سہیلی (قسط 2)

قارئین آپ کے لئے ایک فکر انگیز تحریر لئے حاضر ہیں۔ یہ تحریر قسط وار شائع کی جا رہی ہے اور کل تین قشطوں میں سے آج اس کی دوسری قسط شائع کی جا رہی ہے۔آپ سے خصوصی التماس ہے کہ کہانی کو مکمل پڑھیئے کیونکہ اس کے کردار ہماری زندگی کے جیتے جاگتے کردار ہیں۔

میں نے جب پوچھا کہ آپ کی بیوی مان جائے گی؟تو جواب ملا پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اس کی اجازت کے بغیر بھی دوسری شادی کرسکتا ہوں کیونکہ شریعت نے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی شرط نہیں رکھی …مگر بعد کے مسائل سے بچنے کے لئے اسے اعتماد میں لے لینا بہتر ہوگا،اور ایک یہی مرحلہ بہت مشکل ہوگا۔لیکن سارہ دل کی بہت اچھی ہے ،دین دار ہے ،مشکل سے ہی سہی بالآخر مان جائے گی ۔اس کا ایک دوسرا حل بھی ہے کہ فی الحال سارہ کو نہ بتایا جائے،ہم خفیہ طور پر نکاح کرلیں۔یہ بات سن کر میں تو آگ بگولہ ہو گئی اور میں نے کہا”نکاح کا مطلب شادی کا اعلان ہوتا ہے،اور چھپ کر کئے جانے والے نکاح کو میں نکاح سمجھتی ہی نہیں۔نکاح ہوگا تو اعلانیہ ہوگا…کیونکہ میرا ایک بہت مقدس پیشے سے تعلق ہے۔میں ایک استاد ہوں۔میں نے اللہ کے فضل اور بڑی محنت سے اس شہر میں ایک باعزت اور باوقار مقام حاصل کیا ہے۔پھر بیوگی کے بعد میری پوزیشن اور بھی نازک ہوگئی ہے ،آپ میرے گھر آئیں، جائیں گے تو لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟پھر میرے بیٹے ابھی بہت چھوٹے ہیں۔۔۔ان پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا۔لہٰذا بہتر ہے کہ آپ پہلے سارہ کو منائیں۔۔۔بلکہ آپ کو اسے منانے ،اعتماد میں لینے ،اس کی ذہن سازی کے بعد ہی مجھ سے بات کرنی چاہئے تھی۔”
کچھ عرصے بعد پتا چلا کہ موصوف پاکستان آرہے ہیں۔سو پاکستان آکرسارہ سے بات کرنے کا فیصلہ ہوا۔سارہ سے بات ہوئی،حسبِ توقع اس کے لئے یہ خبر کسی بم سے کم نہ تھی۔کیونکہ وہ ہر مشرقی عورت کی طرح اپنے شوہر سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔وہ یہ سن کر بہت روئی۔کچھ دیر کے لئے تو موصوف بھی گڑبڑا گئے۔لیکن پھر مجھ سے کئے ہوئے وعدے،وعید یاد آئے۔ہوسکتا ہے کہ مجھے بہت مظلوم بنا کر پیش کیا گیا ہو۔۔۔میری مشکلات کا رونا رویا گیا ہو؟یہ تو سارہ ہی بتا سکتی ہے کہ اسے کیسے منایا گیا؟سارہ پلیز آپ بتائیے کہ آپ کیسے مانیں؟عائشہ نے سارہ سے سوال کیاسارہ نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا”یہ خبر واقعی میرے لئے کسی بم سے کم نہ تھی۔میں بہت روئی،کھانا پینا چھوڑدیا۔میرا دل محبت میں شراکت پر قطعی تیار نہ تھا۔میرے دل میں طرح طرح کے خدشات سر اٹھا رہے تھے۔بچوں کا اور اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا تھا۔عبدالرحیم صاحب نے مجھے سمجھایاکہ سارہ تمہیں وہی مقام حاصل رہے گاجو اب حاصل ہے،تم سے میری محبت میں کوئی کمی نہیں آئے گی،بلکہ تمہارے اجازت دینے سے میرے دل میں تمہاری محبت اور بڑھ جائے گی۔تم یہ نہ سوچو کہ میری محبت “تقسیم” ہوجائے گی،تمہارے بچوں کو ملنے والا پیار “بٹ” جائے گا بلکہ تم یہ سوچو کہ
“محبت کو تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ محبت کو ضرب دی جاتی ہے”
تم اس حدیث کی عملی تصویر کیوں نہیں بنتیں؟کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے،اوپر والا ہاتھ دینے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے
سو تم اوپر والا ہاتھ بن جاؤ۔تم یہ مت سوچو کہ ایک بیوہ اور اس کے یتیم بچوں کے آجانے سے گھر کے اخراجات میں اضافہ ہوجائے گا،مجھے اور میرے بچوں کو ملنے والی سہولیات کم ہوجائیں گی بلکہ یہ سوچو کہ اللہ رب العزت نے ہر انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کا رزق بھی لکھ دیا ہے،
جو ہر صورت اسے مل کر رہے گا۔آنے والے اپنا نصیب لے کے آئیںگے۔وہ اپنے نصیب کا کھائیں گے،تم لوگ اپنے نصیب کا کھائوگے۔
تم یہ سوچو اس شادی سے کتنے غمگین دل راحت پائیںگے؟اور دل تو وہ جگہ ہے جہاں رب رہتا ہے۔سو ان کے دلوں کو سکون پہنچانے کے عوض اللہ تمہاری،تمہارے شوہر کی،تمہارے بچوں کی نہ صرف دنیا بلکہ آخرت بھی سنوار دے گا۔انہوں نے شادی سے رزق کی فراخی والی آیت مجھے بھی سنائی،یتیم اور بیوہ کی خدمت پر ملنے والے اجروثواب والی احادیث کا ذکر کیا۔اور کہا تم اس کارِخیر میں معاونت پر اللہ اور رسول ﷺ کی خوشنودی کے حصول میںمعاونت پراللہ تعالیٰ اور اپنے شوہردونوںکی “منظورِنظر”بن جاؤ گی۔
عبدالرحیم صاحب نے مجھے مولانا محمد اسلم شیخوپوری صاحب کی کتاب”ایک سے زائد نکاح سنتِ نبوی ﷺ ہے”پڑہنے کے لیئے دی جس میں نبی کریم ﷺ ،خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم وغیرہ کی متعدد شادیوں کی مثال دی گئی ہے۔اس میں کہاگیا ہے کہ عام طور پر د وسری شادی کو عیاشی قرار دے دیا جاتا ہے حالانکہ عیاشی تو تب ہوتی جب وہ نکاح کے بغیر اِدھر اُدھر منہہ مارتا…ور اپنے اوپر کوئی ذمہ داری نہ لیتا۔نکاح کی صورت میں بیوی اور بچوں کی کفالت اور تربیت کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھانے والے کو ہم کیسے عیاش کہہ سکتے ہیں؟اسی کتاب میں مولانا طارق مسعود صاحب لکھتے ہیں “یہ سب حضرات اس شخص کی دوسری شادی کا ارادہ سنتے ہی ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔۔۔اور وہ فرد جو ڈرتے ڈرتے …کہ کہیں اس ارادے کے اظہار پر گھر کے کسی فرد کو “ہارٹ اٹیک”نہ ہوجائے یا خدا نخواستہ بیوی بے ہوش نہ ہوجائے،سانس قابو میں رکھتے ہوئے انتہائی جوانمردی اور حوصلے کا مظاہرہ کرکے گھر کے افراد کے سامنے دوسری شادی کا اظہار کردے تو والدین ،بہن ،بھائی اور بیوی وغیرہ اولاً تو اسے محض گپ شپ پر محمول کرتے ہیں کیونکہ انہیں یہ گمان بھی ہرگز نہیں ہوتا کہ ان کے خاندان کا کوئی “مناسب ” فرد ان سے اس قسم کا بھونڈا مذاق بھی کرسکتا ہے۔مگر جب انہیں یقین ہونے لگتا ہے کہ ان کے خاندان کا ایک فرد اب انتہائی “نا مناسب”بن گیا ہے اور پہلی بیوی اور بچوں کے ہوتے ہوئے اس کا ارادہ واقعی ایک اور شادی کا ہے ,خاندان کے افراد تعاون تو کیا کرتے …یہ بات سنتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں،باپ کی طرف سے ٹانگیں توڑنے کا حکم اور ماں کی طرف سے دودھ نہ بخشنے کی دھمکیاں ملنے لگتی ہیں”۔جو یقیناً نہایت غلط رویہ ہے اسی کتاب میں ایک باب ہے “خاوند کی دوسری شادی پر پہلی بیوی کیا کرے؟اس باب میں بہت وضاحت سے اورخوبصورت انداز میں بتایا گیا ہے کہ”عورت کو اپنے شوہر کی دوسری بیوی کے متعلق حقارت آمیز ،طعن آمیز اور تمسخر آمیز گفتگو نہیں کرنی چاہئے…کیا وہ سمجھتی ہے کہ ایسا کرنے سے خاوند کو دوسری بیوی سے برگشتہ کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟اس کے برعکس اس کا یہ طرزِعمل خاوند اوردوسری بیوی کے تعلقات کو مزید استوار کرنے کا باعث ہوگا۔…وہ اپنی پہلی بیوی کی ناجائز غیبت پر نالاں ہوکر دوسری بیوی کی طرف زیادہ رجوع کرے گا…وہ سمجھے گا کہ دوسری بیوی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے…جس کی وجہ سے وہ اس کی زیادہ توجہ اور ہمدردی کی مستحق ہوگی اگر تجزیہ کیا جائے تو یہ عقدہ کھلے گا کہ اس کے خاوند کی دوسری شادی اللہ تعالیٰ کی رضا سے ہوئی ہے…اسے ایک سچّی مسلمان عورت ہونے کے ناتے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوجانا چاہئے…اور صبر کرنا چاہئے،ایسا باعزت رویہ اپنا کر وہ یقیناًفائدہ میں رہے گی۔ “(ایک سے زائد نکاح سنّتِ نبوی ﷺ ہیـ”صفحہ نمبر 345 ۔ پھر عبدالرحیم صاحب نے عائشہ سے میری بات کروائی میں نے بادلِ ناخواستہ بات کی۔۔۔عائشہ نے مجھے بتایا کہ سارہ !میں نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ الحمد للہ انتہائی خوشگوار زندگی گزاری ہے اور اللہ رب ا لعزت نے مجھے تین اتنے پیارے بیٹوں سے بھی نوازا ہے اس لئے میں اپنے آپ کو دوسری شادی کے لئے بالکل تیار نہیں کرپارہی۔میں نے عبدالرحیم صاحب کو صاف انکار کردیا تھا۔کیونکہ آپ کی نسبت مجھے مشکلات کے سامنے کا زیادہ اندیشہ ہے۔آپ اور آ پ کے بچے اس گھر کے مالک ہیں،میں تو آپ کے ” گھر” میں لائی جائوں گی ،اصل بات دلوں میں”گھر” بنانا ہے جو بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔میں اگر اس میں کامیاب نہ ہوسکی تو میرے بچے…اللہ نہ کرے،اللہ نہ کرے “رُل” جائیں گے۔سومیں آپ سے ایک واقعہ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔۔
ایک مرتبہ ہم (میں،میرے شوہر،تینوں بچے ) ٹرین میں سفر کررہے تھے۔تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ بھی ٹرین میں بیٹھے تھے۔ایک شرعی مسئلے پر بات شروع ہوئی۔میرے شوہر نے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیا،وہ سب بہت متاثر ہوئے اوگروپ لیڈر جو اپنے علاقے کا سردار تھا،نے ہمیںاپنے گھر آنے کی دعوت دی۔میرے شوہر نے چھٹیوں میں آنے کا وعدہ کرلیا۔چھٹیاں ہوتے ہی فون آگیا کہ آپ کب آرہے ہیں؟سو ہم وہاں پہنچے تو پتہ چلا کہ سردار صاحب کی دو بیویاں ہیں۔دونوں ایک ہی گھر میں رہتی ہیں،کھانا،پکانا ہر کام مشترکہ ہے۔بظاہربھی دونوں مجھے خوش ہی لگیں۔ان کی پہلی بیوی نے اچانک مجھ سے پوچھا”تیڈی سہیلی دا کیا ناں ہے؟” میں حیران کہ وہ میری سہیلی کا نام کیوں پوچھ رہی ہے؟پھر میری تو کئی سہیلیاں ہوسکتی ہیں،کس کا نام بتائوں؟میں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا،اسے اندازہ ہوا کہ میں شاید اس کا سوال سمجھ نہیں سکی،سو اس نے اپنی”سوکن”کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا”میڈی سہیلی دا ناں رضیہ ہے”تو مجھے سمجھ آیا کہ وہ میرے شوہر کی پہلی بیوی کا نام پوچھ رہی ہے۔میں تو حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوگئی کہ “سوتن”کے لئے “سہیلی”کا لفظ؟؟؟
واپس آکر میں نے اپنے شوہر کو ساری بات بتائی،وہ بھی بہت حیران ہوئے کہ لوگوں کی نظر میں بالکل “جاہل”عورت نے کتنی “گہری”بات کی۔ اس کی یہ بات کئی دن ہمارے گھر میں زیرِبحث رہی۔میں نے اپنے حلقہ احباب میں سب کو یہ بات بتائی۔میں نے اپنے شوہر سے اس حوالے سے سارا فلسفہ سمجھا اور ایک دن میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ “اگر کبھی آپ یہ سمجھیں کہ آپ کوتیسری شادی کرلینی چاہئے تو میں آپ کو کھلے دل سے اس کی اجازت دیتی ہوں کہ آپ جب چاہیں تیسری شادی کرلیں۔۔لیکن جب بھی کریں بس مجھے بتا کر کریں۔میں اسے اپنی سہیلی بنا کے رکھوں گی،کیونکہ دونوں بیویاں اپنے شوہر کے سب رازوں کی شریک ہوںگی،سو انہیں سہیلیاں بن کر ہی رہنا چاہئے تاکہ گھر امن وسکون کا گہوارہ بنا رہے۔”
یہ تو اللہ کی طرف سے ایک آزمائش اور امتحان تھا کہ مجھے اپنے شوہر کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔اور الحمد للہ ،اللہ نے مجھے صبرکی ہمت بھی دی۔اس مالک کا بڑا کرم ہے کہ اس نے مجھے تین اس قدر خوبصورت شہزادے بھی دے دیئے تھے کہ جو میرے لئے زندہ رہنے کا جواز ہیں۔ مجھے عدت کے فوراً بعد دوسری شادی کے مشورے دیئے جانے لگے،اور ظاہر ہے میری ہمدردی میں دیئے گئے،لیکن میرے شہزادے میراسرمایہ حیات ہیں،میں نہیں چاہتی میرا کوئی غلط فیصلہ،کوئی غلط اقدام ان کی محرومیوں میں اضافہ کردے۔ میں اب بھی دوسری شادی نہیں کرنا چاہتی لیکن صرف یہ سوچ رہی ہوں کہ ہم اپنے نبی رحمت ﷺکی سنّت کو زندہ کرنے کا عظیم کام کرکے اپنی دنیا اور آخرت کیوں نہ سنواریں؟ اس لئے میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اس بات پر غور کریں کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم واقعی سہیلیاں بن جائیں؟ہم عبدالرحیم صاحب سے وعدہ لیں کہ وہ اپنے نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ کو نمونہ بناتے ہوئے ہم دونوں میں مساوات قائم رکھیںگے،دن تقسیم کریںگے،دونوں سے حسنِ سلوک کریںگے،کسی کو نظرانداز نہیں کریں گے اور کسی جھگڑے یا لڑائی کی صورت میں انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے بلکہ بہترین حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے صلح صفائی سے معاملہ نمٹا لیا کریں گے ،ان شاء اللہ ۔اور ہم سب مل جُل کر ایک گھر میں زندگی گزاریں؟
میں نے کہا سارا میں سہیلیوں کا لفظ اس لئے استعمال کررہی ہوں کہ سہیلی کا مطلب ہے ساتھن،سَکھی،ساتھ رہنے والی،ہمجولی،رازدار،ہمدرد، دکھ سکھ کوسمجھنے والی اور دکھ سکھ میں ساتھ دینے والی وغیرہ وغیرہ۔ اگرہم دونوں ہندوئوانہ سوچ اور ہندؤوانہ تصور کے تحت استعمال ہونے والے الفاظ ومحاورات مثلاًسوتن وغیرہ کو چھوڑ کر “سَہیل پُنا”اپنا لیں اور دونوں سہیلیاں اور ساتھنیں بن جائیں ،ایک دوسرے کی ہمدرد بن جائیں، دکھ درد ،تکلیف اور بیماری میں ایک دوسری کا خیال رکھنے لگیں،شوہر کے ہر راز سے واقفیت کی بناء پر ایک دوسرے کی رازدار اور ہمجولیاں بن جائیں تو سارے درد دور ہوجائیں گے۔اگرایک چیز ہو اور بانٹی جا سکتی ہو تو دونوں آپس میں بانٹ لیں،اگر بانٹنے والی نہیں تو کبھی پہلی دوسری کے لئے قربانی دے دے ،کبھی دوسری پہلی کے لئے قربانی دے دے ،سہیلیوں کی طرح ایک دوسری کی تکلیف پر تڑپ اٹھیں،جیسے سہیلیوں کو اپنی سہیلیوں کے بچّے بھی بہت عزیز ہوتے ہیںایسے ہی ایک دوسری کے بچّوں سے پیار و محبت کریں۔بچّوں کو سکھائیں کہ آپ سب آپس میں بہن بھائی ہیں اس لئے لڑنے کی بجائے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا ہے ۔اس رشتے کی کامیابی میں شوہر کے بعد پہلی بیوی کا کردار بے حد اہم ہے ۔وہ اگر صرف حسد جیسا منفی جذبہ اپنے دل سے نکال دے تو زندگی بہت پُر سکون گزرے گی ۔اس مثلث کا تیسر ا اہم کردار یعنی دوسری بیوی کا کردار بھی بہت اہم ہے،اسے قربانی کا بکرا بلکہ بکری سمجھنے کی بجائے انسان سمجھا جائے اور وہ پہلی بیوی کے ایثار وقربانی کی دل سے قدر کرے ،گھریلو ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی اور بچوں کی تعلیم وتربیت میں بھرپور معاونت کرے تو دونوں سہیلیوں کی مشترکہ کاوشوں سے گھر “جنت”کا نمونہ بن جائے گا۔ اس طرح کا مثالی رویہ اور سلوک لوگوں کو ہضم نہیں ہوگا اس لئے وہ دونوں میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی “انتھک “کوشش ضرور کریں گے جیسا کہ ایک حدیث مبارک ہے کہ:
“شیطان اپنے لشکروں سے کہتا ہے کہ:آج تم میں سے کس نے مسلمان کو گمراہ کیا ہے؟میں اسے قریب کرکے تاج پہنائوں گا،تو ایک آکر کہتا ہے کہ:میں نے فلاں کو اتنا ورغلایا کہ اس نے اپنے والدین کی نافرمانی کرلی تو شیطان کہتا ہے ہوسکتا ہے وہ صلح کرلے۔دوسرا کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو اتنا ورغلایا کہ اس نے چوری کرلی تو شیطان کہتا ہے ممکن ہے وہ بھی توبہ کرلے۔تیرا آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو اتنا ورغلایا کہ وہ زِنا کر بیٹھا تو شیطان کہتا ہے ہو سکتا ہے یہ بھی توبہ کرلے۔ایک اور آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں کو اتنا ورغلایا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق ہی دے دی۔۔اب کی بار ابلیس کہتا ہے کہ” تُو ہے تاج کا مستحق”اور اسے اپنے قریب کرکے تاج پہنا تا ہے۔”(مسلم)
لیکن دونوں سہیلیاں ایک دوسری سے تصدیق کئے بغیر کسی کی بات پر یقین نہ کریں اور بھڑکانے والے کو فوراً ٹوک دیں کہ براہ مہربانی میری سہیلی یا میرے شوہر کے خلاف کوئی بات مت کریں، تو کوئی فساد کبھی نہ ہو۔
میں نے عبدالرحیم صاحب کو بھی سہیلی والا واقعہ اور اپنے شوہر کو کی جانے والی تیسری شادی کی پیشکش والی بات بتائی،اور انہیں کہا کہ اگر اللہ نے ایسا ہونا لکھا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں سارہ سے سہیلیوں والا رویہ ہی رکھوں گی،ان شاء اللہ۔عبدالرحیم صاحب کا یہ خیال بالکل درست ثابت ہوا کہ سارا دل کی بہت اچھی ہے۔اللہ رب العزت نے اسے خوبصورت شکل وصورت کے ساتھ ساتھ بہت ہی خوبصورت دل اور وسیع ظرف سے بھی نوازا ہے۔اپنے بچوں کو تو ہر کوئی فوقیت دیتا ہے ،کمال یہ ہے کہ یہ اپنے بچوں پر میرے بچوں کو فوقیت دیتی ہے۔الحمد للہ ہمارا گھر امن و سکون کا گہوارا ہے۔یہاں تک کہ اب اگر عبدالرحیم صاحب ہم میں سے کسی پر سختی کرتے ہیں یا ڈانٹتے ہیں تو ہم۔۔۔۔ایک دوسرے کی طرف داری کرتی ہیں اور۔۔۔اور عبدالرحیم صاحب سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں،عائشہ نے ہنستے ہوئے بتایا۔
رائحہ نے کہا:عائشہ اورسارہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس ہنستے ،مسکراتے گھرانے کو نظرِبد سے بچائے،آپ کو ہمیشہ اسی طرح خوش وخرم رکھے ،جس پر سب نے بیک زبان آمین،ثم آمین کہا۔

(جاری ہے)

رضیہ رحمٰن اسسٹنٹ پروفیسر وصدر شعبہ اردو
گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین، خانیوال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo