ایک سوال۔۔۔!

کالج دور میں ایک دوست ہوا کرتا تھا ، کالج کے بعد شیرشاہ میں مغرب کے وقت کوچنگ سینٹر بھی ساتھ ہی جایا کرتے تھے، وہ دوست تھا یا نہیں اس کا فیصلہ میں آج تک نہیں کر سکا، زندگی میں جتنی لڑائیاں لڑی ہیں اور ماریں کھائی ہے ان میں سے کوئی تیس سے چالیس فیصد کی وجہ وہی بنا. مثلاً ایک بار کوچنگ سینٹر میں فزکس کے ٹیچر سر غفار اپنی تعلیمی قابلیت سے بچوں کو متاثر کر رہے تھے کہ میں کراچی یونیورسٹی سے گولڈ میڈلسٹ ہوں، میں نے یہ بھی کارنامہ سرانجام دے رکھا اور وہ کارنامہ بھی سرانجام دے رکھا … ابھی یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ میرے اس ” ناداں دوست” نے عادت سے مجبور ہو کر سوال کردیا کہ ” سر اگر آپ اتنے ہی قابل انسان تھے تو کوئی ڈھنگ کا کام کرلیتے یہ کیا چار ہزار ماہانہ پر زندگی خراب کردی آپ نیں ؟ ” سوال اتنا بے ساختہ تھا کہ میری ہنسی چھوٹ گئی. اب پوری کلاس پر سکتہ طاری ہے، میں ہنسی جارہا سر شاکڈ حالت میں ہیں اور میرا دوست اپنے سوال کا جواب سننے کا منتظر … خیر جواب تو نہیں ملا پر مجھے اس طرح ہنسنے کی وجہ سے پانچ ڈنڈے مار کر کلاس سے باھر نکل دیا گیا . اسی طرح پاک کالونی میں قائم اپنے کالج سے گولیمار میں قائم لڑکیوں کے سر سید کالج کی جانب مٹر گشت جاری تھا (کیوں کہ اردو بازار اسی کالج کے ساتھ ہے لہٰذا نوٹس وغیرہ لینے کے لئے لڑکیوں کے کالج کی طرف جانا پڑتا تھا لہٰذا اسے شرافت کی نگاہ سے پڑھا جاۓ اور راقم کی شرافت پر سوال نہ اٹھایا جاۓ ). بہرحال بڑا بورڈ اسٹاپ پر لسی والے کی دکان ہے ، گرمی زیادہ تھی تو لسی پینے دکان میں جا بیٹھے، سکوں سے لسی پی اور بل دینے کاونٹر پر پہنچے تو وہاں پہلے سے ہی دو تین بندے کھڑے تھے جب کہ دکان کے مالک کے ساتھ اسکا کوئی دوست یا عزیز بھی تھا ، بہرحال وہ اپنے عزیز کو اپنی کامیابی کا بتا رہا تھا کہ کس طرح چھوٹی سی دکان سے آج اتنی مشھور دکان ببنی ہے ، خیر جب میں پیسے دینے لگا تو میرے دوست نے دکان مالک سے ” سوال ” پوچھا ” یار اتنے جلدی تو کوئی امیر نہیں ہوتا ، کچھ تو دو نمبری کی ہوگی آپ لوگوں نے ؟” رش کا ٹائم تھا ، آس پاس بیٹھے تمام لوگوں نے وہ سوال سنا . دکان مالک نے اسے نظرانداز کر کے مجھ سے پیسے وصول کئے پر میرے دوست نے دکان سے نکلتے ہوئے کہ دیا کہ ” سچی باتوں کے جواب کسی کے پاس نہیں ہوتے ” اتنا کہنے کی دیر تھی کہ دکان ملک کا باپ جو سامنے ٹیبل پر ہی بیٹھا تھا اس نے میرے دوست کی گدی پر ایک ہاتھ جڑ دیا اور پھر اسکی دیکھا دیکھی دکان مالک بھی کونٹر سے نکل کر دوست کی جانب بھاگا اور ساتھ ہی بیرے نے بھی دوست کو “چمپا پریڈ ” شروع کردی تو مجبوراً مجھے بھی کودنا پڑا. دوست تو سر پر ہاتھ رکھ کر بلی بنا زمین پر لیٹ گیا تھا پر دھلائی میری ہوگئی اور آج بھی چہرے کے دائیں جانب دو چھوٹے سوراخ ہیں جو دکان مالک کی انگوٹھی کی “کرامت” ہے. خیر اس طرح کے بہت سارے قصے ہیں جہاں میں نے بس کنڈیکٹر سے لے کر موچی اور خواجہ سراؤں تک سے مار کھائی یا پھر بمشکل جان بچائی۔  میری مشتاق سے دوستی ختم ہونے کی وجہ بھی ایک سوال ہی بنا، جب یہ دوستوں میں بیٹھا اپنی صاف گوئی کی بڑھکیں مار رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ معاشرہ میں ” سوال ” سننے کا ظرف ہی نہیں ہے تو اسی دوران میں نے ایک سوال کردیا ” یار مشتاق سنا ہے تو اپنی امی کی شادی سے پہلے ہی پیدا ہوگیا تھا ؟ ایسا ہے کیا ؟ ” کچھ دیر تو مشتاق مجھے دیکھتا رہا اور پھر ” جنگیرے تیری تو میں ….. کہہ کر مجھے مارنے کو اٹھا ، مجھے پتہ تھا مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا پر جس طرح وہ مجھ پر لپکا تھا اگر دوست بیچ میں نہ آتے تو اسکا مکا میرے چہرے پر جڑ چکا ہوتا . خیر کافی دیر تک وہ ہذیان بکتا رہا . کچھ عرصے بعد کالج ختم ہوگیا تو پھر ہم نے کبھی ایک دوسرے سے رابطہ ہی نہیں کیا، اتنی پکی دوستی اس نے ایک ” سوال ” پوچھنے پر ختم کردی حلانکہ وہ مختصر سا جواب دے دیتا کہ بھئی ایسا نہیں ہے ! یہ واقعہ آج اس لئے لکھا کہ کل حمزہ علی عباسی کی ایک ویڈیو دیکھی جس پر وہ یہ رونا رو رہا تھا کہ صرف ایک سوال پوچھنے پر اتنا شدید ردعمل کیوں ؟ تو جناب کوئی اسے بتائے کہ آپ سوال نہیں پوچھ رہے تھے بلکہ مزے لے رہے تھے ، فتنہ پھیلا رہے تھے، سوال کرنا برا نہیں ہوتا پر ہاں مزے لینا اور فتنہ پھیلانا برا ہوتا ہے . جس عقیدے پر ہم اپنے ماں باپ قربان کرنے کو ہر دم تیار ہوتے ہیں آپ اس عقیدے کی روح کو چھیڑ رہے تھے . جس کا جواب صدیوں پہلے بتا دیا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کے آخری نبی اور رسول ہیں . ہمنارے مسلمان ہونے کی سند یعنی کلمہ شہادت اشہد ان لا الہٰ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمد عبدہ و رسولہ کی بنیاد ہی میرے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہیں ، ان کو آخری نبی نہ ماننے والوں کو جو ریاست کافر نہ قرا دے اس ریاست کو کہاں سے اسلامی کہلانے کا حق ؟ ایک یہی تو اس ریاست کا فیصلہ ہے جو اسکے اسلامی ہونے کا بھرم رکھتا ہے ورنہ یہاں کیا اسلامی ہے ؟ لہٰذا سرکار جی سوال پوچھو ضرور پوچھو پر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچا کر مزے نہ لو کہ ایکاللہ اور اسکے رسول ﷺکی ذات مقدسہ ہی تو ایسی ہیں جن پر کشمیر سے لیکر بلوچستان تک سارا پاکستان ایک ہی مؤقف رکھتا ہے ، اور اس موقف کی سختی کا آپکو اور آپکے ہمنواؤں کو اچھے سے اندازہ ہوگیا ہوگا!

ملک جہانگیر اقبال

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo