”اہلِ یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو“

[ad_1]

اسرار ایوب
نفسیاتی ماہرین کی بین الاقوامی تنظیم نے پاکستان کو یونہی تو ” نفسیاتی پریشرکُکر“قرار نہیں دیا تھا۔ اکثر توجہ دلاتا رہتا ہوں کہ ہم ایک نفسیاتی بیماری (جسے سٹریس ڈِس آرڈر کہتے ہیں) کا شکار ہیں، یقین نہ آئے تو یہ ٹسٹ کر کے دیکھ لیںکہ اگر آپ کو کسی کے پاس کوئی کام ہو اور وہ آپ کو دودن بعد گیارہ بجے فون کرنے کا کہے، آپ فون کریں اور وہ فون نہ اٹھائے، تھوڑی دیر بعد آپ پھر فون کریں اور وہ پھر فون نہ اٹھائے، تو آپ کے ذہن میں پہلا خیال کیا آئے گا؟ یہ ٹسٹ میں نے اپنے سمیت مختلف طبقاتِ فکرکے درجنوں لوگوں پر کیا، سب کے سب نے یہی جواب دیا کہ ہم سمجھیں گے کہ وہ جان بوجھ کر ہمارا فون نہیں اٹھا رہا یعنی ”گولی کرا رہا ہے“؟ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کیوں نہیں سمجھا کہ ہوسکتا ہے وہ کسی میٹنگ میں ہویا گاڑی چلا رہا ہو، یا نماز پڑھ رہا ہو یا گھر کے کسی کام میں مصروف ہو وغیرہ وغیرہ ؟ اس لئے کہ ہم ”سٹریس ڈس آرڈر“ کا شکار ہیں اور اس بیماری میں پہلا خیال منفی ہی آتا ہے جس کا مشاہدہ ہمارے یہاں کہیں بھی بڑی آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ اب تو حال یہ ہے کہ کوئی سراسر ہمارے فائدے کی بات بھی کر رہا ہو تو ہم اُس پر شک کرتے ہیں۔ یہی نفسیاتی بیماری وہ بنیادی وجہ ہے جس نے دیگر معاملاتِ زندگی کی طرح کرونا کی صورتحال کو بھی سنگین سے سنگین ترکر دیا ۔
اس بیماری میں انسان” سٹیٹ آف کنفیوژن“میں رہتا ہے اور ”کانسپیریسی تھیوریز“پر یقین کرنے لگتا ہے، مثلاً یہ مضحکہ خیزتھیوری کہ پولیو ویکسین کے ذریعے یہود و نصاری مسلمانوں کے اندر بچے پیدا کرنے کی صلاحیت ختم یا محدودکرنا چاہتے ہیںجس کے حق میں اَن پڑھ تو اَن پڑھ ، تعلیم یافتہ لوگ بھی دلائل دیتے سنائی دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پولیو ویکسین ایجاد ہونے کے 70برس بعد بھی پاکستان پولیو سے پاک نہیں ہو سکا، ہمارے علاوہ دو ہی ملک اور ہیں (افغانستان اور نائجیریا) جہاں اس ہولناک وائرس کا علاج نہ کرانے کو جہاد سے تعبیر کرنے والے موجود ہیں ورنہ ساری دنیا اس بیماری سے محفوظ ہو چکی ہے۔
اسی ذہنیت کے تحت کرونا کو بھی سازش قرار دیا گیا اور یہاں تک مشہور ہو گیا کہ اس سازش میں ہماری اپنی حکومت بھی شامل ہے جس کی ہدایت پر ہسپتال میں جانے والے کرونا کے مریضوں کوچپکے سے زہر کا انجکشن لگا کر مار دیا جاتا ہے۔ کرونا ویکسین (جو ابھی آئی بھی نہیں)کے حوالے سے (اور تو اور) ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے صاحب نے بھی مجھ سے کہا کہ اس میں ”مائکرو چِپ“ شامل کر کے مسلمانوں کو لگائی جائے گی تاکہ ان کا تمام ڈیٹا حاصل کیا جا سکے، تو میں انتہائی پریشان کن حالات میں بھی مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے پوچھا کہ کم از کم اتنا تو سوچیے کہ مسلمانوں کے پاس آخر ایسا کونسا ڈیٹا ہے جو کافر چرانا چاہتے ہیں؟ وہ ناگوار لہجے میں بولے کہ ”گویا آپ کافروں کی طرفداری کر رہے ہیں“؟ میں نے کہا کہ ©”اس میں کافروں کی طرفداری کہاں سے آ گئی“؟ وہ غصے میںآتے ہوئے بولے کہ ”میں اچھی طرح سمجھ رہاہوں کہ آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہے“؟ اور میں نے خداحافظ کہنے میں ہی عافیت جانی کیونکہ زیرِ بحث بیماری میں انسان اس حد تک بھی جلد باز اور جذباتی ہو جاتا ہے کہ دوسرے کی بات سنے بغیر ہی سمجھ لیتا ہے اور اس پر حتمی رائے بھی قائم کر لیتا ہے جس سے اختلاف پر آپ کو غداراور کافر کہہ کر واجب القتل بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور آپ یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ
کیا سُن لیا کیا سُن کے وہ برہم ہوئے اسرار
میں نے تو ابھی بات کہی کوئی نہیں ہے
ہو کر بھی ملاقات ہوئی کوئی نہیں ہے
اپنی ہی کہی میری سُنی کوئی نہیں ہے
زیرِ بحث بیماری میںانسان اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی کھو دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں انفرادی سطح سے اجتماعی سطح تک کوئی بھی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ اس نے کبھی کچھ غلط کیا۔ یہ مثال دیکھیے کہ میری بیٹیوں کے سکول کی ایک ٹیچر”تربوز“کو” تربوزہ“کہتی ہیں، نشاندہی کی گئی تو ڈٹ گئیں، ڈکشنری دکھائی گئی، تو بولیں کہ ”یہ ڈکشنری ہے قرآن کے حروف تو نہیں جو غلط نہ ہو سکیں “؟ کہا گیا کہ تلفظ تو ڈکشنری سے ہی دیکھا جاتا ہے، تو ناراض ہوتے ہوئے بولیں کہ جو ” تربوز“کہتا ہے کہتا رہے لیکن ہوتا ”تربوزہ “ہی ہے۔ اُن کے پاس اختیار نہیں تھا ورنہ یقین مانیے کہ وہ ڈکشنری میں ترمیم کروا لیتیں جیسا ہم نے قومی سطح پر بار بار کیا کہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے تاریخ کی کتابیں تک بدل ڈالیں۔
ساری دنیا جانتی ہے کہ بعض گروہوں کے مذہبی اجتماعات، عید سے فوراً پہلے لاک ڈاﺅن کاخاتمہ، احتیاطی تدابیر کے بغیر بازاروں میں آنا جانا ، چھپ چھپ کر شادیوں کی تقاریب کرناوغیرہ وغیرہ ہماری وہ کوتاہیاں ہیں جن سے صورتحال اس قدر بگڑی کہ معاملات قابو سے باہر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ لیکن اب بھی معاملہ یوں ہے کہ میں راولاکوٹ آیا ہوا ہوں اور ماسک پہن کر واک کرتے ہوئے دیکھتا ہوں کہ فٹبال کھیلنے والے نوجوان مجھ پر ہنس رہے ہیں، میںنے سمجھانے کی کوشش کی تو بولے کہ ہم خدا کی بات ماننے والے ہیں، کافروںکی بات نہیں مان سکتے ۔ اور مجھے اپنے عظیم استاد سید ضمیر جعفری (مرحوم) کا یہ زبردست شعر یادآگیاکہ
میں بتاتا ہوں زوالِ اہلِ یورپ کا پلان
اہلِ یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کرو
ہماری سمجھ میں یہ سیدھی سی بات بھی نہیں آتی کہ جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ غلط راستے پر چل رہے ہیںصحیح راستے پر چلنے کا سوال ہی کیسے پیدا ہوگا؟ اور صحیح راستے پر نہ چلنے کا نقصان ہمارے سواکسے ہو سکتا ہے جیسا کہ مسلسل ہو رہا ہے؟ ہمارے معاشرے کو یونہی تو ”سائکالوجیکل پریشر کُکر“ نہیں کہا گیا۔
(کالم نگارسیاسی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

slot online gacor Situs IDN Poker Terpercaya slot hoki rtp slot gacor slot deposit pulsa
Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo