سب رنگ تماشا شکیل عادل زادہ داستان خاصی طُولانی …

[ad_1]

سب رنگ تماشا
شکیل عادل زادہ

داستان خاصی طُولانی ہے، نصف صدی سے اُوپر کا قصّہ۔ خلاصہ یہ کہ جنوری 1970ء میں سب رنگ کا اجرا ہوا تھا۔ اس وقت تین ڈائجسٹ بہت نمایاں تھے، سیّارہ، اُردو اور عالمی ڈائجسٹ۔ عالمی ڈائجسٹ سے علیحدہ ہو کے ہی اس عاجز نے سب رنگ کا بیڑا اُٹھایا تھا۔ قریبی احباب نے بڑی ردّ و قدح کی کہ تین مقبول ڈائجسٹوں کی موجودی میں تمھاری کام یابی ایک ایڈونچر ہی ہو گی۔ کسی چھوٹے موٹے کاروبار میں ناکامی ہو جائے تو ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ رسالہ کاری تو عوامی قسم کا معاملہ ہے۔ اس میں ناکامی کی شرمندگی تم عمر بھر نہ بُھلا سکو گے۔

قبلہ فیض صاحب کا قیام کراچی میں تھا۔ ان کی شفقت کے گداز کے لیے انور شعور کے ساتھ دولت کدے پر حاضری دی تو انھوں نے روایتی پذیرائی کا اظہار کیا، پھر جو دوسرے متعلقین سوال کیا کرتے تھے، وہی انھوں نے کیا، ’’اور سرمایہ؟‘‘ آتشیں عمر تھی۔ میں نے کہا: ’’باقی ساری چیزیں تو وافر ہیں۔‘‘ یہ سُن کے فیض صاحب مسکرائے، کہنے لگے۔ ’’پھر ٹھیک ہے۔ میرے لیے کوئی خدمت ہو تو قطعاً تکلّف نہ کرنا۔‘‘

سچ یہی تھا کہ مالی وسائل نا گفتہ بہ تھے۔ تھوڑی بہت جمع پُونجی جیب میں تھی۔ اتنی کہ بتاتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا۔ کچھ دوستوں نے ساتھ دیا۔ جیسے تیسے پانچ ہزار کی تعداد میں پہلا شُمارہ شائع ہوا۔ ساڑھے تین ہزار فروخت ہو گیا۔ دوسرے شمارے کی تعداد بھی یہی رکھی گئی۔ ڈیڑھ ہزار پھر واپس آ گیا۔ یہ صورتِ حال خاصی مایوس کُن تھی۔ تیسرے شمارے کی ترتیب، پیش کش کے انداز اور متن میں تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ قریباً سارا کچھ کہانیوں (فکشن) پر مرکوز کر دیا گیا۔ احتیاطاً تیسرا شمارہ بھی پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کیا گیا اور سارے کا سارا فروخت ہو گیا۔ دسمبر 1970ء کے بارھویں شمارے تک اشاعت بیس ہزار ہو گئی، دسمبر 1971ء میں بیالیس ہزار۔ پانچویں سال کے اختتام پر ایک لاکھ اور ہر ماہ بڑھتی ہی گئی، ڈیڑھ لاکھ سے اوپر پہنچی، ریکارڈ پر ریکارڈ، ایک کے بعد ایک۔ سُنا ہے دِلّی سے شائع ہونے والے فلمی رسالے ’’شمع‘‘ کی اشاعت لاکھ تک پہنچی تھی اور اس تعداد کی بڑی وجہ اس کا معمّا تھی۔

بارہا لوگ راز پوچھتے تھے، اس تاریخ ساز اشاعت کا راز۔ حالاں کہ جواب کون سا نہاں تھا۔ سب رنگ کا کاغذ وہی عام اخباری کاغذ تھا۔ دوسرے پرچوں کی طرح طباعت بھی عام مشینوں پر ہوتی تھی، سائز اور صفحات بھی عام ڈائجسٹ جیسے تھے۔ بہ قول شخصے ہیرے نہیں ٹنکے ہوئے تھے۔ بس ایک ہی بات ہو سکتی تھی، سب رنگ کا باطن، اس کا متن اور وہ جوش، اضطراب اور ولولہ جو ہر سطر سے جھلکتا تھا۔

میں عرض کروں۔ ان دنوں میری کوئی زندگی ہی نہیں رہی تھی، نہ صبح و شام کا کوئی امتیاز دوست عزیز و اقارب سب ثانوی۔ بس یہی دھن کہ جو بات بن چکی ہے، کسی طور، کسی حال بنی رہے۔ جو عِزّت حاصل ہوئی ہے، اس پر کوئی آنچ نہ آ جائے۔ اشاعت کثیر ہونے پر بہت سے مسائل خود کار طور پر حل ہوتے رہے۔ کشادہ دفتر، رُفقا کی بڑی تعداد، فسانہ کاروں، ترجمہ نگاروں اور ساتھ کام کرنے والوں کے معاوضوں میں اضافہ۔ کہانیوں کے خیال اور کردار مصور کرنے والے ممتاز فن کاروں کی وابستگی۔ برّصغیر کے گوشے گوشے میں کہانی لکھنے والے ادیبوں اور اوجھل ہوئی یادگار تحریروں کی تلاش اور نِت نئے تجربوں کے مواقع۔

پھر یہ ہوا، جو زندگی کے دوسرے شعبوں کا معمول ہے۔ سب رنگ کی فتح مندی سے متاثّر ہونا فطری واقعہ تھا۔ پے در پے بہت سے ڈائجسٹ طرز کے رسالے طلوع ہوئے۔ انھوں نے اپنی جانب سے کوئی کَسر نہ اُٹھا رکھی۔ صحیح تعداد کا علم نہیں، مختلف شہروں سے غالباً پچاس سے زیادہ رسالے شائع ہوئے ہوں گے۔ اکثر کچھ مدّت بعد بند ہو گئے۔ بعض نے بڑی کام یابیاں بھی حاصل کیں۔ ان میں خواتین کے لیے مخصوص ڈائجسٹ بھی تھے۔ سب رنگ، دوسروں سے الگ، ایک منفرد ڈائجسٹ تو تھا ہی مگر ایک کاروبار بھی تھا۔ جنونی قسم کے، مہم جویانہ رویے اعتبار تو قائم رکھے ہوئے تھے پر کاروبار کے اپنے تقاضے اور مطالبے ہوتے ہیں۔ یہ مثالیت یا آدرشیت پر اصرار، کاروبار کے لیے سود مند نہیں۔ کسی وقفے وار رسالے کا وقت پر شائع ہونا لازم ہے، چاہے معین وقفے میں جیسا بھی کچھ متن دست یاب ہو اور جیسا بھی معیار ہو۔ روزناموں کی طرح کہ جیسی بھی خبریں ہوں، اخبار وقت پر شائع ہوتا ہے۔ معیار قائم رکھنے کی ضِد میں سب رنگ تواتر قائم نہ رکھ سکا اور ہر طرح کی مساعی اور حجّت کے باوجود یہ عدم تواتری بڑھتی رہی۔ پھر یہی ٹھیرا، چاہے کچھ ہو جائے۔ کتنی ہی تاخیر اور خسارہ ہو، وہی سب رنگ شائع کیا جائے جو گزشتہ شماروں سے کسی طور کم نہ ہو۔

راقم السّطور نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ داستان بڑی طُولانی ہے۔ کیا کیا نہ کچھ ــــــ نہیں معلوم، بیرونی عوامل کا کتنا دخل ہوتا ہے اور خود دشت پیما کا کتنا۔ کچھ ایسا لگا کہ منزلیں سر کر لینے سے مُراد کشادگی و آسودگی، خوش باشی و خوش کامی ہی نہیں، آدمی بہت تنہا اور غیر محفوظ بھی ہو جاتا ہے ــــــ اور کچھ ایسا لگا کہ سامنے والے آدمی میں محبّت کی جتنی فراوانی و ارزانی ہے، مخاصمت و عداوت کی بھی اُسی قدر۔ لڑک پن سے ازبر رئیس امروہوی کا ایک شعر ذہن میں اکثر منڈلاتا تھا۔
آدمی گر بنا نہ لے محکوم
آدمی بادشاہ ہے پیارے

زیرِ نظر کتاب سب رنگ میں شائع ہونے والی غیر مُلکی کہانیوں کی پہلی جِلد ہے اور بھی جلدیں زیرِ ترتیب ہیں، سو احوالِ درون و زبوں کی گُل افشانی کے مواقع آتے رہیں گے۔ عام ایک شکوہ تھا کہ پُرانے شمارے آسانی سے نہیں ملتے اور فرمایش تھی، کیوں نہ سب رنگ کی تحریریں کتابی صورت میں شائع کر دی جائیں۔ طے یہ ہوا کہ پہلے مرحلے میں سمندر پار کی کہانیوں کو ترجیح دی جائے۔

اِن کہانیوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ کئی ذرائع سے ان کا حصول ممکن ہو پاتا تھا۔ اولاً، اِدھر اُدھر، ملک بھر سے یا سب رنگ کے چند خاص ترجمہ نگاروں کے ذریعے۔ دوسرے، عالمی افسانوی اَدب پر گہری نظر رکھنے والے احباب اور قارئین کے توسّط سے۔ ہماری درخواست پر یہ صاحبان اپنی پسندیدہ غیر مُلکی کہانیوں کی نشان دہی میں ہماری معاونت کرتے تھے۔ تیسرے، کہانیوں کی تلاش کے لیے باقاعدہ مقرّر و مامور رفیقوں کی کاوشوں سے۔ اِن حضرات کا کام اُردو میں شائع ہونے والی مُلکی و غیر مُلکی کہانیوں کے بُھولے بَسرے مجموعے اور رسالے کھنگالتے رہنا تھا ــــــ اور یہ سراغ رساں یا کھوجی ناکام نہیں ہوتے تھے۔

چوتھا ذریعہ خاصے مقابلے کا اور بڑا دِل چَسپ تھا۔ بیرونِ مُلک مقیم سب رنگ کے شیدائی یورپ اور امریکا سے چھپنے والی کہانیوں کے تازہ ترین مجموعوں اور رسالوں کی تاک میں رہتے تھے۔ اُن کی کوشش ہوتی تھی کہ اِدھر کوئی نئی کتاب یا رسالہ بازار میں وارد ہو، اُدھر دیگر ڈائجسٹوں کے ہاتھ لگنے سے پہلے سب رنگ کو رسا ہو جائے۔ اس آخری ذریعے سے بھی نادر کہانیاں مِل جایا کرتی تھیں۔

بات یہیں پر تمام نہیں ہو جاتی۔ کسی بھی وسیلے یا ذریعے سے فراہم ہونے والی کہانیاں سب رنگ سے متعلق ہر عُمر اور سطح کے کارکنوں اور فکشن کے طلب دار دوستوں کو پڑھوائی جاتی تھیں کہ وہ اپنی رائے سے آگاہ کریں ــــــ اور خیال رہے، رائے لفظوں میں نہیں، اعداد میں دی جائے۔ کہانی کے سو نمبروں میں ان کی پسندیدگی کس درجے پر ہے، ساٹھ ستر، چالیس پچاس یا بیس تیس فی صد یا صفر۔ اُن کی آرا پر کسی تنقید و تبصرے کی ممانعت تھی۔ بالعموم پچاس فیصد سے اوپر مجموعی پسندیدگی پر کہانی اشاعت کے لیے منتخب کر لی جاتی تھی۔

انھی غیر مُلکی کہانیوں کا یہ مجموعہ آپ کی نذر ہے۔ یہ اِنتخاب در اِنتخاب ہے۔ دیکھیے کیسے کیسے موضوعات پر مغرب میں یہ دِل نشیں، اثر آفریں، زندگی آمیز اور زندگی آموز کہانیاں تخلیق کی گئی ہیں اور ابھی تو یہ پہلی جلد ہے۔

ایک اعتراف بہرحال لازم ہے ــــــ
سب رنگ کی نسبت سے اس کتاب پر مجھ بے اماں کا نام چَسپاں کر دیا گیا ہے۔ سچ یہ ہے کہ مجموعے کی تمام تر ترتیب، تیّاری، اشاعت کا اہتمام برادرِ محترم حَسن رضا گوندل، اسیرِ سب رنگ بلکہ کشتۂ سب رنگ نے کیا ہے۔ مجھے تو ایک تماشائی سمجھیے۔ سارا کُچھ سب رنگ سے حَسن رضا کی بے پناہ وابستگی اور غیر معمولی شیفتگی کا حاصل ہے۔

اور ہاں ــــــ بُک کارنر جہلم کی بات رہے جا رہی ہے۔ گگن شاہد اور اَمر شاہد نے بہت خُوب صُورت بڑی نادر کتابیں شائع کی ہیں۔ بہ طورِ خاص جس جذبے اور ولولے سے انھوں نے اِس مجموعے کی اشاعت کا اہتمام کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ دونوں بھائیوں کا شکریہ ادا کیے بغیر نیند نہیں آئے گی۔

وما علینا الالبلاغ۔

شکیل عادل زادہ Shakeel Adilzada






بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2799849916912190

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo