جمہوریت آمریت….پھر اسلام کا نظام حکومت کیا ہے؟

[ad_1]

پیارے پڑھنے والے آج کل دنیا میں بڑے بڑے سیاسی نظام حکومت دو ہی ہیں جمہوریت جہاں ہر شخص کا ایک ووٹ ہوتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ مختلف ملکوں میں جمہوریت کو اپنے انداز میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ جمہوریت میں صدارتی طرز حکومت بھی ہے جیسا کہ امریکہ میں پایا جاتا ہے اور پارلیمانی طرز حکومت بھی ہے جس کی مثال برطانیہ اور پھر آج کل کسی حد تک پاکستان میں ہے سیانے کہتے ہیں کہ جمہوریت کے لئے لازم ہے کہ لوگ آزاد ہوں اور کسی دباﺅ میں آئے بغیر اپنی رائے دے سکیں امریکہ اور یورپ میں جمہوریت صنعتی انقلاب کی پیداوار ہے جب لوگوں نے اپنی روٹی خود کمانا شروع کی اور فیوڈل یعنی جاگیردارانہ قبائلی اور زمیندارانہ نظام سے نجات پائی ہمارے ہاں سرمایہ دارانہ اورجاگیردارانہ جمہوریت ہے اور ووٹر اپنی رائے کے استعمال میں دباﺅ کا شکار ہے دینی مدرسہ پیرخانہ اور سجادہ نشینی زمین داری اور جاگیر داری، سرداری نظام، مولویوں اور پیروں کے راجواڑے بڑے صنعت کاروں کا دولت ملازمت یا شوگر، ٹیکسٹائل مل وغیرہ کا اثر گویا برطانیہ جہاں سے ہم بھی جمہوریت کو لے کر آئے وہاں کی طرح ووٹر آزاد نہیں۔
بادشاہت یا آمریت میں تمام تر اختیارات فرد واحد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں بادشاہت موروثی ہوتی ہے یعنی ایک حکمران کے بعد بیٹا یا بھتیجا یا داماد جبکہ آمریت سیاسی بھی ہوتی ہے یعنی اثرورسوخ سرمائے اور جوڑ توڑ کے ذریعے اسمبلی میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کر لینا اور اس اکثریت کی آڑ میں تمام تر اختیارات استعمال کرنا ہمارے ہاں بھی ایک دور میں تو کہا گیا کہ ہمیں الیکشن نہیں چاہئے بلکہ دو تہائی اکثریت چاہئے یعنی ہم آئین میں بھی تبدیلی کر سکیں اور پارٹی لیڈر شپ کا ارکان اسمبلی اور سنیٹرز پر اتنا قانونی اختیار ہو کہ وہ حکومتی فیصلے کے خلاف ووٹ ہی نہ دے سکیں اس طرح کی جمہوریت بھی سیاسی آمریت بن جاتی ہے۔
بادشاہت یا کسی حد تک ڈکٹیٹر شپ مکمل اقتدار ایک شخص یا ایک ٹولے کے ہاتھ میں ہوتا ہے بادشاہت میں خاندان چلتا ہے اور پارٹی آمریت میں روس اور چین کی طرح پارٹی اپنے مقابلے میں کسی کو کھڑا نہیں ہونے دیتی الیکشن کا بھی تصور نہیں ہوتا۔
پاکستان میں ایک بحث یہ بھی ہے کہ نظام حکومت صدارتی ہو یا پارلیمانی کہا جاتا ہے کہ قائداعظم چونکہ برطانوی پیٹرن سے متاثر تھے لہٰذا انہوں نے پارلیمانی نظام حکومت کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ایوب خان اور ضیاءالحق نے پارلیمنٹ کے باوجود صدارتی اختیارات اپنے پاس رکھ کر پارلیمانی جمہوریت کو نہ چلنے دیا۔ پارلیمانی جمہوریت میں صوبے طاقتور ہو جاتے ہیں اور یوں بھی قیام پاکستان کے فوراً بعد سے صوبوں نے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے سرتوڑ کوشش کی اور بالآخر اٹھارویں ترمیم میں انہیں وفاق سے بھی زیادہ طاقتور بنا دیا جس کا سہرا پیپلزپارٹی کی حکومت اور سینٹ کے رکن رضا ربانی کو جاتا ہے۔ آج کم و بیش عوام سے متعلق ہر شعبہ جیسے تعلیم، صحت، زراعت، بلدیات وغیرہ صوبے کے پاس ہیں اور وقتاً فوقتاً صوبوں اور وفاق کے درمیان آپ کو مزاحمت کی شکل نظر آتی ہے اب بادشاہت ہو یا فوجی ڈکٹیٹر شپ بادشاہت میں تمام اختیار ایک شخص یا خاندان کے پاس ہوتا ہے جبکہ فوجی ڈکٹیٹر شپ میں تمام اختیارات فوجی سربراہ اور اس کے چند ساتھیوں کے پاس مرتکز ہو جاتے ہیں دنیا میں آج اس کی مثالیں بھی عام ملتی ہیں۔
آخر اسلام کا نظام حکومت کیا ہے جناب والا قرآن و حدیث کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ دنیا کے ہر مسئلہ پر قرآن و سنت سے راہنمائی ملتی ہے لیکن مختلف ملکوں میں سیاست کے مختلف پیٹرن ہونے کی وجہ سے شاید کوئی نمونہ تجویز نہیں کیا گیا البتہ چند راہنما اصول مقرر کر دیئے گئے۔
اسلام کا پہلا اصولِ حکمرانی یہ ہے کہ اصل حکمرانی اللہ اور اس کے قانون کی ہے یہی وجہ ہے کہ شروع ہی سے اسلامی ریاست کا سربراہ خلیفة اللہ ہوتا تھا اس کا انتخاب بھی کسی ایک طریقے سے نہیں کیا گیا رسول پاک نے اپنی جگہ پر نماز پڑھانے کے لئے اپنے ساتھی اورسینئر رفیق کار حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑا کر دیا اور اسے اشارہ سمجھتے ہوئے رسول پاک کے وصال کے بعد لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خلیفہ منتخب کر لیا۔ واضح رہے کہ یہ انتخاب بھی ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر نہیں تھا یعنی پورے سعودی عرب میں جہاں تک مسلمانوں کی حکمرانی تھی ہر شخص بالغ مرد اور عورت سے ووٹ نہیں لیا گیا بلکہ اسلام کا اصول مشاورت ضروری تھا یعنی باہم مشورے سے چلنا مگر اس مشورے میں صرف اہل رائے سے پوچھا جاتا تھا اور انہی سے بیعت لی جاتی تھی بیعت کو آپ ووٹ بھی کہہ سکتے ہیں تاہم بنیادی طور پر اسلام اللہ کی حاکمیت کے اصول کو واضح کرتا ہے۔ یعنی جو خلیفہ ہو اس کی بات مانو اور صرف اس وقت خروج کر سکتے ہو یعنی بغاوت کر سکتے ہو جب خلیفہ نماز پڑھنا چھوڑ دے اور اسلام کے احکام پر عملدرآمد بھی ترک کر دے گویا یہاں بھی اصل حاکمیت خدائی احکام کی ہے۔ خلیفہ محض ان احکام کو بجا لانے والا ہے اور عوام میں سے ہر شخص کو جواب دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی شخص اسلام کے ابتدائی دور میں کھڑا ہو کر خلیفہ سے سوال کر سکتا تھا اور خلیفہ کو بھرے مجمع میں اس کا جواب دینا پڑتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے بعد دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ بنے ان کا انتخاب بھی اہل رائے نے کیا تھا اور ان سے لوگ اس حد تک سوال کر سکتے تھے آپ نے اتنا لمبا نیا کرتا کیسے پہنا کیونکہ بیت المال سے سب کو جو چادریں ملی تھیں ان سے تو اس سائز کا کرتا نہیں بن سکتا تھا خلیفہ دوم کو جواب دینا پڑا کہ میں نے اپنے بیٹے سے اس کو ملنے والا کپڑا بھی مستعار لے لیا تھا اور میں نے دو چادروں سے لمبا کرتا بنوایا ہے اس سے پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ بنے تو اپنے پیشے کے مطابق کپڑا بیچنے گٹھ لے کر باہر نکلنے لگے تو حضرت عمرؓ نے روک لیا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا کماﺅں گا نہیں تو کھاﺅں گا کہاں سے حضرت عمرؓ نے سینئر صحابہ سے مشورہ کر کے ان کا وظیفہ مقرر کر دیا جو مہینے میں ان کی اوسط آمدنی سے بھی کم تھا گویا اسلام میں حکمران نہ تو بڑے گھر میں رہ سکتا ہے نہ عیاشی کا متحمل ہے نہ اپنی دات پر سرکاری خزانے یعنی بیت المال سے رقم لے کر خرچ کر سکتا ہے وہ ڈکٹیٹر بھی نہیں بن سکتا کیونکہ اسے اسلامی احکامات کے مطابق چلنا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اسی بنا پر یہ کہا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاس سے مر گیا تو آخرت میں بطور خلیفہ میری پکڑ ہو گی۔ حضرت عمرؓ کے بعد حضرت عثمان پھر حضرت علیؓ یہ تمام اصول اسی طرح کارفرما رہے نہ کسی خلیفہ کا محل بنا اور نہ کسی کو اختیارات کے اندھا دھند استعمال کا موقع دیا گیا اور اس دوران میں البتہ اسلامی خلافت میں سے امیر معاویہ نے اپنے صوبے میں بادشاہت قائم کر لی اور سرکاری خزانے کو اپنی مرضی سے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ حضرت علیؓ نے اس بنیادی تصور بادشاہت کے خلاف امیر معاویہ سے ٹکراﺅ کیا جو سرکاری خزانے کا اندھا دھند استعمال کر رہے تھے اور اپنی بادشاہت کے لئے اس فضول خرچی سے قومی رقم خرچ کرتے تھے کہ یہ مثل مشہور ہو گئی جب عوام کا جھکاﺅ معاویہ کی طرف ہو گیا کیونکہ وہاں سے پیسے ملتے تھے تو کہا جانے لگا کہ ہمارا دل تو حضرت علیؓ کے ساتھ ہے جو باب العلم تھے اور متقی پرہیزگار تھے اور خلافت کو اللہ کی راہنمائی میں عوام کے کاموں کے لئے استعمال کرتے تھے عوام جو رشوت لے کر معاویہ کے ساتھ چلے جاتے نے کہنا شروع کر دیا ہمارے دل تو حضرت علیؓ کے ساتھ ہیں مگر پیٹ معاویہؓ کے قابو میں ہیں۔ معاویہ نے اور ان کے بعد ان کے بیٹے یزید نے اپنی خاندانی بادشاہت قائم کی جس کے خلاف نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ نے خروج کیا یعنی بغاوت کی اور اسے بدلنے کی کوشش کی۔
قصہ مختصرکہ اسلامی نظام حکومت حضرت علیؓ تک شمار کیا جائے گا کیونکہ بعد میں آنے والی شخصی حکومتیں ملوکیت یعنی بادشاہت کی مثالیں تھیں ان میں ذاتی طور پر حضرت عمر بن عبدالعزیز جنہیں چاروں خلفاءکے بعد جگہ دی جاتی ہے کہ ذاتی طور پر وہ اتنے ہی پرہیزگار تھے اور اللہ کے احکام پر چلتے تھے مگر بنو عباس ہو یا بنو امیہ یہ تو ہو سکتا ہے کہ کوئی خلیفہ اچھا یا برا ہو مگر نظام حکومت ملوکیت ہی رہا جس کو اسلام کا نظام حکومت نہیں قرار دیا جا سکتا۔
ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ آپ بادشاہت رکھیں، ڈکٹیٹر شپ لائیں، صدارتی جمہوریت روشناس کروائیں یا پارلیمانی جمہوریت اصل میں حکومت اللہ اور اس کے فرمان کی ہے۔ فرد کی نہیں اور موجودہ دور میں صدارتی ہو یا پارلیمانی ڈکٹیٹر شپ اسلامی نظریاتی کونسل کا تڑکہ لگا کر اسے اسلامی نہیں قرار دیا جا سکتا جس میں کوئی شخص خود کو اقتدار کے لئے پیش کر سکتا یہ لوگوں کا کام ہے کہ وہ تقویٰ اور پرہیز گاری کی بنیاد پر خلیفہ یا حاکم وقت کو مقرر کرے یعنی سرمایہ دارانہ حکومت میں دولت کی بنیاد پر دباﺅ اور دہشت پھیلا کر ووٹ نہیں لئے جا سکتے اور اسلام کی رو سے تو جب تک کوئی آزاد نہ ہو اس کا غلام ووٹ شمار بھی نہیں کیا جا سکتا اہل رائے کی بحث بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ لہٰذا میں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ آج بھی پاکستان میں رائج جمہوری نظام اسلامی نہیں ہے اور نہ اس پر اسلام کا لیبل لگایا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
٭٭٭


[ad_2]
بشکریہ

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…

Situs sbobet resmi terpercaya. Daftar situs slot online gacor resmi terbaik. Agen situs judi bola resmi terpercaya. Situs idn poker online resmi. Agen situs idn poker online resmi terpercaya. Situs idn poker terpercaya.

situs idn poker terbesar di Indonesia.

List website idn poker terbaik.

Situs slot terbaru terpercaya

slot hoki terpercaya

Bergabung di Probola situs judi bola terbesar dengan pasaran terlengkap bergabunglah bersama juarabola situs judi bola resmi dan terpercaya hanya di idn poker terpercaya 2022 daftar sekarng di agen situs slot online paling baik se indonesia
trading binomo bersama https://binomologin.co.id/ daftar dan login di web asli binomo