زمین پر اُترا ہوا پاگل چاند

حنین امراء کی اس پر شور محفل سے تنگ آکر سب سے نظریں بچاتے ہوئے باہر نکل آئی مگر بدقسمتی سے آج چودھویں کی رات تھی ۔ جو کچھ اس کے ساتھ پچھلے چند برسوں میں ہوا تھا اس کے بعد اسے چودھویں کے کھلکھلاتے ہوئے چاند اور اس کی نقرئی روشنی سے چڑ سی ہو گئی تھی۔ اسے یوں لگا کرتا تھا جیسے چودھویں کی رات صرف اس کے ساتھ ہوئی بےوفائیوں کا چرچا کرنے آیا کرتی تھی۔
اور پھر وہی ہوا!
جونہی اس کی نظر چاند پر پڑی ایک آشنا سی مردانہ آواز پھر سے جاگ اُٹھی اور کوئی اس کی سماعتوں میں پگھلا ہوا سیسہ نئے سرے سے اُنڈیلنے لگا۔
‘ہنی! یہ جو چودھویں کا پورا چاند ہے ناں۔۔۔۔۔مجھے یہ تب تک آدھا اور ادھورا نظر آتا ہے جب تک اس پر تمہاری ستارہ آنکھوں کی پوری چمک نہیں پڑتی!’
‘اس پورے چاند کے اردگرد پھیلا ستاروں کا جنگل غور سے دیکھو۔۔۔۔۔یہ دراصل تمہاری خوبصورت آنکھوں سے آزاد ہونے والی نظریں ہیں جنہوں نے آسمان اور چاند دونوں کو سجا ڈالا ہے!’
‘یہ جو چودھویں کا چاند ہے ناں ۔۔۔۔ مجھے جنون کی حد تک پسند ہے ۔۔۔ میرے بس میں ہوتا تو مٓیں شادی کی پہلی رات منہ دکھائی میں تمہیں چودھویں کا چاند دیتا اور اس کی ساری کی ساری روشنی تمہاری مانگ میں بھر دیتا!’
فرطِ جذبات سے جب حنین کے لب تھرتھرانے لگے تو اس نے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لئے۔ آوازیں تو تھم گئیں مگر کرب وائلن کی کسی ٹریجک دھن کی طرح پس منظر پر بدستور متحرک تھا۔ پچھلے ایک برس وہ اپنی زندگی کے مشکل ترین دٓور سے گذری تھی۔ جس سے اس نے ٹُوٹ کر محبت کی تھی شادی کے پہلے سال اس کی انا اور تحکمانہ روئیے کا پاگل پن اس کی ذات اور اس رشتے کو بڑی بے رحمی کے ساتھ زندہ نگل گیا تھا۔ طلاق کے بعد وہ جب نیم پاگل سی ہو گئی تو شہر کے نامور ماہرِ نفسیات سے چھ ماہ کے صبر آزما علاج کے بعد اب کہیں جا کر وہ زندگی کی ڈگر پر اپنے قدم جما کر نئے سرے سے چلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ ہر بار آنکھوں اور آنسوؤں سے پکّا معاہدہ کرتی مگر اس کے اطراف میں بکھری ان گنت یادیں کوئی نہ کوئی بھیس بدل کر اسے آزمانے چلی آتیں اور ہر بار معاہدہ ٹوٹ جاتا!
آج پھر ایسا ہی ہوا تھا!
وہ اپنے دونوں ہاتھ بغلوں میں دبائے وسیع لان کے تقریباً وسط میں چلی آئی تو دفعتاً اس احساس ہوا جیسے لان میں پڑے ایک بینچ پر کوئی پہلے سے موجود تھا۔ اس کی طرف پشت کئے، اپنی دونوں ٹانگیں بینچ پر رکھے اور ان کے گرد اپنے بازؤوں کا حصار بنائے وہ ٹکٹکی باندھ کر سر اُٹھائے چاند کی طرف دیکھ رہا تھا اور شائد کچھ کہہ بھی رہا تھا جسے وہ پوری طرح سننے سے قاصر تھی۔ وہ متجسس انداز میں آہستہ آہستہ اس کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔ اب اس کی آواز اسے بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔ وہ بھاری بھر کم آواز چاند سے مخاطب تھا!
‘مٓیں سارا دن آپ کا انتظار کرتا ہوں چندا ماموں۔۔۔۔۔ چندا ماموں مجھے آپ سے اتنی ہی محبت ہے جتنی اپنے بچپن کے لمبے قد والے دوست یوکلپٹس اور مانو رانی سے۔۔۔۔۔آج جب مٓیں کمرے سے باہر آیا تو آپ میرے دوست یوکلپٹس کے کاندھے پر سر رکھے میرا انتظار کر رہے تھے ناں۔۔۔۔۔ہم تو صرف رات کو ہی مل سکتے ہیں ناں اور وہ بھی آدھا مہینہ۔۔۔۔۔دیکھ لیجئیے گا مٓیں ایک دن بہت سے گھوڑوں والی ایک رتھ پر سوار ہوکر نکلوں گا اور آپ کے پاس ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آ جاؤں گا۔۔۔۔۔مٓیں آپ کو چھونا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔آپ کے گلے لگنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔مٓیں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں ناں۔۔۔۔۔اس لئے!’
اس شخص کی آواز میں بچوں کی سی معصومیت اور عجیب سا کرب تھا۔ اسے لگا جیسے کسی نے اس کے تازہ تازہ بھرے زخم پر دونوں انگوٹھے رکھ کر انہیں اتنی زور سے دبا دیا کہ خون اور درد پورے کے پورے باہر آ گئے ہوں۔ ضبط کرتے کرتے بھی بے اختیار اس کی سسکی نکل گئی!
اپنی پشت پر سسکی کی آواز سن کر وہ شخص بولتے بولتے رک گیا اور چونک کر کھڑا ہو گیا۔ کچھ لمحے وہ اس کی طرف پشت کئے ساکت کھڑا رہا اور پھر خوفزدہ انداز میں اس کی طرف پلٹا۔
وہ ایک سترہ اٹھارہ سالہ نوجوان نہیں جیسے چودہویں کا چاند تھا جو زمین پر اُتر آیا تھا!
ملگجے اندھیرے میں اس کا گورا چٹا چہرہ پورے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ یونانی دیوتاؤں کے سے آفاقی نقوش رکھنے والے اس خوبصورت نوجوان کی آنکھوں میں خوف، حیرانی اوراجنبیت کی دھجی دھجی سی روشنی تھی۔ لمحہ بھر کو جیسے کائنات کی سب آوازیں دم توڑ گئیں ۔ وہ بے خودی کے سے عالم میں کھوئے کھوئے انداز میں چلتا ہوا اس کے قریب آگیا۔
‘ آپ کو چندا ماموں نے بھیجا ہے ناں؟۔۔۔۔آپ تو رو رہی ہیں ۔۔۔۔ چندا ماموں کہتے ہیں جو لوگ چاند پر رہتے ہیں اور غلطی سے زمین پر آجاتے ہیں ان کی زبان یہاں کوئی نہیں سمجھتا۔۔۔۔ وہ آپ کی طرح اور میری طرح اپنے بچھڑے ہوئے دیس کو یاد کر کر کے روتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔آپ مت روئیں۔۔۔۔۔مٓیں جب اپنے دیس لٓوٹوں گا تو آپ کو اپنی رتھ پر اپنے ساتھ بٹھا کر ساتھ لے جاؤں گا۔۔۔۔ مٓیں آپ کو کبھی رونے نہیں دوں گا۔۔۔۔ پھر آپ اور مٓیں چاند پر بیٹھ کر بہت سی باتیں کیا کریں گے اور اُوپر سے زمین پر بہت سے پاگلوں کو دیکھ دیکھ کر خوب ہنسا کریں گے!’
‘آپ کون ہیں؟’ اسے اپنی آواز کہیں دُور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
‘ مٓیں؟۔۔۔۔۔مٓیں تو کوئی بھی نہیں ہوں۔۔۔۔۔سب یہی کہتے ہیں!۔۔۔۔۔میرےبابا بھی۔۔۔۔میری ماما بھی۔۔۔۔بھیا بھی۔۔۔۔اور اپیا بھی۔۔۔۔!’ نوجوان نے کھوئے کھوئے انداز میں کہا۔
‘کون؟۔۔۔۔۔آپ کن کی بات کر رہے ہیں؟’
‘وہی۔۔۔۔جن کا یہ گھر ہے!’
‘ آپ انکل جیلانی کی بات کر رہے ہیں؟۔۔۔۔ مطلب آپ ان کے؟؟’
‘ وہی تو میرے بابا ہیں!۔۔۔۔اور مٓیں ان کا بیٹا۔۔۔۔۔جنید۔۔۔۔۔ مگر نجانے کیوں وہ سب میری زبان نہیں سمجھتے اور مٓیں ان کی زبان نہیں سمجھتا!’
‘ آپ مجھ سے بات کیجئیے۔۔۔۔ مجھے یقین ہے ہم دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں!’
‘ اچھا؟۔۔۔۔ تو پھر بتائیے آپ کیوں رو رہی تھیں؟’
‘ مٓیں پچھلے کچھ عرصے کے دوران کچھ لوگوں کے پاگل پن کی وجہ سے بہت روئی ہوں۔۔۔۔شائد بہت حساس ہو گئی ہوں۔۔۔۔اس لئے میری آنکھیں میں نمی اب ہمیشہ کے لئے ٹھہر گئی ہے!’
‘ پہلے مٓیں بھی اکیلا تھا۔۔۔۔ بہت روتا تھا۔۔۔۔ پھر مٓیں نے اپنے چندا ماموں سے دوستی کرلی ۔۔۔۔
اب مٓیں ان سے بہت سی باتیں کرتا ہوں ۔۔۔۔ وہ میری بات بہت پیار سے سنتے ہیں ۔۔۔۔ میرے کچھ سوالوں کے جواب تو وہ اللہ میاں سے لے کر دیتے ہیں۔۔۔۔ اسی لئے اب مجھے کبھی رونا نہیں آتا!’
‘آپ چاند سے اور اللہ میاں سے کیا سوال کرتے ہیں؟’
‘بہت سے۔۔۔۔ اس دنیا میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پیار کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔ایک دوسرے کو اتنی آسانی سے کیوں مار دیتے ہیں۔۔۔۔ پہلے بناتے ہیں پھر سب کچھ خود ہی توڑ دیتے ہیں۔۔۔۔ اگر اللہ میاں درختوں، تتلیوں، پرندوں، بارشوں اور موسموں کو زبان دے دیتے تو کیا وہ بھی ہم انسانوں کی طرح ایک دوسروں کے ساتھ ایسے ہی بولتے۔۔۔۔ پاگلوں کی طرح ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے؟۔۔۔۔اور یہ کہ سب انسان ایک دوسرے کے اُتنے اچھے دوست کیوں نہیں بن سکتے جتنے مٓیں اور چندا ماموں ہیں؟’
‘ انسان ایک دوسرے کے اچھے دوست ہو سکتے ہیں جنید۔۔۔۔یقین نہ آئے تو آپ میرے دوست بن کر دیکھیں!’
‘ مجھ سے کیوں؟۔۔۔ آپ چندا ماموں کے ساتھ دوستی کیوں نہیں کرتیں؟’
‘آپ سے دوستی کر کے مجھے لگے گا جیسے میری چاند سے دوستی ہو گئی۔۔۔۔ intellectuals کے بھیس میں پاگلوں سے دوستی کر کے مٓیں پہلے ہی بہت نقصان اُٹھا چکی ہوں!’
‘ اچھا مٓیں سوچتا ہوں!’ جنید اپنی ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر دوستی کی اس تجویز پر ابھی غور کر ہی رہا تھا کہ عین اسی وقت ایک ادھیڑ عمر عورت جنید کو ڈھونڈتی اور پکارتی ہوئی ان کے پاس چلی آئی اور آتے ہی اس نے جنید کا ایک کان اور ہاتھ یوں پکڑ لئے جیسے کوئی پولیس والا کسی چور کو رنگے ہاتھوں پکڑتا ہے!
‘ معاف کیجئے گا بی بی ۔۔۔۔ ہمارے بڑے صاحب کا چھوٹا بیٹا ہے۔۔۔ پاگل ہے ۔۔۔۔ اس کا ذہنی توازن درست نہیں۔۔۔۔ ذرا سا اِدھر اُدھر ہو جاؤں تو باہر نکل آتا ہے اور جو سامنے نظر آئے اسے پریشان کرنے لگتا ہے۔۔۔۔چلو اندر آج مٓیں تمہاری خبر لیتی ہوں۔۔۔۔ ناک میں دم کر ڈالا ہے اس پاگل نے!’
اور پھر وہ عورت دیکھتے ہی دیکھتے زمین پر اُترے ہوئےاس پاگل چاند کو تقریباً دھکیلتی ہوئی یوکلپٹس کی اوٹ میں پھیلے اندھیرے میں گم ہو گئی۔ حیرت سے گنگ حنین نے بے یقینی کے عالم میں سر اُٹھا کر چاند کی طرف دیکھا۔ intellectuals اور ذی ہوش لوگوں کی دنیا پر پھیلا چاند اپنی روشنی سمیٹتے ہوئے شرمندگی کے مارے ایک بدلی کی اوٹ میں جا چھپا تھا!!!

محمود ظفر اقبال ہاشمی

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo