گستاخ ر سول یوسف کذاب ¾تاریخی عدالتی فیصلہ (قسط1)

[ad_1]

میاںغفاراحمد
بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ ہی توفیق دیتا ہے ، وہی انتخاب کرتا ہے اور قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تبارک و تعالیٰ دو ٹوک الفاظ میں فرماتا ہے ”جو کچھ بھی ہوتا ہے میرے ازن یعنی میرے حکم ، میری مرضی اور میری اجازت سے ہوتا ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ نبی پاک کی شان میں گستاخانہ کتاب لکھنے والے لاہور کے ہندو راج پال کےخلاف علمائے کرام تو مظاہرے کرتے رہے اور نوجوان بڑھئی غازی علم دین نے اسے جہنم واصل کر کے عالیشان ابدی زندگی کا انتخاب کرلیا۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کو بھی کہنا پڑا کہ ”بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا“۔ اس میں کیا شک ہے کہ غازی علم دین کا انتخاب اللہ پاک ہی نے کیا۔
”خبریں“ کی کیا اوقات تھی یا ہے کہ 7 مارچ 1997ءبروز جمعہ ایک گستاخ رسول کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے ملک کے بڑے بڑے اخبارات کے مقابلے میں روزنامہ ”خبریں“ کا انتخاب کیا جاتا۔ میں نے 20 سال بعد اس ایشو پر قلم اس لیے اٹھایا کہ چند ہفتے قبل ایک خود ساختہ دانشور ، صحافی جسے اللہ نے شاید تحقیق کی توفیق نہیں دی یوسف کذاب کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ قابل اعتراض باتیں کیں تو میں چپ کا روزہ توڑتے ہوئے حقائق سامنے لا رہا ہوں اور تاقیامت ان سطور میں لکھے ایک ایک لفظ کا ذمہ دار ہوں گا۔
ہوا یوں کہ7مارچ1997ءبروز جمعہ بعدنماز عصر کو کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے 9افراد جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معاشرے میں اچھی شہرت رکھتے تھے چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد سے ملے اور انہیں بتایا کہ کیپٹن (ر) یوسف علی نامی ایک شخص شان رسالت میں گستاخی کر رہا ہے اور اس کا یہ دعویٰ ہے کہ ”نعوذ باللہ ،ثم نعوذ باللہ“ نبی پاک کی روح اس کے جسم میں سرایت کرگئی ہے اس کا دعویٰ بھی ایسا ہی دعویٰ تھا جو ملعون قادیانی مرزا غلام احمد نے کر کے تا قیامت لعنت اپنے لیے چن لی۔ دو گھنٹے سے زائد وقت تک ضیا صاحب نے ان کی باتیں سنیں اور حیران رہ گئے۔ ملاقاتی حضرات نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے وہ لاہور میں ہےں اور تقریباً تمام بڑے اخبارات کے ذمہ داران سے مل چکے ہیں کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ یاد رہے کہ تب الیکٹرانک میڈیا کا وجود نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں گستاخی رسالت کا ایک بہت بڑا فتنہ اٹھ رہا ہے اگر اس کو ابھی روکا نہ گیا تو فتنہ اتنا بڑھ جائے گا کہ قابو پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا۔
جناب ضیا شاہد نے مجھے طلب کیا۔ بریف کیا ان لوگوں کا تعارف کروایا جن میں کراچی کے ایک ایئر فورس کے بہت سینئر آفیسر ڈاکٹر محمد اسلم ملک، لاہور کے اطہر اقبال اور محمدسہیل ،کراچی کے محمد علی ابوبکر اور فارماسسٹ محمد اکرم رانا سمیت 9 افراد شامل تھے۔ جناب ضیاشاہد نے انہیں میرے سپرد کیا۔ کچھ مواد دیا۔ یوسف کذاب کی تحریریں دیں۔ آڈیو ، ویڈیو کیسٹ دیں اور مجھے حکم ملا کہ ان کی ایک ایک بات سنو اور انتہائی احتیاط سے تحقیق کرنا اور اگر بات الٹ گئی تحقیق غلط ثابت ہوئی تو ہم دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی جواب دہ ہوں گے۔
8 مارچ بروز ہفتہ بعد نماز مغرب لاہور کے علاقے کینال ویو میں میاں سہیل صاحب کی وسیع و عریض کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں ملاقات طے ہوئی۔ پھر 8 مارچ سے 22 مارچ تک نماز عشاءسے نماز فجر تک مسلسل 14 راتیں سارا مواد پڑھا اور سن کر لکھتا گیا۔ کیسٹیں سنی گئیں ، ویڈیوز دیکھی گئیں اور سب سے قابل اعتراض اور گستاخانہ ویڈیو جو کہ تھانہ ملت پارک کے علاقے میں واقع مسجد بیت الرضا میں یوسف کذاب کی طرف سے دیا جانے والے طویل خطبہ جمعہ پر مشتمل تھی جس میں اس ملعون نے خود پر درود شریف پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے وہاں بیٹھے 3افراد کو بشارت دی کہ جب تک وہ مجسم حالت اور مکمل ہوش و حواس میں دن کے وقت نبی پاک سے طویل ملاقات بالمشافہ نہ کرلیں انہیں موت نہیں آئے گی۔ پھر اس قسم کی ڈھیروں خرافات اس ویڈیو میں موجود تھیں۔جن میں اس نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس محفل یعنی مسجد بیت الرضا میں 100 صحابی موجود ہیں پھر وضاحت کرتے ہوئے کہا صحابی وہی ہوتا ہے جس نے ایمان کی حالت میں حضرت محمد کو دیکھا ہو۔ پھر اس نے وہاں پر موجود دو افراد عبدالواحد خان اور سید زید زمان جو آج کل زید حامد کے نام سے سرخ ٹوپی پہن کر مختلف ٹی وی چینلز پر تجزیہ نگاری کر رہے ہیں ان دونوں کو سٹیج پر بلایا گیا اور ان کا تعارف صحابی رسول کی حیثیت سے کروایا اور مزید کذب بیانی کی کہ جہاں صحابی ہوں گے وہاں محمد الرسول اللہ بھی ہوں گے ، کوئی پہچان سکتا ہے تو پہچان لے۔
مسلسل 14 راتوں کی عرق ریزی کے بعد 21 مارچ 1997ءبروز جمعہ بعد نماز عصر میں نے یوسف کذاب سے ملاقات کے لیے اس کے گھر پہنچا تو دو گھنٹے پر محیط سوال جواب کے سیشن میں اس نے کہا کہ میرے اوپر صریحاً الزام لگایا جا رہا ہے میں نے نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا البتہ مجھے اللہ تبارک و تعالیٰ نے خلافت عظمیٰ عطا کی ہے اور میں دنیا بھر میں واحد خلیفہ اعظم ہوں۔ پھر ا س نے مزید وضاحت کی کہ سب سے پہلے خلافت عظمیٰ حضرت آدمؑ کو عطا کی گئی۔ پھر تمام پیغمبروں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھر خلافت عظمیٰ حضرت محمد تک پہنچی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اس وقت خلافت عظمیٰ میرے پاس ہے۔ میں نے اگلا سوال کیا کہ کراچی ، لاہور ، اسلام آباد کی متعدد خواتین جو کہ تعلیم یافتہ ہیں اور ان میں ڈاکٹرز اور پروفیسرز بھی ہیں وہ اپنا گناہ تسلیم کرتے ہوئے اور اللہ تبارک وتعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے مجھے براہ راست اور بالواسطہ یہ معلومات دے چکی ہیں کہ آپ نے انہیں اپنی ”ازواج مطہرات“ کا درجہ دے کر ان کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کررکھا ہے جس پر یوسف کذاب نے اپنی میز کی دراز کھولی اور ایک انتہائی خوبصورت فائل میں کراچی ، لاہور اور اسلام آباد کے 5 مختلف ڈاکٹروں کے تصدیقی سرٹیفکیٹس نکال کر میرے سامنے رکھ دیئے اور کہا کہ مجھے 40 سال کی عمر میں خلافت عظمیٰ جب عطا ہوئی تو میرے جسم سے سےکس کا عنصر نکال دیا گیا جس کی یہ تصدیق ہے جس پر میں نے کہا کہ بقول آپ کے اس وقت آپ کی عمر 47 سال ہے مرد مرتے دم تک کبھی اپنی یہ کمزوری تسلیم نہیں کرتا آپ نے فائل بنا اور سجا رکھی ہے کہیں خواتین کو دھوکہ دینے کا یہ طریقہ واردات تو نہیں جس پر اس کے پاس موجود سہیل نامی کراچی کے ایک افغان تربیت یافتہ نوجوان سے میرے سخت جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا تو یوسف کذاب نے درمیان میں مداخلت کرکے سہیل سے کہا کہ میاں غفار تو ہمارا مو¿قف لینے آئے ہیں ان کی بات تحمل سے سنو۔ پھر یوسف کذاب نے پھر کہا کہ 9 ربیع الاول کو اس کی پیدائش ہوئی اور اسی دن 40 سال بعد اس کو خلافت عظمیٰ عطا کی گئی۔ پھر سوال پوچھے بغیر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک لوگوں کی شکل میں دنیا پر خود کو ظاہر کرتاہے اور یہ اللہ کی صوابدید ہے کہ وہ دنیا میں حضرت داتا گنج بخشؒ ، خواجہ معین الدین چشتیؒ ، حضرت بابا فرید گنج شکرؒ یا حضرت محمد یا پھر میری شکل میں دنیا میں آسکتا ہے۔ یہاں ایک دفعہ پھر تلخی بڑھی تو سہیل نے میرا اور میں نے سہیل کا گریبان پکڑ لیا۔
23 مارچ 1997ءکو روزنامہ خبریں کے صفحہ اول پر میں نے اس گستاخ رسول کی گستاخیوں کے حوالے سے بہت مفصل خبر دی اور تین دن تک اس کا فالو اپ کیا تو ملک بھر میں شور مچ گیا اور ڈپٹی کمشنر لاہور نے فوری طور پر یوسف کذاب کو اس کے گھر 218 کیو بلاک ڈیفنس سے حراست میں لے کر اور 90 دن کے لیے نظر بند کرکے ساہیوال جیل منتقل کر دیا۔ اس دوران معلومات کا حصول جاری رکھا۔علمائے کرام سے رابطے کیے ، ملک بھر کے جیدعلماءسے مو¿قف لیا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے تعلق رکھنے والے عاشقان رسول بھی بہت سا مواد لے کر سامنے آگئے تو 7 اپریل 1997ءکو 10 دن کی ایس پی کی سطح پر تفتیش کے بعد تھانہ ملت پارک لاہور میں 295/C سمیت متعدد دفعات کے تحت یوسف کذاب کے خلاف مقدمہ درج ہوا جس پر اسے ساہیوال جیل سے لا کر باقاعدہ گرفتار کرکے شامل تفتیش کرلیا گیا۔
قارئین کرام 22 مارچ کو یوسف کذاب کے کرتوت بے نقاب کرنے سے قبل میں نے دو دن کی کوششوں کے بعد بمشکل یوسف کذاب سے وقت لیا اور انہیں کہا کہ کچھ لوگ آپ پر گستاخی رسالت کا الزام عائد کر رہے ہیں میں آپ کا مو¿قف حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ پہلے تو یوسف کذاب نے مو¿قف دینے سے انکار کر دیا اور میں نے کہا کہ آپ کا مو¿قف سامنے نہیں آئے گا تو خبر یکطرفہ چھپ جائے گی اور کل کو کوئی نقصان ہوا تو میں ذمہ دار نہیں ہوں گا جس پر یوسف کذاب نے فوری طور پر اپنے گھر واقع ڈیفنس بلوالیا۔ اس وقت تک اخبار میں یوسف کذاب کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں چھپا تھا۔ تاہم میری تحقیقات جاری تھیں اور روزانہ اپنے چیف ایڈیٹر کو اپ ڈیٹ کر رہا تھا جنہوں نے اس کیس کے لیے مجھے دیگر تمام ذمہ داریوں سے آزاد کر دیا تھا۔ 21مارچ بروز جمعہ یوسف کذاب سے ملاقات کے دوران وہ اپنے منہ پر دو انگلیاں رکھ کر مسلسل میرے اوپر غیر محسوس انداز میں پھونکیں بھی مارتا رہا۔ میں سخت کنفیوژن میں باہر نکلا تو میرا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا، پھر سہیل سے جھگڑا اور گالم گلوچ بھی ہوئی تھی۔ مجھے زندگی میں اتنا شدید سردرد کبھی نہیں ہوا، گاڑی مجھ سے چل نہیں رہی تھی تو میں نے یوسف کذاب کے گھر کے قریب ایک دکان پر گاڑی روکی اور مشروب منگوایا پھر بلند آواز میں درود ابراہیمی پڑھنا شروع کیا اور ابھی صرف 11مرتبہ ہی درود شریف کا ورد کیا تھا کہ میرا سر درد مکمل طور پر ختم ہوگیا۔
مجھے اس ملعون کے متاثرین نے کہا تھا کہ وہ حروف مقطعات کو الٹا کر پڑھ کر کوئی عمل کرتا ہے۔ جب توہین رسالت کے الزام میں سیشن جج لاہور کی عدالت میں میری گواہی ہوئی تو میں نے یہی بیان سیشن جج لاہور میاں جہانگیر پرویز کے روبرو دیا کہ یوسف کذاب نے میرے سامنے اقرار نہیں کیا کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے البتہ اس نے مجھے یہ بتایا ہے کہ اسے یعنی یوسف کذاب کو خلافت عظمیٰ عطا کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی شان ملاحظہ ہو کہ یوسف کذاب نے اپنے 16 روز پر مشتمل بیان میں روبرو سیشن جج یہ تسلیم کیا کہ اسے خلافت عظمیٰ عطا ہوئی ہے البتہ وہ نبوت کے دعوے سے انکاری رہا مگر عدالت کے روبرو سات مستند گواہوں نے اپنے الگ الگ بیانوں میں برحلف کہا کہ یوسف کذاب نے نبوت کا دعویٰ ان کے سامنے کیا ہے۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo