وزیراعظم عمران خان کو درپیش چیلنجز

[ad_1]

کنور محمد دلشاد
وزیراعظم عمران خان کی حکومت کا دوسرا قومی بجٹ ملک ہی نہیں پوری دنیا کو درپیش بدترین معاشی حالات میں پیش کیا گیا۔ قومی معیشت یوں تو اس دور میں شروع ہی سے سنگین صورت حال سے نبرد آزما چلی آ رہی ہے لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران کورونا کی عالمی وبا کے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر سخت منفی اثرات کے باعث اس کا گراف جس تیزی سے نیچے آیا ہے اس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس صورتحال کا بھرپور اظہار اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ یہ تاریخی خسارے کا بجٹ ہے، جس کی مالیت 3437 ارب روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ وفاقی میزانیے کی مکمل مالیت 71 کھرب 37 ارب روپے ہے۔ ایک کھرب روپے کے اضافی ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف مقرر کیے جانے کے باوجود کوئی نیاٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے جس پر بادی النظر میں عمل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ اپوزیشن نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بجٹ کو عوام دشمن اور مایوس کن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے جبکہ اندرونی معاہدہ کے تحت حکومت اور اپوزیشن کی مفاہمت ہوچکی ہے اور حکومت بجٹ کو منظور کرانے میں کسی اندرونی کشمکش کا اندیشہ ظاہر نہیں کر رہی ہے۔ میرے خیال میں تو عوام کی حقیقی دشمن ملک کی اپوزیشن ہی ہے جو ہر معاملہ میں ذاتی مفادات کے تحت خفیہ طور پر مفاہمت کر کے حکومت کو محفوظ راستہ دے دیتی ہے۔ حکومت کے اتحادی ہر بجٹ کے موقع پر اپنے سیاسی مفادات کے حصول کےلئے حکومت سے اپنی من پسند خواہشات کو پورا کر لیتے ہیں لہٰذا اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔
پاکستانی قوم آج جس شدید بحرانی کیفیت سے دوچار ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پچھلی سات دہائیوں میں ایسی صورتحال کبھی پیش نہیں آئی تھی۔ عمران خان کی حکومت گزشتہ دو سال کے دوران معیشت کو سنبھالنے کی کوشش جو پہلے بھی کچھ زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہی تھی ،کورونا اور لاک ڈاﺅن نے انہیں بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی آفت ٹڈی دل بھی ایک نئی مصیبت کی صورت میں ملک پر مسلط ہے لہٰذا ان حالات میں واہگہ سے گوادر تک عام پاکستانی عمران خان سے سخت نا امید ہو چکے ہیں اور وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکمران اس وبا شدہ معیشت اور کورونا کی ہلاکت خیزیوں کا ادراک نہیں رکھتی۔وزیراعظم عمران خان اس معاشی ، سیاسی، خارجی اور اندرونی بحران سے مکمل طور پر باخبر ہیں لیکن ان کی بین الاقوامی معاشی ٹیم نے ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جو منتخب ارکان قومی اسمبلی ان کی کابینہ میں موجود ہیں ان کے درپردہ مفادات بزنس کمیونٹی اور بین الاقوامی ملٹی نیشنل کارپوریشنز اور بزنس کونسل سے ہیں اور وہ ان کے مفادات کے تحفظ کےلئے ہی سیاسی پارٹیوں میں آتے ہیں اور ان کے تانے بانے ایسی پراسرار ایجنسیوں سے ملے ہوئے ہیں جو فری میسن کی طرز پر پاکستان میں حکومت کر رہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے خطر ناک ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے دلائل کے ساتھ کھڑی کی تھی‘ جب تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیراعظم عمران خان کے مابین یہ بات طے نہیں ہو پا رہی تھی کہ چین ،ترکی، سعودی عرب اور دوسرے ممالک سے فارن فنڈنگ کے معاہدات طے پائے جا رہے ہیں تو اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ڈاکٹر اشفاق حسن خان جوو زیراعظم کی اکنامک کونسل کے ممبر تھے‘ نے عمران خان کے سامنے نہایت درد مندی کے ساتھ آئی ایم ایف کے جارحانہ معاہدہ کے خلاف اپنا مقدمہ پیش کیا تھا مگر وزیر اعظم کی اقتصادی ایڈوائزری کونسل کے کسی فرد نے ڈاکٹر اشفاق حسن کے نقطہ نظر کی حمایت نہیں کی تھی اور انہوں نے ایک ملاقات کے دوران بین الاقوامی ایجنسیوں کے پراسرار کردار کے بارے میں مجھے بتایا تھا اور بقول ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے انہوں نے ملک کی اعلی قیادت کو تمام حقائق سے آگاہ کیا تھا کہ اقتصادی کونسل کے بعض ارکان کس طرح بین الاقوامی ایجنسیوں کے نمائندوںکے ہمنوا بنے ہوئے ہیں۔ اس کے بعض نمائندے اور وزارت خزانہ کے غیرملکی ماہرین پاکستان کو دیوالیہ کی طرف لے کر جا رہے ہیں اور ان کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے ایٹمی مفادات بھی خطرے کی زد میں ہیں۔
وزیراعظم کی معاشی ٹیم نے موجودہ حکومت کے اقتصادی حکمت عملی کو خوشنما الفاظ میں کیا اور فی الحقیقت دنیا کی ہر حکومت اسی دعوے کے ساتھ اقتدار سنبھالتی ہے جبکہ اس کی صداقت کا فیصلہ اس کی کارکردگی کی کسوٹی پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مطابق حکومت کی کارکردگی کا اعتراف موڈیز، آئی ایم ایف، بلوم برگ جیسے اداروں کی جانب سے کیا جارہا تھا اور بیرونی سرمایہ کاری میں تیزی سے سے اضافہ ہو رہا تھا لیکن پھر کرونا کے باعث قومی معیشت کو بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے 30 کھرب روپے تک کے نقصان کا اندیشہ ہے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ کے ارشادات معاشی ضرب کار جان پرکنز سے مشابہت رکھتے ہیں۔معاشی ضرب کار اعلیٰ معاوضوں پر کام کرنے والے ماہر پیشہ ور لوگ ہوتے ہیں جو ان کے چنگل میں پھنس جانے والے ممالک کو اربوں کھربوں ڈالرکی چھوٹ دیتے اور دلاتے ہیں ،ان کی ترک تازیاں عالمگیر ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عالمی بینک، آئی ایم ایف، یو ایس ایڈ اور ایسے ہی دیگر امدادفراہم کرنے والے اداروں سے بھاری بھاری رقوم کا رخ عظیم الشان کارپوریشنز کی تجوریوں اور گنے چنے امیرکبیر خاندانوں کے ذاتی خزانوں کی جانب پھیر دیتے ہیں جو پہلے ہی کرہ ارض کے قدرتی وسائل پر مکمل اختیار رکھتے ہیں۔ یہ اپنے غیر ملکی این جی اوز سے دھوکا بازی سے تیار کی گئی مالیاتی رپورٹس، انتخابی دھاندلیاں، رشوت، لوٹ کھسوٹ کے ہتھکنڈے ۔ ان کا کھیل اتنا ہی قدیم ہے جتنا سلطنتوں کے چکر۔ یہ کھیل ایسا ہے جو اس عالمگیریت کے دور میں اپنے حجم کے اعتبار سے انتہائی خوفناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ میرے مطابق پاکستان کے پہلے وزیر اعظم قائد ملت لیاقت علی خان کا قتل حادثاتی یاجذباتی نہیں تھا ان کا قتل کیا گیا تھا کیونکہ وہ امریکہ کے خفیہ منصوبے کو سمجھ گئے تھے جس کا واحد مقصد پاکستان میں اندرونی خلفشاراور اقتصادی بدحالی پیدا کرکے پاکستان کے مفادات پر مبنی اسلامی عالمگیر سلطنت کے خواب چکنا چور کرنا تھا۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان جب خطاب کرتے تھے تو برادران ملت کہہ کر مخاطب ہوتے تھے ان کا خطاب پوری ملت اسلامیہ کے لیے ہوتا تھا لہٰذاغیرملکی ایجنسیاں جو ہمیشہ سائے کی طرح ان کے ساتھ تھیں،انہوں نے ان کو منظر سے ہٹا دیا گیا۔
پاکستان کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے اس سے نبرد آزما ہونے کےلئے غیر معمولی بصیرت اور سوچ درکار ہے۔ مشکل صورتحال سے نکلنے کےلئے قوم کی اجتماعی دانش اور بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جانا وقت کا ناگزیر تقاضا ہے۔ اپنے اثاثہ جات قوم کے سامنے پیش کرنے کے لئے جو احکامات عمران خان نے دیے تھے ان پر عمل درآمد ایک ماہ گزرنے کے باوجود نہیں ہوا۔ اس وقت پاکستان میں جو حالات ہیں اس میں لوگ ڈھکے چھپے کرب کو محسوس کر رہے ہیں۔30 کھرب روپے تک کے نقصان کی تھیوری کی پشت پر بنا غیر ملکی سازش ہو رہی ہے اور لگ رہا ہے کہ یہ تھیوری آئی ایم ایف سے ہی آئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اورنیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کرونا سے ایک ماہ میں اموات میں 242 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رواں ماہ کے آخر تک ملک میں کرونا کیسز کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ سکتی ہے اور جولائی کے آخر تک تعداد بارہ لاکھ ہو جائے گی۔ اسد عمر کے موقف کی تائید بین الاقوامی میڈیا کے ذرائع نے بھی کی ہے جن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا کے سبب اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان بھی ان دنوں آئینی معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ملک کے اقتصادی ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔وزیراعظم پاکستان ٹورازم کو کھولنے کے احکامات جاری کر رہے ہیں جبکہ گلگت بلتستان کی حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کےلئے سیاحت پر پابندی نافذ کر دی ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی کانفرنس کا انعقاد اور پارلیمانی پارٹیوں کو مدعو کر کے ایک قومی حکمت عملی کے تحت قومی پالیسی مرتب کرتے ہوئے کرونا کی جنگ سے نبردآزما ہونے کےلئے آئین کے آرٹیکل232 کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک میں تین ماہ کےلئے ایمرجنسی لگائی جائے کیونکہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت کرونا جیسی عالمی وبا کی وجہ سے پاکستان حالت جنگ میں ہے۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo