سفر نامہ عمرہ (مارچ 2016ء)

میں نے زندگی میں اپنا پہلا حج 25برس کی عمر میں اور دوسرا 50برس کی عمر میں کیا تھا ۔ ان کے ساتھ عمرے بھی کیے تھے ۔ پھر ایک بار 1984ء میں دوحہ سے بذریعہ کار عمرے کے سفر پر گیا تھا ۔ اب مارچ 2016ء میں اپنی عمر کے 63ویں برس میں عمرے کا ارادہ کیا تو پہلی بار عمرے کا سفر ہوائی جہاز سے کیا۔ پہلے مرحلے میں 3مارچ کولاہورسے متحدہ عرب امارات گیا ۔ وہاں سے سات مارچ کو جدہ جانا تھا ۔ اُم لقوین میں میری رہائش اپنے خالہ زاد بھائی سعید صدیق کے پاس تھی، ان کی بیوی نرگس بھی میری خالہ زاد ہے ۔ ان کے چھوٹے بیٹے احتشام شامی سے میری بھتیجی صبیحہ (پنکی) کی شادی ہوئی تھی، میرے یہ پانچ دن انہی کے ساتھ گذرے تھے ۔ 7مارچ کو دوبئی سے جدہ کی پرواز تھی۔ شامی مجھے اپنی گاڑی پر لے کر نکلا۔ سعید بھائی اور نرگس بھی ساتھ تھے ۔ مجھے دوبئی ائر پورٹ پر چھوڑ کر انھیں دوبئی میں سے چچا باسط اور انکی اہلیہ نعیمہ کو لے کر اپنے گھر جانا تھا ،جو امریکہ سے اپنی نواسی کو ملنے دوبئی آئے ہوئے تھے اور کل واپس جا رہے تھے ۔ وہ قطر میں 1970ء کے عشرے میں سعید بھائی فیملی کے جاننے والے تھے، پھر وہ امریکہ جا بسے تھے ۔میں نومبر 1977ء میں لاہور سے روزگار کے لیے قطر گیا تو میری بھی ان سے کافی ملاقاتیں رہی تھیں،مشاعروں میں بھی اور ان کے گھر بھی۔ میری آج دوبئی سے عمرہ کے لیے جدہ روانگی کاوقت ایسا تھا کہ ان سے 35سال بعد ہونے والی ملاقات رہ گئی تھی۔ شامی نے سوا بارہ بجے مجھے دوبئی ائر پورٹ کے ڈیپارچر لائونج نمبر3کے باہر چھوڑا ۔ ان سب سے الوداعی ملاقات کر کے میں اپنے سامان کی ٹرالی لے کر اندر چلا گیا۔ چیک اِن کے مرحلے گذار کر ایک کرسی پر جابیٹھا ۔ پنکی بیٹی نے برگر بنا کر پَیک کر دیا ہوا تھا، وہ اطمینان سے کھایا۔ نماز ظہر کے لیے لائونج کی قریبی مسجد میں گیا۔ وضو کرکے وہیں لباس بدل کر احرام باندھ لیا۔ نوافل ادا کیے۔ پھر ظہر کی چار سنتیں پڑھیں ۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد چند نمازیوں کی کوئی ٹولی بنتی تھی اور باجماعت فرض ادا کر لیتی تھی ، سنتوں کے بعد میں وہاں تنہا تھا ،ایک صاحب آئے تو ہم نے بھی جماعت بنا لی ۔ انھوں نے اقامت پڑھی اور امامت کے لیے مجھے آگے امام کی جگہ پر کر دیا۔ نماز ادا کی تو پیچھے چھ نمازی جمع ہو چکے تھے ۔ فرضوں کے بعد سنتیں اور نفل پڑھے اور احرام سے قبل کے اتارے ہوئے کپڑے بریف کیس میں رکھے،پھرامیگریشن کے مرحلے سے گذر کر گیٹ نمبر15کے سامنے لگی کرسیوں کی طرف جا کر ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ یہاں عمرہ پر جانے والے اوربھی کئی افراد احرام میں ملبوس نظر آئے ۔ ان میں ایک بلوچی ڈاکٹر بھی تھے ، ان سے کافی گپ شپ رہی ۔ میرے پاس بُھنے ہوئے چنے اور میٹھی سَونف تھی، ہم دونوں ساتھ ساتھ وہ بھی کھاتے رہے ، انھوں نے مجھے رہنمائی دی کہ چونکہ اب آپ نے احرام باندھ لیا ہے تو اب بوٹ نہ پہنیں کیونکہ بوٹ پر سلائی ہوتی ہے ۔ میں نے لاہور ہی سے ہوائی چپل ساتھ لے لی تھی ۔ ارادہ تھا کہ وہ جدہ جا کر پہنوں گا مگر بوٹ اتار کر وہ وہیں دوبئی ائر پورٹ پر ہی پہن لی ۔ اسی طرح گھڑی کے سٹریپ پر بھی سلائی تھی سو میں نے ان کے کہنے پر وہ بھی اتار کر بریف کیس میں رکھ لی ۔ انھوں نے رائے دی کہ جدہ جا کر اسی کمپنی کی بس پر مکہ جائیے گا جس کے ذریعے عمرے کا پیکج لیا ہے۔ وہ بس مکہ میں اس ہوٹل میں لے جائے گی جہاں آپ کا کمرہ بک ہے۔ ورنہ ٹیکسی سے مکہ گئے تو وہ ہوٹل ڈھونڈ نے میں بڑی دقت ہو گی ۔ لاہور سے میرے ٹریول ایجنٹ ابوذر نے تو ہدایت کی تھی جدہ سے مکہ ٹیکسی لے کر جانا بہتر ہو گا کیونکہ کمپنی کی بس بہت دیر لگاتی ہے اور کمپنی والے پاسپورٹ بھی اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ میں اگر ابوذر کی بات مانتا تو پریشانی یہ رہتی کہ میں اپنے اٹیچی کیس اور بریف کیس کو ساتھ ساتھ اٹھائے پھرتا اورمکہ میں ہوٹل ڈھونڈتا پھرتا۔
دوبئی سے امارات ائیر لائن کی پرواز EK803ہمیں چار بج کر بیس منٹ پر جدہ لے جانے والی تھی، تین بجے بورڈ نگ کارڈ چیک کر کے ہمیں جہاز پر سوار ہونے والے ہال میں بٹھا دیا گیا ۔ ساڑھے تین بجے جہاز میں لے گئے ۔ جہاز بر وقت روانہ ہو گیا۔
عمر ہ ادا کرنے والوں میں پاکستانی اور انڈین زیادہ تھے ۔ کچھ بنگالی اور انڈونیشین بھی تھے ۔ جدہ ائر پورٹ پرجہازچھ بج کر بیس منٹ پر پہنچا۔ امیگریشن کے مرحلے سے قبل وضو کر کے با جماعت نماز مغرب پڑھی ۔ پھر امیگریشن کی طرف گئے ۔ یہ مرحلہ بھی جلد طے ہو گیا ۔ مگر سامان آنے میں کافی دیر لگی ،باہر کئی کمپنیوں کی بسیں کھڑی تھیں ہماری کمپنی کی بس گھنٹہ بعد آئی ۔ اس دوران اپنے موبائل فون میں سعودی عرب کی عارضی سم ڈلوا لی تھی ۔جدہ سے مکہ کا سفر عشاء کے لگ بھگ ہوا تھا۔ اس لیے باہر کے مناظرغیر واضح انداز میں گزرتے رہے ۔ مکہ قریب آیا تو زائرین بلند آواز میں تلبیہ پڑھنے لگے تھے ۔ لبیک الھم لبیک ۔۔۔مکہ میں بس ــ’’پرائم لینڈ ہوٹل‘‘ کے باہر رکی مگر میراہوٹل کوئی اور تھا ،کمپنی سٹاف نے میرے ٹریول ایجنٹ کے نامزد کردہ فرد کو بُلا کر مجھے اس کے ساتھ کر دیا۔ اسے بھی میرا ہوٹل نہیں مل رہا تھا۔ خیر ہم نے ایک اور ہوٹل میں کمرہ لے لیا ،سامان وہاں رکھ کر میں پیدل حرم شریف گیا ۔ جو ایک کلومیٹر دُور تھا۔ تھکان کافی تھی ،نصف شب ہو چکی تھی خیر اسی حالت میں عمرہ کے سبھی امور انجام دیے ۔ مسجد الحرام میں تو سیعی و تعمیراتی منصوبے کے دوران 22جولائی 2013ء کو ایک عارضی بالائی مطاف شروع کیا گیا تھا ۔ توسیعی تعمیراتی منصوبہ مکمل ہواتو یہ عارضی پل 35دنوں کی مسماری کے عمل میں 15مئی 2016ء کو مکمل طور پر ہٹا دیا گیا۔ یعنی یہ عارضی مطاف تین سال رہا ۔ عمرہ کی ادائیگی کے بعد میں بھی کافی تھکان کے باوجود لمبی راہداریوں سے ہوتاہُوا، اس عارضی مطاف پر گیا اور حرم شریف کی طرف کے کنارے پر کھڑے ہو کر نیچے طواف کرتے ہوئے افراد کو دیکھتارہا۔ اس وقت بھی اس عارضی مطاف کے چاروں پُل بند تھے صرف ایک پُل سے کچھ لوگ آ جا رہے تھے ۔ میں بھی بڑی مشکل سے ڈھونڈتے ڈھونڈتے اُس پُل تک گیا تھا اور پھر اس پل کے راستے جا کر عارضی مطاف تک پہنچا تھا اور حرم کا نظارہ کیا تھا ۔ میںاس کے بعد رات ڈھائی تین بجے پیدل اپنے ہوٹل پہنچا اور فوراً نیند کی وادی میں پہنچ گیا ۔ حرم کے اس توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد حرم کی سبھی منازل میں طواف کرنیوالوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار افراد فی گھنٹہ ہو گئی تھی اور صحن ِ حرم میںطواف کرنے والوں کی تعداد 19ہزار کی بجائے تیس ہزار ہو گئی تھی۔

مکہ میں قیام:
8مارچ 2016کو میں رات ساڑھے تین بجے عمرہ ادا کر کے بسمہ عزام ہوٹل میں پہنچا تھا ۔ یہ پندرہ منزلہ ہوٹل تھا اور عام سے معیار کا ہوٹل تھا ۔تھکان بہت زیادہ تھی ۔ فوراً نیند آ گئی ۔ 9مارچ کی صبح سوا نو بجے جا گا۔ شیو بنا کر مدینہ کے سفر کیلیے اٹیچی اور بریف کیس میں سامان کو نئے سرے سے ترتیب دیا اور ہوٹل سے باہر آکر ایک قریبی پاکستانی ریستوران میں گیا۔ رات کھانا صرف ایک سینڈ وچ کی صورت میں کھایا تھا۔ اب ناشتے کی بجائے سالن کے ساتھ تندور کی روٹی کھائی تو معدے کی کچھ تسلی ہوئی۔ پھر کچھ مسافروں سے مدینہ جانے والی گاڑیوں کے بارے میں معلومات لیں اور ہوٹل سے اپنا سامان لے کر باب ملک فہد کے پاس پہنچا ۔ مدینہ جانے والی کچھ گاڑیاں کھڑی تھیں ۔ دس سوا ریوں والی ایک گاڑی میں بیٹھا ۔ ستر ریال فی سواری کے حساب سے لیے جارہے تھے۔ میں بھی ایک گاڑی میں بیٹھ گیا جو ساڑھے گیارہ بجے روانہ ہوئی ۔ مکہ کی شارع اُم القریٰ اور شہر کے اندرونی حصہ سے گذر کر یہ گاڑی مسجد عائشہ کے پاس سے گذری جو ’’نہایہ حدو د حرم ‘‘ ہے ۔ یعنی حرم شریف کی حدود یہاں ختم ہو جاتی ہیں۔ مکہ میں مقیم افراد کو عمرہ ادا کرنا ہو تو وہ اسی جگہ آکر احرام باندھ کر حرم شریف میں جا کر عمرہ ادا کرتے ہیں۔ یہاں سے مدینہ کا رخ کیا تو راستے میں مکہ انڈسٹریل ایریا بھی آیا ۔ اس سمت میں مکہ کی آبادی کئی کلو میٹر دُورتک پھیل چکی ہے ۔ مکانوں وغیرہ پر نئی طرز کی تعمیرات کا عکس نمایاں نظر آرہا تھا۔ آبادیاں ختم ہوئیں تو کئی کئی کلو میٹر تک پھیلی ہوئی چراگاہیں گذریں جن میں اونٹ اور بھیڑیں بھی نظر آئے ۔ چراگاہوں کے پیچھے بنجر پہاڑی سلسلے بھی تھے ۔ مدینہ جانے والی یہ سڑک چھ لین اور دو رویہ ہے مگر موٹر وے کے معیار سے ذرا کم ہے ۔ دن کے پون بجے ہماری گاڑی ’’محطۃ السعادۃ‘‘ پر رکی ۔ یہ پٹرول پمپ چھ سات ایکڑکے رقبے پر تھا اور اس میں کئی دکانیں بھی تھیں ۔ ایک پاکستانی ہوٹل اور مسجد بھی تھی، مسافروں کے لیے بیس سے زائد بیت الخلا بھی تھے حوائجِ ضروریہ اور نماز کی ادائیگی کے بعد سفر پھر سے شروع ہوا۔ راستے میں کہیں کہیں بستیاں بھی آئیں ۔ آخر پونے پانچ بجے عصر کے وقت مدینہ پہنچے ۔ مدینہ شہر سے 35کلو میٹر قبل ہی مدینہ کی آبادیاں شروع ہو چکی تھیں شہر میں داخل ہونے سے ذرا قبل تبوک اور القصیم کو جانے والے موڑ آئے ۔ ہماری گاڑی مسجد قبا کے پاس سے گذری، پھر ڈرائیور نے ٹریفک کے رش سے بچنے کے لیے ایک لمبا چکر کاٹا اور گاڑی کو جنت البقیع قبرستان کی بیرونی سڑک پر لایا ، اِس کے بعد مسجدنبوی کے پاس کے بڑے ہوٹلوں کی عمارات کے باہر اُس نے ہمیں بڑے احاطے کے عارضی گیٹ کے پاس اتارا جس میں غالباً بسوں کا اڈہ بن رہا تھا ۔ میرے کمرے کی بکنگ ہوٹل ’’دارالایمان النور‘‘میں تھی ۔ وہ ڈھونڈنا ایک بڑا مسئلہ بن گیا کیونکہ اس نام سے ملتے جلتے ناموں والے کچھ اور ہوٹل بھی تھے۔ پھر میرے پاس گیا رہ کلو وزنی بریف کیس بھی تھا اور 30کلووزنی اٹیچی کیس بھی، جسے میں ٹرالی کے طور ساتھ ساتھ کھینچ کر ہوٹل ڈھونڈ رہا تھا۔ سامنے ’’ایمان رائل ہوٹل ‘‘آیا ۔ اس سے آگے بڑھا تو ایک چوڑے راستے پر دُور ایک سرے پر ’’دارلذ‘‘کے الفاظ نظر آئے قریب جا کر دیکھا تو وہ ’’دار التعلیم ہوٹل ‘‘تھا ۔ دو ایک راہیوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ دارلایمان ہوٹل ذرا دُور ’’ہلٹن مدینہ ‘‘ کے پاس ہے ۔ لشٹم پشٹم وہاں گیا تو وہ ’’دارالایمان کانٹی نینٹل ہوٹل‘‘ نکلا اور مجھے ’’دارالایمان النور‘‘میں جانا تھا ۔ وہاں ایک صاحب نے بتایا کہ یہ ہوٹل مسجد نبوی کی غربی سمت کے ہوٹلوں میں ہے۔ اب وہاں جانا تھا اور یہ جگہ کوئی ایک کلو میٹر دور تھی اور وہاں کے ہوٹلوں کے ہجوم ہی میں اِسے ڈھونڈنا تھا ۔ اس لیے پیدل جانے کا ارادہ ترک کیا اور ٹیکسی لینے کا سوچا ۔ مسجد نبوی کے شمالی سمت کے ہوٹلوں میں ڈھونڈتے ڈھونڈتے نماز عصر شروع ہو چکی تھی ۔ ایک ٹیکسی والے سے بات کی ۔ اس نے 40ریال مانگے جو میرے حساب سے دگنا تھے۔ دوسرے سے بات کی تو اس نے 30مانگے اور اصرار کے باجود کم نہ کیے تواس میں بیٹھ گیا۔ اس سے کہہ دیا تھا کہ یہ ہوٹل ڈھونڈنا بھی تمھارا ذمہ ہے ۔ میرا کمرہ اس ہوٹل میں لاہور سے ٹریول ایجنٹ نے بک کرایا ہو ا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور سعودی تھا۔ اسے ہوٹل کا چھپا ہوا لیٹر ہیڈ بھی دکھا دیا جس پر پتہ بھی درج تھا(طریق الملک فیصل’’الدائری الاول‘‘)۔ وہ بولا کہ ہاں سمجھ گیا ہوں ۔ وہ جنت البقیع کے پار سے ہوکر ایک لمبی سرنگ سے گذر کر پھر واپس اُسی جگہ ایک اور ہوٹل کے سامنے لاکر بولا کہ ’’یہ ہے وہ ہوٹل ‘‘۔۔۔میں نے اس کا بورڈ پڑھا تو وہ ’’دارالایمان المنار ‘‘تھا ۔ میں نے کہا کہ یہ وہ ہوٹل نہیں وہ تو’’دارالایمان النور ‘‘ہونا چاہیے ۔ وہ بڑا پریشان ہوا اور اُتر کراس ہوٹل کے اندر گیا ۔ وہاں سے ایک ہوٹل بوائے نے اسے تفصیل سے اصل ہوٹل کی لوکیشن سمجھائی توٹیکسی میں آکر بولا ’’یا اخی۔ اناخسارہ‘‘ یعنی مجھے نقصان ہو گیا ہے ، اب پھر دوسری سمت میں جانا پڑے گا ، آپ کو کچھ زیادہ ریال دینے پڑیںگے۔ میں نے ہامی بھر لی ، وہ پھر جنت البقیع کے پار سے ہوتا ہُوا صحیح جگہ پہنچا اور وہاں مجھے صحیح ہوٹل پر اتارا تو میں نے اُسے دس ریال زیادہ دے دیے۔ ہوٹل میں گیا تو انھوں نے بکنگ چیک کر کے کہا کہ آپ کو حرم کے قریب ایک ہوٹل دے دیں؟ میں بہت نڈھال تھا۔ میں نے کہا نہیں اسی ہوٹل میں رہنا ہے ۔ انھوں نے 230ریال ادائیگی کے لیے کہا تو میں نے بتایا کہ ٹریول ایجنٹ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کر چکا ہے۔ وہ بولے رسید دکھائو۔ وہ میرے پاس نہیں تھی ۔ پاکستان اس ایجنٹ کو فون کیا تو اس نے بتایاکہ کارڈ کا نمبر جمع کرا دیا ہوا ہے ۔ ہوٹل والوں سے کہیں کہ اس میں سے رقم کاٹ لیں مگر وہ راضی نہ ہوئے ۔ آخر ایجنٹ کے کہنے پر میں نے نقد ادائیگی کرنے کا سوچا مگر میرے پاس سعودی ریال کم نکلے ۔ میرے پاس قطری ریال موجود تھے ،وہ ہوٹل والے نہیں لے رہے تھے ۔ آخر باہر آکر ’’صرافہ ‘‘ڈھونڈھا یعنی ’’منی ایکسچینج‘‘ وہ دو گلیاں دُور مسجد ابو بکر کے پاس ملا۔ اتنا ہی آگے مسجد نبوی نظر آ رہی تھی ۔ خیر سعودی ریال لیکر واپس آیا تو اپنا ہوٹل بُھول گیا۔ پوچھ پوچھ کر یہ ڈھونڈا۔ ادائیگی کی تو کمرہ نمبر112دیا گیا۔ چابی کی بجائے دروازہ کمپیوٹرائزڈ کارڈ سے کُھلنے والا تھا۔ میرا اِس کارڈکے ذریعے کمرے کا دروازہ کھولنے کایہ پہلا موقع تھا۔ میں نے کارڈ مخصوص جَھری میں ڈلا ۔ لائٹ جلی مگر ہینڈل دبانے پر دروازہ نہ کُھلا ۔ دو تین با ر کی ناکامی پر سامان وہیں فرسٹ فلور کے کوریڈور میں چھوڑ کر نیچے گیا اور مسئلہ بتایا۔ ہوٹل بوائے نے کہا کہ لائٹ جلنے کے بعد کارڈ واپس نکال کر ہینڈل دبائیں تو دروازہ کُھلے گا۔ یہ طریقہ ٹھیک رہا۔ کمرے میں آکر سامان رکھا، مغرب گذر چکی تھی ، سوچا کہ سیدھا مسجد نبوی جا کر کر اصل کام پہلے کرتا ہوں۔ اب روضہ رسول ﷺپر حاضری کا معاملہ تھا۔ دوسرا صاف ستھرا لباس نکالا ، وضو کیا ، لباس معہ بنیان تبدیل کر کے قینچی چپل کے ساتھ مسجد نبوی کا رخ کیا۔ تھکاوٹ بہت تھی مگر روضے پر حاضری کا شوق زیادہ فراواں تھا۔ درود پڑھتے پڑھتے مسجد نبوی کے اس حصے پر پہنچا جہاں سے غربی سمت سے منبر رسول کی طرف داخل ہوتے ہیں، مگرمسجد بھر چکی تھی اور نمازی باہربھی صفیں بنا کر بیٹھ رہے تھے ،اس وسیع و عریض احاطے میں بھی کئی زائرین جمع ہو رہے تھے۔ ماربل کے ٹھنڈے فرش پر بھی کئی لوگ براجمان تھے۔ روشنیوں کے ستون اور کھمبے روشنیاں بکھیر رہے تھے ۔ یہی ستون دھوپ میں بہت بڑی بڑی چھتریاں بن جاتے ہیں۔ بڑا سحر انگیز اور ایمان افروز ماحول تھا۔ مسجد نبوی کے اس داخلی دروازے کے پاس ہی تیسری صف میں مجھے وہاں جگہ ملی جہاں میرے بائیں کاندھے کے ساتھ مسجد نبوی کی دیوار تھی۔ دائیں طرف ایک پاکستانی بیٹھا تھا۔ اُس سے علیک سلیک ہوئی ۔اس نے کہا کہ اٹک میں ’’کامرہ‘‘ سے ڈھائی کلو میٹردُور ایک گائوں سے ہوں مگر اب کراچی کی اس فیکٹری میں ملازم ہو ں جو ’’موب ‘ بنا کر برآمدکرتی ہے ۔ مجھے مالکوںنے عمرے پر بھیجا ہے ، ہفتہ بھر سے مدینہ میں ہوں ۔ آج پہلا دن تھاکہ دن میں دھوپ سے زیادہ گرمی محسوس ہوئی ۔ میں بھی اس شخص کے سوالوںکے جواب میں اپناتعارف کراتا رہا۔ آدھ گھنٹہ بعد عشاء کی اذان شروع ہوئی ۔ میں نے ساتھ ساتھ اذان کے الفاظ دہرائے ، چار سنتیں پڑھیں ۔ رکوع و سجود کے وقت دُکھتی ہوئی ٹانگوں اور بازوئوں کی وجہ سے دشواری رہی مگر سجدے سکون سے کیے ،با جماعت فرض پڑھے تو سکون میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ پھر دو سنتیں پڑھ کر وتر کی تین رکعتیںمسجد نبوی کے اندر جا کر پڑھیں۔ روضۂ رسول ؐ کی جالیوںکے سامنے سے گذرنے والوں کی بے ہنگم قطاریں تھیں اور لوگ رینگ رینگ کر آگے بڑھ رہے تھے ، میں بھی ان میں شامل ہو گیا۔ حضور اکرم ؐکی قبر کے سامنے پہنچ کر دل کی عجیب کیفیت تھی، آنکھیں بھی نم ہو رہی تھیں۔ زبان پر درود و سلام کا وِرد تھا ،ساتھ ہی حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کی قبروں کے باہر جالی پر اُن کے نام درج تھے ۔ ان صحابہ کرام ؓپربھی سلام بھیجا اور مسجد کے شرقی دروازے سے باہر نکل آیا۔ سامنے جنت البقیع قبرستان تھا۔ وہاں کھڑے ہو کر ان سب کے لیے فاتحہ خوانی کی اور اپنے ہوٹل جانے کا ارادہ کیا۔ پھر اس سمت میںگیا جہاں مسجد ابوبکر ؓ ہے۔ اس چھوٹی سی مسجد کے ساتھ ایک ذرا بڑی مسجد وہ ہے جہاں حضور اکرم نے بارش کے لیے جماعت کرائی تھی۔ دونوں مسجد وںکی موجودہ تعمیربہت خوبصورت تھی۔ ان سے ذرا پہلے جنوب کی سمت ہوٹلوں کی عمارات کے ساتھ قرآ ن پاک کے نمونوں کا میوزیم تھا۔ میںنے جب 1978ء میں قطر سے بذریعہ سڑک آ کر حج کیا تھا تو مدینہ کے اس مقام کے ایک پرانے سے محلہ کے ایک گھر میں قیام کیا تھا۔ تب اس میوزیم والی جگہ پَر بازار تھا اور وہیں سے مرغیاں ذبح کر کر کے فروخت کرنے والے ایک مصری سے پکانے کے لیے مرغیاں لیتے رہے تھے ۔۔خیر مسجد ابوبکر ؓ کے پاس راستوں میںدیکھا کہ سستی اشیا بیچنے والوں نے عارضی ٹھیلے لگا رکھے تھے ۔ کچھ فرش پر چادریں بچھا کر چیزیں بیچ رہے تھے ۔ میں نے کچھ عطر ، تسبیحیں اور پرفیوم خریدے ،قریب کے ہوٹل سے شوارما لے کر کھایا ور اپنے ’’دارالایمان النور‘‘ ہوٹل میںجا کر دس بجے رات سو گیا ۔

مدینہ سے جدہ روانگی
9مارچ 2016ء کی صبح آٹھ بجے اٹھ کر شیو بنائی اور ہوٹل سے باہر آکرمسجد قبا ء کو جانے والی سڑک کیطرف گیا ’’طریق الملک فیصل ‘‘ کی کبری (فلائی اوور) کے نیچے سے گذر کر سامنے عام آبادی کے پہلے ہی ہوٹل سے ناشتہ کیا۔ یہ ایک یمنی ہوٹل تھا، انڈے کا قیمہ نما سالن بنا کر انھوں نے خَبز (عربی نان)ساتھ دے دیا،ساتھ گرم چائے تھی ۔ ناشتے کا لطف آ گیا، ساتھ پانی کی ایک بوتل تھی ،یہ سب کچھ آٹھ ریال میں ملا ، دو بڑے اور ’’برائون خَبز‘ کی طرح کے خَبز تھے ، میں تو ایک بھی پورا نہ کھا پایا تھا ۔ خیر پارسل بنا کر ساتھ ہی لے آیا ،ہوٹل کے اپنے کمرے میں آکر اس سفر نامے کا یہاں تک کا حصہ لکھا ،پھرغسل کر کے ،لباس بدل کر سامان ساتھ لیا اور جدہ جانے کے لیے ٹیکسی سٹینڈ کا رخ کیا۔ رات ایک پاکستانی بزرگ نے راستے میں رہنمائی کی تھی کہ مسجد نبوی کے احاطے کے گیٹ نمبر 22کے باہر مکہ اورجدہ جانے والی گاڑیاں ملتی ہیں۔ انہی میں ’’لینڈکروزر‘‘ طرح کی ایک گاڑی میں جگہ مل گئی ، کل دس سواریاں تھیں ، گاڑی تیز رفتار تھی ، راستے میں ایک جگہ پٹرول پمپ پر رُکے تو میںنے جوس اور سینڈ وچ لیا ، ایک جگہ ویرانے میں رُکے جہاں خستہ سی چھوٹی مسجد تھی ، نماز عصر وہاں ادا کی گئی ۔
مدینہ سے مکہ جانے والی شاہراہ پر ہر دس کلو میٹر بعد ایک سائن بورڈ آتا تھا جس پر مکہ کا فاصلہ اور جدہ کا فاصلہ درج تھا ۔ جب جدہ 99کلومیٹر رہ گیا تو اس شاہراہ سے گاڑی نے دائیں طرف کا موڑ لے لیا۔ اب ہمارا رخ جدہ کی طرف تھا اور سیدھی جانے والی سڑک مکہ کو جارہی تھی ۔ جدّہ میں مجھے محمد مختار علی کے ہاں جانا تھا جو نامو خطاط اور شاعر ہیں ، ملتان کے نامور مصور اور شاعر ابن کلیم کے صاحبزادے ، جدہ کی ادبی محفلوں کے روح رواں،راستے میں جدہ سے مختار علی کا فون آیا تو میں نے بتایا کہ اب جدہ کا رخ کر لیا ہے۔ کوئی ستر کلو میٹر بعد جدہ ائیرپورٹ کے قریب سے گذرے۔ جہاز اسی سمت سے رن وے پر اترتے دکھائی دیے۔ جدہ شہرقریب تھا اوراب اس سڑک پر رش بڑھتا جا رہا تھا۔ دونوں طرف آبادی بھی نظر آ رہی تھی ۔ یہاں ایک بار پھر مختار علی نے فون کر کے فاصلہ پوچھا تو میں نے بتایا کہ ائیر پورٹ کے پاس ہیں ۔ انھوں نے ہدایت کی کہ گاڑی والا جہاں اتارے وہیں سے ٹیکسی لے کر سفارتخانہ پاکستان کے پاس آ جائیں ۔ میرا گھر وہیں قریب ہی ہے۔ گاڑی والے نے ’’ساپتکو‘‘بس اڈہ پر اتارا ۔ یہاں تک سڑک تقریباً سیدھی آ ئی تھی ۔ بس ایک سگنل کے بعد ون وے ہو گئی تھی ۔ وزارت داخلیہ مکتب وزیر بھی راستے میں گذرا۔ دائیں بائیں بیسیوںبلند عمارات اور شوروم گذ رتے رہے ۔ مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ جدہ روشنیوںمیں نہانے لگا تھا ، پھر دو تین جگہ گاڑی نے موڑ کاٹااور بس اسٹینڈ کے پاس جا اُتارا۔ ایک ٹیکسی والے سے بات کی وہ چالیس ریال مانگ رہا تھا ۔ میںنے فون پر مختار علی سے پوچھا تو وہ بولے کہ نہیں اتنے پیسے نہ دیجیے گا، بلکہ کسی عرب کی بجائے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورسے بات کریں۔ پھر ایک پاکستانی ڈرائیور آیا تو وہ تیس ریال مانگنے لگا۔ میں نے فون پر اس کی بات مختار سے کرا دی اور سوار ہو گیا ۔ اس نے مختار کے ہاں اتارا تو مختار نے اسے بیس ریال دے کرکہا کہ اتنے ہی ٹھیک ہیں اور وہ بھی خاموشی سے لے کر چلا گیا۔ عشاء سے قبل کا وقت تھا ، مختار نے پہلے فوری طور پر اپنے ہاں کھانا کھلایا۔ چکن کری اور شامی کباب تھے۔ پھر فیصل طفیل اپنی فیملی کے ساتھ آ گئے ۔ ان سے گپ شپ رہی۔ وہ نیون سائن کی کسی فرم میں کام کرتے ہیں اور گوجرانوالہ کے ہیں۔ کھانے کے بعد انہی کی گاڑی میں نکلے اور جدہ کی جگمگ کرتی سڑکوں پر سے گذرتے ہوئے اس علاقے میں گئے جہاں پاکستانی ریستوران کافی زیادہ ہیں۔ راستے میں مختار علی اور فیصل طفیل ارد گرد کی عمارتوں ، سڑکوں اور علاقوں کا تعارف کراتے جا رہے تھے۔ محمد مختار علی نے بتایا کہ جدہ کو عروس البلاد کہتے ہیں اور اس شہر کو اور بھی کئی اعزازات حاصل ہیں ۔ ہم جدہ کے پاکستانی ریستوران ’’سالٹ این پیپر ‘‘میں بیٹھے جس کا عربی نام ’’مِلح و فلا فل ‘‘تھا۔ مختار علی نے یہاں عشائیے پر چند پاکستانی شعراء کو بھی بلا لیا ہوا تھا۔ پُر تکلف عشائیے کھانے کے بعد چائے کا دور چلا اور اس دوران کئی ادبی موضوعات پر بات ہوئی۔ خاص طور پر سب نے اپنی پسند کے دو دو تین تین وہ اشعار سنائے جو دیگر شعرا کے تھے اور عمدہ منتخب اشعارت تھے ۔ پھر مجھے کہا گیا کہ کہ بس آپ سے کلام سنیں گے مگر میں ان سب کا کلام بھی سننا چاہتا تھا۔ مختار عی نے تجویز دی کہ چلیں ہم دو دو شعر سنادیتے ہیں مگر میں نے زور دیا کم از کم ایک ایک غزل ضرور سنائیں ۔ پھر یہی ہوا کہ کسی نے ایک ایک غزل سنائی اور کسی نے دو تین غزلوں سے منتخب اشعار۔ بطور میزبان مختار علی نے پہلے کلام سنایا پھر بالترتیب فیصل طفیل (گوجرانوالہ)، ڈاکٹر محمو د اقبال حیدر (لاہور، آفتاب ترابی (شیخوپورہ ) اور سینئر شاعر و صحافی نعیم بازیدپوری (کراچی ) نے کلام سنایا اور خوب رنگ جمایا ۔ کئی اشعار پر دل سے داد نکلتی رہی ۔ میں نے حسب معمول کچھ قطعات سنائے اور آخر میں ایک غزل۔ یہ کم و بیش وہی کلام تھا جو میں کچھ ماہ قبل پنڈی کے مشاعرہ میں سنا چکا تھا۔ کچھ جدہ والوں کو کلام پسند آیا ہو گا اور کچھ مجھے مہمان شاعر کے بطور بھی بہت ہی زیادہ داد سے نوازا گیا ۔ جدہ کا یہ مختصر مشاعرہ خاصا یاد گار رہا ۔ رات بارہ بجے ہوٹل سے نکلے تو مختار علی اور فیصل مجھے میری خواہش پر جدہ کی مشہور ’’بیچ ‘‘پر لے گئے ۔ وہ اس کی خصوصیات بھی بتاتے رہے کہ یہ 80کلومیٹر طویل ہے، یہاں دن رات رونق رہتی ہے، جدہ شہر میں اس سڑک کے دائیں طرف بڑے بڑے ہوٹلوں کی عمارات ہیں، بیچ کی پٹی پر جگہ جگہ چھوٹے ریستوران ہیں،ہر نماز کے وقت موبائل مسجدیںسڑک پر آ رکتی ہیں جہاں مردوزن نماز ادا کرتے ہیں، جگہ جگہ معیاری بیت الخلاء بنے ہوئے ہیں،سمندر کی سمت کئی کمپنیوں کے HUTSبھی ہیں ، بچوں کی تفریح کے لیے کئی جگہ شلار (لہریں ) کے نام سے جُھولوں اور کھیلوں کے احاطے قائم ہیں، یہ ایک بڑی تعمیراتی کمپنی ’’فقیہہ‘‘کی طرف سے ہیں۔ اس کمپنی نے سعودیہ میں کئی بڑے منصوبے مکمل کیے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔جدہ کے مشاعرہ میں لکھنؤ کے خالد قدوائی بھی آئے ہوئے تھے ۔ اُن کا شمار جدہ کی اہم ادبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ باذوق بزرگ سامع ، لمبی سفید ریش ، برسوں سے جدہ میں ہیں دو بیٹے ۔ ایک بیٹی کے باپ بچے بر سرروزگار ہیں ۔ جدہ میں کئی علماء کی میزبانی کی ، کلیم عاجز کے مستقل میزبان تھے ، تبلیغ اور ذکر کی محافل میں جاتے رہتے ہیں۔ اُنھوں نے کئی شعراء کا کلام ریکارڈ کر کے پاس رکھا ہوا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں کا دورہ کر چکے ہیں۔ جدہ کے میرے اعزاز میں منعقدہ مشاعرے کے بعد اُن سے طے ہوا تھا کہ وہ صبح بھی مختار علی کے ہاں آئیں گے ۔ جدہ کارنیش پر ایک جگہ فیصل نے گاڑی کھڑی کی مگر وہ باضابطہ پارکنگ نہیں تھی اس لیے وہ گاڑی میں بیٹھا رہا اور میں نے مختار علی کے ساتھ اتر کر کارنیش کی ریلنگ کا ساتھ ساتھ کوئی دوسو میٹر تک چہل قدمی کی (وہیںمختار علی نے بتایا کہ دو ماہ بعد میں بھی مستقلاً واپس ملتان چلا جائوں گا ،وہ سترہ برس جدہ میں رہے)۔
اب گھر واپسی کا مرحلہ تھا ، راستے میں ایک چوک میں بہت بڑا پول روشنی میں نہایا ہُوا ملا۔ مختار علی نے بتایا کہ اس پر دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا لگا ہوا ہے جس کا سائز فٹ بال گرائونڈ کے نصف رقبے جتنا ہے ،راستے میں جدہ کی قدیمی خوبصورت مسجد بھی گذری۔
رات ڈیڑھ بجے مختار کے ہاں پہنچے ،فیصل نے اپنے بیوی بچوں کو یہیں چھوڑاہُوا تھا وہ انھیں لے کر رخصت ہُوا تو مختار علی نے ڈرائنگ روم ہی میں میرا بستر لگوا دیا کہ کچھ دیر نیند لے لوں کیونکہ صبح سات بجے اٹھ کر جدہ ائر پورٹ جانا ہے۔ انھوں نے گرم دودھ لانے کا بھی کہا مگر میں نے منع کر دیا۔ میری تھکان اور ٹانگوں کے دکھنے کا سن کر انھوں نے ایک کیپسول بھی لا کر دیا اوریہ کھا کر میں باتھ روم سے ہو کر آیا اور بستر پر دراز ہو گیا، جلدہی نیند آ گئی۔

جدہ سے دوحہ روانگی
صبح پونے سات بجے آنکھ کھل گئی ۔ مختار بھی جاگ کر آ گئے ،کہنے لگے کہ فیصل کا فون آیا تھا کہ آپ کا موبائل ان کی گاڑی میں رہ گیا تھا، وہ پہنچا بھی گئے ہیں، خالد قدوائی حسب وعدہ آ گئے ۔ ناشتہ اکٹھے کیا ۔ پھر دونوں نے مجھے آٹھ بجے جدہ ائر پورٹ کے حج ٹرمینل پر ڈَراپ کیا ۔ پاسپورٹ دکھا کر زم زم کے پانی کی پیکنگ والی بوتل لی ۔ اس کی 9ریال کی ادائیگی مختار ہی نے کی ۔ ان سے مل کر ڈیبارچر لائونج میں چلا گیا،اور دوحہ جانے کیلئے جہاز کی روانگی کا انتظار کرنے لگا ۔ بلاشبہ سعودی عرب کا یہ چند دنوںکا سفر بہت بھرپور ، مصروف اور یادگار رَہا تھا۔

ممتاز راشدؔلاہوری

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo