مفتی جمیل: شہیدِسالمیتِ پاکستان | Khabrain Group Pakistan

[ad_1]

حافظ شفیق الرحمن
کیلنڈر کے افق پر9 اکتوبر2004ءکا ہندسہ طلوع ہوا توبیرونی قوتوں کے پروردہ اور پلانٹڈ دہشتگردوں نے کراچی کے ایک جید عالم دین، ماہر تعلیم، رد قادیانیت کے مورچے کے عظیم سپاہی، اسلامیت اور پاکستانیت کے فقیدالمثال مبلغ اور بے لوث سماجی خدمتگار مفتی جمیل کی زندگی کی ڈور دن دہاڑے اندھا دھند گولیوں کی شمری دھار سے کاٹ کر رکھدی۔ شہر قائد ایک بار پھر لہو لہو ہوا، مزارِ قائد میں روحِ قائدمزید ایک بار تڑپنے اور سسکنے پر مجبور ہوئی۔ بابائے قوم کی روح اپنے شہر کے وقار و افتخار کی امین شخصیات کوخون کی بارش میں نہاتے دیکھ کر فریاد کناں تھی کہ میرے اس شہر کے در و دیوار کب تک حکیم محمد سعید، صلاح الدین ، یوسف لدھیانوی ، مفتی نظام الدین شامزئی اور مفتی جمیل ایسے محسنین ملت کے خون سے گلنار ہوتے رہیں گے۔ اس روز کراچی میں ایک بار پھر علم و عمل کے ایک غروب نا آشنا سورج کے سفینے کو دہشت گردی کی سیاہ جھیل میں غرقاب کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ مفتی جمیل کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں تھا۔ یہ ایک عہد، ایک دبستان، ایک ادارے، ایک تہذیب اور ایک درخشندہ روایت کا قتل تھا۔عام پاکستانی کے ہونٹوں پر یہ سوال دہک رہا تھا کہ آخر وطنِ عزیز کی سلامتی اور استحکام کو اپنی شہ رگ سے بھی عزیز رکھنے والی عزیز ترین ہستیوں کے وجود کب تک نقاب پوش دہشت گردوں کی گولیوں سے چھلنی ہوتے رہیں گے؟ آخر ذمہ داران ان مکروہ چہروں سے کب نقاب الٹیں گے۔ قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق 9 اکتوبر2004ءکی شام ممتاز محقق،دینی سکالر، شہرہ آفاق ماہر تعلیم، بے نفس سماجی خدمتگار ، نامور صحافی، صاحب طرز ادیب، خوش اسلوب خطیب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم مفتی محمد جمیل خان کو نامعلوم موٹرسائیکل سواردہشت گردوں نے نمازِ مغرب کے بعد گھر کے قریب فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ ان کے ہمراہ مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا نذیر احمد تونسوی بھی تھے جو موقع پر ہی جاں بحق ہو کر جام شہادت نوش کر گئے۔
مفتی جمیلؒ ایک بلند پایہ علمی اور عظیم فکری شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی تھے۔ وہ مسلکی انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے شدید مخالف اور جارح نقاد تھے۔ وہ عنفوانِ شباب ہی سے تحفظ ناموسِ رسالت کو اپنی حیات ِ مستعار کا نصب العین بنائے ہوئے تھے۔ وہ زندگی بھر جھوٹے مدعیانِ نبوت کا محاسبہ اور محاکمہ کرتے رہے۔ ختم نبوت کی فصیل پر نقب لگانے والے سامراج کے پروردہ نقب زنوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کو وہ اپنی شگفتہ و شاداب تحریر و تقریر کے ذریعے بے نقاب کرتے رہے۔ وہ اتحاد بین المسلمین کے کس حد تک بڑے مناد اور داعی تھے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی شہادت پر تمام مسالک و مذاہب کے ممتاز علماءو زعماءملول و افسردہ اور دل گرفتہ دکھائی دئیے۔ وہ امت مسلمہ کو جسد واحد تصور کرتے تھے۔ شہادت سے چند گھنٹے قبل اپنے آخری بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ”فرقہ واریت امتِ مسلمہ کےلئے زہر قاتل ہے، ملک میں امن اور بھائی چارے کے فروغ اور آشتی پر مشتمل تعلیمات کو عام کرنے کے ضرورت ہے“ ۔زندگی بھر ان کا نقطہ¿ نظر یہی رہا کہ” اسلام دشمن قوتیں ملکی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کےلئے کوشاں ہیں، اسلام سے محبت کرنے والے اس کے تمام پیروکاروں کو چاہیے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں اپنے اختلافات کو بھلاکر اسلام اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف متحد و یکجان ہو جائیں“۔ وہ شخص جس نے دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بننے سے چند گھنٹے قبل پرنٹ میڈیا کےلئے جاری کردہ اپنے بیان میں دہشت گردی کے واقعات میں معصوم جانوں کی ہلاکت کو قابلِ افسوس قرار دیا ہو، چند ثانیوں کے بعد اس کا از خود نامعلوم دہشت گردوں کی واردات کا نشانہ بن جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ وطنِ عزیز میں مفتی جمیلؒ ایسی بڑی شخصیات کا قتل عام کرنے والے عناصر اور گروہ کن اسلام دشمن قوتوں کے آلہ¿ کار ہیں۔ایک عالِم کی موت اگر ایک عالَم کی موت ہوتی ہے تو ایک عالِم کا قتل بھی ایک عالَم کا قتل ہوتا ہے۔ دہشت گردوں کامفتی جمیلؒ پر حملہ صر ف ایک فرد اور شخصیت پر حملہ نہیں تھا،ان کا یہ حملہ اتحاد بین المسلمین،سماجی خدمت، انسانی بہبود، فروغِ تعلیم، ادب ، صحافت ، تفقہ فی الدین اور تحقیق کے محاذ پر فرقہ واریت، بے حسی، جہالت، جمود اور لادینیت کے خلاف سینہ سپر ہونے والی تمام قوتوں پر تھا۔
مفتی جمیل احمدؒ 20برس تک برمنگھم برطانیہ میں انٹر نیشنل ختم نبوت کانفرنس کے روح رواں رہے۔ ان کے دعوتی مشن سے متاثر ہو کر امریکا، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس، بھارت ، کینیڈا اور کئی دیگر ممالک میں سینکڑوں قادیانی ، قادیانیت سے تائب ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ 35برس تک برطانیہ میں مقیم قادیانی گروہ کے عدالتی مفرور سربراہ مرزا مسرور ان کی سرگرمیوں کو اپنے مشن کی راہ میں ایک سنگ گراں قرار دیتے رہے۔ مفتی جمیل کی شہادت کے واقعہ کا اس زوایہ سے بھی جائزہ لیا جائے۔ مفتی جمیل مرحوم کی شخصیت کا یہ پہلو انتہائی دلآویز ہے کہ وہ ایک بڑی دینی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ منفرد قسم کے ماہر تعلیم بھی تھے۔ فروغِ علم ان کی زندگی کا ایک بڑا مقصد تھا۔ ”اقراءروضة الاطفال اسکول سسٹم“ کے تحت ان کی سرپرستی میں 108سکول کام کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ تمام تعلیمی ادارے اپنی مدد آپ کے تحت قائم کئے ۔ ان تعلیمی اداروں میں ملک بھر کے طول و عرض میں ہزاروں طلباءدینی و دنیوی تعلیم کے زیور سے بیک وقت آراستہ ہو رہے ہیں۔ مزید برآں وہ ایک بڑے رفاہی اور سماجی خدمت گار بھی تھے اور انسانی بہبود کے شعبے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ سکردو، گلگت اور چترال ایسے پسماندہ علاقوں میں فروغِ تعلیم کےلئے انہوں نے کئی ادارے قائم کر رکھے تھے۔ انہوں نے بہ ظاہر کوئی این جی او نہ بنا رکھی تھی لیکن اس کے باوجود ان کی شخصی دیانت کا شہرہ کسی بھی طرح کسی بڑے سے بڑے امین سماجی خدمت گار سے کم نہ تھا۔ ان کے ایک اشارے پر کراچی کے متمول اور مخیر حضرات لاکھوں روپے ان کے قدموں میںلا کر ڈھیر کر دیتے ۔ اس کے باوجود وہ انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے۔ عام گاڑی میں سفر کرتے او ر ایک عام سے فلیٹ میں رہائش پذیر رہے۔ اُس دور کے باوردی صدر مملکت جنرل پرویز مشرف اورامپورٹڈ وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی مفتی جمیل اور مولانا نذیر احمد تونسوی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔وائے افسوس کہ یہ سب زبانی جمع خرچ، لپ سروس اور معمول کی بیان بازی تھی۔تاہم مفتی جمیل کی شہادت کے ڈیڑھ عشرہ بعدمختلف اربابِ حکومت سے سوال کیا جاسکتا ہے کہ” آخر وہ کونسے عناصر ہیں جو 1995ءسے 2015ءتک ہر سال محرم الحرام اور رمضان المبارک کی آمد سے قبل علماءکو شہید کرتے رہے؟ “۔
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo