زرعی ترقی‘ فوڈ سکیورٹی کی ضامن

[ad_1]

چوہدری ریاض مسعود
یہ حقیقت سب کے علم میں ہے کہ پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر دارو مدار زراعت پر ہے کیونکہ مجموعی قومی پیداوار میں اس شعبے کا حصہ تقریباً 25 فیصد سے زائد ہی رہا ہے اور ہماری کل برآمدات کا 70 فیصد سے زائد حصہ براہ راست یا بالواسطہ زرعی شعبے کا ہی مرہون منت ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہماری لیبر فورس کا 45 فیصد حصہ بھی شعبہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ہمارے کسان کی دن رات کی محنت کی وجہ سے ہماری فوڈ سکیورٹی ہمیشہ ہی مضبوط رہی ہے جس کی وجہ سے کرونا وائرس کے بحران میں بھی غذائی قلت کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ زرعی شعبے کی اس قدر اہمیت کے باوجود بجٹ 2021-20ءمیں زراعت میں ریلیف دینے اور ٹڈی دل کی روک تھام کیلئے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں اس سے ہمارے کسان اور زراعت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
تحریک انصاف کے 2018ءکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عمران خان نے اپنے پہلے پالیسی بیان میں زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اقتدار میںآنے کے بعد سب کچھ بھول گئے۔ آپ مالی سال2020-19ءاور اب 2021-20ءکے بجٹ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو زراعت اور کسان کیلئے زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ تمام بجٹ صنعت‘تجارت‘درآمدات وبرآمدات اور سرمایہ کاری کے گرد گھومتا نظر آئے گا۔ تمام پالیسیاں‘ مراعات‘ سہولتیں اور ریلیف صنعتکاروں تاجروں اور سرمایہ کاروں کے مفاد میں ہی مرتب کی گئی ہیں جبکہ کسانوں کی قسمت میں صرف وعدے وعید‘ لارے لپے اور سبز باغ۔ زراعت سے حکومت کی مبینہ بے اعتنائی اور غفلت کی وجہ سے اس وقت ہماری زراعت مسائل کا گڑھ بن چکی ہے۔ ہمارے محنتی کسان کی درد بھری صدائیں اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔ روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد اور ایڈیٹر جناب امتنان شاہد کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ کسانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے آواز بلند کی اور اپنے اخبار اور ٹی وی چینل۵ میں زراعت اور کسانوں کی مشکلات ومسائل کو پیش کیا۔ صنعت کاروں تاجروں اور سرمایہ کار طبقے کی تو ہر کوئی آواز بن جاتا ہے لیکن ملک کی 60 فیصد سے زائد دیہی آبادی اور چھوٹے کاشتکاروں کی ترجمانی کرنا صرف خبریںگروپ کا ہی طرہ امتیاز ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت ہمارا کسان مسائل کی چکی میں پس رہا ہے زراعت پر ٹیکسوں کی وجہ سے اس کی پیداواری لاگت بڑھ چکی ہے۔ بیج‘کھاد‘ زرعی ادویات‘ زرعی آلات‘ ڈیزل اور بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے وہ مالی مشکلات کا شکار ہوچکا ہے۔ ایک بات نہایت افسوسناک ہے کہ ہمارے صنعت وتجارت کے ایوان اور اقتصادی ماہرین شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں زراعت پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ ان کا یہ تاثر درست نہیں ہے کیونکہ ہمارا کاشت کار تو ”15“ سے زائد مختلف اقسام کے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ حالیہ بجٹ میں بھی زراعت پر فی ایکڑ ٹیکس دوگنا کر دیا گیا ہے۔ آپ حیران ہوں گے کہ کاشت کار کی ساری زندگی پٹواری تھانیدار اور محکمہ مال کے افسران کی جی حضوری کرتے گزرتی ہے۔ یہ بےچارا تو اپنی زرعی پیداوار کو اپنی مرضی سے بھی فروخت نہیں کرسکتا۔ آپ گندم کی حالیہ خریداری مہم کو ہی لے لیں اس میں حکومت نے اپنے مقرر کردہ ہدف کو پورا کرنے کیلئے کاشت کاروں سے جس طرح گندم حاصل کی ہے کیا زراعت پر ٹیکس کا شور مچانے والے صنعت کار اور تاجر اس بات کا تصور کرسکتے ہیں؟اوپن مارکیٹ میں گندم کا نرخ 1700 سے1800 روپے فی چالیس کلوگرام ہو اور آپ کو زبردستی1300 سے 1400 روپے گندم بیچنے پر مجبور کیا جا رہا ہو۔ صنعت کار اور تاجر جب چاہے اپنی اشیاءکی قیمت بڑھا سکتا ہے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ ان کی بڑی بڑی تنظیمیں اور ایوان میں حکومت اور میڈیا میں ان کی سنی اور مانی جاتی ہے۔
حکومت کو انڈر پریشر لانے کیلئے وہ ہڑتال سمیت ہر حربہ استعمال کرسکتا ہے لیکن بیچارا کسان محدود وسائل کی بنا پر کچھ بھی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وفاقی حکومت18 ویں ترامیم کی آڑ میں زراعت سے جان چھڑا رہی ہے جبکہ صنعتکاروں اور تاجروں کیلئے بڑے بڑے ریلیف پیکیج اور پلان دے رہی ہے۔ کرونا وائرس کے اس حالیہ بحران کے دوران بھی وفاقی حکومت کی تمام تر مراعاتی سہولتیں زراعت کے سوا دیگر شعبوں کیلئے مختص رہی ہیں۔ موجودہ حکومت کا وفاقی بجٹ یا اس کی صوبائی حکومتوں کے بجٹ‘ سب میں زرعی شعبہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے وہ ساری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔سندھ کی حکومت نے واضح انداز میں شعبہ زراعت کیلئے گزشتہ سال کی مختص شدہ رقم میں40 فیصد کا ریکارڈ اضافہ کرکے مثال قائم کی ہے جہاں تک پنجاب بجٹ کا تعلق اس میں بھی زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں کیلئے برائے نام رقوم مختص کی گئی ہیں مثلاً ماہی پروری‘ جنگلات اور جنگلی حیات کیلئے فنڈز میں گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ دوسری طرف ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے کوئی خاص پالیسی مرتب نہیں کی گئی مثلاً چولستان سے ٹڈی دل کے خاتمے کیلئے محض5 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
زراعت سے حکومت کی عدم دلچسپی اور بے توجہی کی وجہ سے ہماری زرعی پیداوار میں بھی مسلسل کمی ہورہی ہے۔ ہماری زرعی شعبے کی شرح نمو ہمیشہ سے4 سے 5 فیصد کے لگ بھگ رہی ہے لیکن موجودہ حکومت کے دور میں مزید کم ہوکر2 سے3 فیصد تک کمی آچکی ہے۔ اگر حکومت نے زرعی شعبے کے مسائل حل کرنے‘ کاشتکاروں کو ریلیف دینے اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے فوری عملی اقدامات نہ کئے تو ہماری غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بیج‘ کھاد‘ زرعی ادویات‘ زرعی آلات‘ ڈیزل‘ بجلی اور زرعی ٹیکس میں کم ازکم 30 سے35 فیصد کی فوری کمی کرے اور زرعی مداخل پر عائد کردہ سیلز ٹیکس کو فوری ختم کرے۔ کاشت کاروں کو اپنی زرعی اجناس اوپن مارکیٹ میں آزادانہ طور پرفروخت کرنے کی اجازت دے اور گندم کی زبردستی خریداری کے نظام کو ختم کرے‘ کاشت کاروں کو شوگر مافیا کی چیرہ دستیوں سے بچانے کیلئے مربوط لائحہ عمل تیار کرے۔ اس وقت زرعی تحقیق کے میدان میں ہم دنیا کے دیگر ممالک سے کہیں پیچھے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فصلوں‘ سبزیوں‘ پھلوں اور پھولوں کے ایسے نئے بیج تیار کروائے جو نہ صرف زیادہ پیداوار دیں بلکہ بیماریوں کیخلاف زبردست قوت مدافعت رکھتے ہوں۔ ضلع وہاڑی کی تحصیل میلسی کے ترقی پسند کاشتکار طاہر خان یوسف زئی نے کپاس کے زیرکاشت رقبے میں ہونیوالی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کپاس کے ایریا میں کماد کی بڑھتی ہوئی کاشت کا فوری نوٹس لے۔ کپاس کے زیادہ پیداوار دینے والے بیج کی تیاری کیلئے منصوبے کا آغاز کرے۔ کاشت کاروں کو زرعی قرضے بلا سود فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں کپاس باہر سے درآمد کرنی پڑ رہی ہے اگر حکومت کاشت کار کو مالی اور دیگر مراعات دے دے تو وہ کپاس کی پیداوار بڑھاکر ملک کا قیمتی زرمبادلہ بچاسکتے ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ کسی بھی حکومت نے ملک کے زیرکاشت رقبے کو بڑھانے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ 2000ءسے لیکر اب تک ہمارا زیرکاشت رقبہ22.50 ملین ہیکٹر کے لگ بھگ ہی رہا ہے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس وقت ہمارا 8.25 ملین ہیکٹر قابل کاشت رقبہ بیکار پڑا ہے جبکہ 6.75 ملین ہیکٹر رواں افتادہ اراضی بھی ہے۔ اگر دونوں اراضی کوجمع کیا جائے تو کل 15 ملین ہیکٹر رقبہ بنتا ہے۔ اگر ہم اس بڑے رقبے کے صرف نصف حصے پر فصلیں کاشت کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو ہماری موجودہ زرعی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے اور ہمارا زرعی انقلاب اور زرعی خود کفالت کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے لیکن اس مقصد کے حصول کیلئے خالی خولی نعروں اور وعدوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ یہ بات یاد رکھیں کہ ہمیں اپنی معیشت کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کیلئے قومی اور صوبائی بجٹ میں زراعت کیلئے مختص شدہ فنڈز میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہوگا۔ زراعت کیلئے پانی کی بے حد اہمیت ہے ہمیں اپنے پانی کی وسائل میں اضافہ کرنا ہوگا یا پھر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی طرح کے کئی نئے ڈیم بنانے ہوں گے۔ بارانی علاقے میں جگہ جگہ آبی ذخائر بنانے چاہئیں۔ نہروں اور کھالوں کی صفائی باقاعدگی سے کروانی چاہیے۔ دیہی علاقوں میں زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے خاص طور پر تعلیم‘ صحت‘ پینے کا صاف پانی‘ نکاسی آب‘ رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے جائیں‘ دیہی علاقوں میں بیروزگاری کے خاتمے کیلئے زراعت پر مبنی صنعتیں لگائی جائیں تاکہ آبادی کے شہری علاقوں کی طرف نقل مکانی کا سلسلہ رک سکے۔
زرعی پیداوار کو بڑھانے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت زرخیز زرعی زمینوں پر رہائشی سکیموں کی یلغار کو فوری طور پر روکے وگرنہ یہ رہائشی سکیمیں‘ ٹڈی دل کی طرح زرعی رقبے کو چٹ کر جائیں گے جس سے ہماری فوڈ سکیورٹی بھی یقینا متاثر ہوگی۔ حکومت صنعتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں کو بھلے جتنی بھی مراعت دے لیکن زراعت اور کاشت کار کا ترجیحی بنیادوں پر خیال رکھے اور یاد رکھے کہ ہماری ترقی اور خوشحالی کاہر راستہ زراعت سے ہوکر ہی گزرتا ہے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo