نیا پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

آج جسے دیکھو نیا پاکستان بنانے کے راگ الاپ رہا ہے ۔ کیا نیا پاکستان بنانا اتنا ہی آسان ہے ۔سب کو نیا پاکستان بنانے کی فکر ہے ۔ دکھ اور ناکامی کی دلدل میں ڈوبتے پاکستان کو بچانے کی فکر کسی کو نہیں…!ایک سیلاب گزیدہ پاکستانی کا دکھ جو پاکستان کو حقیقتاً پاک استھان بنانے کی فکر میں تھا۔
اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔
وہ گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول کے وسیع وعریض میدان میں ایک درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔ اس کے سامنے میدان میں بیسیوں خیمے لگے ہوئے تھے ۔ جہاں سیلاب زدگا ن پانی کے تیزو تند ریلوں میں بہہ جانے والی زندگی کو دوبارہ قطرہ قطرہ سمیٹنے کی کوشش کررہے تھے ۔اس کی آنکھوں میں آنسووں کا سیلاب تھا تودل میںدکھ کا طوفان ! پانی کا سیلاب تو آکر گزرگیا تھا لیکن آنسووں کا سیلاب تھا کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اس چھوٹی سی خیمہ بستی میں بھی ہر طرف دکھ ہی دکھ بکھرا ہوا تھا ۔لیکن اس کے دکھ کی وجہ بڑی عجیب اورنوعیت بڑی مختلف تھی ۔
’’امی …بابا … ! میں تو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہنا چاہتا تھا لیکن آپ…!‘‘اس کے دل میں درد کی ایک اور ٹیس اٹھی اور دو گرم گرم آنسو اس کے گالوں پر ایک لمبی لکیر بناتے گزر گئے ۔ جیسے وقت گزر جاتا ہے اور اپنے پیچھے یادوں کی ان مٹ لکیریں چھوڑ جاتا ہے۔ اس کی آنسووں کے سیلاب میں بہتی سوچیںانہی لیکروں کا سراغ ڈھونڈتے ہوئے دوسال پیچھے چلی گئیں۔جہاں اس کے بابا کہہ رہے تھے:
’’بیٹا اللہ کی مصلحتیں تو میں نہیں جانتا ،لیکن میرا دل کہتا ہے اس شہر میں تمہارا نصیب نہیں جاگے گا ۔تم یہاں سے ہجرت کرجائو ۔ لاہور چلے جائو…!‘‘
’’بابا آپ مجھے خود سے دور ہونے کے لیے کہہ رہے ہیں ۔‘‘
’’نہیں بیٹا میں تمہیں اللہ کی منشاء سے قریب ہونے کے لیے کہہ رہا ہوں ۔بیٹا قدرت کے اصول بڑے نرالے ہیں اور ان میں کیا کیا حکمتیں چھپی ہوئی ہیں ،ہم اپنی محدود عقلوں سے نہیں سمجھ سکتے …اب یہی دیکھ لو ۔روز کا معمول ہے ۔ ادھر کے پرندے اپنا رزق تلاش کرنے ادھر جاتے ہیں اور ادھر سے پرندے ادھر آجاتے ہیں ۔ دانہ پانی دونوں کو ہی مل جاتا ہے لیکن اپنا نصیب تلاش کرنے کے لیے دونوں کو ہی اپنا اپنا بسیرا چھوڑنا پڑتا ہے ۔اللہ کریم چاہیں تو دونوں کو اپنی اپنی جگہ ہی رزق عطا کردیں ۔لیکن یہ مالک کا نظام ہے ۔ اس کی باریکیاں بھی وہی جانتا ہے ۔‘‘
’’لیکن بابا میں ہمیشہ آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں ۔اماں کی گود میں … آپ کے قدموں میں …!‘‘اس نے بچوں کی طرح ہمکتے ہوئے کہا ۔ اولاد کا والدین سے تعلق ہی ایسا ہے ۔ پچاس سال کا بوڑھا بھی اپنے ماں باپ کی آغوش پاکر پھر سے ننھا منا سا بچہ بن جاتا ہے ۔بابا اسے بے اختیار گلے سے لگاتے ہوئے بولے:
’’کون والدین اپنی اولاد کو خود سے جدا کرنا چاہتے ہیں … لیکن تم نے بار بار آزما کر دیکھ لیا اس شہر میں تمہارا نصیب نہیں لکھا ۔ اور تم اکیلے نہیں ہو۔ بیوی بچوں کی ذمہ داریاں بھی ہیں تم پر … تم جہاں بھی رہو گے ہماری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں …!‘‘بابا اندرسے چاہے تڑپ رہے تھے لیکن ان کا لہجہ مضبوط اور فیصلہ اٹل تھا۔
وہ بھی نافرمان نہیں تھا ۔ بیوی بچے اور اپنا نصیب ساتھ لے کر رزق کی تلاش میں لاہور آگیا ۔بابا نے صحیح کہا تھا ۔وہی نصیب جو اپنے آبائی شہر میں ہزار کوشش کے باوجود ماند پڑا ہوا تھا لاہور آکر چمک گیا ۔اور صرف دو ہی سال کے عرصے میں دولت کی اس قدر ریل پیل ہوئی کہ اس کاکاروبار لاہور سے نکل کر پورے ملک میں پھیل گیا۔
زندگی اطمنان سے گزر رہی تھی ۔لیکن وہ مصلحت ابھی بھی اس کی سمجھ سے کوسوں دور تھی ۔پھر اچانک ملک سیلاب کی لپیٹ میں آگیا ۔آدھا ملک پانی میں ڈوب گیا اور باقی آدھا مہنگائی اور بے اعتنائی میں…پانی قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ بہت سی خوشی اور خوشحالی بھی اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ۔بہنے والوں میں اس کے بوڑھے امی ،بابا بھی تھے ۔جو اس کی ہزار کوشش کے باوجود اپنا آبائی گھر چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے تھے ۔
اسے یہاں آئے ہوئے ایک ماہ سے زائد دن ہوگئے تھے ۔اس ایک ماہ میں اس نے زندگی کو بڑے قریب سے دیکھا تھا ۔ایک طرف وہ سسکتے بلکتے ، بھوکے پیاسے لوگ تھے جو اپنے پیاروں کی موت کا بوجھ اٹھائے ، اپنی بھوک پیاس سے ہلکا ن ہوتی زندگی کو سہارا دینے کے لیے چند نوالوں کی تلاش میںالجھے ہوئے تھے۔اوردوسری طرف زندگی کی تمام تر آسائشوں اور آلائشوں میں گردن گردن تک ڈوبے حکمران تھے جو اپنے محفوظ اور آرام دہ ڈرائنگ روموں میں بیٹھے کیمرے کے سامنے سیاسی بیان داغ رہے تھے ۔
’’ہم نیا پاکستان تعمیر کریں گے …!‘‘
کیا پاکستان بنانا اتنا ہی آسان ہے ۔؟جس نے چاہا، جب چاہا نیا بنانے کا اعلان کردیا ۔ انیس سو سنتالیس میں ایک پاکستان بنانے کے لیے لاکھوں افراد کو قربانیاں دینا پڑی تھیں ۔ ہزاروں جوانوں کی ناحق لاشیں گریں، ہزاروں معصوم بچے ان کی مائوں کی آنکھوں کے سامنے نیزوں پر اچھالے گئے ۔ اور لاتعدا د مائوں بہنوں اور بیٹیوں کے آنچل وحشت اور درندگی کے سفاک کانٹوں پر گھسیٹے گئے ، لاکھوں افراد نے اک آگ او ر خون کا دریا پار کیا ،تب جاکر بنا تھا یہ ایک پاکستان…!
ہر کوئی ایک نیا اور خوشحال پاکستان بنانے کا اعلان کررہا تھا ۔ ڈوبتے پاکستان کو بچانے کی کسی کوفکر نہیں تھے۔ البتہ بھیک کا کٹورا تھام کر ملکوں ملکوں گھومنے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔بھیک سے بے شرمی اور بے غیرتی کے قلعے تو بھلے تعمیر ہوجائیں ،عزت اور آبرو کاتو گھروندا بھی نہیں بن سکتا …!اور پھر وہی ہوا جو ہر ایسے موقع پر ہوتا آیا ہے ۔ڈالر غیر ملکی اکائونٹوںمیں سمٹ گئے ، اکثر امدادی ساما ن ہوس کے بازاروں میںنیلام ہو گیا اور جو بچ رہا وہ بندرگاہوں پر پڑا سڑ تارہا ۔متاثرین کے حصے میں صرف محرومیاں آئیں یا پھر حکمرانوں کی بے حسیاں…!
وہ چند روز تک تو تماشہ دیکھتا رہا پھر بالآخر بے قرارہوکر اس نے ایک فیصلہ کرلیا۔اس نے اپنے بابا کے نام پر ایک رفاہی ادارے کی بنیاد رکھی اور اپنی آمدنی کا کثیر حصہ ٹرسٹ کے لیے وقف کردیا۔یہ خیمہ بسی اسی کی قائم کی ہوئی تھی ۔ جہاں متاثریں سیلاب کو بڑی محبت اور احترام کے ساتھ رکھا گیا تھا ۔ ان کے کھانے پینے کا بندوبست اور بچوں کی اخلاقی تربیت اور دنیاوی تعلیم کا انتظام بھی ٹرسٹ نے اپنے ذمے لے لیا تھا۔
ا س وقت بھی وہ اسی بستی کے سامنے بیٹھا تھا ۔جہاں کے رہنے والے درد دل سے معمور تھے ۔ ان میں اخوت تھی ۔ راواداری تھی ۔ ایک دوسرے کا احساس تھا ۔ آپس میں پیار تھا ۔سیلا ب نے اپنی ہولناکی سے دکھوں اور مصیبتوں کی جو داستانیںرقم کی تھیں اس خیمہ بستی کے رہنے والے اپنے صبر ، حوصلے اور ایثار سے انہیں لازوال بنا رہے تھے ۔آج اسے اللہ کی وہ مصلحت بھی سمجھ میں آگئی تھی جو دوسال قبل اس کی سمجھ سے کوسوں دور تھی۔وہ اپنا آبائی علاقے میں ہی پڑارہتا تو شاید ماں باپ کے ساتھ ہی سیلاب میں بہہ جاتا۔لیکن اللہ کریم اسے اس حال میں زندہ رکھنا چاہتے تھے کہ وہ کئی خاندانوں کی کفالت کا بوجھ اٹھا سکے۔
قائد اعظم نے پاکستان کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا تھا ۔ہم پاکستان کے نام پر ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں کے رہنے والے اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا تھا اور یہی اس کے دکھ کی اصل وجہ تھی ۔
اس کے سامنے خیموں میں زندگی بکھری ہوئی تھی ۔ وہ زندگی جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں گزاری جارہی تھی ۔قائداعظم کی تعریف کی رو سے یہ خیمہ بستی ایک چھوٹا سا پاکستان تھی۔اصل پاکستان …!اس کے دل سے دعا نکلی کاش یہ بستی بڑی ہوکر پورے ملک میں پھیل جائے اور ہمارا پیارا وطن پاکستان ویسا ہی پاک استھان (یعنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ )بن جائے جیسا آج سے چودہ صدیاں قبل حضور علیہ السلا م نے مدینہ منورہ کی پاک سرزمین پر قائم کیا تھا ۔
محمد طارق سمرا

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo