشن کورٹ میں نوکری ملنے کا راستہ ہموار ہو سکے گا!‘

ابوبڑی مشکل سے راضی ہوئے مگر اس کے بعد ان کے مشکل سفر میں مَیں نے باقاعدہ طور پران کی ہمراہی اختیار کر لی۔اس کے بعد زندگی کی غیر ہموار ڈگر پر ہم دونوں اکھٹے چلنے لگے۔ جہاں بھی جاتے اکھٹے جاتے۔آنے والے چند برسوں میں ایک دوسرے کی ہمسفری کی ایسی پختہ عادت بن گئی کہ کوئی سفر ان کے بغیر نہ شروع ہوتااور اگر ہوتا تو کبھی آسانی کے ساتھ ختم نہ ہوتا۔ مَیں رحیم یارخان کی سڑکوں پربا ئیسکل پر ان کے ساتھ کوئی بھی سفر شروع کرتا تو ان کے ہلکے پھلکے وجود کا بائیسکل کے کیرئیر پر سوار ہونے کا مجھے کبھی اندازہ ہی نہ ہوتا تھا۔ پیچھے بیٹھے ہوئے ان کا ایک ہاتھ ہمیشہ میرے دائیں کاندھے پر رہتا اور مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے سبز پروں والے کسی مہربان فرشتے کا مہربان سایہ میرے وجود پر پھیلا ہو۔ وہ مجھے امیدیں اور دعائیں بغیر حساب کے بانٹتے رہے اورمَیں ایک ایک کر کے ان کی تمام خواہشیں پوری کرتا گیا۔ مَیں نے دو مسلسل دنوں میں لیوربرادرز اور سیشن کورٹ میں سٹینو گرافر کی نوکریاں ان گنت امید واروں کو مات دے کرمیرٹ پر حاصل کیں تو اس سہ پہر زندگی میں پہلی بار مَیں نے اپنے گلے سے لگے ان کے وجود کی لرزش کو صاف محسوس کیا۔مَیں نے انہیں اتنے سانحوں اورکڑے امتحانوں سے گذرتے دیکھا تھا مگر اس سے پہلے مَیں نے ان کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھے تھے!

’مجھے تم پر فخر ہے!‘ وہ اس سہ پہر اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں کہہ پائے اور حسبِ عادت میرے کاندھے کو چوم کر اپنی دلی کیفیات کو چھپا گئے!

اپنی والدہ اور دادی کے بھر پور مخالفت کے باوجود ان کے مشورے پر مَیں نے لیور برادرز والی نوکری کو ٹھکراکر سیشن کورٹ والی نوکری کو چُنا ۔اگلے چند برسوں میں میری ایمانداری اور پرفارمنس کے چرچے ان کی کھانسی گھٹاتے اور بقول ان کے ان کی عمر بڑھاتے رہے۔اگلے چند برسوں میں مَیں نے ان کی کئی اوردیرینہ دلی خواہشوں کو بھی پورا کر ڈالا۔ پرائیویٹ امتحان دے کرصرف ایم اے انگلش کا امتحان پاس ہی نہیں کیا بلکہ یونیورسٹی بھی ٹاپ کی۔ اس بنا پر مَیں نے ان دنوں لیکچرار شپ کی خواہش پال ڈالی تو میری نوکری کے لئے سب سے زیادہ دعائیں اور کوششیں انہوں نے ہی کیں۔ ملکی حالات ایسے تھے کہ سرکاری کالجوں میں لیکچرار شپ پر صوبائی حکومتوں نے پابندی لگا رکھی تھی اور جب یونیورسٹی میں لسانی بنیادوں اور اقراپروری کے باعث لیکچرار کی ایک اسامی پر میری تعیناتی نہیں ہو سکی تو ایک بار پھر مَیں مایوسی کے اندھے غار میں جا گرا۔ ایسے میں میرے ابو ہربارمیرے لئے ایک امید کی شمع روشن کرتے مگر میری مایوسی کی تیز ہَوا ان کی شمع گُل کر دیتی۔وہ میری زندگی کا مشکل ترین سال تھا۔ مَیں سٹینو گرافری کرتے کرتے تھک گیا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ میرے ابو اس عمر میں اتنی محنت کریں۔ ایسی مایوسی اور اتنی مشکل مالی صورتحال میں مجھے علم ہی نہیں ہو سکا کہ انہوں نے کیسے اپنی بڑی بیٹی اور میری چھوٹی بہن کے شادی کر ڈالی۔مجھے اندرونی کہانی کا تب علم ہوا جب ایک برس بعد مجھے سعودی عرب میں ایک معمولی نوکری کی آفر ہوئی اور مَیں نے منہ بھر کر اس نوکری کو ٹھکرا تے ہوئے لیکچرار شپ کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ایسے میں انہوں نے اکیلے میں کھانستے ہوئے مجھ سے نظریں ملائے بغیر ایک ایسا تکلیف دہ اعتراف کیاجس نے سوچ کے ساتھ ساتھ میری زندگی کا دھارا بھی بدل ڈالا!

’تم پریشان تھے اس لئے تمہیں نہیں بتایا……تمہاری بہن کی شادی کے لئے مجھے سُود پر قرض لینا پڑا……ایک سال گذر گیا ہے اور اب مجھ سے اس کی ماہانہ قسط نہیں اتاری جاتی …..مجھے معاف کردو بیٹے مگرمجھے لگتا ہے کہ تمہاری مدد کے بغیر اب مَیں یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا……اگر مناسب سمجھو تو بیرونِ ملک چلے جاؤ……میرا دل کہتا ہے اس میں برکات ہوں گی اور تمہارے لئے کشادہ اور حلال رزق کے نئے در کھلیں گے……کیا تم اپنی لیکچرار شپ کی خواہش قربان کر کے اپنے ابو کی مدد کر سکتے ہو بیٹے؟‘

میرا کلیجہ کٹ کر رہ گیا!

میرا عظیم بوڑھاباپ جس نے زندگی میں کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا تھا، ساری زندگی مجھے امیدیں بانٹی تھیں، آج وہ سر جھکائے میرے سامنے بیٹھا پرامید نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا اور میری مدد کا طلبگارتھا ۔ زندگی میں پہلی بار اس نے کسی سے مدد مانگی تھی اوریہ اعزاز میرے حصے آیا تھا!

مَیں نے اپنے باپ کے دونوں ہاتھ تھامے اورایک لمحے میں اپنی تمام دلی خواہشیں اور ارادے ہَوا میں اڑا دئیے۔ میرے پاس اپنے بوڑھے باپ کو دینے کے لئے اس کے سوا اورکچھ نہیں تھا!

مگرسب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اس کے آگے سفران کے بغیر تھا!

ان کا مہربان ہاتھ میرے کاندھے سے ہٹنے والا تھا !

اور ان کا شفیق چہرہ میرے سماعتوں سے اوجھل ہونے والا تھا!

ریلوے سٹیشن پر جس روز مَیں نے انہیں اور اپنے باقی گھر والوں کو رخصت کیا وہ میری زندگی کا تکلیف دہ ترین لمحہ تھا۔ ٹرین چلی تو وہ میرا ہاتھ تھامے ساتھ ساتھ چلنے لگے ۔ ٹرین تیز ہوئی تو وہ تقریباً ساتھ ساتھ بھاگنے لگے۔ وہ بھی رورہے تھے اور مَیں بھی رو رہا تھا!

اور پھرساتھ کے ساتھ ساتھ ان کاہاتھ بھی چھوٹ گیا!

وہ مہربان چہرہ دھیرے دھیرے میری نظروں سے دُور ہونے لگا اور پھرچند ساعتوں میں وہ چہرہ لوگوں کے ہجوم میں کہیں اوجھل ہو گیا!

بیرون ملک میں گذارے ابتدائی دو برس میرے لئے تختۂ دار پر پھانسی کے منتظر کسی قیدی کی مانندتھے۔ میری ہرابتدائی مشکل اور مایوسیوں پراگروہ امیدوں کے معطرپھول مجھے باقاعدگی سے خط میں نہ بھیجتے توشائد مَیں دوسرے مہینے ہی وہاں سے بھاگ آتا۔اور پھرایک وقت ایسا بھی آیا کہ مجھے لگنے لگا کہ میرے پاس نہ ہوتے ہوئے بھی وہ میرے ساتھ ہی تھے اور ان کا ہاتھ مجھے اپنے کاندھے پر رکھا ہواصاف محسوس ہوتا۔ انہیں کے مشوروں،دعاؤں اور روشن کی ہوئی امیدوں کے طفیل مَیں نے دو برسوں میں نہ صرف ان کا سُود کا قرض بھی اتار ڈالابلکہ ضد کر کے انہیں مزیدکام کرنے سے روک دیا۔میری شادی بھی ان کی خواہش کے مطابق اسی خاندان میں ہوئی اور اپنی شادی پر مَیں نے بہت حیرت کے ساتھ اپنے ابو کولُڈّی ڈالتے ہوئے بھی دیکھا۔اپنا مکان بھی نصیب ہوا ، اپنی گاڑی کی اگلی سیٹ پرپہلی بار میرے ساتھ بیٹھتے ہوئے ان کی آنکھوں میں نظر سے زیادہ خوشی کی چمک اور آنسو تھے۔ اس نئی قسم کی سواری پر وہ میرے ساتھ سوار تھے مگربائیسکل کی سواری کے طرح ان کا ہاتھ میرے کاندھے پر نہ ہوتے ہوئے بھی وہیں تھا!

سال اب تیزی کے ساتھ وقت کا ایندھن بننے لگے تھے۔اپنے ابو سے سالانہ ملاقات ہمیشہ تشنگی سے بھرپور لگتی ۔ہر بار فون پر ان سے کی گئی طویل گفتگو ہمیشہ ایک ادھورا سا احساس چھوڑ جاتی مگر ایک شے اب بھی جوں کی توں تھی!

وہ میری زندگی کا ایک ٹارگٹ پورا ہونے کے بعد مجھے ایک نیا چیلنج دے دیتے اور ہر بار میرا فوری ردِعمل یہی ہوتا…..

’یہ تو نا ممکن ہے ابو…..یہ مجھ سے کبھی نہیں ہو سکے گا!‘

’ کیوں نہیں ہو سکتا…..یہ کام تو ہر صورت کرنا ہے بھئی…..بالکل اس طرح جیسے اس سے پہلے سب مشکل کام تم نے کر کے دکھائے!‘ وہ ہر بار اس سے ملتے جلتے سادہ لفظوں میں بے یقینی کی زمین پرچاروں شانے چت پڑے اپنے بیٹے کو اٹھانے کی کوششوں میں لگ جاتے اور تب تک ہمت نہ ہارتے جب تک وہ ناممکن کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچ جاتا!

جب ان کی اسّی سالہ والدہ اور میری دادی جان نے میرے بازوؤں میں آخری سانس لی تب بھی ان کی خوش امیدی کا وہی عالم تھا!

’مَیں ابھی ڈاکٹر کو بلواتا ہوں…..مجھے یقین ہے ٹھیک ہو جائیں گی…..پہلے بھی انہیں اس طرح ہوا تھا…..ڈاکٹر صاحب کے انجکشن لگاتے ہی وہ نارمل ہو گئی تھیں !‘

مجھے تقریباً چیخ کر انہیں سمجھانا پڑا کہ وہ وفات پا چکی ہیں اور اتنی خوش امیدی بھی اچھی نہیں!

جب وہ بیرون ملک اپنے بیٹے کے گھر آئے تو ان کی خوشی دیدنی تھی!

’یہ تو محل ہے!‘

اور مَیں حیرت سے اپنے دو کمروں کے اپارٹمنٹ کو بے یقینی کے عالم میں نئے سرے سے دیکھنے لگا!

’یہ محل کہاں سے ہے ابو؟…..یہ توصرف دو کمروں کا اپارٹمنٹ ہے!‘

’تمہیں کیا پتہ مَیں اسے کس نظر سے دیکھتا ہوں…..میرے لئے یہ محل ہے جس میں میرا بیٹا بادشاہوں کی طرح، میری بہو ملکہ کی طرح اور میرا پوتا شہزادوں کی طرح رہتے ہیں!‘

اور مَیں نے دل ہی دل میں اپنے ابو کی سادگی اورقناعت پسندی پر مسکرانے پر اکتفا کیا!

جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بیٹے کی زندگی کے تمام ٹارگٹ پورے ہو گئے ہیں تو انہوں نے ساری توجہ اپنے علاقے کی مسجد کی طرف مرکوزکر لی۔ہر بار سالانہ چھٹی پر یا کسی فون کال کے دوران وہ چپکے سے میرے کان میں مسجد سے متعلقہ ایک نیا مشن ڈال دیتے۔

’کم بخت واپڈا والے عین جماعت کے دوران بجلی بند کر دیتے ہیں…..جمعے والے دن تو بہت مسئلہ ہوتا ہے …..مسجد کے لئے ایسا جنریٹر لینا ہے جس سے کم از کم آدھے پنکھے تو ضرور چل سکیں!‘

’مسجد میں پینے والے ٹھنڈے پانی کا ایک کولر ہونا چاہئیے!‘

’مسجد کے کارپٹ پرانے ہو گئے ہیں…..انہیں بدلوانا ہے!‘

’مسجد کے تحفیظ القرآن والے مدرسے میں رہنے والے اور قرآن حفظ کرنے والے یتیم بچوں کے لئے ماہانہ راشن ہونا چاہئیے اورچونکہ بچے زیادہ ہیں چنانچہ ان کے لئے ہانڈی روٹی کرنے والی ایک ملازمہ کا بندوبست کرنا ہے!‘

’مسجد کا لاؤڈ سپیکر نیا ہونا چاہیئے…..دس سال سے ایک ہی سپیکر چلا جا رہاہے…..اب چل چل کر بیچارا پھٹ چکاہے!‘

خاندان میں لڑکیوں،لڑکوں کے رشتے ہوں یا گھر کے سامنے ابتر حالت والی سڑک،وہ کسی نہ کسی مشن کی تحریک ڈال دیتے اور میرے ساتھ ساتھ بہت پر امید انداز میں دوسروں کو بھی ’اور بہتر‘ اور ’یہ تو کرنا ہی ہے!‘ کی ترغیب دیتے رہتے ۔ اور تو اور ملک کی بد ترین سیاسی قیادت کے ایک معمولی سے اچھے قدم کو بھی بہت پر جوش انداز میں انقلابی قدم اوراسے ملک کی تقدیر اور برا وقت بدلنے کا اشارہ قرار دے دیا کرتے!

اپنے ابو کے ساتھ اس چوالیس سالہ سانجھے سفر کے بعد یہ رازکافی حد تک مجھ پر منکشف ہوچکا تھا کہ ان کا ہر مشن امید، دیانت،عملی کوششوں اوردعاؤں پر تعمیر ہوتا تھا اوراب تک مجھے یقین ہو چکا تھا کہ ان چار اجزائے ترکیبی کی موجودگی میں میرے ابو کے کسی مشن کی ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مَیں اپنے ابو کے کسی نئے مشن کے متعلق جان کر اب کبھی یہ نہیں کہتا تھا کہ یہ کام آخر ممکن کیسے ہو گا!

اور پھرایک زرد دوپہرجب بیٹھے بٹھائے مجھے یہ اطلاع ملی کہ شدید کھانسی اور بے ترتیب سانس کے باعث انہیں ہسپتال میں داخل کر نا پڑ گیا ہے تومَیں اپنی سب مصروفیات چھوڑ چھاڑ کرپاکستان جا پہنچا ۔ ان کی حالت کافی تشویش ناک تھی سواپنے آپ کو ابو کا سچا وارث ثابت کرنے کے لئے زندگی میں پہلی بار مَیں نے ان میں امیدیں بانٹنے کی مشکل ذمہ داری سنبھالی۔

’آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے ابو…..ڈاکٹر صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ آپ کے سپُوٹم ٹسٹ کا رزلٹ پہلے سے بہت بہتر آیا ہے!‘

’آج آپ کا سانس کل سے بہت بہترہے…..نئے اِنہیلرکا معیار واقعی اچھا ہے…..بس جلدی سے مکمل ٹھیک ہو جائیں!‘

’نیبولائزر نے اپنا کام دکھانا شروع کر دیا ہے…..میرا خیال ہے اب آپ کے سعودی عرب کے اگلے دَورے کی پلاننگ شروع کر دینی چاہیئے!‘

اور میرے سادہ مزاج ابو ان امید افزا باتوں کو سن کر مسکرا اٹھتے!

’اب مَیں ٹھیک ہوں تم واپس جاؤ…..تم اپنی کمپنی کے مصروف افسر ہو…..ہر روز تمہارے دفتر والے تمہیں فون کر کے واپسی کا پوچھتے ہیں…..مجھے کچھ نہیں ہو گا…..انشا اللہ ٹھیک ہو کر مَیں اور تمہاری امی جلد سعودی عرب آئیں گے اور چھ مہینے تک تمہارے پاس رہیں گے!‘

مَیں بادل نخواستہ سامان باندھ کر واپسی کے سفر پر نکلا تو وہ اب بھی مجھے فراخ دلی کے ساتھ امیدیں بانٹ رہے تھے۔ان کا پاس امیدوں کا اتنا بڑا ذخیرہ تھا کہ جتنا بانٹتے اور خرچ کرتے تھے،اُتنا ہی بڑھتا چلا جاتا تھا۔ مَیں جانے سے پہلے ان کے گلے سے لگا تو ان کا ناتواں وجودفرطِ جذبات سے لرزنے لگا۔انہیں اس طرح جذباتی ہوتے دیکھ کر مَیں نے واپسی کا ارادہ بدلنا چاہا۔

’نہیں بیٹے…..تم جاؤ…..پھر ملیں گے انشااللہ…..تمہارے ساتھ کی پرانی عادت ہے ناں…..تم سے بچھڑتے ہوئے ہمیشہ اسی طرح دل خراب ہوتا ہے…..بے فکر ہو کرجاؤ….. اللہ کی امان…..گھبرانانہیں بیٹے…..مَیں تمہارے ساتھ ہوں!‘

یہ کہتے ہوئے انہوں نے پہلے میرے کاندھے پر اپنا لرزتا ہاتھ رکھا اور پھر حسبِ عادت گلے ملتے ہوئے میرے کاندھے کو چوما!

اس سہ پہر مجھے ان کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے یوں محسوس ہوا جیسے کسی بچے کے ہاتھ سے اس کاوہ رنگین غبارہ چھوٹ گیا ہو جسے اس نے بہت ضد کے بعد بڑے شوق سے پایا تھا اور وہ روتے ہوئے اپنے رنگین غبارے کو آسمان کی طرف بلند ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہو!

وہ زندگی میں ہماری آخری ملاقات تھی!

ابھی سفر کی تھکن بھی نہ اُتری تھی کہ اگلی صبح فون پر اطلاع مل گئی کہ ابو آخری سفر پراکیلے روانہ ہو گئے!

مجھے بتایا گیا کہ میرے جانے کے بعد اسی رات ان کی حالت اچانک پھر بگڑ گئی تھی ۔ شائد میری بانٹی ہوئی امیدیں جھوٹی تھیں یا پھراتنی کم اثر کہ وہ ایک رات بھی ان کے ساتھ نہیں چل سکیں!

ہسپتال میں آخری سانسیں لیتے ہوئے جب ان کے لئے سانس لینا بھی محال ہو رہا تھا تو نرس نے ان سے پوچھا تھا۔

’ہمت کر کے یہ چند گولیاں کھا سکیں گے؟‘

اور میرے ابو تھے کہ ایسی حالت میں بھی ان کی خوش امیدی کا وہی عالم تھا!

’ہاں ہاں کیوں نہیں……کھا لوں گا مَیں!‘ انتہائی نحیف آواز میں انہوں نے سر ہلا کر بڑی امید کے ساتھ یوں اپنی زندگی کی آخری خوراک کھائی تھی جیسے انہیں یقین تھا کہ اس دوا کے کھاتے ہی وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے!

آخری سفر پر ان کا ساتھ دینے کے لئے فون پرمیری آمد کے بابت پوچھاگیا تو مَیں نے شرعی تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ان کی تدفین کی اجازت دے دی کیونکہ بیرون سفر سے آتے اوراپنے چھوٹے شہر میں پہنچنے تک بہت دیر ہو جاتی۔وہ میری زندگی کا تکلیف دہ ترین سفر تھا۔ سارا راستہ لوگوں سے اپنا دکھ چھپانا پڑا اور تمام آنسووؤں کوبڑی محنت کے ساتھ سنبھالے رکھا۔علی الصبح جب اپنے شہر پہنچتے ہی مجھے ان کی تازہ قبر تک پہنچایا گیاتوان کی قبر کی مٹی مجھ سے گلے کرنے لگی۔مَیں نے اپنے تمام آنسو ان کی قبر پر بچھا ڈالے اور جب اپنا کانپتا ہوا ہاتھ ان کی قبر کی گیلی مٹی پر رکھا تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میرے ابونے میرے دائیں کاندھے پر ہاتھ رکھ کر میرے کانوں میں کہا۔

’گھبرانا نہیں بیٹے…..مَیں تمہارے ساتھ ہوں!!!‘

محمود ظفر اقبال ہاشمی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo