خوف ‘ گھبراہٹ اور وزیراعظم کی تلقین

[ad_1]

عظیم نذیر
خوف (Fear) اور گھبراہٹ یا اضطراب (Anxicty) دونوں مختلف ہیں‘ لیکن عام طور پر دونوں کا ایک ہی مطلب لیا جاتا ہے۔ اگرچہ دونوں کی علامات ملتی جلتی ہیں لیکن سیاق و سباق اور پس منظر کے فرق کی وجہ سے ان کے بیانات میں فرق آ جاتا ہے کیونکہ خوف کسی جانی پہچانی یا سمجھ میں آنے والی چیز کا ہوتا ہے جبکہ گھبراہٹ یا اضطراب کسی ان جانی‘ متوقع یا مشکل سے سمجھ میں آنے والی چیز سے متعلق ہوتی ہے‘ لیکن ایسی صورتحال میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ خوف ہو یا گھبراہٹ دونوں کا ردعمل ایک ہی طرح کا دباﺅ (Stress) ہوتا ہے۔ خوف کی علامات میں جسم میں کھنچاﺅ‘ دل کی دھڑکن کا تیز ہو جانا‘ سانس لینے میں دشواری وغیرہ شامل ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں کوئی بھی خوف سے متاثرہ شخص لڑو یا بھاگ جاﺅ(Fight or Flight) جیسے دباﺅ کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ اس وقت لڑنا یا بھاگ جانا انسانی بقاءکیلئے ضروری ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف گھبراہٹ میں خیالات کا منتشر ہو جانا‘ ناخوشگواریت‘ غیرواضح چیزوں کا خدشہ‘ نامعلوم اشیاءکا ڈر اور ہر وقت کچھ غلط ہو جانے یا کسی نقصان کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ گھبراہٹ میں جسمانی علامات خوف کی علامات سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں جیسے سردرد‘ عضلات میں درد یا کھنچاﺅ‘ نیند کی خرابی‘ جسم‘ سر‘ گردن‘ جبڑے یا چہرے پر تناﺅ‘ سینے میں درد‘ کانوں میں گونج‘ بہت زیادہ پسینہ آنا‘ کپکپی چھڑ جانا‘ ٹھنڈ یا گرمی کا شدید احساس‘ دل کی غیرمتوازن دھڑکن ‘ بے حسی محسوس کرنا‘ معدے کی خرابی یا متلی‘ پاگل پن کی کیفیت اور چکر آنا شامل ہیں۔ بیک اینڈ ایمری نے 2005ءمیں اپنی ریسرچ سے ثابت کیا کہ خوف کسی خطرناک چیز کا عقلی جائزہ ہے جبکہ گھبراہٹ کسی خدشے کا جذباتی ردعمل ہوتا ہے۔
آج کل گھبرانا اور ڈرنا دو لفظ بہت تسلسل کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔ ”کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے“ اور وزیراعظم عمران خان کا پسندیدہ جملہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے‘ انتہائی مقبول ہوچکا ہے اور ہر کسی کی زبان پر ہے۔ وزیراعظم اپنا ہر خطاب اسی جملے سے شروع کرتے ہیں۔ میرے پاکستانیو آپ نے گھبرانا نہیں کیونکہ بڑا مشکل وقت آ رہا ہے۔ وزیراعظم کی بات کا عوام نے اتنا زیادہ اثر لیا ہے کہ انہوں نے گھبرانا تو چھوڑ دیا ہے۔ یہی بڑے لیڈر کی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے کہے ہوئے لفظوں پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ عوام نے ان کی مسلسل تلقین کا اتنا اثر لیا ہے کہ اب کوئی بھی گھبرانے سے نہیں ڈرتا۔ میرے بہادر پاکستانی سیوریج ملا پانی پیتے ہوئے بھی نہیں گھبراتے‘ ہسپتالوں کی صورتحال دیکھ کر بھی نہیں گھبراتے‘ علاج نہ ہونے پر بھی نہیں گھبراتے‘ ہسپتالوں کی صورتحال دیکھ کر بھی نہیں گھبراتے‘ ایک کیس میں عدالتوں کے بائیس بائیس سال چکر لگاتے بھی نہیں گھبراتے‘ آٹا دن بدن مہنگا ہونے سے بھی نہیں گھبراتے‘ سبزیوں اور دالوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچنے سے بھی نہیں گھبراتے‘ جعلی دودھ استعمال کرتے ہوئے بھی نہیں گھبراتے‘ پٹرول سستا ہوا تو ملنا بند ہو گیا لیکن لوگ بالکل نہ گھبرائے‘ اشرافیہ اس ملک کی دولت لوٹ کر باہر لے گئے رقم واپس لانے کا وعدہ پورا نہ ہونے سے بھی نہیں گھبراتے‘ لوگ ہر روز لوٹ مار کی داستانیں سن کر بھی نہیں گھبراتے‘ وہ اس وقت بھی نہ گھبرائے جب یہ داستانیں محض داستان گوئی ثابت ہوئیں‘ عوام سرکاری ہسپتالوں میں جائیں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جائیدادیں گنوا کر بھی نہیں گھبرائے۔ لوگ کرونا میں لگنے والا 60 ہزار کا ٹیکہ 8 لاکھ کا لے کر بھی نہ گھبرائے۔ پلازمہ کی ایک بوتل 8 لاکھ میں بیچنے والے گھبرائے نہ خریدنے والے گھبرائے‘ ڈاکٹر مشکل ترین حالات میں مریضوں کی کھال اتارنے سے بھی نہ گھبرائے اور یہ سب کچھ ان کے پسندیدہ لیڈر کے سمجھانے کے باعث ممکن ہو سکا۔ ایک دفعہ سیلاب آ گیا گاﺅں کے لوگ اپنا سامان اٹھا کر بھاگ رہے تھے اپنے جانور محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے تھے گاﺅں کا سب سے غریب آدمی صرف تہبند باندھے ایک اونچی جگہ پر بیٹھ کر ہیر گا رہا تھا اور مزے سے حقہ پی رہا تھا۔ گاﺅں کے لوگوں نے کہا کہ سیلاب آ رہا ہے تم نہیں بھاگتے‘ بولا آج ہی تو اپنی غربت کا مزہ آیا ہے میرے پاس کیا ہے جو میں گھبرا کر بھاگ جاﺅں۔ گھبراتے تو وہ ہیں جن کے پاس کچھ ہو۔ گھبراہٹ اس وقت ہوتی ہے جب بندے کو امید ٹوٹتی نظر آتی ہو‘ ناکامی سامنے نظر آ رہی ہو‘ کوئی آپ کی بات پر یقین نہ کر رہا ہو۔ کچھ سمجھ نہ لگ رہی ہو‘ انسان رویوں سے بھی گھبرا جاتا ہے۔ بیروزگاری کا سوچ کر گھبرا جاتا ہے‘ گندگی سے گھبرا جاتا ہے‘ لوڈشیڈنگ سے گھبرا جاتا ہے اسی طرح کی مزید کئی چیزیں ہیں جو انسان کو گھبراہٹ میں ڈال دیتی ہیں‘ لیکن گھبراہٹ ان دیکھی اشیاءاور خدشات پیدا کرتا ہے۔ جب سب کچھ واضح ہو گیا‘ سب کچھ لٹا دیا‘ کوئی امید‘ کوئی خدشہ باقی نہ رہا تو تمام گھبراہٹیں خوف میں تبدیل ہوگئیں‘ اضطراب ختم ہو گیا‘ خوف شروع ہو گیا جس میں مقابلہ ہوتا ہے یا فرار۔ حقیقت یہی ہے کہ مقابلہ لاکھوں میں سے کوئی ایک کرتا ہے باقی سب فرار کو ہی غنیمت سمجھتے ہیں۔ گھبراہٹ اب صرف اشرافیہ کو ہے کیونکہ انہیں اپنی مکروہ حرکتوں پر ہر وقت پکڑے جانے کا خدشہ ہوتا ہے‘ اشرافیہ اور سرمایہ دار اپنے سارے کام کاج کی بنیاد ہی عوام کے خوف پر رکھتے ہیں جس میں ان کے چھوٹے مقابلہ دار فرار ہو جاتے ہیں اور جو چند مقابلہ کرنے کیلئے بچتے ہیں وہ بک جاتے ہیں۔ گھبراہٹ سے خوف تک کے تیز رفتار سفر میں کرونا نے کلیدی کردار ادا کیا اور سرمایہ دار کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا۔ غریب جب موت اور بھوک کے خوف میں مبتلا ہوئے تو سرمایہ دار نے ان کی مجبوریوں کا کھل کر فائدہ اٹھایا اور اپنی تجوریاں بھر لیں۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے یہ باور کرایا کہ ریلیف پیکیج عوام کیلئے ہیں لیکن یہ کھربوں روپے مختلف شکلوں میں سرمایہ داروں پر ہی لٹا دیئے گئے‘ لیکن سرمایہ دار پھر بھی گھبرایا ہوا ہے کہ اسے حصہ کم ملا ہے‘ کہیں یہ وبا ختم نہ ہو جائے اور وہ اگلی قسط میں زیادہ حصہ وصول نہ کر سکے۔ محنت کش چند قطرے حاصل کر کے خوفزدہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ کروڑوں دیہاڑی دار مزدوروں سے کسی نے پوچھا تک نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں جبکہ ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ چکی ہے اور مزدور سرمایہ دار کے چہرے سے بھی خوف کھا رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سرمایہ دار کسی بھی وقت اس کی شاہ رگ دبا دے گا۔
جناب وزیراعظم عوام کو گھبرانے دیں کیونکہ گھبراہٹ کی اگلی سٹیج خوف ہے‘ ایک گھبرایا انسان خوفزدہ انسان سے اس لیے بہتر ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار نہیں ہوتا جبکہ خوفزدہ شخص اپنی ذمہ داریوں اور دنیا سے فرار چاہتا ہے یا پھر وہ پلٹ کر حملہ کر دیتا ہے یا پھر باقاعدہ مقابلے پر اتر آتا ہے۔ لوگوں کو گھبراہٹ میں ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے دیں اگر خوفزدہ لوگ ذہنی طور پر فرار ہو گئے تو ملک کا بڑا نقصان ہوگا اور اگر خوف سے مغلوب ہو کر لوگ سڑکوں پر نکل آئے تو ”ساری ٹریفک“ رک جائے گی۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo