جدہ ائیرپورٹ پر۔۔۔۔۔۔

اس جمعرات کادن میری زندگی کاسب سے خوشگواراورپرمسرت دن تھا جسے میں نے اپنی زندگی کے بہترین اورناقابل فراموش لمحات میں محفوظ کرلیا ہے ،یہاں اسی دن میں شام ساڑھے سات بجے اسلام آباد ائیرپورٹ سے جہازمیں سوار ہوکر عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے حجازمقدس روانہ ہوا،ہوامیں مسلسل پانچ گھنٹے کا سفر کافی صبر آزماتھا تاہم پانچ گھنٹے تک ہوائوںمیںاڑنے کے بعدرات ساڑھے بارہ (سعودی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس)بجے جہازجدہ ائیرپورٹ پراتراجہاں پر اسپیکرکے ذریعے حکم ملا کہ عمرہ کیلئے آنے والے افرادجہازہی میں بیٹھے رہیں اوردیگرلوگ اتر جائیں یہاں پرپھرانتظارکی گھڑیاں شروع ہوگئیں جس کے دوران ہمارا بیت اللہ شریف کودیکھنے کی سعادت حاصل کرنے کا اشتیاق بڑھتا جارہا تھااورپھرآخر کار ہمیں بھی جہازسے اترنے کا حکم ملاجس کی ہم نے فوری طورپر تعمیل کی جہاں سے ہمیں گاڑیوں کے ذریعے ایئرپورٹ کے اندرایک بڑے حال میں پہنچایاگیا ،ہم چار دوستوں سمیت مجموعی طورپردرجنوں افرادتھے جو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے آئے تھے اوریہ سب پاکستانی تھے ،حال میں بیٹھے ہوئے جب کئی گھنٹے گزرگئے تو میں نے وہاں پر موجود موبائل سم اورکارڈ فروخت کرنے والے ایک بنگلہ دیشی جوان سے پوچھاکہ ہمیں کب تک یہاں پر انتظارکی تکلیف اٹھانا پڑے گی تو اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ تو یہاں پر موجودعملہ کی مرضی پر منحصرہے جب ان کادل چاہئے گا آپ لوگوں کوفارغ کردیاجائے گاجبکہ وہاں پر ڈیوٹی دینے والاعملہ خوش گپیوں میں مصروف تھا اورانہیں حبس بے جا میں بٹھائے گئے ان درجنوں لوگوں کی پریشانی کا ذرہ بھر احساس نہیں تھا، اس دوران وہاں پر لگے ہوئے ائیر کنڈیشن کی ہوائوںسے پیداہونے والی ٹھنڈک کی وجہ سے بچوں،بوڑھوں اورخواتین کی حالت غیر ہوگئی اوربچوں نے توباقاعدہ زوروشورسے رونا بھی شروع کردیا جس سے وہاں کا ماحول اوربھی گھمبیرہوگیا،میں نے پھراسی بنگلہ دیشی نوجوان جو روانی کے ساتھ اردو اورعربی بول سکتاتھاسے رابطہ کیا اورکہاکہ عملہ سے کہہ دوکہ تھوڑی دیرکیلئے مین دروازہ کھول دے تاکہ قدرتی ہوااندرآسکے ،اس نے کچھ دیربعدواپس آکر جواب دیا کہ وہ دروازہ کھولنے پر آمادہ نہیں، اگر کوئی شخص عملہ سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا تو اس کے ساتھ عملہ بڑی سختی کے ساتھ پیش آتا،بہرحال وہ وقت بھی گزرگیا اورہمیں کائونٹرپر بلاگیا جہاں پر ہمارے پاسپورٹ اوردیگرکاغذات چیک کرنے سمیت ہماری تصویریں اتاری گئیں،کائونٹر پر جاکر پتہ چلا کہ صرف پانچ منٹ کے کام کیلئے ان درجنوں لوگوں بلکہ پاکستانیوں کو کئی گھنٹے کا انتظارکرایاگیا جبکہ کائونٹرپر موجود عملہ کاایک ایک شخص کام کے دوران اٹھ کر چائے اورسگریٹ پینے میں مشغول ہوجاتا جس سے پانچ منٹ کا یہ کام مزیدطویل ہوگیا ،وہاں سے نکل کر ہمیں بھیڑبکریوں کی طرح گاڑیوں میں بٹھایاگیا ،وہ مراحل بھی کافی کٹھن تھے جو گزرگئے ،مکہ مکرمہ اورمدینہ منورہ میں مجموعی طورپر گزارے گئے سولہ دن بڑے پرسکون تھے اس دوران ہمیں روحانی اورقلبی سکون میسر رہا ۔۔۔۔اورپھر سولہ دن بعد ہماری واپسی کامرحلہ شروع ہوا،ہمارا خیال تھا کہ جدہ ائیرپورٹ پر پہنچتے ہی ہمیں جہازمیں بٹھایا جائے گا مگر یہ ہماری خوش فہمی تھی کیونکہ عمرہ کی سعادت حاصل کرکے واپس پاکستان آنے والوں کاحشراوربھی بہت براہوتا ہے،جدہ ائرپورٹ میں فلائٹ کا وقت رات بارہ بجے مقررتھا مگرہمیں دس گھنٹے قبل ائرپورٹ پہنچایاگیا جہاں پر سخت گرمی میںتقریباََ دس گھنٹے تک انتظارکے کٹھن مراحل سے گزارا گیااس دوران ہمیں جس طرح ذلیل کیاگیا وہ ہم ہی جانتے ہیں،جب کائونٹر پر بلایا گیا توپھرگھنٹوں گھنٹوں قطاروں میں دھکے کھانا پڑے مگر سخت افسوس کا مقام وہ تھا جب ہم نے پاکستانیوںنے کائونٹرکے قریب پہنچ کر پاسپورٹ اوردیگردستاویزات دکھاناچاہئے تووہاں پر موجودعملہ نے ،،پاکستانی پیچھے ،پاکستانی پیچھے،،کی آوازیں لگا کر ہمیں قطارکے آخری سرے میں جانے کااشارہ کیا اورقطار کے آخر سرے پر موجود غیر ملکیوں کو بڑے پروٹوکول کے ساتھ کائونٹر پر پہنچادیا ،اس کے علاوہ چیکنگ کے وقت پاکستانیوں کی جیبیں خالی کرنے سمیت انہیں جوتے اتارنے کا حکم بھی دیا گیا اوراس دوران عملہ باربار پاکستانیوں کو ٹوکتا بھی رہا ،اس صورحال کی وجہ سے پاکستان سے عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے جانے والے سب افراد کو سخت مشکلات اورذہنی پریشانی کا سامنا رہا،جدہ ائرپورٹ پر پاکستانیوں کے ساتھ جو سلوک کیاجاتا ہے وہ انتہائی ناروااورناقابل برداشت ہوتا ہے،ائیرپورٹ عملہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے فلائٹ کا مقررہ وقت بھی گزرگیا اورجہازاڑنے میںتقریباََ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیرہوگئی،مکہ مکرمہ سے واپسی کا دکھ،مدینہ منورہ سے جانے کاغم ،اپنے وطن کی یادیں اورجدہ ائیرپورٹ پر عملہ کی جانب سے پاکستانیوں کے ساتھ ہتھک امیر رویہ ،یہ ملے جلے تاثرات لے کر ہم جہازمیں بیٹھ گئے اورجہازپانچ گھنٹے کی مسافت کیلئے ہوائوںمیںاڑگیااورہم مکہ مکرمہ،مدینہ منورہ میں گزارے گئے سولہ دنوں کی خوشکواریادیں اوراپنی سرزمین پر بخیروعافیت پہنچنے کااشتیاق لے کر جہازسے اترنے کا بے چینی سے انتظارکرنے لگے اور آخر کار وہ لمحہ بھی آگیا جب جہازمیں اسپیکرپر سواریوں کو بیلٹ باندھنے کااعلان اورچندلمحوں میں نیچے اترنے کی خوش خبری سنائی گئی ،اسلام آبادائیرپورٹ پر اترنے کے بعدہم چاروں دوستوں نے اپنااپنا سامان باندھا اوراپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگئے،تاہم آج بھی جدہ ائیر پورٹ عملہ کا پاکستانیوں کے ساتھ ہتھک امیزرویہ یادآتا ہے توذہن میں سوال اٹھا ہے کہ آخر کیوں عمرہ کیلئے جانے والے پاکستانی مسلمانوں کو مختلف طریقوں سے ٹارچرکرکے انہیں ذہنی اذیت دی جارہی ہے ؟سعودی عرب ایک مسلمان اور پاکستا ن کا دوست ملک ہے مگر وہاں کے ائرپورٹ پرتعینات عملہ اس دوستی کی دھجیاں اڑانے میں مصروف رہتا ہے،ہم پاکستانی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سعودی حکومت سے اس سلسلے میں بات چیت کرکے سعودی ائرپورٹ پر مامورعملہ کوپاکستانیوں کے ساتھ مناسب رویہ اپنانے کا پابند بنائے تاکہ مزیدپاکستانی ہماری طرح ذہنی اذیت سے بچ سکیں۔

ناصرعالم

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo