بھارتی عارضے کا چینی علاج

[ad_1]

عارف بہار
چین بھارت کشیدگی کی موجودہ لہر کی ڈور کا ہر سرا پانچ اگست 2019ءسے جا ملتا ہے ۔پانچ اگست وہ دن ہے جب بھارت نے اکہتر برس کے قضیے پر آخری شب خوں مار کر اور آخری ہلہ بول کر کے اسے اپنے طور پر ہمیشہ کےلئے ختم کر دیا تھا مگریہ ایک فیصلہ بھارتی حکمرانوں کےلئے بلاﺅں کے صندوق کا ڈھکن کھلنے کے مترادف ہو کر رہ گیا ہے۔ یک طرفہ اور متنازعہ فیصلے کے بعد نریندر مودی پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے ”ہاوڈی مودی “ نام کے ہوا کے ایک گھوڑے پر سوار تھے اور وہ اس ہوا بھرے گھوڑے پر بیٹھ کر”ہاوڈی مودی “ کے جواب میںامریکہ سمیت دنیا کو بتارہے تھے”سب اچھا ہے “۔وقت بتا رہا ہے کہ انہیں جو اچھا دکھائی دے رہا تھا حقیقت میں نظر کا دھوکا اور سراب تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ بھارت اب ہر رکاوٹ کو روند کر اپنے متعین کردہ ہدف کی راہ پر چلتا چلا جائے گا ۔چین کے ایک تھنک ٹینک کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس پُراعتمادی کی دو وجوہات تھیں ۔اول یہ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابات میں محیر العقول کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس کامیابی نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ماﺅف کر ڈالا تھا ۔دوئم چین کے مقابلے کےلئے امریکہ اور بعض مغربی ملکوں کی طرف سے بھارت کی غیر ضروری ناز برداری جس کی وجہ سے وہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے صرف ِ نظر کرنے پر مجبور تھے۔یہ رپورٹ چین کے تھنک ٹینک چائنہ انسٹی ٹیوٹ آف کنٹمپریری انٹرنیشنل ریلیشنزمیں ساوتھ ایشین سٹڈیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر مسٹر وانگ شدا نے تیار کی تھی ۔جس میں پانچ اگست کے فیصلے کو چین اور پاکستان کی سلامتی کےلئے ایک چیلنج قرار دیا گیا تھا۔یہ رپورٹ نہ صرف چین کے مختلف اخبارات میں شائع ہوئی بلکہ اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے پریس اتاشی نے بھی اس کا اجرا کیا ۔جس سے یہ تاثر گہرا ہو اکہ پانچ اگست کے بھارتی فیصلے نے چین اور پاکستان کو مشترکہ چیلنج کے ایک نئے رشتے میں جوڑ دیا ہے ۔اس رپورٹ کی اسلام آباد سے اس انداز سے اجرائیگی اور تشہیر کو بھارتی میڈیا نے درست سیاق وسباق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ۔گویاکہ کشمیر میں بھارت نے صرف پاکستان کو ہی نہیں چین کو بھی للکارا تھا۔چین کی طرف سے بھارت کو جو پیغامات مسلسل دئیے گئے لداخ میں ہونے والی پیش قدمی ان میں سب اہم اور عملی تھا۔ اس سے پہلے چین نے ہر ممکن حد تک عالمی ایوانوں میں اپنی شکایات پیش کی تھیں مگر مغربی ملکوںبالخصوص امریکہ کی بھارت نوازی نے سلامتی کونسل میں اُٹھنے والی اس آواز کو صدا بصحرا بنا نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔جس کے بعد لداخ جیسا انتہائی قدم اُٹھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔یو ںلگتا ہے کہ چین کا پاﺅں بھارت کے کسی نازک مقام پر پڑگیا ہے ۔اب چین اور بھارت کے درمیان اس مسئلے کا حل پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے نکالا جارہا ہے اور کشمیر اس سفارت کاری کا حصہ ہے ۔
بھارت کی طاقت کے اظہار کے دیرینہ مرض کو لداخ میں ” چینی پھکی “ سے خاصا افاقہ ہورہا ہے۔ حقیقت میں بھارت کا علاج یہی تھا مگر پاکستان اپنے حجم اور آبادی کے باعث اس کی قدرت نہیں رکھتا تھا البتہ پاکستان نے ساٹھ کی دہائی میں ہی اکسائے چن پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے چین کے ساتھ ایک متوازن معاہدہ کرکے جو کارڈ کھیلا تھا وہ اب کام دکھا رہا ہے۔ اسی معاہدے کے باعث سرحدی معاملات پر دونوں ملکوں کے مفادات میں ٹکراﺅ محدود ہو تا چلا گیا اور اب خطے میں چین اور پاکستان کے مفادات قریب قریب ایک ہو کر رہ گئے ہیں۔چین بھارت کے معاملے میں اپنے طریقہ علاج پر کاربند ہے اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نے گھونسوں مکوں اور راڈوں سے بھارت کے بیس فوجیوں کو ہلاک کر دیا جن میں ایک کرنل بھی شامل ہے ۔چین کی طرف سے مسلسل زچ کئے جانے کے باجود بھارت گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہونے کی عملی تصویر بنا بیٹھا ہے ۔چین کے بارے میں کوثر وتسنیم میں دھلی ہوئی وہ زبان استعمال کی جارہی ہے صلح اور امن وہ باتیں کی جا رہی ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا کہ یہ واقعی شیر کی طرح دھاڑنے والا بھارت اور ا س کا میڈیا ہے۔بے لگام اور بے سمت طاقت کی یہی نفسیات ہوا کرتی ہے کہ وہ اپنے سے کمزور کو آگے لگائے رکھتی ہے اور اپنے سے طاقتور کے آگے لگی رہتی ہے ۔پنڈت چانکیہ کی کتاب ارتھ شاستر بھی اسی حکمت عملی کی تعلیم دیتی ہے۔چینی طریقہ علاج کے بعد صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارت ہوا کے گھوڑے سے زمین پر اُتر آیا ہے ۔کل تک بھارت آزادکشمیر اور گلگت پر قبضے کو دنوں اور مہینوں کا معاملہ قرار دے رہا تھا۔بھارت کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اگلے کسی بھی لمحے بھارتی فوج آزادکشمیر کی طرف پیش قدمی شروع کر دے گی ۔راجناتھ سنگھ کے حالیہ ایک بیان میں اس سارے موقف سے واضح اور نمایاں ”یوٹرن“ لیا گیا ہے ۔اب طاقت کے استعمال اور آزادکشمیر پر قبضے کی بجائے تعمیر وترقی کے ذریعے اور آزادکشمیر کے عوام کو رضاکارانہ طور پر بھارت کی طرف متوجہ کرنے کی بات کی گئی ہے ۔اس سارے افسانے میں آزادکشمیر کی بات تو کی گئی مگر گلگت بلتستان کا سرے کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا۔گلگت بلتستان کی سرحد براہ راست چین سے ملتی ہے۔راجناتھ سنگھ نے موسم کے احوال کو بھی آزادکشمیر پر قبضے کے جارحانہ انداز کی بجائے اب ہلکا پھلکا مزاحیہ رنگ دیا ہے یعنی یہ کہ بھارتی ٹی وی پر موسم کا احول دیکھ کر پاکستان اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوگا۔راجناتھ سنگھ کے اس طرز تخاطب ،بولی اور بدن بولی سے صاف اندازہ ہورہا ہے کہ چینی نسخے کا جادو چل گیا ہے اور بھارت اپنے مقابل چین جیسی بڑی طاقت دیکھ کر انانیت سے بھرپور جارحانہ رویے میںواضح تبدیلی لارہا ہے ۔ راجناتھ سنگھ کے خیالات سے نخوت اورتکبر کی بجائے شکست خوردگی اور درماندگی ٹپک رہی ہے ۔ خود بھارت کے اندر راجناتھ سنگھ کے اس انداز کو طنزیہ انداز میں ہدف تنقید بنایا جارہا ہے ۔ اس وقت چین اور بھارت جنگ کی دہلیز پرکھڑے ہیں۔ جنگ ہوتی ہے تو پھر اس کے عواقب اور نتائج کے بارے میں کچھ کہنا عبث ہے مگر اس بات کا امکان موجود ہے کہ یہ ہلکی سی مرمت جنگ کے امکان کو کم کردے اور اس بحر کی تہہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کا گوہر اچھل کر سامنے آئے۔
یہ بات اب بڑی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ چین اس مرحلے پر پانچ اگست کے اقدام کی واپسی چاہتا ہے بھارت اس مطالبے کی تکمیل کےلئے باعزت واپسی کے راستے پر اصر ار کر رہاہے ۔بھارت کو یہ فیس فیونگ اس کی عدلیہ فراہم کر سکتی ہے جس کے پاس پانچ اگست کے اقدام کو چیلنج کرنےوالی درخواستیں پڑی ہیں۔بھارت عدلیہ مودی کی حماقتوں کو ٹھیک کرسکتی ہے کہ وہ پانچ اگست سے بہت پہلے کی کوئی شکل وشباہت بحال کر نے کی بنیاد رکھ سکتی ہے ۔کشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ”سٹیٹ سبجیکٹ“ قانون کی بحالی فریقین کے درمیان نقطہ¿ اتصال بن سکتا ہے۔ ایک اطلاع تو یہ بھی ہے کہ چین صرف پانچ اگست کی پوزیشن کی بحالی ہی نہیں بلکہ1953کی پوزیشن کی بحالی پر اصرار کر رہا ہے جب جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت مسلمہ تھی اور بھارت نے بھی کشمیر کو صدر اور وزیر اعظم کے عہدے دے رکھے تھے۔بھارت نے اس حیثیت کو ختم کرنے کا آغاز ان عہدوں کے خاتمے کے ساتھ کر دیا تھا اس کے بعد ہی کشمیر کا مسئلہ بری طرح اُلجھنا شروع ہو گیا تھا ۔پاکستان آزادکشمیر میںکم وبیش اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں سے آغاز سفر ہوا تھا مگر بھارت نے اپنے مقبوضہ علاقے کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جنگ نہ ہونے کی صورت میںجوں جوں چین اور بھارت کے درمیان ڈپلومیسی کی پرتیں کھلتی چلی جائیں گی تو بہت سے حقائق بھی کھل کر سامنے آتے جائیں گے۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo